A gas agency in Delhi is refusing to provide cylinders to Muslims, sparking a huge uproar.
A shocking incident has emerged from Brahmapuri in East Delhi. Muslim residents here claim that a gas agency in the area is not providing them with cylinders.
ڈی جی خان سکول سانحہ میں چار نہیں 16 بچے شہید ہوئے۔ انتظامیہ نے بچوں کے والدین کو ڈرا دھمکا کر خاموش کردیا ہے ریسکیو 1122والوں کو بلاؤ اور پوچھو کہ کتنے بچے شہید ہوئے ہیں ؟
شہید بچی کے والد کی میڈیا سے گفتگو
Gujarat: In Ahmedabad, "Oh Allah, save me!" cries the #MuslimMan as police brutally beat him with sticks over #CowSlaughter charges.
Three individuals have been arrested, with footage showing one of the accused being beaten.
🚨HEARTBREAKING: A Palestinian family breaks down in tears as they mourn their child, who was killed in an Israeli airstrike targeting a police point in Al-Nasr neighbourhood, Eastern Gaza today.
امریکہ کی فی کس آمدنی پاکستانیوں سے 50 گنا زیادہ ہے۔ وہاں ایران جنگ کی وجہ سے پیٹرول کی قیمت پاکستانی روپے 330 فی لیٹر ہو گئی ہے اور پورے ملک میں واویلا ہے۔ پاکستان میں پیٹرول 400 روپے فی لیٹر اور پاکستانی الحمداللہ صبر شکر سے زندگی گزار رہے ہیں۔
Indian Muslims are being lynched for just being Muslims 💔
He was just a child, playing marbles in the park and was stabbed with knives 🔪
Allahu Akbar 💔 💔
Listen to Ayaan's mother:
اشفاق ولد علی مراد ساہو گیلے کپڑے سے سولر پینل صاف کرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سولر پینلز سے بجلی خارج نہیں ہوتی۔ اکثر، بچوں یا خاندان کے افراد کو کسی بھی وقت سولر پینل صاف کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔
براہ کرم سولر پینل کو گیلے کپڑے سے صاف نہ کریں اور بصورت دیگر ایسے کسی بھی غیر متوقع حادثے سے بچنے کے لیے اسے رات کے وقت صاف کریں۔
اس عوامی پیغام کو اپنے حلقوں میں شیئر کریں تاکہ کسی معصوم انسان کی جان بچ سکے۔
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
علیمہ خان صاحبہ آج واضح طور پر مایوس اور بے بس نظر آ رہی تھیں۔
مراد سعید نے ان تمام باتوں کی تصدیق کر دی ہے جو بہنیں دبے لفظوں میں کہہ رہی تھیں اور صحافی خبر اور تجزیے کی صورت اور سوشل میڈیا شدید تنقید اور گالیوں کی صورت اظہار کر رہا تھا۔
کیا قصور تھا اس دوکاندار کا جو 12 سے 14 گھنٹے یہاں محنت کرکے اپنے بچّوں کو رزق حلال کھلا رہا تھا ،
کیوں بے رحم ڈکیتوں نے چند ٹکوں کی خاطر اس بے گناہ کی جان لی ،
ان ظالموں کو کون کیفر کردار تک پہنچائے گا ، کون لے گا اس قتل کا حساب ، آخر کب تک اسلام آباد کا یہ رولر ، سوہان زون ڈکیتوں کیلئے فیورٹ رہے گا ، یہ ڈاکو اتنے بے لگام ہیں کہ انکو جب دل کرتا ہے جس کو گولیوں سے بھون دیا
اس دوکاندار کے معصوم بچے ہوں گے اب انکا کیا ہو گا کتنے لوگ یتیم ہو گئے
اس ایک قتل سے کتنے لوگ غم میں ڈوب گئے ، آخر کیا کر رہی پولیس اسلام آباد میں بھی سی سی ڈی طرز کا ایک ادارہ بنائیں چھوٹا سا ضلع ہے ان سفاک ڈکیتوں کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے یہ تصویر ایک بے بس محنت کش کی ہے اور حدود تھانہ ہمک ہے
The child Zain Abu Ismail, who is three years old, is facing a severe and life-threatening deterioration in his health due to a congenital intestinal obstruction that has impaired his natural excretory functions, necessitating a colostomy.