خوشی کا ایک لمحہ چاہئے تھا
گھڑی بھر ساتھ تیرا چاہئے تھا
ہمیشہ ہم نے کی تیری تمنا
ہمیں کب تیرے جیسا چاہئے تھا
تجھے سونپا تھا اپنا آپ میں نے
تو پھر محفوظ رکھنا چاہئے تھا
دغا کر کے بھی کتنے مطمئن ہو
تمہیں تو ڈوب مرنا چاہئے تھا
#عامر_عطا#قومی_زبان
آبرو کی کسے ضرورت ہے
جان بچ جائے تو غنیمت ہے
دیر تک ساتھ دے نہیں سکتا
جھوٹ کی بس یہی حقیقت ہے
بے ضرورت بھی کر لیا سجدہ
یہ عبادت بڑی عبادت ہے
میں محبت تجھے نہیں کرتا
تو فقط روح کی ضرورت ہے
کوئی شکوہ گلہ نہیں باقی
اب اسی بات کی شکایت ہے
#سنیل_کمار_جشن#اردو_زبان
🏡 گھر بیٹھے شاپنگ کا مزہ، بس Hira's Collection کے ساتھ! 🛍️
اب بازاروں کی بھیڑ، دھوپ اور وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں!
👗 فیشن ایبل لان اور پارٹی ویئر ڈریسز
💄 کاسمیٹکس
💍 خوبصورت جیولری
👜 سٹائلش بیگز، واچز اور گھریلو آئٹمز — سب کچھ ایک ہی جگہ پر!
📦 ہم دیتے ہیں آپ کو ٪💯 اعتماد کے ساتھ فاسٹ ڈیلیوری اور معیاری پروڈکٹس۔
✨ اور خاص بات!
👉 آپ از آ ریسیلر بھی ہم سے جوائن کر سکتے ہیں اور اپنا بزنس شروع کر سکتے ہیں۔
👇 ابھی ہمارا پیج اور وٹس ایپ چینل فالو کریں اور گھر بیٹھے آسان شاپنگ کا لطف اٹھائیں!
https://t.co/yYW8ftWcQr
مجھے ایسے لوگ بہت پسند ہیں جو مجھ سے میری شکایتیں براہ راست مجھ سے کرتے ہیں،وہ میرے پاس آ کر سیدھے کہتے ہیں: میں تم سے فلاں بات پر ناراض ہوں،
جب تم نے فلاں بات کہی تو تمہارا کیا مطلب تھا؟ میں نے یہ سنا ہے، کیا یہ سچ ہے؟ یہ لوگ بہت آرام دہ، واضح اور صاف ہوتے ہیں،ایسے لوگوں کی میرے دل میں قدر خود بخود بڑھ جاتی ہے،
سیدھی سی بات ہے، ایسے تعلقات آرام دہ ہوتے ہیں!!
دِن گزر جائیں گے اور تم اُن چیزوں کو ترک کر دو گے جن کی
تمہیں عادت ھے۔ پسندیدہ انسان کو چھوڑ دو گے ، اپنے خوابوں
سے دستبردار ھو جاؤ گے۔ اور بالآخر یہ تمہاراحقیقت قبول کرنے کی طرف پہلا سفر ہوگا!!
آیا ہوں تیرے پاس مرے یار دور سے
دیکھا ہے میں نے سایۂ دیوار دور سے
نزدیک آ کے دیکھا تو آسان تھی وہ راہ
مجھ کو دکھائی دی تھی جو دشوار دور سے
اندر سے جا کے دیکھا تو خوش کن مکان تھا
لگتا تھا دیکھنے میں پر اسرار دور سے
#محمد_حنیف#اردو_زبان
کبھی کبھی ہماری کوشش کرنے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے،
نہ اس لیے کہ ہم نے کوشش نہیں کی،
بلکہ اس لیے کہ جس راستے پر بھی ہم جذبے سے چلتے ہیں،
اس کا انجام بند گلی پر ہوتا ہے۔
مجذوبؔ
عقل چیزوں کو ویسا دیکھتا ہے جیسی وہ ہوتی ہیں،
جبکہ دل انہیں ویسا دیکھتا ہے جیسا وہ چاہتا ہے کہ ہوں،
اور ان دونوں نگاہوں کے بیچ، سچائی کھو جاتی ہے،
سو یا تو ہم ایک خوش کن فریب میں جیتے ہیں،
یا ایک اذیت ناک شعور میں،
اور ہر ایک کی اپنی قیمت ہوتی ہے،
سچائی کے دکھ اور جھوٹ کے سکون کے درمیان ہی انسان کی تقدیر جھولتی رہتی ہے۔
مجذوبؔ
کیا غضب نکلے ہے بن ٹھن کے وہ کافر یارو
آج ہوتی نظر آتی نہیں ایمان کی خیر
جتنے محبوب پری زاد ہیں دنیا میں نظیرؔ
سب کے اللہ کرے حسن کی اور جان کی خیر
#نظیر_اکبر_آبادی
اللہ تعالیٰ بعض اوقات آپ کے سامنے کچھ دروازے اس لیے بند کر دیتا ہے تاکہ آپ کے لیے ایسے دروازے کھولے جن میں آپ کے لیے بہت بڑی بھلائی ہو۔
لیکن ہم میں سے اکثر لوگ صرف اُس بند دروازے پر ہی نظر جمائے رکھتے ہیں، اور اُن کھلے ہوئے خیر کے دروازوں کو دیکھ ہی نہیں پاتے جو اُن کے سامنے ہوتے ہیں۔
پس جو بھلائی آپ کے ہاتھ میں ہے، اُسے نہ چھوڑیں محض اُس بند دروازے کے پیچھے دوڑنے کے لیے۔
مجذوبؔ
میں اس وقت اپنی بہترین ذہنی حالت میں نہیں ہوں زندگی اس قدر بوجھوں اور دباؤ سے بھر گئی ہے کہ اب اپنی پسندیدہ چیزیں بھی پُرکشش نہیں لگتیں حال ہی میں، میں نے زیادہ کچھ نہیں مانگا، میں روز اس امید کے ساتھ جاگتا ہوں کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔
مجذوبؔ
نجی مزاج کے لوگ سارا دن پوسٹس کرتے رہتے ہیں، پھر بھی اُن کی زندگی کے بارے میں تم کچھ نہیں جانتے۔
یہ یاد دہانی ہے کہ لوگ جو کچھ سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، وہ اُن کی مکمل حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا،
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دوسروں کی حدوں کا احترام کریں، قیاس آرائیوں سے گریز کریں،
اور صرف پوسٹس کی بنیاد پر کسی کی زندگی کا فیصلہ نہ کریں۔
یہ ایک نصیحت بھی ہے کہ اپنی پرائیویسی کی قدر کریں،
جو باتیں تمہیں شیئر کرنے میں آسانی محسوس ہو وہ ضرور شیئر کرو،
لیکن اپنی زندگی کے کچھ پہلو صرف اپنے لیے محفوظ رکھو،
ہر چیز کو عوامی بنانا ضروری نہیں۔
نجی مزاج رکھنے والے لوگ اپنی پوری زندگی بیان نہیں کرتے،
چاہے وہ کتنا بھی کچھ پوسٹ کر رہے ہوں،
لہٰذا یہ نہ سمجھو کہ تم اُن کے بارے میں سب کچھ جانتے ہو،
اور یہ بالکل ٹھیک ہے کہ تم بھی اپنی کچھ باتیں اپنے تک ہی رکھو۔
مجذوبؔ
جب رات آتی ہے، تو ہم اُسے وہ سب کچھ سنا دیتے ہیں جو ہم پر گزرا ہوتا ہے، وہ بس خاموشی سے ہماری سنتی ہے، اور پھر ہمیں حیران و پریشان چھوڑ دیتی ہے، ہم واپس پلٹتے ہیں یادوں کی طرف، اُن لمحوں کی طرف، اُن لوگوں کی طرف، اُن دنوں کی طرف جو گزر چکے اور کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے،
اور کتنا مشکل ہوتا ہے رات کا وقت، جب تم تنہا ہوتے ہو ان ساری یادوں کے ساتھ۔
مجذوبؔ