HMOFF_Gilgit Baltistan is an Leading Organic Farming unit Like Agricultural, Poltary, Fish, catle etc. We Deals GB agri products dry fruits, Desi Eggs milk etc.
🍎 سیب کی ہر قسم مختلف صحت کے فوائد پیش کرتی ہے۔
❤️ سرخ سیب ہڈیوں اور دانتوں کی صحت کو سہارا دیتے ہیں اور اپنے قدرتی پولیفینول کی وجہ سے اعصاب اور پٹھوں کے کام کو منظم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
💚 سبز سیب وزن کے انتظام میں مدد کرتے ہیں اور ان میں فائبر زیادہ ہونے کی وجہ سے آنتوں کی صحت بہتر ہوتی ہے۔
💛 پیلے رنگ کے سیب دماغی افعال کو سہ��را دیتے ہیں اور کیروٹینائڈز کی بدولت آنکھوں اور دل کی صحت کو بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
ایک سادہ اور قدرتی پھل جو روزانہ جسم اور دماغ میں توازن لاتا ہے۔
کونج سائبیریا سے نکلتا ہے اور منگولیا، بحیرہ اسود کو عبور کرتا ہے، شمالی چین سے ہوتا ہوا یہ پرندا کے پی کے پنجاب کشمیر سندھ بلوچستان پھر راجھستان گجرات اور پھر وسطی ہندوستان میں داخل ہوتا ہے۔ ہزاروں میل کے اس سفر میں انکا شکار شادر و ناذر ہی ہوتا ہو یہ ہر سال صیح سلامت پنجاب اور سندھ کی دھرتی میں داخل ہوتے ہیں
اگر کوئی کونج شاہ لطیف وارث شاہ رحمان بابا مست تو کلی کے دیس میں آکر مارا جائے تو کتنی شرم کی بات ہوگی۔ پرندے فطرت کے زیور ہیں۔
ویسے تو یہ ساری قومیں مہمان نوازی کے دعوے کرتی نہیں تھکتیں لیکن ان مہمان پرندوں کے ساتھ یہ سلوک قابل شرم ہے اسکے الٹ راجھستان انڈیین پنجاب میں ان کا سواگت کیا جاتا ہے ان کے لئے سارا سال دانا اکٹھا کیا جاتا ہے اور انکی امد پر باقاعدا تیوہار منایا جاتا ہے
کلچرائیزڈ مہمان نواز کون ہوئے سوکالڈ مہمان نوازی کے دعوےدار اندر سے اسقدر خوفناک ہیں کہ اس موضوع پر بات کرنے میں ہی شرم آتی ہے ..
#کونج #crane #GUESTS
تھامس میکالے،
نوآبادیاتی انتظامیہ کا پیغامبر ،
جس نے internal colonialism کا تصور پیش کیا۔
ایسا نظریہ جس سے colonial administration کو فوجوں اور بحری بیڑوں سے مالا مال کر دیا۔
اس کے پیش کردہ نظریہ کے مطابق
" داخلی استعمار کا مطلب ماتحت ایجنٹوں کی ایک ایسی نسل تیار کرنا جو ان کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو اور انہیں بیرونی حملے کی ضرورت ہی نہ رہے"
اس کے مطابق :
"ہمیں ایک ایسا طبقہ کھڑا کرنا چاہیے جو ان لاکھوں لوگوں میں ، جن پر ہندوستانی خون اور رنگت والوں کی حکومت ہے ، اس بات کا پرچار کرے کہ ہم کیا چاہتے ہیں اور ہماری اجارہ داری کے لئے راہ ہموار کرئے"
یہ تیار کردہ طبقہ اپنے خیالات ، رویے ، اخلاق اور روزمرہ کے معاملات میں انگریزوں کی طرح پیش ائیں۔
اس کی ایک تقریر بہت مشہور ہوئی جو اس نے 2 فروری 1835 میں انگریزی پارلیمنٹ میں کی تھی، جس میں اس نے کہا :
" میں نے ہندوستان کے طول و عرض کا سفر کیا ہے اور میں نے کبھی کسی کو بھیک مانگتے یا چوری کرتے نہیں دیکھا۔ میں نے یہ ملک بہت امیر پایا اور اس کے لوگ اعلیٰ اخلاقی اقدار اور اعلیٰ درجے کی نفاست کے مالک ہیں۔
مجھے تو یہاں تک یقین ہے کہ ہم اس قوم کو شکست نہیں دیں س��یں گے جب تک کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی کو نہ توڑا جائے ،
جو اس قوم کا روحانی اور ثقافتی ورثہ ہے
لہٰذا میں تجویز کرتا ہوں کہ
پرانے نظام کو بدلنے کے لیے نیا نظام تعلیم لایا جائے کیونکہ اگر ہندوستانی یہ سوچنے لگیں کہ ہر وہ چیز جو غیر ملکی ہو اور انگریزی میں ہو وہ مقامی سے بہتر ہے تو وہ خود بخود اپنی آبائی ثقافت کی عزت کھو دیں گے اور ویسے ہی بن جائیں گے جیسے ہم چاہتے ہیں یعنی ذہنی طور پر ایک مکمل مغلوب قوم "
میکالے اپنے فلسفے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب رہا اور ہندوستانی اسکولوں میں تعلیم کو انگریزی نظام میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
یہیں سے بڑی طاقتوں کو احساس ہوا کہ براہ راست کھلا قبضہ بہت مہنگا ہے۔
اور
اس طرح یہ مقامی حکمرانوں ، فوجیوں ، سیاستدانوں ، دانشوروں میں سے ہی ایسا طبقہ پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا جن��وں نے فکری طور پر اس کی مکمل پیروی کی!
کیا آج بھی ہماری حقیقت یہی نہیں؟؟
#الف_نگری
#Alif_Nagri
Number of arrivals to Lebanon 🇱🇧 from Islamic countries to attend the funeral of Sayyed Nasrallah and Safi al-Din al-Hashemi, so far:
Iraq 🇮🇶 140 thousand.
Iran 🇮🇷 106 thousand.
Kuwait 🇰🇼 18 thousand.
Bahrain 🇧🇭 9 thousand.
Oman 🇴🇲 9 thousand.
Yemen 🇾🇪 27 thousand
حضور، بس پانی بجلی ٹھیک کرلیں( قسط 05)
تحریر: انجنیئر انعام الرحمٰن
تھرمل پاور:
تھرمل پاور پاکستانی تناظر میں بھیانک خواب ثابت ہوئی ہے۔درآمدی پاور پلانٹس ، درآمدی ایندھن اور ڈالرز میں کپیسٹی پیمننٹس کے ماڈل سے ایک طبقے نے بہت مال بنایا ، مگر ملکی معیشت ڈوب گئی۔
ملک میں تقریباً 29 گیگاواٹ تھرمل انسٹالڈ ہے جو کُل ملکی کپیسٹی کا 63 فیصد ہے۔ 2023 میں 105 ارب تھرمل یونٹس بجلی پیدا ہوئی، 2024 کے اعدادوشمار اس سے بھی کم ہیں ۔تھرمل پلانٹ پورا سال چلیں تو 252 ارب یونٹ بجلی پیداکر سکتے ہیں جو ملکی ڈیمانڈ سے دگنے ہیں لیکن موجودہ قیمتوں پر نہ کسی کو تھرمل بجلی پیداکرنےمیں دلچسپی ہے نہ استعمال کرنےمیں۔ناچیزنے تھرمل آئی پی پیز کے بزنس ماڈل پر کام کئی سال قبل شروع کیا تھا لیکن جلد سمجھ آگئی کہ اسکے مسائل بہت بڑے مگر بائے ڈیزائین ہیں، یعنی یہ بے خودی بے سبب نہیں غالب ۔ جب تک پانی سر سے نہ گزر جائے، حکومت اور عوام میں کسی کو پرواہ نہیں ہوگی۔ اب جبکہ پانی واقعی سر سے گزر چکا ہے اور کافی بحث بھی ہوچکی ہے تو معاھدوں کی قانونی پیچیدگیوں سے ہٹ کر تھرمل کیلئے مندرجہ ذیل آپشنز بچی ہیں۔
تھرمل پلانٹس مقامی کوئلے پر منتقل کر لیں تو فیس سیونگ ہوسکتی ہے۔
ترکمانستان سے سستی گیس پائپ لائن جلد آجائے تو اچھی بات ہے ۔ ایرانی گیس پائپ لائن ہم خود روک کر بیٹھے ہیں کہ چچا سام ناراض نہ ہوجائے۔ قطر سے گیس بذریعہ ٹینکر آتی ہے، پائپ لائن بھی آسکتی ہے لیکن ایران کے راستے۔ ویسے پائپ لائن والے ممالک کی اصل نظر ہمیشہ بھارتی مارکیٹ پر رہتی ہے ، لیکن ہمیں قومی مفادات کو کمپرومائز کئے بغیر منافع بخش انرجی اور راہداری مل جائے تو مضائقہ نہیں۔ روس کے پاس سب سے ذیادہ گیس ہے، مگر وہ بھی بذریعہ ٹینکر ہی آسکتی ہے۔ یہ تمام آپشنز صرف اسلئے ہیں کہ مزید کوئی تھرمل پلانٹ نہ لگایا جائے، اور موجودہ پلانٹس کی باعزت ریٹائرمنٹ مقصود ہو۔
آخری حل یہ ہے کہ تھرمل پلانٹس کو بیڑوں پر لاد کر ایسے ممالک کو بیچ دیں جن کے پاس اپنا ایندھن ہو اور خود آئندہ تھرمل کا نام لینے سے توبہ کرلیں۔
بجلی کا مسئلہ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ سولر ہے۔ چینی سولر پینل سستے ہوئے تو مہنگی بجلی اور دائمی لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام نے ضرورت سے ذیادہ سولر پینل لگالئے۔نیٹ میٹرنگ کا عوام کو تو فائدہ ہی ہے لیکن سولر اور نیٹ میٹرنگ نے مل کر تھرمل کی ظالمانہ اجارہ داری پر ناقابل تلافی ڈینٹ ڈال دیا ہے۔
جاری ہے۔۔
#thermalpowerplant #pakistanriverupdates