ان لوگوں نے جھوٹ بول بول کر ہی یوتھیوں کو گمراہ کیا ہے اور ہوتھیے کند ذہن ابھی تک اس چوتیے کو صحیح سمجھتے ہیں اب ان میں مہا چوتیے کون ہیں یہ فیصلہ یوتھیوں نے کرنا ہے
آج بشری بی بی کی عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے اور اگر پی ٹی آئی کی کور میڈیا ٹیم کا ممبر یہ دعویٰ کر رہا ہے تو پھر بشری بی بی کس سے ملی؟ اس نے اپنے شوہر کی ہلاکت پر شور کیوں نہیں مچایا؟ یہ اطلاع عمران خان کی بہنوں اور بیٹوں تک کیوں نہیں پہنچی؟
یہ واضح ہے کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے تو پھر پی ٹی آئی کے آفیشل پیجز اور مرکزی قیادت اس جھوٹ پر خاموش کیوں ہے؟ کیا وہ بھی اس خبر کو درست مانتے ہیں یا خواہاں ہیں کہ یہ موت ہو جائے تاکہ وہ کوئی تو سیاسی فائدہ اٹھا سکیں؟
چکیں یہ بھی مان لیتے ہیں کہ وہ یہ نہیں چاہتے، وہ عمران خان کو زندہ دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اس سے اپنے دعوؤں کے مطابق پیار کرتے ہیں، عشق کرتے ہیں تو پھر انہوں نے اپنے دل دہلا دینے والی خبر پر اس شخص کی بوٹیاں کیوں نہیں نوچیں؟ اس کو گالیاں کیوں نہیں بکیں؟ اب تک قانونی کارروائی شروع کیوں نہیں کی؟
صاف ظاہر ہے سب گِدھ بن کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہیں لاش چاہیئے تاکہ وہ اسے نوچ کر اپنا سیاسی پیٹ بھر سکیں، کسی کو اس کی سیاسی جگہ چاہئے اور کسی کو اس کی دولت۔ وہ جیل میں ہے اور یہ اس کی موت کو فرض کر کے بیٹھے ہوئے ہیں اور اس کے مزے لے رہے ہیں۔ یہ تو جیل میں بیٹھے شخص سے بھی ظالم بے حس اور لالچی ہیں۔
افسوس !!!!
پانچ بچوں کی والدہ ،بیوہ خاتون ،اس ماہ کے راشن کے لئے پریشان ھیں،ان کی طرف سے تعاون کی درخواست ھے ،احباب اگر تعاون کرسکیں تو اللہ بہترین اجر عطا فرمائے گا۔جزاک اللہ خیر
تعاون درکار۔ 9000
صدقات و زکوت سے امداد کی جاسکتی ھے۔
اہم ترین۔۔۔۔۔۔ بے گھر بچے۔۔
شکرگڑھ ریسٹ ہاؤس کے باہر کھیلتے بچے سے سوال کیا کہ بیٹے رات کیوں ادھر ہوتو۔
بچے نے دل چیردینے والی بات کہی کہ میرا کوئی گھرنہین۔
دو بہنیں اور دو بھائی بیمار والد کے ساتھ گرین بس سٹینڈ ریسٹ ہاؤس کے بینچ پر پڑے ہیں۔
کوئی کھانے اور رہنے کے لیے نہیں۔
درددل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔۔۔۔
اہل درد دل کو یہ معاملہ دیکھنا چاہیے
@mahnooor77 علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے سے، اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1961]
ایک حافظ صاحب جن کو ایک کان سے بلکل نہیں سنتا اور دوسرے کان سے بھی آلہ سماعت لگانے سے سنائ دیتا ہے،ان کی احباب سے درخواست ھے اگر وہ ان کو آلہ سماعت خریدنے میں تعاون کرسکیں تو اللہ بہترین اجر عطا فرمائے گا۔جزاک اللہ خیر
شکر ہے سوشل میڈیا کے صارفین کی محنت رنگ لے آئی اور ان غریب لڑکیوں کا کیس بھی کھل گیا اللہ ربّ العزّت ان سب دوستوں کیلئے آسانیاں فرمائے جنہوں نے ان غریبوں کیلئے آواز بلند کی
لاہور کے ٹاؤن شپ تھانے میں دو خواتین کی حراست کے چند گھنٹوں میں پراسرار موت۔موت ،ڈرگ اوور ڈوز سے ہوئی۔پولیس کا دعویٰ ، اہلِ خانہ کا تشدد کا الزام۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار، مگر سوال برقرار آخر پولیس حراست میں وہ دو تین گھنٹے میں کیا ہوا؟ تفصیلات دیکھیے
میر رضا علی کیس — اہم شواہد اور سوالات
10 اگست 2026 تک سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ابتدائی طور پر پولیس نے خودکشی کے امکان کو بھی زیرِ غور رکھا، تاہم دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد FIR میں دفعہ 302 (قتل) شامل کر دی گئی۔
1۔ FIR
مقدمہ ابتدا میں میر رضا علی کے لاپتہ ہونے پر فیروزآباد تھانے میں دفعہ 365 PPC (اغوا) کے تحت درج ہوا۔
FIR ان کے والد میر حسین علی کی شکایت پر درج کی گئی۔
بعد ازاں پوسٹ مارٹم کے نئے شواہد سامنے آنے پر دفعہ 302 قتل شامل کی گئی۔
اس لیے یہ کہنا کہ مقدمہ اب بھی صرف اغوا کی FIR تک محدود ہے، درست نہیں۔
2۔ CCTV سے سامنے آنے والی معلومات
رپورٹس کے مطابق:
تقریباً 3:30 بجے صبح میر رضا اپنی Wafflix دکان سے ایک 30 بور پستول لے کر نکلے۔
گھر پہنچ کر انہوں نے گاڑی، چابیاں، اسمارٹ واچ اور تقریباً 39 ہزار روپے پیچھے چھوڑ دیے۔
تقریباً 4:09 بجے آن لائن ٹیکسی میں گھر سے روانہ ہوئے۔
تقریباً 4:22 بجے ان کا فون جوہر موڑ/ہل ٹاپ کے قریب آف لائن ہوا۔
تقریباً 4:28 بجے ٹیکسی نے انہیں گلستانِ جوہر بلاک 2 میں اتارا، جہاں CCTV میں انہیں اکیلے چلتے دیکھا گیا۔
ابھی تک عوامی سطح پر سامنے آنے والی CCTV معلومات میں کسی شخص کو انہیں زبردستی اغوا کرتے ہوئے واضح طور پر نہیں دکھایا گیا۔
لیکن یہ بات بھی خودکشی ثابت نہیں کرتی۔
3۔ فون
پولیس کے مطابق ان کے آئی فون سے ڈیٹا حذف کیا گیا تھا اور بعد میں فون ایک دوسرے شخص سے برآمد ہوا۔
اہم سوال یہ ہے کہ فرانزک تحقیقات سے:
حذف شدہ پیغامات؛
کال ریکارڈ؛
لوکیشن ڈیٹا؛
سوشل میڈیا/ایپس؛
اور دیگر ڈیجیٹل معلومات
میں سے کیا کچھ سامنے آیا؟
مکمل فرانزک نتائج ابھی عوام کے سامنے نہیں آئے۔
4۔ پستول
پولیس کے مطابق میر رضا جو پستول دکان سے لے کر گئے تھے، وہ ابھی تک برآمد نہیں ہوا۔
رپورٹس کے مطابق اس کا ہولسٹر ایک درخت کے قریب ملا تھا۔
جب تک پستول برآمد کرکے اس کا بیلسٹک، DNA اور دیگر فرانزک معائنہ نہیں ہوتا، اس معاملے میں اہم سوالات باقی ہیں۔
5۔ دوسرا پوسٹ مارٹم
دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مبینہ طور پر:
گولی کا زخم؛
جسم پر متعدد چوٹیں؛
اندرونی خون بہنے؛
اور دیگر جسمانی injuries
کا ذکر ہوا۔
DNA، گن شاٹ ریزیڈیو اور کیمیکل ٹیسٹ کے لیے نمونے بھی لیے گئے ہیں۔
ان ٹیسٹوں کے حتمی نتائج انتہائی اہم ہوں گے۔
6۔ آڈیو اور مالی معاملات
رپورٹس کے مطابق میر رضا کی موت سے چند گھنٹے قبل کی ایک مبینہ آڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں مالی معاملات اور ادائیگیوں پر گفتگو کی گئی۔
پولیس ان کے کاروباری اور مالی معاملات، سرمایہ کاری اور مبینہ قرضوں کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔
تاہم مالی مشکلات خودکشی یا قتل کا ثبوت نہیں ہیں؛ یہ صرف تفتیش کا ایک ممکنہ پہلو ہیں۔
سب سے اہم سوالات
ابھی یہ واضح ہونا باقی ہے:
میر رضا 4:28 بجے کے بعد کہاں گئے؟
پستول کہاں ہے؟
فون سے کیا حذف کیا گیا؟
آڈیو میں کس سے اور کس معاملے پر گفتگو ہوئی؟
CCTV میں اس کے بعد کیا نظر آتا ہے؟
اور سب سے بڑھ کر—DNA، GSR اور دیگر فرانزک رپورٹس کیا بتاتی ہیں؟
نتیجہ
اس وقت دستیاب شواہد نہ خودکشی کو حتمی طور پر ثابت کرتے ہیں اور نہ ہی قتل کے محرک اور قاتل کی شناخت واضح کرتے ہیں۔
البتہ دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد دفعہ 302 کا شامل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پولیس اب کیس کو سنجیدہ قتل کی تفتیش کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔
میر رضا کے خاندان کو قیاس آرائی نہیں، شفاف، غیر جانب دار اور مکمل فرانزک تحقیقات کے ذریعے سچ اور انصاف چاہیے۔
انڈین سٹوڈنٹ ہے ویزہ ختم ہوا تو ایک تیرہ چودہ سال کی برٹش بچی کو گھیرتا پکڑا گیا اس کا پلان تھا اس بچی کو پریگننٹ کر کے ویزہ لے سکے اسے بتا رہے کہ تم ایک پیڈوفائل کے طور پر انڈیا ڈی پورٹ کریں گے
اس کی شکل دیکھیں زرا شرمندگی نہی ہے
@Asadrchaudhry جہاں سے مال ملنے کی امید نہ ہو وہاں کی خبر کیسے چلائیں یہ غریب پکھی واس تھیں ان کے پاس دولت نامی شے نہیں تھی ورنہ اتنا واویلا مچتا کہ خدا کی پناہ پنجابی کی مثال ہے
امیر دی مر گئی کتی تے ساری خلقت ٹکی
غریب دی مر گئی ماں تے کوئی نہ لوے ناں
شہباز شریف پر ترجیح دے کر نواز شریف نے آپ کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھایا اس کو بھی چھوڑ دیں اپنے حلقے سے ہارنے کے بعد لاہور حمزہ شہباز کے جیتے ہوئے حلقے سے جتوا کر اسمبلی میں پہنچایا
مقررہ مدت کے باؤجود انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد نہیں کیا، الیکشن کمیشن نے شاہد خاقان عباسی کی جماعت "عوام پاکستان" کو ڈی لسٹ کر دیا.
عوامی مسلم لیگ میں شیخ رشید کے علاؤہ ان کے بھتیجے شیخ راشد تو موجود تھے شاہد خاقان عباسی صاحب کی پارٹی میں یہ سہولت بھی موجود نہیں،
ایک وقت تھا
@Aadiiroy2 یہ غریب ہیں چنگڑ گھرانہ افسوس کہ بحثیت قوم ہم انسانیت کے انتہائی گرے ہوئے معیار پر پورا اترنے کی پوری کوشش کرتے ہیں کہاں ہے سی ایم مریم نواز @MaryamNSharif کہاں ہے خواتین ریڈ لائن کیا یہ انسان نہیں تھیں یہ واقعہ بھی لاہور کے تھانے کا ہے غریب کا اللہ مالک جو بہتر انصاف کرنے والاہے