یہ چیف کمشنر اسلام آباد،
عمران خان کے علاج شفا میں کرنے کے خلاف سپریم کورٹ کے احکام پر نظرثانی درخواست دائر کرتا ہے، چیف کمشنر اسلام آباد عمران خان کا PIMs میں علاج کرنے پر بضد ہے،
جب کہ آج PIMs ہسپتال میں سینکڑوں بچے جل گئے!!
چیف کمشنر اسلام آباد مجرم ہے، دفع ہو جاؤ!
یہ بھی فوجی ہے, لیفٹیننٹ ریٹائرڈ
یہ تھوڑی سی ٹویٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کر رہا ہوں۔۔۔۔
اس میں مراد خان جو ائی ایس ایف کے پی کے کے عہدے پر ہے
وسیم وزیر سہیل آفریدی کی آفیشل سوشل ٹیم کا ممبر ہے
فیصل جان شاہد خٹک کا فرنٹ مین ہے اور شاہد خٹک کے ساتھ مل کر کرپشن کر رہا ہے
حسیب خٹک بھی ائی ایس ایف کے عہدے پر فائز ہے
وسیم نامی شخص کے فیک اکاؤنٹ بھی ہیں
جو میری والدہ کو گندی گالیاں دے رہے ہیں
سوشل میڈیا پر کھلم کھلا دھمکیاں دی جا رہی ہے
گنڈاپور کی سوشل میڈیا ٹیم نے کبھی ایسی زبان استعمال نہیں کی
جیسی سہیل آفریدی کی ٹیم کر رہی ہے
سہیل آفریدی کی سوشل میڈیا ٹیم میں لڑکیاں بھی ہیں
جو گندی زبان استعمال کر رہی ہیں
میں نے ابھی صرف ان 4 لوگوں کے اسکرین شاٹس شیئر کیے ہیں جو سہیل آفریدی اور شاہد خٹک کے قریبی ہیں
آئی ایس ایف کے پی کے کے ٹوئٹر اکاؤنٹ مجھے اور میری فیملی کو مسلسل ٹارگٹ کر رہے ہیں
میں ایک ایک چیز کا ثبوت محفوظ کر رہا ہوں
آپ لوگ ذرا ریپلائز میں اکاؤنٹ چیک کر لینا جو گالیاں دے رہے ہیں
مجھے اگر کچھ ہوا تو یہ تمام لوگ ذمدار ہوں گے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گی
مراد تو اطراف جرم کر رہا ہے کہ اس کو پکڑو تو امی آگے آ جاتی ہے
اس کا مطلب سمجھ جائیں
میری جان خطرے میں ہے
میری جان کو خطرہ سہیل آفریدی اور شاہد خٹک اور ان کے بندوں سے ہے
ان لوگوں کے لیے کسی کو راستے سے ہٹانا مشکل کام نہیں ہے
میں نے صرف تھوڑے سے ثبوت لگائے ہیں
باقی ثبوت محفوظ کر رہا ہوں
سلمان اکرم راجہ اور گوہر جی کو بھی اس معاملہ پر غور کرنا چاہئے
میرے معاملات عام نہیں ہیں بلکہ سنگین ہو چکے ہیں
ایک ورکر کی زندگی کو قیادت سے خطرہ ہے
مجھے پہلے بھی انہی کے حکم سے اٹھوایا گیا تھا
اور اب مجھے مکمل طور پر راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں کیوں کہ میں کمپرومائز نہیں ہو رہا ہوں
میں عمران خان کا ساتھ کسی صورت نہیں چھوڑوں گا اور مائنس عمران خان کے خلاف آواز اٹھاؤ گا
سوشل میڈیا اور صحافیوں سے گزارش ہے
ابھی وقت ہے آپ کا آواز اٹھانے کا اگر مجھے کچھ ہو جاتا ہے تو تب آواز مت اٹھانا
جب ایک بندہ چیخ چیخ کر بول رہا ہوتا ہے کہ جان کو خطرہ ہے تب آپ لوگ سیریس نہیں لیتے لیکن جب کچھ ہو جاتا ہے تو آواز اٹھا رہے ہوتے ہیں
میرے لیے آواز اٹھانی ہے تو ابھی اٹھائیں، بعد میں مت اٹھانا
مجھے کچھ ہو گیا تو خان صاحب کو میرا ضرور بتانا
عمران خان زندہ باد
پاکستان زندہ باد
@ShahidkhattakSk@SohailAfridiISF@BarristerGohar@salmanAraja@NCCIAOFFICIAL
پاکستان تحریکِ انصاف کا قائد تحریک انصاف عمران خان کی صحت اور مسلسل تنہائی پر شدید تشویش کا اظہار
پاکستان تحریکِ انصاف کے قائد عمران خان کی صحت کے حوالے سے مسلسل سامنے آنے والی تشویشناک اطلاعات نے پوری قوم میں شدید اضطراب اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ایک طویل عرصے سے عمران خان کو عملاً قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، جہاں انہیں نہ اہلِ خانہ سے باقاعدہ ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے اور نہ ہی پارٹی کی سیاسی قیادت کو ان سے ملنے دیا جا رہا ہے۔
عمران خان پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت کے قائد ہیں، ان کی صحت اور سلامتی براہِ راست کروڑوں پاکستانیوں کی تشویش اور جذبات سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کی صحت کے بارے میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال کو مزید طول دینا ناقابلِ قبول ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف واضح کر دینا چاہتی ہے کہ عمران خان کی صحت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت اور متعلقہ ادارے ہوش کے ناخن لیں اور اس معاملے کی سنگینی کو سمجھیں۔ عمران خان کو طویل عرصے تک اہلِ خانہ، ذاتی معالجین اور سیاسی رفقاء سے دور رکھنا نہ صرف انسانی ہمدردی بلکہ بنیادی قانونی اور جمہوری اصولوں کے بھی منافی ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر عمران خان کی اہلِ خانہ، ذاتی معالجین، وکلا اور پارٹی کی ذمہ دار سیاسی قیادت سے ملاقات یقینی بنائی جائے۔ ان کا مکمل طبی معائنہ اور علاج ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں، اہلِ خانہ کی موجودگی اور مکمل شفافیت کے ساتھ کروایا جائے۔
حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ عمران خان کسی عام سیاسی کارکن کا نام نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے منتخب اور مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ ان کی صحت کے بارے میں عوام کو اعتماد میں لینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف واضح کرتی ہے کہ عمران خان کی صحت، سلامتی اور بنیادی انسانی حقوق پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ حکومت فوری طور پر تمام غیرضروری پابندیاں ختم کرے، ملاقاتوں کی اجازت دے اور عمران خان کو مکمل اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرے۔
منجانب: مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
بہت اہم ٹویٹ۔۔۔۔۔
جب آٹھ فروری سے پہلے خان صاحب کی صحت کے حوالے سے اطلاعات ملی تھی
تو ہم نے آواز اٹھائی
تو ہمیں یہ بول کر چپ کروانے کی کوشش کی گئی کہ آٹھ فروری سے دھیان ہٹانے کے لیے ڈسٹریکشن کی جا رہی ہے
اب جب پانچ اگست سے پہلے خان صاحب کی صحت کا دوبارہ معلوم ہوا
کہ خان صاحب کی صحت ٹھیک نہیں ہے
تو تب بھی یہی بولا گیا کہ پانچ اگست سے دھیان ہٹانے کے لیے سب ڈسٹریکشن ہے لیکن اب تو پانچ اگست بھی گزر چکا ہے
27 ستمبر سے پہلے 50 دن رہتے ہیں
کیا اب ہم خان صاحب کی صحت کے حوالے سے شور نہیں مچا سکتے ہیں ؟
جو ہمیں تشویش لگی ہوئی ہے
جو اطلاعات سامنے آرہی ہیں کیا ہم اس پر اواز نہیں اٹھا سکتے ہیں ؟
کہ ہم چیخ چیخ کر یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ خان صاحب کو ہسپتال منتقل کیا جائے اور خان صاحب سے ان کی فیملی اور ڈاکٹرز کی ملاقات کروائی جائے
کیا اب ہم نہیں بول سکتے ہیں؟
ہمیں چپ کروانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا جاتا..
کیا اب ہم خاموش رہیں یا بولیں ؟
میں خاموش نہیں رہا
مجھے خاموش کروانے کی بڑی کوشش کی گئی
لیکن میں پھر بھی بولتا رہا اور اب بھی بول رہا ہوں لیکن آپ بتائیں
کیا خان صاحب کی صحت کے حوالے سے بولنا جرم ہے؟ خان صاحب کی صحت ٹھیک نہیں ہے
اور یہ حقیقت ہے اور سب کو معلوم ہے کہ خان صاحب کی صحت ٹھیک نہیں ہے اور خاموشی شریکِ جرم ہے۔۔۔
حیدر سعید۔۔۔۔۔۔
پاکستانیوں، یہ ان بارہ سیٹوں کی حقیقت ہے، جس کی خاطر ان ظالموں نے کشمیر کو خون میں نہا دیا ہے! یہ فارم ڈاؤن لوڈ کر لیں! اس سے پہلے کہ یہ غیر قانونی حکومت X پہ دباؤ ڈال کے یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کروانے کی کوشش کرے! ہمیں X کی پالیسی ٹیم تک پہنچنے کی بھی ضرورت ہے، تاکہ انھیں brief کیا جا سکے کہ پاکستان میں بدقسمتی سے Rule of Law اور Due Process نہیں ہے! اور پاکستان کی تمام عدالتیں فوجی افسر کنٹرول کرتے ہیں، اسلئے ان عدالتوں کو احکامات کو منانا امریکن آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے! @X
نورین خان نیازی تو غدار ہیں، جن کے ایک ایسے انٹرویو کا چھوٹا سا کلپ وائرل ہوا جو آج تک کہیں شائع ہی نہیں ہوا۔
اصل محب وطن میاں صاحب ہیں جو بھارت جا کر فرما رہےتھے کہ کارگل میں میری فوج نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا۔
اور بھارتی وزیراعظم واجپائی صاحب کی بات بالکل درست ہے۔
سہیل آفریدی غائب ہے۔۔۔۔
سٹریٹ موومنٹ نہیں کر رہا
جوان اور جوشیلے سی ایم کے ہوتے ہوئے ایک بزرگ خاتون اپنے بھائی اور سی ایم کے لیڈر کے لئے سٹریٹ موومنٹ کر رہی ہیں
سہیل آفریدی کے لیے شرم کی بات ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے خان صاحب کی بزرگ بہن کو سٹریٹ موومنٹ کرنی پڑ رہی ہے
شیم ان یو سہیل آفریدی
آج کی ویڈیو بہت اہم ہے۔
81 دنوں سے محمد وقاص، نوید شہزاد، رضوان علی اور محمد عدنان قید میں ہیں، لیکن ان کے لیے مؤثر آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔ میں نے پہلے بھی ان کے بارے میں ٹویٹ کی تھی، مگر ان ورکرز کے حق میں وہ آواز نہیں بن سکی جس کی ضرورت تھی۔
انہیں 28 اپریل 2026 کو اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کچھ پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
اس کے بعد انہیں شناخت پریڈ کے لیے اٹک جیل بھیج دیا گیا۔ ان پر 7 اپریل کی ایف آئی آر ڈالی گئی تھی۔
ان کی شناخت پریڈ 14 دن کے بجائے 19 دن میں مکمل ہوئی، اور اس دوران ان پر بہت ذہنی ٹارچر بھی کیا گیا۔
ان کی کینٹین اور ملاقاتیں مکمل طور پہ بند تھیں۔۔
اصول کے مطابق جب شناخت پریڈ مکمل ہو جاتی ہے تو اگلے دن ملزمان کو عدالت میں پیش کرنا پڑتا ہے، لیکن انہیں عید کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا۔
انہیں یکم جون 2026 کو عدالت میں پیش کیا گیا، اور پھر انہیں سات جسمانی ریمانڈ پر بیرونی تھانے بھیج دیا گیا۔
اس کے بعد ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید تین دن کی توسیع کی گئی، پھر مزید سات دن کا جسمانی ریمانڈ بھی لیا گیا۔
14روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد انہیں جوڈیشل کر کے اٹک جیل بھیج دیا گیا۔
آج ان کی قید کو 81 دن ہو چکے ہیں، لیکن ابھی تک ان کی ضمانت نہیں ہوئی۔
کل ان کی ضمانت کی تاریخ لگی ہوئی ہے، لیکن اس کے بعد چھٹیاں آ جائیں گی۔ اگر کل انہیں ضمانت نہیں ملتی تو اطلاعات کے مطابق ہوسکتا ہے ان کی ضمانت چھٹیوں کے بعد لگے، جو کہ بہت زیادہ ظلم ہوگا۔
کل ان کی ضمانت کی تاریخ کا آخری دن ہے، اس لیے ان چاروں لوگوں کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں۔
ان میں سے ایک کی طبیعت بھی خراب ہے، لیکن انہیں ڈاکٹر تک رسائی نہیں دی جا رہی۔
انہیں ہماری آواز کی ضرورت ہے۔
امید کرتے ہیں کہ انہیں ضمانت دے دی جائے گی۔
آواز اٹھائیں، کیونکہ آواز اٹھانے سے فرق پڑتا ہے۔
خدارا، سب ان کے لیے آواز اٹھائیں۔
بریکنگ نیوز 🚨انٹرنیشنل بدنامی۔ وجاہت خان سعید نے بڑی سٹوری بریک کرڈالی۔ فن سکینڈیوین ہیومین رائٹس کے گروپ نے فن رائٹس کے نام سے مریم نواز کی CCD پر رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ میں سی سی ڈی کے متعلق چونکہ دینے والے خوفناک تہلکہ خیز انکشافات کیے گئے ہیں 🔥🔥
فن رائٹس کی رپورٹ کے مطابق فروری 2025 سے لے کر اب تک سی سی ڈی نے 2000 افراد کو بغیر کسی پوچھ گچھ کے جھوٹے پولیس مقابلوں میں قتل کردیا ہے۔ ہر مقابلے میں سیم پیٹرسن استعمال کیا جاتا ہے جو سی سی ڈی کی شفافیت پر سوالات کھڑے کردیتا ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل A-10 کی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت ہر پاکستانی کو منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہے جو کہ سی سی ڈی نہیں دی رہی۔ طاقت اور آتشیں اسلحہ کے استعمال کے بارے میں اقوام متحدہ کے بنیادی اصول یہ ہیں کہ پولیس صرف اس وقت مہلک طاقت کا استعمال کر سکتی ہے جب یہ واقعی ضروری ہو۔ پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داری ہے کہ وہ زندگی کے حق اور مناسب عمل کا تحفظ کرے۔ ساتھ ہی فن رائٹ نے اس رپورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے بڑا مطالبہ کردیا ہے۔ ہر سی سی ڈی موت کی آزادانہ عدالتی تحقیقات شروع کریں۔ تمام CCD "انکاؤنٹر" آپریشنز اس وقت تک بند کر دیں جب تک کہ نگرانی کے حقیقی قوانین موجود نہ ہوں۔ ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ 2022 کو مکمل طور پر نافذ کریں۔
اسلحے اور طاقت کے زور پر زبردستی نکالے گئے لوگ ہیں۔ سیاسی سوچ تبدیل ہوتی یا کسی لالچ کے لیے جانا ہوتا تو کافی پہلے چھوڑ جاتے۔ سیاسی لوگ تھے کوئی تربیت یافتہ کمانڈوز تو تھے نہیں کہ جرنیلوں سے لڑ جاتے مگر آفرین ہے ڈٹ جانے والوں خصوصاً ان خواتین پر جو یہ لڑائی بھی لڑ گئیں اور آج ملٹری اسٹیبلشمنٹ انہی کی وجہ سے ہلکان ہوئی پڑی ہے۔
انتہائی ہولناک مناظر 🛑
کشمیری جوان کی سر میں گولی لائیو دیکھا جاسکتا ہے !!
ویڈیو بناتے ہوئے نوجوان کو فورسز نے گولی ماری!
یہ مقبوضہ کشمیر نہیں آزاد کشمیر ہے, یقین کرے زہنی مریض پاکستان کو ایک بار پھر توڑنے کا منصوبہ بنا چکا ہے!!
میں 3 بار جیل گیا۔
7 بار پولیس نے گرفتار کیا۔
بہت بار مار کھائی۔
3 موبائلز میرے FIA کے پاس ہیں۔
میری سمز بند ہیں۔
لاکھوں کا نقصان اٹھایا ہے۔
لاکھوں کا پیٹرول اڈیالہ جیل تک لگ چکا۔
لاکھوں روپے کیسز میں لگ چکے ہیں۔
میرے گھر میں ریڈ ہوا۔
میری امی کو گرفتار کیا گیا۔
میرا بھائی بھی 9 مئی کے کیس میں جیل جا چکا ہے۔
اسلام آباد راولپنڈی کا کوئی احتجاج نہیں چھوڑا۔
5 اکتوبر اور 26 نومبر کو فرنٹ لائن پر کھڑا رہا۔
لیکن جو لوگ چمچہ برگیڈ بن کر ہر روز میرے اوپر بکواس کر رہے ہیں، وہ کتنی بار جیل جا چکے ہیں؟
میری تنقید قیادت پر ہوتی ہے، تو پھر مجھے بار بار کیوں گرفتار کیا جاتا ہے؟ کس کی خواہش پر گرفتار کیا جاتا ہے؟ کس کو خوش کرنے کے لیے گرفتار کیا جاتا ہے؟ پچھلے 3 منگل سے مجھے اڈیالہ کے باہر سے پکڑنے کی کوشش کی گئی، کس کے کہنے پر؟ کس نے میرا نام دیا کہ حیدر کو پکڑو؟
کیا اس کا جواب کسی کے پاس ہے؟
مجھے کبھی بھی دوبارہ گرفتار کیا جا سکتا ہے، کیوں کیا جائے گا؟
جواب دیں گے؟
میری ضمانت سپریم کورٹ سے ہوئی تھی، اور وہ اسی ٹویٹ پر ہوئی جس پر سب بات کر رہے ہیں، اور وہ تھا پاکستان کو بند کرنا۔ پھر صرف مجھے ہی کیوں گرفتار کیا گیا؟ مجھے جیل میں بہت تنگ کیا گیا، لیکن میں پھر بھی حوصلے کے ساتھ رہا۔ مجھے کسی کے کہنے پر باقی پی ٹی آئی والوں سے دور رکھا گیا؟
میں جدھر شروع دن سے کھڑا تھا، آج بھی اُدھر ہی کھڑا ہوں۔
آپ کدھر کھڑے ہیں؟
میں گنڈاپور پر بھی تنقید کرتا تھا اور سہیل آفریدی پر بھی کر رہا ہوں۔
پنجاب کی قیادت پر بھی کھل کر تنقید کر رہا ہوں۔
علی امین گنڈاپور کا ساتھ بھی تب تک دیا، جب تک وہ مزاحمت دکھا رہا تھا، اور سہیل آفریدی کا ساتھ بھی تب تک دیا، جب تک وہ اسٹریٹ موومنٹ اور مزاحمت دکھا رہا تھا۔
سہیل آفریدی جتنی بار اڈیالہ آیا، میں بھی اڈیالہ جیل کے باہر موجود رہا اور اس کا ساتھ دیا۔
جب جب اڈیالہ کے باہر دھرنا دیا، میں تب تب اڈیالہ جیل کے باہر آخر تک موجود رہا۔
سہیل آفریدی کے چمچے تب کدھر تھے؟
گھروں میں بیٹھ کر صرف ٹویٹ کر رہے تھے؟
میں اپنے گھر والوں کے ساتھ گراؤنڈ پر موجود تھا۔
تم سب کدھر تھے، جو چمچہ گیری میں مجھے گالیاں دے رہے تھے اور ٹاؤٹ بول رہے تھے؟
اڈیالہ کے باہر جب پہلی بار پانی پھینکا گیا، تب میری والدہ پر بھی پانی پھینکا گیا تھا۔ وہ شدید زخمی ہوئیں اور انہیں نمونیا بھی ہوا، لیکن وہ پھر بھی اگلے منگل اڈیالہ آئیں۔
جتنی بار آپا کو گرفتار کر کے چکری لے کر گئے، ہم اتنی بار ان کے پیچھے پیچھے چکری گئے۔
آپ خود تب کدھر تھے؟
میں پیر کو رہا ہوا اور منگل کو اڈیالہ پہنچ گیا تھا، اور اس کے بعد 26 نمبر گیا تھا۔
آپ لوگ کدھر تھے؟
بنی گالا سے اڈیالہ بائیک پر جانا کیا آسان ہے؟
جناب، آپ کے لیے باتیں کرنا آسان ہے، گراؤنڈ میں آنا آپ کے بس کی بات نہیں۔ آپ بس پیسہ لے کر چمچہ گیری کر سکتے ہیں۔
جب خان صاحب رہا ہوں گے، تب آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ کون ٹاؤٹ تھا اور کون وفادار۔ اگر آپ کا تھوڑا سا بھی ضمیر زندہ رہا، تو تب آپ کو بہت شرمندگی ہو گی کہ آپ نے اپنے مفاد کے لیے کیا کچھ کیا اور خان صاحب کو کیسے نقصان پہنچایا۔
میرا دل مطمئن ہے، کیونکہ میں حق پر ہوں۔
میں جو کر رہا ہوں، وہ وقت کی ضرورت ہے، اور چپ رہنا خان صاحب کے ساتھ غداری ہے۔
میں نے جان اپنے اللّٰہ کو دینی ہے، اور مجھے دوزخ اور اللّٰہ کے عذاب سے بہت ڈر لگتا ہے۔
روز سوچتا ہوں کہ اگر میں چپ کر گیا اور حق پر کھڑا نہ رہا، تو اللّٰہ کے سامنے کیسے کھڑا ہوں گا؟
آپ چمچہ گیری کرتے رہیں، اور میں اپنا کام کرتا رہوں گا۔
ایک آخری بار،
کان کھول کر سن لیں۔
حیدر سعید کے ضمیر کی کوئی قیمت نہیں لگا سکتا۔ بہت لوگوں نے کوشش کی، لیکن حیدر سعید کے ضمیر کو نہیں خرید سکے۔
میں آج نہیں تو کل، کل نہیں تو اس زندگی میں، اور اگر اس زندگی میں نہ سہی تو آخرت میں ضرور سرخرو ہوں گا۔
ان شاء اللّٰہ
پاکستان زندہ باد
عمران خان زندہ باد
عمران خان کے دیوانے زندہ باد
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا
عمران احمد خان نیازی
20 دسمبر 2025
یہ ویڈیو 7:24 کی ہے جب اڈیالہ جیل سے کافی پروٹوکل کے ساتھ گاڑیاں باہر نکلی اور گورکھ پور والی سائیڈ پہ گئی تھی۔۔۔۔۔
تقریباً 20 منٹ گاڑیاں اندر رہی ہیں۔۔۔۔۔
ولا عالم کون ہوگا کون نہیں۔۔۔۔
کیا پتہ کیا ہوا ہوگا
میں بس خبر دے رہا ہوں