حکومت کی کوششوں سے پاکستان میں تیل کی قلت تو پیدا نہیں ہوئی لیکن مہنگائی ضرور ہوئی ہے. حکومت معیشت کی ترقی کی شرح بڑھانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن شرح سود بڑھنے سے ان کوششوں کو دھچکا ضرور لگا ہے.
اس وقت پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں اور امید ہے پاکستان ایران اور امریکہ تنازعہ حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا. اس کے بعد امید ہے مہنگائی کا یہ بحران حل ہوگا اور دنیا ایک معاشی بحران سے بچ جائے گی.
مئی 2025 کی جنگ کے بعد پوری دنیا کو پتہ چل چکا ہے کہ روایتی جنگ میں بھی پاکستان بھارت سے آگے ہے.
ہم نے پوری دنیا میں ایک goodwill ڈویلپ کی ہے اور اب ہمیں بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے اپنے لیے کچھ ریلیف حاصل کرنا ہوگا تاکہ ہم معاشی بہتری کی طرف جا سکیں اور ہمارے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خواہش کے مطابق غریب طبقے کے لیے آسانیاں پیدا ہوں
پاک ایران گیس پائپ لائن ہمارے لیے بہت اہم ہے. اس پر خرچہ تو 8 سے 10 بلین ڈالر ہوگا لیکن محض ڈیڑھ دو سال میں ہی یہ خرچ پورا ہو جائے گا. دنیا کا کوئی کاروبار اتنی تیزی سے ریٹرن نہیں دیتا.
اسی طرح چین کے لیے بھی گوادر یا پائپ لائن کے ذریعے انرجی سپلائی بہت اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے چین آبنائے ہرمز اور ملاکا کو بائی پاس کرسکے گا.
اس وقت گوادر کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے. ہمیں اسے اس کے اصل پوٹینشل پر بحال کرنے کی ضرورت ہے. ہمیں بارڈر اکنامک زونز بنانے ہوں گے جہاں باعزت روزگار کے بےشمار مواقع پیدا ہوں گے. جیسے جیسے ایران پر پابندیاں ختم ہوں گی پاکستان کے پاس ایک بڑے ملک کے ساتھ تجارت کے مواقع بھی کھلیں گے.
مشرق وسطی میں امریکی اڈے تحفظ کے لیے موجود ہیں لیکن گزشتہ چند ہفتوں نے ثابت کیا ہے کہ یہ اڈے کسی قسم کا تحفظ دینے میں ناکام رہے ہیں. امریکہ کی ساری توجہ اسرائیل کو تحفظ دینے پر ہے. اس جنگ کے نتیجے میں 2 چیزیں واضح ہوئی ہیں ایک تو یہ کہ امریکی بیسز حفاظت کی ضمانت نہیں ہیں اور دوسری بات یہ کہ ایران کی تمام تر ائیر فورس اور نیوی تباہ ہونے کے باوجود امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکام ہے.
امریکہ ایران جنگ سے تقریبا پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے. تمام تر شہادتوں اور بمباری کے باوجود ایرانی رجیم قائم ہے. آبنائے ہرمز سے بحری جہاز نہیں گزر پا رہے ہیں اور تیل و گیس مسلسل مہنگے ہو رہے ہیں. پاکستان کو بھی LNG کے حصول کے متبادل ذرائع ڈھونڈنے ہوں گے. یہ جنگ جتنی طوالت اختیار کرے گی اس کے اثرات عالمی معیشت پر گہرے ہوتے جائیں گے.
جب بھی پاکستان ترقی کا سفر شروع کرتا ہے ہم اسے sustain نہیں کر پاتے. پچھلے 20 سال میں دنیا بھر میں عالمی مالیاتی اداروں سے ملنے والے قرضے کم ہوگئے ہیں لیکن ہم نے ان قرضوں پر اپنا انحصار کم نہیں کیا. ہماری صنعتیں اور زراعت مسلسل سکڑ رہی ہے. جب تک ہماری صنعتیں فعال نہیں ہوں گی ہماری ایکسپورٹس نہیں بڑھیں گی اور ترقی نہیں ہوگی. وزیراعظم کی موجودہ ٹیم صنعتی سیکٹر پر توجہ دے رہی ہے. اس وقت پرائیوٹ سیکٹر کے لیے قرضوں کی فراہمی بھی ممکن بنائی جا رہی ہے. امید ہے اس سے بند صنعتیں چلنا شروع ہوں گی اور ہم اپنے ریجن کی منڈیوں کے مقابلے پر آ جائیں گے.
پچھلی 2 دہائیوں میں ہم نے بھرپور قرضے اٹھائے ہیں اور ہمارے قرضے تقریبا 6 گنا بڑھ گئے. بار بار IMF پروگرام میں جانے کی وجہ سے صنعتوں اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بھی بڑھتا رہا ہے.
اب حکومت نے درست سمت میں کام شروع کیا ہے اور لارج سکیل مینوفیکچرنگ بہتر ہوئی ہے اور حکومت کوشش ہر رہی ہے کہ پرائیوٹ سیکٹر کے لیے بینکنگ سیکٹر سے قرضوں کی فراہمی بھی ممکن ہو. اسی صورت میں ہماری صنعتیں ترقی کریں گی، نوکریاں بڑھیں گی اور ٹیکس ریونیو بھی بہتر ہوگا.
Pakistan must squarely focus on the manufacturing sector. Lower energy costs, resolve the massive circular debt. We should negotiate with the IMF to ease excessive taxes and create a viable export-friendly environment. These steps can ensure long-term economic healing. 🇵🇰📈
حکومت معیشت کے کچھ اعشاریوں میں بہتری لانے میں کامیاب ہوئی ہے. مہنگائی اور شرح سود کم ہوئی ہے اور حکومت کی جانب سے بینکوں سے قرض لینا بھی کم ہوا ہے. یہ معاشی استحکام عالمی مالیاتی ادارے بھی تسلیم کر رہے ہیں لیکن ہمیں اب اپنی ترقی کی شرح بہتر کرنی ہے کیونکہ غربت تب ہی کم ہوگی جب انڈسٹری لگے گی اور نوکریاں پیدا ہوں گی.
Pakistan has demonstrated macroeconomic stability under the ongoing IMF programme, strengthening our relations with other international financial institutions. Eliminating poverty remains a key priority, and UAE investment is vital in this regard. With its large sovereign funds and leadership in future technologies, UAE cooperation can support Pakistan’s industrial and technological growth.
پی. آئی. اے کی پرائیویٹائزیشن تقریباً 20 سال بعد پاکستان کی پہلی نجکاری ہے. یہ اپنے آپ میں ایک بڑی کامیابی ہے اور 475 ملین ڈالر کا سرمایہ آیا ہے. پاکستان کا سرمایہ کار اگر خود پیسہ لگانا شروع کر رہا ہے تو اس سے بیرونی سرمایہ کار کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی اور ہمارے اپنے سرمایہ کار خود شراکت داری کے لیے بھی باہر سے سرمایہ کار ڈھونڈ کے لائیں گے. یہ ایک اوور آل اچھا ٹرینڈ ہے اور معیشت کے لیے اچھی خبر ہے.
آئی. ایم. ایف پروگرام کا مناسب طریقے سے جاری رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کسی حد تک اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے. مہنگائی کی شرح اور شرح سود میں بھی خاصی کمی ہوئی ہے. حکومت کے بینکنگ سیکٹر سے قرضے بھی کم ہوئے ہیں اور ہمارا مینوفیکچرنگ سیکٹر بھی گروتھ دکھا رہا ہے جو کہ ایک اچھا ٹرینڈ ہے لیکن ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور ہم ایک جامع صنعتی پالیسی کے منتظر ہیں.
سال 2008 میں پاکستان کو 8.4 ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری لائی لیکن اس کے بعد سے ہم اس میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کر سکے اور ہم بیرونی قرضوں پر اپنا انحصار کم نہیں کر سکے جبکہ عالمی مالیاتی اداروں نے رعایتی قرضوں میں کمی کر دی ہے اور ہم کمرشل بینکوں سے مہنگے قرضے لینے پر مجبور ہیں. اس وقت قرضوں میں پر سود کی ادائیگی ہمارے دفاعی اخراجات سے کئی گنا بڑھ چکی ہے.
پاکستان کی معیشت کو مزید کیا مسائل درپیش ہیں؟ ویڈیو میں تفصیلات.
Pakistan is making rapid technological advances in the defence sector. During May's skirmishes with India, we’ve proven our capabilities even in conventional warfare.
We’re also integrating modern technology into counter-terror operations, which has contributed to a noticeable decline in such incidents.
With sustained technological progress and effective diplomacy, we hope to eliminate terrorism in partnership with our friends.
Pakistan has thousands of closed industries with existing machinery, labour and infrastructure. Reviving them must be our first step.
We need to facilitate exports and build core sectors like machine tools, steel, and petrochemicals. No country industrializes without these foundations. Only then can we move to high-value, advanced production. We need to take these steps if we really want to move away from over reliance on debt
ہم اپنے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو بڑھانے میں ناکام رہے بلکہ وہ سکڑ رہا ہے. اسی طرح ہم اپنی ایکسپورٹس میں بھی جدت نہیں لا سکے اور اب دنیا کے مقابلے میں ہماری ایکسپورٹ پراڈکٹس مقابلے کے قابل نہیں رہیں اور ہمارے ٹیکسزا اور بجلی کے ریٹ بھی خاصے زیادہ ہیں. پاکستان میں کاروبار کرنا کافی مشکل ہوچکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پچھلے 20 سال میں ہم اپنی برآمدات خاطر خواہ طور پر بڑھانے میں ناکام رہے ہیں.
میرا انتخابی حلقہ مکمل طور پر دیہی علاقہ ہے اور وہاں کے لوگوں سے پوچھا جائے کہ کبھی کسی حکومتی نمائندے نے بیج یا فصلوں کے حوالے سے ان کی رہنمائی کی تو ان کا جواب نفی میں ہوتا ہے. ہم نے اپنے زرعی سیکٹر کو مکمل طور پر قدرت کے بھروسے پر چھوڑا ہوا ہے اور کوئی جدت لانے میں ناکام رہے ہیں. ہمیں اپنے زرعی سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنا ہوگا اور سبسڈی ڈائریکٹ کسان تک پہنچانا ہوگی تاکہ وہ اپنی فصل پر بہتر سرمایہ کاری کر سکیں.
The government, the Prime Minister’s team and the SIFC have been very active in engaging with Saudi leadership and global investors, which will certainly take things a few steps forward. I'm particularly focused on what Pakistan and Saudi Arabia can achieve bilaterally on the economic front as both sides are actively working on creating a shared economic agenda.
This collaboration could also bring some relaxation in the IMF program, enabling Pakistan to grow at a faster pace. The strategic alignment between Riyadh and Islamabad already exists on the security front, now it’s time to strengthen it economically. I’m confident both countries can work out a medium to long-term plan to permanently move Pakistan out of its recurring crises.
Our bureaucratic structure hasn’t kept pace with the political leadership in facilitating investment in the past. The SIFC is a very significant body to kick-start this process, though it too faces bureaucratic hurdles. The government is taking measures to address these challenges, and things are moving in the right direction. We need to focus more on outcomes rather than processes. If we stay on this path, we will soon see real progress.