اڈیالہ جیل انتظامیہ ایک بار پھر عمران خان اور بشریٰ بیگم کے بنیادی آئینی و قانونی حقوق میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے وکالت نامہ اور قانونی دستاویزات جمع کرانے کی کوشش دانستہ طور پر روکی گئی۔ وکیل خالد یوسف چوہدری @KhalidYChaudry کے مطابق، 22 مئی کو پانچ گھنٹے انتظار کے باوجود دستاویزات نہ وصول کی گئیں اور نہ کوئی قانونی جواز دیا گیا۔
یہ عمل آئین پاکستان کے آرٹیکل 4، 9، 10-A اور 25 کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو ہر شہری کو شفاف ٹرائل اور قانونی نمائندگی کا حق دیتے ہیں۔ بنیادی قانونی حق روکنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کٹھ پتلی نظام عمران خان کا سامنا عدالتوں اور عوام دونوں کے سامنے کرنے سے خوفزدہ ہے۔
#ReleaseKhanSaveHisHealth
میری محسن نقوی سے ملاقات بنوں میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اور صوبے کے امن و امان کے حوالے سے تھی اور اس میں کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی جو کہ رپورٹ کی جا رہی ہے-
I am deeply grateful to my respected leader Imran Khan and the Chief Minister Sohail Khan Afridi, for placing their trust in this humble servant by entrusting me with the responsibility of the Industries and Commerce Department.
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای دنیا بھر کے دو ارب مسلمانوں میں وہ 86 سالہ مردِ آہن ایک ایسی بے مثال شخصیت تھے جنہوں نے عالمی استعمار اور سامراجی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکارا۔
تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
آج ایک بار پھر آئینِ پاکستان کو بے دردی سے پامال کرتے ہوئے عدالتی تاریخ میں ایک اور شرمناک اور سیاہ ترین دن رقم کیا گیا۔ توشہ خانہ ٹو کیس میں تحریکِ انصاف کے قائد عمران خان اور بشریٰ بی بی کو وکلاء اور اہلِ خانہ کی عدم موجودگی میں 10،10 سال اور تعزیراتِ پاکستان کے تحت مزید 7،7 سال یعنی مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزائیں سنا کر منصفانہ ٹرائل، بنیادی انسانی حقوق اور آئینی ضمانتوں کا کھلم کھلا جنازہ نکالا گیا۔
یہ فیصلہ انصاف نہیں بلکہ کھلا سیاسی انتقام، آئین کا قتلِ عام اور قانون کے منہ پر طمانچہ ہے، جسے باشعور قوم کسی صورت قبول نہیں کرے گی
یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان سے پاکستانی قوم بلخصوص پوری پختون قوم اور قبائلی پختونوں کی دل آزاری ہوئی۔
خیبر پختون خواہ ، پاکستان کا اہم اور قابلِ فخر حصہ ہیں جو لوگ خیبر پختونخواہ کو پاکستانی تسلیم نہیں کرتے، وہ خود پاکستانی نہیں ہے
ہم ہمیشہ ایک مضبوط، متحد اور باوقار پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں
“ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو زبان استعمال کی ہے وہ پورے پختون قوم کی توہین ہے، اور اس پر انہیں فوری طور پر پختونوں سے معافی مانگنی چاہیے۔ آج کے بیان نے یہ تاثر مزید مضبوط کر دیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے جو کہا تھا وہ بے بنیاد نہیں تھا۔ اگر ایک منتخب پختون وزیرِ اعلیٰ کے لیے اتنی تحقیر آمیز گفتگو ہو سکتی ہے تو سوچا جا سکتا ہے کہ عام پختون کے ساتھ کیا طرزِ عمل رکھا گیا ہوگا۔”
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
”تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں- پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے-
”تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں- پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے-
شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر نامزد کرتا ہوں۔
پاکستان بار کے انتخابات میں تحریک انصاف متحد ہو کر ان امیدواروں کی بھر پور حمایت کرے جنھیں سلمان اکرم راجہ اور حامد خان نامزد کریں۔ خیبر پختونخوا کے وکلأ، بارز اور ILF کے معاملات کا سہیل آفریدی خود جائزہ لیں اور بہتری کے لیے ضروری فیصلے خود کریں۔
زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کا موجودہ حال پریشان کن ہے۔ کسانوں کے حقوق پر جس طرح ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، اس پر انتہائی افسوس ہے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 2 of 2
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیرِ اہتمام شاندار آئی ایس ایف کنونشن گل آباد ڈگری کالج میں منعقد ہو رہا ہے۔میں پارٹی کارکنان اور طلبہ سے بھرپور شرکت کی اپیل کرتا ہوں۔ نوجوان اس اہم کنونشن کو کامیاب بنانے میں اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کریں۔
📅 کل صبح 10 بجے
یہ تاریخی کنونشن بانی چیئرمین عمران خان اور بشرا بی بی سمیت دیگر اسیران جمہوریت کی رہائی اور مراد سعید کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور فیصلہ کن اظہارِ یکجہتی ہوگا
@ISFPakistan@PTIofficial@PTIKPOfficial
خان صاحب کی بہنوں علیمہ خان ،نورین خان ،عظمیٰ خانُ اسی طرح صوبائی وزیر مینا خان آفریدی پر ڈھایا جانے والا تشدد، اور دو مرتبہ منتخب ہونے والے ایم این اے شاہد خٹک دیگر پارلمنٹرینز کو تھپڑوں، دھکوں اور زبردستی دھرنے کی جگہ سے اٹھا کر لے جانا، ریاستی اداروں کی جانب سے جمہوری قدروں کی گھمبیر تذلیل اور عوامی مینڈیٹ کی کھلی بےحرمتی ہے۔ ایک صوبائی وزیر کو اس طرح تشدد کا نشانہ بنانا، اور عوامی ووٹوں سے منتخب نمائندوں کو بارہا طاقت کے ذریعے روند دینا اس حقیقت کو عیاں کر دیتا ہے کہ ملک میں آئین، قانون اور جمہوریت کا نام تو لیا جا رہا ہے مگر ان کی روح کو دفن کیا جا چکا ہے۔
یہ طرزِ حکمرانی نہیں، یہ سیاسی انتقام کے نام پر بےقابو ریاستی جبر کا وہ چہرہ ہے جس میں نہ اخلاق کی جھلک باقی ہے اور نہ قانون کی کوئی وقعت۔ خواتین اور عوامی نمائندوں کے ساتھ اس سطح کی تحقیر، بدسلوکی اور طاقت کا بےشرمانہ استعمال اس بات کا اعلان ہے کہ اب اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا گیا ہے، اور طاقت کے گھمنڈ میں ہر وہ آواز کچلی جا رہی ہے جو سچ بولنے کی ہمت رکھتی ہو۔ ایسے اقدامات کسی بھی جمہوری ملک کے لیے بدنامی کا باعث اور موجودہ حکمرانوں کی ناکامی کا سنگین اعتراف ہیں
Police violently detained Imran Khan's sisters, Aleema Khan, Noreen Niazi, and Dr Uzma Khan from where they were sitting peacefully outside Adiala Jail after yet again being denied their weekly visit with their brother.
KP provincial minister Meena Khan Afridi, MNA Shahid Khattak, and other party office holders and workers, including several women, were also subjected to violence and picked up by police.
What should be routine weekly court-mandated family visits, in accordance with Imran Khan's rights as a prisoner, are being used as a tool of oppression and violence against his family members and supporters.
@amnestysasia@hrw@UNHumanRights@TLHumanRights@JaredGenser@DrAliceJEdwards
قائد عمران خان سے ملاقات روکنے کے لیے خان صاحب کی بہنوں،نہتی خواتین پر ڈنڈے برسوانا اور پانی کی توپیں چلوانا اس حکومت کے چہرے سے باقی بچا ہوا پردہ بھی نوچ کر پھینک چکا ہے۔ اپنے ہی شہریوں سے اس قدر خوف صرف وہی حکمران رکھتے ہیں جنہیں معلوم ہو کہ ان کی حکمرانی عوامی حمایت نہیں بلکہ زبردستی کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔
ان خواتین کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی اور قائد کو دیکھنا چاہتی ہیں۔ مگر یہ حکومت، جس کی سیاست کا دارومدار صرف انتقام پر ہے، قانون، اخلاق، انسانیت سب کچھ روند چکی ہے۔ ان کا ہر عمل چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ سچ کے سامنے آنے سے انہیں شدید گھبراہٹ ہے۔
کٹاکٹ سردی، پانی کے حملے، دھکے، گالیاں سب کچھ سہہ کر بھی عمران خان کی بہنیں اور کارکنان دھرنے سے نہیں اُٹھے۔ ریاستی طاقت کی ساری بربریت ان کے حوصلے کا ایک گوشہ بھی نہ جھکا سکی۔ یہ حکومت جتنی سختی بڑھا رہی ہے، اتنا ہی اپنا بزدلانہ کردار عوام کے سامنے ننگا کر رہی ہے۔
ادھر میڈیا پر وہی پرانا کھیل جھوٹ، کردارکشی، اور سرکاری اشاروں پر ناچتے پروپیگنڈا باز تین برس سے پوری طاقت لگا کر بھی عمران خان کو نہ جھکایا جا سکا، نہ ان کی اہلیہ کی استقامت توڑی جا سکی۔ یہ سب برداشت کرنے کے بعد بھی اگر کوئی سوچتا ہے کہ چند حملوں سے یہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں گے تو وہ خود فریب میں مبتلا ہے۔
#ملاقات_سے_کیوں_ڈرتے_ہو