Sindh Building Control Authorithy records show that Gul Plaza had approval for construction of 1,021 shops on 3 floors
But it turns out that 1,200 shops were built, impeding passages, exits and walkways - and hampered in people being able to leave the building safely when the fire happened
Furthermore, an additional floor was added in 1998, during which shops were built in the designated parking area and the rooftop was converted into a parking facility. SCBA regularised this extra floor 5 years later and the building owner was able to obtain a completion certificate on April 14, 2003
Question is how and why did the SCBA allow all these extra shops (all of which were a security hazard)?
ٹرمپ کی پاکستان سے آئل ڈیل اور کیکڑا ون
جن دوستوں کو کیکڑا ون کا کیس یاد نہیں انکی معلومات کے لئے عرض ہے ،
عمران حکومت کو آئے چھ ماہ سے زائد کچھ گزرے تھے کہ کراچی کے ساحل کے قریب تیل کی تلاش میں ایک بڑی بریک تھرو کی خبر ملی ، یہاں کیکڑا ون نامی پلاٹ میں ساڑھے پانچ کلومیٹر کی گہرائی میں کھدائی کرنے والی رِگ کو پریشر کِک کا سامنا کرنا پڑا ڈرلنگ سے برآمد ہونے والے مواد کو لندن لیب میں بھیجا گیا جس نے تیل کی موجودگی کی تصدیق کی۔ ماہرین کے مطابق اتنا تیل موجود تھا کہ پاکستان کی پچاس برس کی ضروریات پوری کر سکتا تھا اور پاکستان کا شمار تیل برآمد کرنے والے ممالک میں ہو جاتا۔
اتنی گہرائی میں زیرسمندر ڈرلنگ کی مشینری اور مہارت صرف امریکی EXXON - MOBIL کمپنی کے پاس ہی تھی اور وہی پاکستانی پی پی ایل PPL کے اشتراک سے یہ کھدائی کر رہی تھی۔
اس کے باقاعدہ افتتاح کے لیے ایکسون موبل کے CEO کے پاکستان کے دورہ کی تاریخ بھی مقرر کرد�� تھی کہ اچانک اطلاع ملی کہ تیل کی برآمدگی کی خبر غلط فہمی پہ مبنی تھی اور وہاں ��ے تیل نہیں بلکہ پانی برآمد ہوا تھا۔
اس اچانک خبر سے سب کو مایوسی بھی ہوئی اور فطری طور پہ افواہوں نے بھی جنم لیا کیونکہ کوئی یہ یقین کرنے کو تیار نہ تھا کہ لندن لیب نے کئی دن قبل جو تصدیق کی تھی وہ اتنے دنوں بعد غلط کیسے ثابت ہو گئی اور ایکسون موبل جیسی فرم کے سربراہ نے رپورٹ کی تصدیق کے بغیر ہی اپنا دورہ کنفرم کس طرح کر دیا ؟
راقم الحروف کا ذاتی خیال تھا کہ چونکہ اس ٹیکنالوجی پہ امریکی اجاراداری تھی تو امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کچھ ایسے مطالبات ہونگے جو اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ ماننے سے انکاری ہوگئی۔
اب ٹرمپ کی ٹوئیٹ کے بعد سمجھ آ رہا ہے کہ پرابلم امریکی نہیں بلکہ ��ماری فوجی اسٹیبلشمنٹ کا تھا