شہید کی ماں
مِرے پیارے بیٹے
تمہاری شہادت سعادت ہے لیکن
تمہارے بدن پہ لہو کی لکیریں
مِری روح پر
سُرخ انگاروں جیسی سُلگنے لگی ہیں
تمہاری بہادر وفا کی کہانی
مِرے زرد ہونٹوں کا
نوحہ بنی ہے
مِرے دل کے آنگن میں
اِک گہری چُپ کی عزاداریاں ہیں
مِرا سینہ
بے نام ماتم کی شدت سے
جلنے لگا ہے
مِرے بازوؤں میں وہ طاقت کہاں کہ
تمہارے کفن کو گلے سے لگا لوں
مِرے ہاتھ اُٹھتے نہیں ہیں دعا کو
مجھے اسمِ اعظم بھی بھُولا ہوا
ہے
مجھے صبر کا آج یارا نہیں ہے
مِرے پیارے بیٹے
تمہارے بدن پر لہو کی لکیریں
نوشی گیلانی
💔💔
مِری آ زادیٔ پرواز کی خواہش کو جنگل کے لیٔے آزار کہتے ہو
مِرے جذبوں کی کشتی کو جلاتے ہو
مِرے افکار کے دریاؤں کو صحراؤں کا قیدی بناتے ہو
مگر سُن لو
کویٔ موسم ہو
حبس و جبر کا، صحرا کا، جنگل کا
یہ قیدی سانس لیتا ہے
نوشی گیلانی
3/3
یہ قیدی سانس لیتا ہے
اِن آ وازوں کے جنگل میں
مِرے پَر باندھ کر اُڑنے کا کہتے ہو
رہایٔ کے لیٔے بینایٔ کو اِک جُرم کہتے ہو
مِری پلکوں کو سی کر
موسموں کو جاننے پہچاننے کی شرط رکھتے ہو
مِرے پاؤں کو زنجیروں کی بے چہرہ صداؤں سے ڈراتے ہو
2/n