1948کی ایک نایاب ویڈیو جب کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑنے پٹھان پہاڑوں سے آئے تھے!
انہیں کیا پتہ تھا کہ جن کے لیے یہ لوگ کشمیر آزاد کروا رہے ہیں ایک دن ڈالرز کی خاطر یہی فوج انہی پٹھانوں اور کشمیریوں پر آپریشن کرے گی۔
#پاکستان_کی_کہانی
میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنایا۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ جس نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ذلیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا تیسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ لگا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
جو سلسلہ الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے محروم کرنے سے شروع ہوا، پھر اس کی 78 مخصوص نشستوں کی مالِ غنیمت کی طرح تقسیم تک پہنچا، اب بظاہر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر ختم ہوگا... جئے بھٹو ۔۔۔۔۔
عجیب ملک ہے یہ ہندوستان ایک ساتھ آزاد ہوئے لیکن اتنے غریب کہ کنٹینر تک نہیں ہیں عوام کو روکنے کے لیے سارے ایکسپورٹ میں استمعال کردیے، فوج پولیس اتنی نکمی نکھٹو نہ گولیاں مارنے کے قابل، نہ روکنےکے، اور ان کا چیف اتنا بزدل کہ ایمرجنسی، گورنر راج تک نہیں لگا سکتا، شرم سے ڈوب مریں ان کی فوج جو سیاست میں مداخلت کرتی ہے
ہمارے کچھ ہمسائے دوست ہیں جو ثالث بنے ہوئے ہیں۔
حالانکہ ان کے وزیراعظم کے ٹویٹ بھی امریکی لکھتے ہیں۔ بس میں بات کو زیادہ کھولنا نہيں چاہتا۔ چھوڑیں لیکن ہمیں سب پتہ ہے۔
ڈاکٹر محسن زنگنه
ایرانی پارلیمنٹ کا رکن
جس شہر کے ہسپتال میں چودہ بچے زندہ جل گئے ہو اور کوئی زمہ داری لے کر مستعفی نا ہوا ہو وہاں آپ کو لگتا ہے کہ ایک معصوم طلبہ کی جھولتی لاش سے کوئی فرق پڑے گا کچھ نہیں ہوگا
"جس پشاور کو بارود سے رنگ دیا گیا تھا ہم عمران خان کے ویژن پر دوبارہ پھولوں سے رنگ رہے ہیں۔پشاور میں 2 سو ارب لگا رہے ہیں ۔ مالاکنڈ ریجن میں دیر موٹروے،سوات ایکسپریس وے کا فیز 2 ، پشاور ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے یہ تمام منصوبے ان شاء اللہ مکمل ہونگے۔ جیسے وعدہ کیا تھا یہ سال خیبرپختونخوا کے لیے امن ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا ان شاء اللہ ثابت کرکے دکھائیں گے"۔
وزیراعلی سہیل آفریدی
@SohailAfridiISF
#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر
ہمارے کچھ ہمسائے دوست ہیں جو ثالث بنے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے وزیرِ اعظم کے ٹویٹ بھی امریکی لکھتے ہیں، بس میں بات کو زیادہ کھولنا نہيں چاہتا ... چھوڑیں، لیکن ہمیں سب پتہ ہے۔ ڈاکٹر محسن زنگنه رکن ایرانی پارلیمنٹ
اس کا کریڈٹ کس کو دینا ہے ؟؟؟ وزیر خزانہ وزیر پٹرولیم تو عوام کو اور کہانیاں سنا سنا کر خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ وزیراعظم نے پٹرول سہولت اسکیم والے افسروں کو کل روٹی بھی کھلا دی ہے
خدا کی قسم آپ پوری دُنیا گھوم کر آجاؤ ایسا رویہ سرکاری اہلکاروں کا پاکستان میں ہی ملے گا
سیالکوٹ میں ٹریفک وارڈن شہری کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے
میرا کام تھا آپ تک یہ ویڈیو پہنچاؤں اب آپکا کام ہے اسے ہر جگہ پھیلانا
بکاخیل کا وہ علاقہ جو فوج نے آپریشن کے بہانے مقامیوں سے خالی کروایا 3سال کے اندر ان کی واپسی کا وعدہ کیا
لیکن اب ہر سال چلغوزے کی فصل بیچ کر4ارب روپیہ کمایا جاتا ہے جن کو واپس لانے کا وعدہ کیا تھا آج دس سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی واپس نہیں لایا گیا
پاکستان کے جتنے دشمن ہیں، خصوصاً یہ جرنیلی مافیا کان کھول کر سن لو!
میرے مرنے کی خبریں چلانے سے کام نہیں بنے گا! میں تمہیں مار کے مروں گا۔ یہ مہلت میں نے اللّٰہ تعالیٰ سے مانگی ہوئی ہے۔
پاکستانیو 1947 سے لے کر 2018 تک غداری کے سرٹیفیکٹ بانٹے جاتے تھے کبھی باچا خان کو غدار ٹھہرایا تو کبھی جس نے پاکستان بنایا قائداعظم محمد علی جناح ان کی بہن کو غداری کا سرٹیفکیٹ دیا گیا جو لیڈر پاکستان کی بات کرتا اس کو غداری کا سرٹیفکیٹ دے دیا جاتا آج جب یہ ایکسپوز ہوئے تو انہوں نے دہشتگردی کے سرٹیفیکیٹ بانٹنا شروع کردیے ۔
لیکن یہ بھی جانتے اور ہم بھی جانتے ہیں کہ اصل میں دہشتگرد کون یہ اور یہاں امن کون لانا چاہتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں ہمارے معصوم لوگ ، پولیس کے جوان، ہمارے فوجی جوان شہید ہورہے ہیں ۔ اداروں کے تمام لوگ ہمارے وجود کا حصہ ہیں۔ اگر ہم بغاوت کررہے ہیں تو اس جعلی نظام سے آپ کی غلط پالیسیوں سے بغاوت کررہے ہیں۔
آپ کی جو غلط پالیسیاں ہیں جن سے آپ باہر جزیرے خریدتے اس سے آپ کی جیب تو بھرے گی لیکن پاکستان میں دہشتگری بڑھے گی۔ یہ میرا صوبہ ہے میرے لوگ ہیں آو ایک قوم بنتے ہیں پاکستان سے دہشتگری مل کر ختم کرتے ہیں لیکن پالیسی عمران خان کی چلے گی۔ وزیراعلی سہیل آفریدی