Imran, a resident of Timergara, Lower Dir, has reportedly been imprisoned in Muscat, Oman, for the past 17 years. According to his family, his legal case has already been concluded, yet he remains behind bars in Ismail Jail. A video shared by our journalist friend Shabir from Buner highlights the pain and anguish of his elderly parents.
Our colleagues from ANP Buner, who are currently in Oman, are actively following this case. We urge @ForeignOfficePk and @PakinOman to intervene and make every possible effort to secure his release and reunite him with his family after nearly two decades.
الحمدللہ، پشاور کے علاقے پشتخرہ سے لاپتہ ہونے والی دونوں بچیاں ڈیرہ اسماعیل خان سے بحفاظت برآمد کرلی گئی ہیں۔
آپ سب کی دعاؤں، نیک تمناؤں اور پختونخوا پولیس کی تعاون کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ۔ اس سے بڑھ کر میرے لیے اور کیا خوشی ہوگی کہ عید سے قبل جو باپ ایک ویڈیو میں رو رو کر مجھ سے اپنی بچیوں کی بازیابی میں مدد کی اپیل کر رہا تھا، آج اُسی نے ہنستے ہوئے مجھے ٹیلی فون کیا۔
بے شک اللہ ہی بہترین انتظام کرنے والا ہے۔
میں سالوں سے یہ آواز اٹھا رہا ہوں کہ ہسپتالوں میں کرپشن ہو رہی ہے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ان کا باقاعدہ آڈٹ کرے تاکہ ہمارے سینئر ڈاکٹرز، جو ہسپتالوں کے سربراہ ہیں، کی کرپشن بے نقاب ہو۔ مگر افسوس کہ پچھلے 11 سالوں سے کسی بھی MTI ہسپتال کا آڈٹ نہیں ہوا۔
دوسری بات یہ ہے کہ صحت کارڈ میں بھی کرپشن بہت زیادہ ہے، اس پر بھی انکوائری اور آڈٹ کیا جانا چاہیے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ہر ضلع کے ہسپتال کو اس طرح سہولیات دی جائیں کہ کسی مریض کو پشاور نہ آنا پڑے۔ لیکن حکومت کے کچھ اپنے ڈاکٹرز مسلسل یہ تاثر دیتے ہیں کہ سسٹم بالکل ٹھیک چل رہا ہے، جبکہ یہی لوگ مراعات لے رہے ہیں، جس کی وجہ سے نظام درہم برہم ہے۔
میں سہیل آفریدی صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ ان معاملات پر فوری نوٹس لیں، اور اگر سسٹم کو بہتر کرنے کے لیے ہماری ضرورت ہو تو ہم ہر وقت تیار ہیں۔
ایک ٹویٹ پر تیمور جگھڑا صاحب نے ہمارے چیئرمین کو سسپینڈ کیا تھا، میڈیا پر بیان دینے کے بعد ہمارے ایک ڈاکٹر کو ایل ار ایچ سے نکالا گیا تھا اور 10 ماہ تک ٹریننگ سے باہر رکھا تھا، عدالت میں بری ہونے کے بعد انکو ری اینسٹیٹ نہیں کیا جا رہا تھا. جو طاقت حاصل کرلیتا ہے وہ انسانیت بھول جاتاہے، طاقت کا نشہ ہی کچھ اور ہے، ڈاکٹرز پر لاٹھی برسائی گئی جیلوں میں ڈالا گیا، اساتذہ کے کمر پر چپل کے نشان داغے گئے، اپ زرا اپنی ہی حکومت کی فرعونیت پر نظر ڈالے، یہاں پی ٹی آئی سے باہر بندے کو شودر سمجھا جاتا ہے، ماتحت کی اواز دبانے کے لئے کسی بھی حد تک جاتے ہیں، خیر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وقت کسی کا نہیں رہتا.
سیاسی اختلاف کی بنیاد پر ایمل ولی خان سے سیکیورٹی واپس لینا بھی غلط تھا اور علی امین گنڈاپور سے سیکیورٹی واپس لینا بھی غلط ہے۔ سیاسی اختلاف میں بھی اخلاقی اقدار کا خیال رکھنا چاہیئے
So let it be a game of cricket not an arena of gladiators. The better team won and that was obvious. Not that Pakistan can’t beat this team but they couldn’t today. All the best for the remaining tournament and Well Played. Congrats to the Indian team. The level of cricket is way apart.
@HammadHassan30 بلورصاحب کی صوبےسےمحبت اور لگاوکا یہ عالم تھاکہ کئی دہائیاں پہلےجاپان کےتعاون سےبننے والےشاندارلوکوموٹو فیکٹری کو پنجاب سے رسالپورشفٹ کروایا۔۔لیکن kpkوالوں کی بدقسمتی وہ عظیم الشان پراجیکٹ سفید ہاتھی بنا اربوں روپے سالانہ نکا سخہ بن چکا۔۔ ریل انجن چین اور امریکہ سے آرہے ہیں
ایک بار بلور صاحب کا انٹرویو لیتے ہوئے میرے سوال پر جواب دیا کہ
70 کے عشرے میں بھٹو کی مقبولیت اور اقتدار سامنے تھے اور میرے سامنے سینیٹ ٹکٹ وفاقی وزارت یا گورنر شپ رکھ دیئے گئے لیکن بیچ میں ولی خان کی محبت اور میری غیرت حائل ہو گئی!
پشاور کو الوداع کہتے نصف صدی کی وفادار اور دلیر سیاست نصف درجن جنازے اور بے غیرت اور بے شعور لونڈوں کے"فیصلے" بلور کا کل سیاسی اثاثہ نکلے!
دورہ نمبر | 1
مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی ایمل ولی خان کی خصوصی ہدایت پر تیراہ کے متاثرین کیلئے فوڈ پیکجز تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
مشکل کی اس گھڑی میں خدائی خدمت گار تنظیم، خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھے گی۔
#KhudaiKhidmatgarOrganization#PSFKhyber#TirahIDPs@AimalWali
کہا جاتا ہے ایمل ولی خان کیوجہ سے بہت لوگ پارٹی چھوڑ کر گۓ، پارٹی چھوڑنے والے ولی خان بابا کے دور میں بھی تھے، لیکن پھر واپس آۓ۔
ہم وہ نہیں جو دیوار پر بیٹھے ہوں اور دونوں جانب دیکھ رہے ہوں کہ کہاں ہمارا مُفاد ہے۔
بلور خاندان مرنے کے بعد بھی باچا خان، ولی خان کے سپاہی رہیں گے۔
"گندھارا کے سپوت باچاخان کو جب اپنے خدائی خدمت گاروں کی تربیت کرنی تھی۔ تو ان میں سیکولر ازم کے اس چنگاری کو شعلہ بنانا تھا۔ جو اس مٹی میں ہزاروں سال سے موجود تھی۔ کپل وستو کے سدھارتھ کی تعلیمات سے روشن گندھارا تہذیب کے صدر مقام پشکلاوتی میں جنم پانے والے باچاخان کا مذہب امن کا مذہب تھا باچا خان کا مذہب انسانیت کا مذہب تھا۔
مذہب کے نام پر ہندوستان کو تقسیم کرنے والے گوروں نے جب اطالوی زبان کے ”ڈیوائیڈ ایٹ ایمپیرا“ یعنی پھوٹ ڈال کر حکومت کرو، پر سیاست کی داغ بیلیں ڈالنی شروع کی۔ تو سب سے بڑی رکاوٹ باچا خان کے دیس میں آئی۔"
https://t.co/OC3vs0vOCV
I had started translating this book into Urdu in 1973 and Urdu monthly magazine Naqeeb was publishing it. Qayum Khan, who was interior minister at that time got so angry that he sent police to raid my room in a hostel of d Peshawar University for confiscating d translation.
له سیاسي نقد او اعتراضه هیڅوک مبراء نه دي. خو له شلو ډېرې ورځې وشوې په ډیورنډ کرښه ټولې دروازې تړلي. خو په وطن کې د خوراکي توکو د کمښت او ګرانښت شکایت نه دی لیدل شوی. دا حالت پخوا یوه ورځ نشو تحمل کېدای. افغانستان په نسبي ډول له کلابندۍ وتلی دی. د سوداګریزو لارو د پراختیا او څو ګونو اپشنونو رامنځته کول د دې سړي ابتکار و. دا خیر او سعادت یې هم په اخرت کې بس دی چې د ملیونونو وګړو د ولږې مخه یې نیولې او افغانستان نور هغسې محتاج نه دی.