جب ایران کو ہماری ضرورت تھی، تب ہم نے ڈٹ کر اس کا ساتھ دیا اور بقول شاعر ۔
جو نہ کرنا تھا،وہ بھی کر ڈالا ۔
بےوفا تیری اک خوشی کے لئے ۔
مگر جب ایران نے ہمیں دھوتی اٹھا کر دکھا دی تو ہم نے بھی پیٹھ کر لی ۔
یاد رکھیں خلیج سے ہمیں سولہ تا بیس ارب ڈالر زر مبادلہ ملتا ہے جبکہ ہمارے یہاں سے پانچ ارب خمس ایران جاتا ہے ۔
ہندو رفع حاجت کے وقت منہ مسلمان کے کھیت کی طرف کرتا ہے اور پیٹھ اپنے کھیت کی طرف تا کہ کھاد اپنے کھیت میں جائے ۔ کھانا کمانا پاکستان میں اور خمس ایران کے بیت المال میں بھیجنا بھی غداری ہی ہے، پاکستان میں شیعیت صرف سڑکیں بلاک کرنے اور جلوسوں کی حفاظت کے لئے پولیس کے چوالیس ہزار نوجوان حفاظتی ڈیوٹی پر رکھنے کا نام ہے؟ کوئی مرجع یہاں کیوں نہیں بن سکتا؟ کیا یہاں کے شیعہ کمی کمین ہیں جن میں کوئی اپنے پاکستانی شیعوں کا مرجع بھی نہیں بن سکتا؟ ساری زندگی پنڈ چک ہی رہنا ہے ۔
خیر جب ان کے سارے آیت اللہ زیر زمین بیرکس بھی چھپے بیٹھے تھے، اس وقت ہمارا شیر خدا فیلڈ مارشل دندناتا پھر رہا تھا ایران کے فوجی اڈوں پر، پھر کیا ہوا؟
تجھ سے پاس وفا ذرا نہ ہوا ۔
ہم سے پھر بھی تیرا گلہ نہ ہوا ۔
ہم چپ کر کے بیٹھ گئے ۔ ہم نے گارنٹی دی تھی کہ ایران اپنے عہد کی پابندی کرے گا مگر ایران دیگر دو ممالک کی سمندری حدود میں جہازوں کو ٹارگٹ کر رہا تھا ۔
ہمارا منہ کالا کر دیا گیا ۔
ایران نے مراثی کے اس عقلمند لڑکے کی طرح جس نے دکاندار سے ایک روپے کا مٹی کا تیل لیا ۔ بوتل میں بارہ آنے کا تیل آیا تو عقلمند بچے نے بوتل الٹ کر کہا کہ باقی چار آنے کا ادھر ڈال دو۔ پاکستان نے بارہ آنے مطلب 75 فیصد معاہدہ ایران کے حق کے کروا دیا تھا، ایران نے بوتل الٹ کر اب چار آنے کا ڈلوانا شروع کر دیا ہے ۔ اب سلامتی کونسل سے جنگ بندی کی اپیلیں کرتا پھرتا ہے ۔
اگر یہ دنیا صرف امتحان نہیں... بلکہ ایک عظیم مشن بھی ہو؟
حضرت آدمؑ سے شروع ہونے والی ایک بھولی ہوئی حقیقت، جو زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنا سکھاتی ہے۔
**مکمل ویڈیو یوٹیوب پر دیکھیں۔**
اس تپتی گرمی میں جب ٹھنڈا پانی گلے سے اتر کر رگوں کو سکون پہنچاتا ہے۔
تو لمحہ بھر رک کر سوچیں!
یہ محض ایک گھونٹ نہیں، بلکہ اللہ کی عظیم نعمت ہے جو ہمیں مفت میسر ہے۔
ہر گھونٹ کے بعد ایک 'الحمدللہ' کہہ کر اس کا شکر ادا کریں۔
کیونکہ قیامت کے دن اس ٹھنڈے پانی کے بارے میں بھی سوال ہوگا کہ کیا تم نے اس نعمت کی قدر کی؟
اللہ کی عطا کردہ ہر سکون پر اس کا شکر گزار ہونا ہی بندگی کا تقاضا ہے۔
A Scottish fan chanted, "Free Palestine."
"I was a nurse in Gaza. I volunteered in Gaza. I’ve seen what happens. There is a genocide. Free Palestine."
She's a hero.
@irumrae@sabiraMasood1 But yahan ye sab mard nhi ladies k liye bhi yaksan motivational soch hai unko bhi is bare sochna hoga warna ye burai khatam nhi barhegi musalsal