"وہ انٹرویو کیا دے گا؟ وہ تو شام کو ہوش میں نہیں ہوتا ، بلکہ آفس ٹائم میں جناب پی رہے ہوتے ہیں تو اس نے خاک کام کرنا ہے؟اسے آن ائیر جانے دیں، ایسے شخص کو وزیر خزانہ بنایا جس نے تباہی پھیردی، یہ آئی ایم ایف کے سامنے لیٹا ہوا ہے، 200 ڈھائی سو انڈسٹری بند ہوگئی ، یہ باہر سے ایک بینک سے اٹھ کر آیا ہے، یہ کیا خاک پاکستان کا بھلا کرے گا؟اسے نکالنا چاہئے اور اسحاق ڈار کولانا چاہئے"۔محسن بیگ
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
🇵🇰⚔️😥
گزشتہ مہینہ پاکستانی فوجیوں کے لیے نہایت خونریز ثابت ہوا۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پیکس) کے مطابق گزشتہ ماہ پاکستانی فوجیوں پر حملوں اور جانی نقصانات کے اعتبار سے انتہائی خونریز مہینہ رہا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ پاکستانی فوجیوں پر 300 سے زائد حملے کیے گئے، جن میں 200 سے زیادہ اہلکار ہلاک جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق، آج ۲ جون ۲۰۲۶ کو پاکستانی فورسز نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی معروف رہنما گلزادی بلوچ کو سخت حصار میں سیشن کورٹ لایا، اور انہیں خاندان والوں سمیت کسی سے بھی ملنے نہیں دیا گیا۔
خیبر رائفلز آفیسز میس
ان دیواروں کے اندر نہ مہنگائی ہے نہ لوڈشیڈنگ ہے نہ افراتفری ہے
یہیں سے نکل کر سویلین علاقوں میں وسائل کی لوٹ مار اداروں کی بربادی افراتفری مچاکر اپنی جنت میں واپس لوٹ آتے ہیں
اور پھر یہاں سے عید مبارکی کے میسیجز بھی نہیں کرتے
🚨اہم اہم اہم : پروپیگنڈہ وڑ گیا
ہم نے کوئی سر پلس بجٹ پاس نہیں کرنا، ہم نے " بیلنس بجٹ " خیبرپختونخوا کی کابینہ سے پاس کروا لیا ہے کوئی " سرپلس بجٹ " پاس نہیں کروایا جا رہا، اپنا فوکس وفاقی بجٹ پر رکھیں اس کا معشیت پر بڑا منفی اثر پڑنے جا رہا ہے ، وزیر اعلٰی سہیل آفریدی
@omarmahmoodhay1 Stomping on constitution is what broke the country in two pieces in 1971, and army is doing it again. And if we speak against it we are RAW 😂👏
DeSom - army officers club in Lahore
سڑو بلڈی سویلینز، آرمی سے سیکھو کس طرح نظم وضبط سے نتائج حاصل کرتے ہیں
تم لوگ کرپٹ حکمران کیوں چُنتے ہو عدلیہ تم سے نہیں چلائی جاتی پولیس تمہاری بے کار
سویلینز کو کچھ کرنا ہی نہیں آتا
شُودر کہیں کے
آرمی آفیسرز نیپئرز لاجز لاہور
Napier Lodges in Lahore—a historically restored, 4-star British-era guest house names after general Napier, located in the Lahore Cantonment—is owned and operated by the Pakistan Army.
سلمان اکرم راجہ سمیت تحریک انصاف کے رہمناؤں کو گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کر دیا گیا: “آج مجھے شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو گلگت بلتستان داخل ہوتے ہی جل تھانہ کی حدود میں آگے جانے سے روک دیا گیا۔ میرا نام ڈی ایس پی کے پاس درج تھا۔ ہمیں اور آئی ایس ایف کے آئے دوستوں کو پولیس کی گاڑیوں کے نرغے میں صوبہ بدر کر دیا گیا ہے۔ عمران خان اور آزادی _ قوم کا فیصلہ” سلمان اکرم راجہ
@salmanAraja #ImranKhan
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
پاکستان افغانستان کے مقابلے میں ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہے
اس سے انکار ممکن نہیں ۔۔
لیکن صرف ایک سسٹم خریداری پر کذاب بریگیڈ کو کیوں موت آرہی کہ سارے ہی وطن پرست گالیاں دے دے کر ہلکان ہوئے جا رہے ؟
آخر اسکی وجہ کیا ہے ؟
سوچنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ فیلڈ مارشل نے اپنی اور فوج کی جو مصنوعی عزت بنائی تھی وہ ساری کھڈے لائن لگتی نظر آرہی ۔۔
کیونکہ ان کو بھی معلوم کہ ہم مصنوعی جنگوں کے شیر ہیں۔
ٹرمپ کے حکم پر غزہ ہنداسٹارٹ کرتے اور ٹرمپ کے حکم پر بگرام لینے کو دوڑ پڑتے۔۔
سوچنے کا آپریشن تو غلاموں کے پاس ہوتا نہیں
تو ان بے چاروں نے بھی جلد بازی میں سوچا ہی نہیں کہ سامنے انڈیا نہیں افغانستان ہے جو تھکا تھکا کر رسوا کرتا
اور رسوا کرکے مارتا ۔۔
ہسپتال پر بمباری کرکے تو خوش تھے کہ غصے اور جلد بازی میں افغانستان بھی کوئی غلطی کر بیٹھے گا
لیکن جنگوں کی مہارت رکھنے والے میدان میں کوئی غلطی نہیں کیا کرتے ۔
کیونکہ جنگ کی غ��طی پہلی اور آخری ہی ہوتی ہے۔
اسی لیے سمجھدار کمانڈر غصے میں نہیں بلکہ پورے حوصلے کے ساتھ جنگ کرتا بھی لشکر سے کرواتا بھی ۔۔
اور دوسری بات ان کو بھی اچھی ��رح معلوم ہے کہ بے سروسامانی کے عالم میں تین سپر پاور کو صفر کر چکے تو ہمارا کیا بنے گا ۔۔
کیونکہ ان کو اپنے لالے پڑ گئے
موقع پر تو ان کا سسٹم ویسے بھی بند ہوجاتا
چاہے سلالہ ہو یا ایبٹ آباد
موقع پر انکا سسٹم ایسے کام چھوڑتا جیسے درے کی پسٹل
اور مجاھدین و افغانوں کے ہاتھ لگنے والا ناکارہ بارود اور میزائل بھی موقع پر دشمن کی وجا دیتا
بس اسی وجہ سے بے چارے گالیاں دے نہیں رہے بلکہ گالیاں نکل رہی ہیں ان کے اندر سے۔۔
اس میں وہ سب گالیاں شامل ہیں کو یہ سلالہ و ایبٹ آباد کے موقع پر اپنی فوج کو دینا چاہتے تھے ،
لیکن دے نہیں سکے تھے ۔
بس اتنی سی بات اور یہی وجہ ہے کہ ان کو بھی معلوم کہ ان کے سسٹم نے کبھی وقت پر کام کیا نہیں
اور مجاھدین کے سسٹم نے کبھی کام چھوڑا نہیں۔
جنگ تو مول لے لی
لیکن غم کھائے جا رہا۔۔