اپنی اٹھارہ سالہ زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا ہوں کہ فوج کا نمائندہ سوشل میڈیا کے خوف سے پریس کانفرنس کرنے کے بجائے بند دروازوں کے پیچھے میڈیا سے ملاقات کرکے اپنا مؤقف پیش کر رہا ہے۔
ذہنی مریض نے کیا حال کر دیا ہے میری پیاری فوج کا🥹🥹🥹
ایک ایسے بجٹ میں جو دم گھونٹتی عوام کے لیے کچھ بھی نہیں رکھتا، وزیر اعظم نے آئی ایس آئی افسران کی تنخواہ میں 40 فیصد اضافہ کیوں منظور کر لیا؟
اس کا جواب ہمیں شاید اس بات کا زیادہ اندازہ دیتا ہے کہ اصل میں یہ ملک کون چلاتا ہے، اس سے کہیں زیادہ جو کوئی بھی پالیسی دستاویز کبھی بتا سکتی ہے۔
پرسوں فیلڈ مارشل صاحب کے ساتھ کلفی کھا رہا تھا۔ باتوں باتوں میں غیر سیاسی فیلڈ مارشل صاحب سے سیاست پر گفتگو چھڑ گئی۔ میں نے عرض کیا: سر آپ نے چار سال پہلے فرمایا تھا کہ ایک سال میں معیشت ٹھیک ہو جائے گی، وہ ایک سال آخر کب آئے گا؟ فیلڈ مارشل صاحب نے قلفی کھاتے ہوئے جواب دیا: عمران خان کی وجہ سے معیشت زیرو ہوئی۔ یہ سن کر بے ساختہ میرے منہ سے نکل گیا: سر عمران خان کی وجہ سے تو پھر فوج بھی زیرو ہو گئی، وہ کیوں نہیں مانتے۔ بس اتنا سننے کی دیر تھی کہ فیلڈ مارشل صاحب نے جلدی جلدی قلفی ختم کی، تِیلا مجھے دیا اور وہاں سے روانہ ہوگئے۔
کامران شاہد کی ڈائری سے
لاہور میں ایک سولہ سالہ کم عمر رکشہ ڈرائیور کو سی سی ڈی نے گولیاں مار کر شہید کردیا۔ نا کوئی سوشل میڈیا پر آہ و بکا ہوئی نا کسی نے جرائم کو کھنگالا۔ ہم وہ بدنصیب بدترین منافق قوم ہیں جو کسی کا سٹیٹس دیکھ کر اسکا ماتم کرتے ہیں۔
اسد طور نے پاک بھارت جنگ کے دوران ایک لیفٹیننٹ جنرل کی عمران خان سے ملاقات کی خبر دی، جھوٹی نکلی۔
ہفتہ قبل علیمہ خان اور سہیل آفریدی کی محسن نقوی سے ملاقات کی خبر دی، وہ بھی جھوٹی نکلی۔
آج عمران خان کو اڈیالہ سے کہیں اور منتقل کرکے بیرسٹر گوہر سے ملاقات کروانے کی خبر دی، یہ خبر بھی جھوٹی نکلی۔
مزے کی بات یہی اسد طور صابر شاکر، صدیق جان اور عمران ریاض کی صحافت کا مذاق اڑاتا رہا ہے، مگر آج خود ان تینوں کا "الٹرا پرو میکس" ورژن بنا ہوا ہے۔
نوٹ: بیرسٹر گوہر نے نام لیے بغیر اسد طور کو یوٹیوبر کہا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔
اگر ایسی خفیہ ملاقاتیں ہوجائیں تو فریقین عموما خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ اگر ایسی واضح تردید آجائے تو امکان یہی ہوتا کہ اگلا بندہ اپنی پوزیشن درست واضح کررہا ہے۔ بیرسٹر گوہر کی تردید بتا رہی ہے کہ ان کا کہا درست ہے۔ ایسی ملاقاتیں، مذاکرات اور ٹھنڈی ہوائیں انڈیلنے والوں سے بچ کر رہیں۔
سپائیڈر مین کے اس کھوتے کا کیا کرنا ہے انکا قائد سات ماہ سے لاپتہ ہے اور انکو پیرا گلائیڈنگ کرنے کی چاہ چڑھی ہوئی ہے یقین کریں ہمارا سیاست عہدوں اور کسی پوسٹ سے کچھ لینا دینا نہیں مگر جس دن سے خان صاحب قید ہیں پندرہ گھنٹے سکرین ٹائم ہوگیا ہے اور ہمیں پردیس میں خان کی فکر ستائے جاتی ہے مگر یہ حرامزادے ہیں کے ٹس سے مس نہیں ہورہے