میرا لیڈر صرف وزیراعظم عمران خان ہے جو کپتان کا سپاہی فالو بک نہیں دیتا تو اس کو 24 گھنٹے کے بعد ان فالو کر دیا جائے گا
#PTI#BEHINDYOUSKIPPER
Fan Account
تمام ممبران اسمبلی کو مرزا آفریدی کے فارم ہاؤس پر جمع کرنے کا کیا مقصد تھا؟
90 دن کا الٹی میٹم دینا تھا یہ تھا مقصد؟یا عمران خان کے بیٹے جو پاکستان ا رہے ہیں اس مومنٹم کو توڑنا؟
یا عمران خان کی پانچ اگست کو تحریک عروج پر لیجانے کی کال کا مومنٹم توڑنا؟
بہت سے سوالات ہیں کل آپکی پریس کانفرنس سنیں گے اسکے بعد ردعمل دیا جائے گا۔
ردعمل شدید ترین ہو گا۔
خیبرپختونخوا سے لاکھوں لوگ اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے لیکن جب تک پنجاب صوبے کی 13 کروڑ ابادی سے عوام نہیں نکلتے ہیں انقلاب برپا نہیں ہو سکے گا
پنجاب والو یہ آخری مرحلہ ہے لڑ جاو اس کے بعد خان کبھی دوبارہ کال نہیں دے گا
خیبرپختونخوا سے لاکھوں لوگ اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے لیکن جب تک پنجاب صوبے کی 13 کروڑ ابادی سے عوام نہیں نکلتے ہیں انقلاب برپا نہیں ہو سکے گا
پنجاب والو یہ آخری مرحلہ ہے لڑ جاو اس کے بعد خان کبھی دوبارہ کال نہیں دے گا
“24 نومبر غلامی سے نجات کا دن ہے
ملک میں قانون کی حکمرانی ، آئین کی پاسداری اور انسانی حقوق معطل ہیں جس کی وجہ سے پوری قوم کا باہر نکل کر قربانی دینا نا گزیز ہو چکا ہے-
قوم کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ بہادر شاہ ظفر کی طرح موت تک غلامی کا طوق پہننا ہے یا ٹیپو سلطان کی طرح مرتے دم تک آزادی کا سہرا پہننا ہے!!
سعودی عرب سے میرے مثالی تعلقات ہیں۔ جب وزیر آباد میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو مجھے سب سے پہلی کال سفارت خانے کے ذریعے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی آئی۔ ہمارے دور میں شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کا تاریخی دورہ بھی کیا- ہماری حکومت کے خاتمے سے دو ہفتے پہلے OIC وزرائے خارجہ کی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی جو سعودی عرب کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی- سعودی عرب ہر مشکل مرحلے میں ہمارے ساتھ کھڑا رہا ہے-
بشریٰ بی بی کے بیان کو توڑ مروڑ کر قوم کی توجہ بٹانے کی ناکام کوشش نہ کی جائے ۔ انھوں نے سعودی عرب کا نام نہیں لیا- ہماری حکومت کے خلاف تمام سازشوں میں جنرل باجوہ کا ہاتھ تھا- میں نے اس وقت بھی چیف جسٹس اور جنرل طارق خان کے ذریعے سازش کی تحقیقات کروانے کی کوشش کی مگر جنرل باجوہ نے ایسا نہیں ہونے دیا اگر تب شفاف تحقیقات ہو جاتیں تو سچ کھل کر سامنے آ جاتا۔
بشریٰ بی بی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، بطورِ اہلیہ انہوں نے احتجاجی کال کے حوالے سے قوم تک میرا پیغام پہنچایا- نواز شریف کے لیے مشرف دور میں کلثوم نواز بھی نکلی تھیں مگر اس نے ڈکٹیٹر ہوتے ہوئے بھی خاتون کو جیل میں نہیں ڈالا تھا مگر بشریٰ بی بی کو 9 ماہ جھوٹے مقدمات میں قید میں ڈالا گیا-
قوم اپنی توجہ 24 نومبر کے احتجاج پر رکھے-
انشاللہ فتح آپ کی ہو گی”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
عمران خان نے بشری بی بی کے بیان کی وضاحت دے دی
بشریی بی بی نے سعودی عرب کا نام نہیں لیا ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر قوم کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش نہ کی جائے۔۔۔!!
جوکر وزیراعظم شو باز شریف سے گزارش ہےاپ حافظ سانپ کے بوٹ پالش پر توجہ دے
پاکستانیو خان صاحب کی قربانیوں کا قرض بہت بھاری ہے 24 نومبر کو مایوس مت کرنا۔۔اگر پنجاب کے 13 کروڑ ابادی سے ایک لاکھ بندے بھی نکل ائے 25
نومبر کو عمران خان کو رہا کر دیا جائے گا
Former Prime Minister of Pakistan @ImranKhanPTI a short time ago:
"I was tortured by being confined in a cage and treated worse than animals. This was an extremely vile act. Electricity to my cell was shut off for five days, leaving me in complete darkness. I was confined to the cell for ten days. For several weeks, any visits by family members, doctors, or lawyers were blocked."
میں کبھی Deal نہیں کروں گا اور نہ ہی اپنے موقف سے پیچھے ہٹوں گا چاہے ملٹری جیل میں کیوں نہ ڈال دیں۔۔۔
ڈیل کے لیے نواز شریف جیسے Dealer بھگورے موجود ہے
عمران خان❗❗
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل سے صحافیوں اور اپنے وکلاء کے ساتھ گفتگو:
واضح الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں جس نے بھی چھبیسویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ہے اس نے آئینِ پاکستان کی بنیادوں کو ہلا کر پاکستان کے ساتھ غداری کی ہے۔
مجھے جِس طرح پنجرے میں بند رکھ کر ذہنی اذیت دی گئی یہ بُہت ہی نیچ اور افسوسناک حرکت ہے، جانوروں سے بدتر سلوک کیا گیا،سیل کی بجلی پانچ دن تک بند رکھی گئی، سیل میں گُھپ اندھیرا رکھا گیا، 10 دن تک سیل سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا، کئی ہفتے تک میرے ڈاکٹرز، فیملی اور وکلا کو ملنے پر پابندی لگائی گئی، یہ سختیاں اور ٹارچر کرکے مجھے توڑنا چاہتے ہیں مگر میں اِس ظلم کے باوجود پاکستانی قوم کی حقیقی آزادی کے لیے ڈٹا رہوں گا۔
نواز شریف کو پاکستان کے مستقبل اور پاکستانیوں کے مفاد اور بہتری سے کوئی سروکار نہیں، کیونکہ اِسکے پیسے ، جائیداد سب باہِر ہے، یہ پاکستان میں صرف اور صرف لوٹ مار کے لئے ہی آتے ہیں اور پھر اپنے وطن واپس لوٹ جاتے ہیں، جب یہ وزیراعظم تھا تو 22 دفعہ برطانیہ گیا تھا اب تو ویسے بھی یہ بارہواں کھلاڑی ہے، اس لئے اپنے وطن واپس سدھار گیا ہے۔
انتظار پنجوتھہ کے اغوا پر شدید تشویش ہے، یہ جبری گمشدگی میری ذات سے مخاصمت کا شاخسانہ ہے، مُلک میں مکمل لاقانونیت کا راج ہے، میرے فوکل پرسن کے اغوا کو 21 دن ہو گئے، اُسکا قصور کیا ہے؟ افسوس ہے کہ عدالتیں بھی خاموش ہیں۔