تیرےخوف کا بت ٹوٹ چکا ہے اب ہرزبان بولیں گے🔥✊👏
پہلی مرتبہ آپکو ٹکر کے لوگ ملے ہیں! 👏👏
اللہ عمران خان کو لمبی صحت والا زندگی دے اللہ عمران خان کو اپنے حفظ و آمان میں رکھے آمین۔
@MuradSaeedPTI اب سمجھ آیا کہ سب کے سب غدار ہے مراد سعید اور بہنوں کے علاوہ سب کمپرومائز ہو چکے ہیں میرا عمران خان کے کارکنوں سے التجا ہے کہ سب کے منجی ٹھوک دو سب کے سب بے غیرت ہے دھوکے فراڈیاں ہیں
اب انکا احترام نہیں چھترول کرنا چاہیں ہیں۔🔥🫵
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
عمران خان آپ کی حقیقی آزادی کے لیے گزشتہ تین سال سے مشکل ترین قید کاٹ رہے ہیں۔ اب آپ اپنی حقیقی آزادی کے لیے، اور عمران خان کے حقوق کی بحالی کے لیے، اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں
امر بالمَعْرُوف اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ فرمایا اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کی ریاست میں لوگوں کو یہ سمجھایا کہ آپ پر ذمہ داری ہے کہ آپ راہے حق پر کھڑے ہوں برائی کے خلاف جہاد کریں۔ عمران خان
اب ہم لڑیں گے اگر آپ نے ہمیں مارنا ہے ماریں، ہمیں گولیاں مارنی ہیں گولیاں ماریں لیکن ہم اپنے بھائی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اپنے ملک سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ علیمہ خان
@Aleema_KhanPK#زندان_ٹوٹے_گا_خان_چھوٹے_گا
🚨مراد سعید برس پڑے
خود کچھ کرتے نہیں ہو کارکن تنقید کرتے ہیں تو ناراض ہو جاتے ہو ، آپ کے پاس لانگ مارچ کا آپشن ہے آپ کے پاس ڈی چوک کا آپشن ہے آپ ملک بند کر سکتے ہو شہر بند کر سکتے ہو آپ کے پاس بہت آپشن ہیں ۔
مراد سعید
🚨سوال : آخری حل کیا ہے ؟ جدوجہد یا اسمبلی میں کردار ؟
اسمبلی کا تو یہ کردار رہ گیا ہے کہ " عاصم منیر حکم دے گا اور خونی آئینی ترمیم ہو جائے گی " آخری فیصلہ بے شک سڑکوں پر ہونا ہے اور لازم ہے کہ یہ فیصلہ جلد ہو ، مراد سعید
5 اگست کو عمران خان کی گرفتاری کے وقت مجھے احکامات پہنچائے گئے کہ جذباتی نہیں ہونا۔ کچھ دنوں بعد احتجاجی تحریک شروع کر کے انتخابات تک معاملے کو کھینچنا ہے اور پھر انتخابات میں قوم خود فیصلہ کرے گی۔ بالکل انتخابات ویسا ہی ہوا۔
میں نے انتخابات کے بعد خان صاحب کو تین مرتبہ پیغام بھیجا کہ خان صاحب بس ہو گئی ہے، میں اب آ رہا ہوں۔ جس پر عمران خان نے ٹویٹ کے ذریعے مجھے سختی سے ایک مرتبہ پھر روک دیا۔
مراد سعید کا انٹرویو
میں کچھ عرصہ خالد خورشید کے پاس گلگت بلتستان اور پھر زمان پارک قاسم اور سلیمان کے کمرے میں رہا۔ عمران خان نے سیکیورٹی کے لوگوں کو یہ کہا کہ اس کو کارکنان کے پاس کیمپس میں بھی مت جانے دو اور پھر ایک تسبیح، کجھوریں اور بلٹ پروف جیکٹ دے کر وہاں سے روانہ کیا گیا، مراد سعید