کیا اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے عمران خان کا لیٹر نکلا تھا کہ آپ پنجاب میں دھماکے نہ کریں
کیا عمران خان نے کہا تھا کہ میں زرداری کو لاہور کی سڑکوں پہ گھسیٹوں گا
کیا عمران خان صاحب کی وجہ سے زرداری نے 10 سال جیل میں گزارے بیرسٹر عمیر خان نیازی
@AusWomenCricket Strongly condemned the sexual harassment of Australian women's cricket team in Indian by stupid Indian nation,
So pitty on such a shameless security measures of inda
مرشد عمران احمد خان نیازی کی رہائی کیسے ممکن ہوگی؟
میں اس تحریر میں اپنا تجزیہ لکھ رہا ہوں
میرے خیال میں مرشد عمران خان کی رہائی کیسے ممکن ہے۔۔۔۔
مرشد عمران احمد خان نیازی کی رہائی تین حصوں میں مشتمل ہے
پہلا مزاحمت
دوسرا مذاکرات
تیسرا عدالتوں سے انصاف۔۔۔۔
یہ تینوں حصے جب پورے ہوں گے
تو تب ہی خان صاحب باہر نکلیں گے
لیکن ان تینوں کو ایک ترتیب سے لے کر جانا لازم ہے
ہم نے عدالتوں میں خان صاحب کے تمام کیسز کی پٹیشن فائل کی ہوئی ہے
لیکن ان کو سنا نہیں جاتا
وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے خان صاحب کو باہر نکالنا ہے
ان پر پریشر نہیں ہے
ججز انصاف نہیں دے سکتے
تو یہ کیسے ممکن ہوگا کہ ہمیں عدالتوں سے انصاف ملے؟
ایک بات یاد رکھیں خان صاحب نے عدالتوں کے ذریعے سے ہی باہر آنا ہے؟
خان صاحب ڈیل کر کے باہر نہیں آئیں گے
تو عدالتوں سے کیسے خان صاحب باہر نکلیں گے؟
جب تک ہم بھرپور طریقے سے مزاحمت نہیں کریں گے
تب تک ہمارے مطالبات نہیں سنے جائیں گے
خان صاحب کو رہا کروانا ہے
تو ہمیں پورے ملک میں مزاحمتی تحریک کو شروع کرنا پڑے گا
پورے ملک کو بند کرنا پڑے گا
جب پورے ملک کو بند کیا جائے گا
تو بڑے حلقے کے لوگ میز پر بیٹھ کر بات کریں گے
جس کو مذاکرات بولتے ہیں
مذاکرات ڈیل نہیں ہوتی ہے
مذاکرات ہر موقع پر ہوتے ہیں
سلطان صلاح الدین ایوبی جب جنگ پہ جاتے تھے
وہ دشمن کے ساتھ مذاکرات کرتے تھے
وہ جنگ کے دوران بھی مذاکرات کرتے تھے
جب ہم اپنی مزاحمت بھرپور طریقے سے دکھائیں گے
تو بڑے حلقے کے لوگ خان صاحب کے ساتھ بیٹھ کے مذاکرات کریں گے
پھر خان صاحب اپنے مطالبات پورے کروائیں گے
جس کے بعد عدالتوں سے تمام قیدی رہا ہوتے ہوئے نظر آئیں گے ملٹری کورٹس کے قیدی وہ بھی رہا ہو جائیں گے اور آخر میں بشریٰ بی بی اور عمران احمد خان نیازی دونوں ساتھ باہر آئیں گے
لیکن ایک بات یاد رکھیں جب ہم مزاحمتی تحریک شروع کر دیں گے
تو ہم تب تک اس مزاحمتی تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گے
جب تک یہ خان صاحب کو رہا نہیں کر دیتے اور خان صاحب باہر نکل کے میرے پاکستانیوں کا لفظ ادا نہیں کرتے
کیونکہ اگر یہ تھوڑی سی لچک دکھاتے ہیں
اور ہم سمجھتے ہیں کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں
اور ہم اپنی مزاحمت چھوڑ دیتے ہیں
تو یہ دوبارہ سے منافقت کریں گے
اور خان صاحب کو رہا نہیں کریں گے
بلکہ دوبارہ سے کارکنان کو گرفتار کرنا شروع کر دیں گے
اگر ہم پانچ اکتوبر کو واپس نہ جاتے اور ڈی چوک پہ بیٹھ جاتے اور بھرپور مزاحمت جاری رکھتے
تو مذاکرات بھی کامیاب ہوتے 26 ویں ترمیم بھی نہ ہوتی خان صاحب کی رہائی بھی ممکن ہو جاتی اور ہمارے تمام قیدی باہر نکل آتے۔
بد قسمتی سے ہم لوگ پہلے دو حصے چھوڑ کر تیسرے حصے یعنی عدالت پر زیادہ فوکس کرتے ہیں
اگر ہم پہلے حصے پر اپنی قوت لگائیں جو مزاحمت ہے
تو اس کے بعد مذاکرات بھی کامیاب ہوں گے اور عدالتوں سے انصاف بھی ملتا ہوا نظر آئے گا
یہ میرا تجزیہ ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے
میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس تجزیے کو پڑھیں گے اور اپنی رائے لازمی دیں گے کہ کیا آپ اس رائے سے متفق ہیں؟
اگر متفق نہیں ہیں تو آپ بتائیں خان صاحب کی رہائی کیسے ممکن ہو گی؟
(حیدر سعید)
@Ali_MuhammadPTI ٹرینڈ الرٹ 🚨
آج سے ہر لیڈر
ہر ٹکٹ ہولڈر
ہر عہدے دار
ہر ایم این اے
ہر ایم پی اے
ہر سینیٹر کے سے ایک مطالبہ کریں کہ #بہانے_نہیں_لائحہ_عمل_دو
خان کو جیل میں دو سال ہو گئے اب مزید بہانے نہیں، احتجاج کا لائحہ عمل دو
ٹرینڈ الرٹ 🚨
آج سے ہر لیڈر
ہر ٹکٹ ہولڈر
ہر عہدے دار
ہر ایم این اے
ہر ایم پی اے
ہر سینیٹر کے سے ایک مطالبہ کریں کہ #بہانے_نہیں_لائحہ_عمل_دو
خان کو جیل میں دو سال ہو گئے اب مزید بہانے نہیں، احتجاج کا لائحہ عمل دو
ٹرینڈ الرٹ 🚨
آج سے ہر لیڈر
ہر ٹکٹ ہولڈر
ہر عہدے دار
ہر ایم این اے
ہر ایم پی اے
ہر سینیٹر کے سے ایک مطالبہ کریں کہ #بہانے_نہیں_لائحہ_عمل_دو
خان کو جیل میں دو سال ہو گئے اب مزید بہانے نہیں، احتجاج کا لائحہ عمل دو
ٹرینڈ الرٹ 🚨
آج سے ہر لیڈر
ہر ٹکٹ ہولڈر
ہر عہدے دار
ہر ایم این اے
ہر ایم پی اے
ہر سینیٹر کے سے ایک مطالبہ کریں کہ #بہانے_نہیں_لائحہ_عمل_دو
خان کو جیل میں دو سال ہو گئے اب مزید بہانے نہیں، احتجاج کا لائحہ عمل دو
“Loss of human life in Pahlgam incident is deeply disturbing and tragic. I extend my deepest condolences to the victims and their families.
When the False Flag Palwama Operation incident happened, we offered to extend all-out cooperation to India but India failed to produce any concrete evidence. As I predicted in 2019, the same is happening again after Pahlgam incident. Instead of introspection and investigation, Modi Sarkar is again placing the blame on Pakistan.
Being a country of 1.5 billion people, India needs to act responsibly instead of messing with a region already known as “nuclear flashpoint.” Peace is our priority but it should not be mistaken as cowardice. Pakistan has got all the capabilities to give a befitting response to any Indian misadventure, as My Government, backed by whole nation, did in 2019.
I have always emphasized the importance of the Kashmiris’ right to self-determination, as guaranteed by United Nations resolutions.
I have also been highlighting the fact that India led by RSS ideology is a grave threat, not only to the region but beyond it. Indian oppression in Kashmir, intensified after the illegal abrogation of Article 370, has further fueled the Kashmiri people’s desire for freedom.
Sadly, the nation has been divided by an illegitimate government imposed through fraudulent Form-47 results. And yet, ironically, Narendra Modi’s aggression has united the people of Pakistan in one voice against Indian hostility. While we reject this fake regime, we stand firmly as one Pakistani nation and strongly condemn Modi's war-mongering and his dangerous ambitions that threaten regional peace.
Needless to say, to win the war against an external enemy, the nation must first be united. It is high time to put a halt to all actions that are further polarizing the nation. The state’s excessive focus on political victimisation at this critical time is deepening internal divisions and undermining the nation’s collective ability to confront external threats.
It is naive to expect any strong stance from self-serving figures like Nawaz Sharif and Asif Zardari. They will never speak out against India because their illegal wealth and business interests lie abroad. They profit from foreign investments, and to protect those financial interests, they remain silent in the face of foreign aggression and baseless allegations against Pakistan. Their fear is simple: that Indian lobbies might freeze their offshore assets if they dare to speak the truth.”
Illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan’s discussion with the lawyers in Adiala Jail Rawalpindi (29-04-2025)
انڈیا پر بات آئے تو شریف خاندان ایسے گونگا ہوتا ہے جیسے مودی کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہوں
۔۔
“اتنا ہی زبان پر کنٹرول ہے تو تب کرنا تھا جب ہندوستان کے حق میں پاکستان کے خلاف بیانات دے رہے تھے”
https://t.co/tvikvGzt0g