"ہولناک مناظر میں سے ایک"
ایک بچہ جو اپنی جگہ پر ساقط ہوگیا، نہ چیخنا، نہ رونا، کیونکہ وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھا جو اس کی آنکھوں نے ابھی دیکھا تھا۔
جب اسرائیل نے غزہ میں اس کے والدین کو اس کی آنکھوں کے سامنے مار ڈالا،
کیا آپ جانتے ہیں؟
ایک ممتاز ہندو اسکالر سوامی لکشمی شنکراچاریہ نے اسلام کے اصل ماخذ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنے خیالات پر نظر ثانی کی۔
اے پنڈ نہی تیرا ۔۔ لاہو ایا ہے ۔۔
میو ہسپتال لاہور کے بلڈ بنک کے عملے کی فرعونیت چیک کریں ۔ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ایک ویڈیو میں لاہور کے میو ہسپتال میں ایک شخص کو مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے نامناسب انداز میں گفتگو کرتے سنا جا سکتا ہے۔
کیا قصور تھا اس غریب کا چند قطرے خون کے ہی مانگ رہا تھا ۔۔ کوی اپنا بستر مرگ پڑا تھا ۔
نہی دینا تھا تو تذلیل تو نہ کرتے ۔ یہ بھی اسی ملک کا حصہ ہے جسکے ٹیکس سے تمھیں تنخواہ ملتی ہے ۔۔
پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریض اور ان کے لواحقین پہلے ہی بیماری پریشانی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔
ایسے میں اگر انہیں ہسپتال کے عملے کی جانب سے نامناسب رویے، دھمکی آمیز لہجے یا غیر پیشہ ورانہ سلوک کا سامنا کرنا پڑے تو یہ نہ صرف افسوسناک بلکہ ناقابلِ قبول ہے۔
جو انسانی ہمدردی اور عوامی خدمت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ ہسپتالوں میں آنے والے افراد عزت، احترام اور بہتر رویے کے مستحق ہیں، نہ کہ دھونس اور بدتمیزی کے۔
یہ سرکاری عملے والے اس حد تک کیوں جاتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ عوام کی اس ملک میں عزت دو ٹکے کی بھی نہی ہے ۔
جس ملک میں حکومت جمہور کو کیڑے مکوڑے سمجھے وہاں کی حکومت میں بیٹھا ہر شخص عوام کیلے فرعون بن جاتا ہے ۔
غزہ میں 83 فیصد لوگ بنیادی انسانی معیارات سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اس اعداد و شمار کے پیچھے وہ خاندان ہیں جو خوراک، صاف پانی، صحت کی دیکھ بھال اور محفوظ پناہ گاہ تک رسائی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ غزہ میں انسانی بحران بدستور تباہ کن ہے۔ 💔🇵🇸
یہ اسرائیلی دہشت گرد فوج کا جرم دیکھیں
فلسطین کا سات ماہ کا بچہ اپنے والدین کے ہمراہ گاڑی میں جا رہا تھا
اسرائیلی فوج نے اندھا دھند فائرنگ کردی
بچہ موقع پر شہید اور والدین زخمی
دنیا کی تاریخ میں ظالم فرعون بچوں کا قاتل تھا
اور آج کا درندہ فرعون غزہ لبنان فلسطین ایران یمن شام کے بچوں کا قاتل ہے
"ان میں ہمت نہیں کہ وہ اسے نسل کشی کہیں، وہ فلسطینیوں کو مرنے دے رہے ہیں... پولینڈ نسل کشی کرنے والوں کا ساتھ نہیں دے سکتا."
پولش وزیر خارجہ کی کتاب کی تقریب میں فلسطین حامی کارکن کا شدید احتجاج
نوجوان کہا کہ پولینڈ کا تیار کردہ بارود فلسطینیوں کے قتل عام میں استعمال ہو رہا ہے
غزہ کی ننھی جانوں کو ایسے درد اور تکالیف سے گزرنا پڑ رہا ہے جو ان کی سمجھ اور عمر سے کہیں زیادہ بڑے ہیں
غزہ میں ازرائیلی بمباری سے 4 سالہ "تالا البیاع" اپنا دایاں بازو کھو بیٹھی۔
معصوم بچوں کا بہتا ہوا خون اور سسکیاں مسلم حکمرانوں کی مجرمانہ بےحسی پر ایک ابدی لعنت ہیں۔
آسٹریلیا میں مقیم پاکستانیوں سے مدد کی اپیل : اس بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا جو 6 بہنوں کا ایک ہی بھائی تھا ۔ بنیا مین نامی یہ نوجوان 13 سال قبل آسٹریلیا گیا ، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ وہاں پہنچا اور کام پر لگ گیا مگر اس نوجوان نے وہاں پہنچنے کے فوری بعد گھر والوں سے رابطہ منقطع کردیا ، ماں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئی ، بہنوں نے بھی بھائی کو بہت ڈھونڈا مگر 7 سمندر پار کسی کو تلاش کرنا بھلا کیسے ممکن ہے جبکہ وہ خود روپوش ہے ۔۔۔ ماں کی فریاد ہے کہ بنیا مین اگر انکی شکل دیکھ لے اسے اپنی ماں یاد آجائے تو وہ فورا پاکستان آئے ۔ ماں کو ڈالر نہیں چاہیں ، بہنوں کی شادیاں بھی ہو چکی ہیں بھائی پر کوئی بوجھ نہیں بس ایک بار یہ نوجوان واپس گھر آجائے ماں بہنوں کی ترسی نگاہیں اسے دیکھ لیں اس کے علاوہ انہیں کچھ نہیں چاہیے ۔۔ بنیا مین ہر خوف جھٹک کر آئے اسے کوئی کچھ نہیں کہے گا ، کوئی گلہ شکوہ اسے سننے کو نہیں ملے گا اس بات کی ماں اور اللہ ضامن ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
آسٹریلیا میں مقیم پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ اس نام کے کسی نوجوان کے بارے میں انہیں علم ہو تو اسے اس پوسٹ سے ضرور آگاہ کریں
“ہم یہ ویڈیو اس لیے بنا رہے ہیں کیونکہ ہم کسی بھی لمحے مر سکتے ہیں۔ ہمارے 70–80٪ مریض بچے اور حاملہ خواتین ہیں۔ میں نے ایک ایسی خاتون کا بچہ ڈیلیور کیا جو 9 ماہ کی حاملہ تھی اور جس کا سر کٹ چکا تھا۔ براہِ کرم اس دہشت اور ہولناکی کو روکیں “
آسٹریلوی خواتین ڈاکٹرز کا غزہ سے بیان
🚨"غزہ کی ایک ماں اپنے خاندان اور بچوں کو نشانہ بنانے والے ایک ظالمانہ حملے کے بعد شدید غم و صدمے میں مبتلا ہے۔"
ان لوگوں کا یہ ویڈیو دیکھ کر دل نہیں کانپتا جو ان باعزت اور ثابت قدم لوگوں پر تنقید کرتے ہیں، جبکہ یہ لوگ ہر روز موت اور بھوک کے محاصرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں؟
Syria میں زلزلے کے ملبے تلے 36 گھنٹے گزارنے کے بعد جب امدادی کارکنوں نے بچوں کو باہر نکالا، تو ننھی بچی اپنے بھائی کو ڈھال بن کر بچاتی نظر آئی۔
یہ منظر محبت، ہمت اور بہن بھائی کے انمول رشتے کی ایسی تصویر تھا جس نے ہر دل کو نرم کر دیا