سب لڑکیوں سے درخواست ہے
کوئ کتنا بھی پیار کرے
کتنی بھی قسمیں کھا لے
آسمان ز��ین پر لے آئے
"نکاح سے پہلے" اپنی عزت کا "جنازہ"
نہ نکالنا
کیونکہ
"ایسی عورت" کی کوئ
عزت نہیں رہ جاتی
مرد کو معافی مل جاتی ہے
لیکن
یہ معاشرہ عورت کو معاف نہیں کرتا
اللّٰه کی بنائ حد میں ہی رہنا چاہئے
اس ٹویٹ کو ریٹویٹ ,لائک, کمنٹ کریں
میں آپکی وال پر ایک پسند آنے والی ٹویٹ ریٹویٹ ، لائک, کومنٹ کروں گی۔
دیکھتے ہیں آپکی کون سے ٹویٹ مجھے پسند آتی ہے
😍اگر ٹویٹ نہیں کی ہوئی تو جلدی سے کر لیں 👍
#GodMorningWednesday#Viralvideo#ReleaseImranRiazKhan
عاصم منیر جیت رہا ہے۔
جی ہاں جو سچ ہے وہ یہی ہے کہ عاصم منیر جیت رہا ہے۔ جیت وہ ایسے رہا ہے کہ یہ شخص تو ریٹائر ہوچکا تھا۔ اسکی ملازمت ختم ہوچکی تھی۔ لیکن اس کے باجود اگر یہ شخص اگر پاکستان کی طاقتور سیٹ پر بیٹھا ہے تو پھر یہ اسکی کھلم کھلا جیت ہے۔ عاصم منیر اس عہدے پر ایک دن رہتا یا تین سال پورے کرجائے ایک ایک دن اسکی جیت ہے۔ ہر دن اس کے لیے بونس ہے کیونکہ یہ شخص تو ریٹائر ہوچکا تھا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ جیت کس سے رہا ہے؟ کون ہے جو ہاررہا ہے اور عاصم منیر جیت رہا ہے؟ کیا عمران خان ہار رہا ہے؟ نہیں وہ تو جیل سے 180 سیٹیں جیت گیا۔ کیا عوام ہار رہے ہیں؟ نہیں انہوں نے تو جسے ووٹ دیے اسکی سیٹیں ہر طرح کی دھاندلی کے باوجود آج بھی اسمبلی میں سب سے زیادہ ہیں۔
سوال وہیں کا وہیں ہے۔ ہار کون رہا ہے؟ جناب عالی فوج ہار رہی ہے۔ ادارہ ہار رہا ہے۔ ادارے کے تمام افسر ہار رہے ہیں۔ سپاہی ہاررہے ہیں !
اگلا سوال کیا ہار رہے ہیں ؟
اپنا مستقبل ہاررہے ہیں۔ اپنی عزت اور اپنا رعب ہاررہے ہیں۔ان سب کی عزتوں ، قربانیوں ، شہادتوں کو شکست دے کر عاصم منیر جیت رہا ہے۔
قوم کی جانب سے انتخابات میں تاریخی مقابلے، جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کو عام انتخابات 2024 میں بے مثال کامیابی میسرآئی،کے بعد چیئرمین عمران خان کا(مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ) فاتحانہ خطاب
جب فرعون کی آنکھوں کے سامنے اللہ نے موسی کے لشکر کے لیے پانی میں رستہ بنایا تو اللہ نے اُسے ایک آخری موقع دیا تھا حق کو تسلیم کرنے کا۔ یہ ماننے کا کہ وہی ایک ذات ہے کہ جو قادرِ مطلق ہے۔ کہ فرعون کوئ نہیں ہوتا خلقِ خدا کے فیصلے کرنے والا۔ مگر فرعون اپنی طاقت کے غرور میں مست چلتا گیا۔ اس کے تکبر نے اُسے سامنے کی حقیقت نہیں دیکھنے دی۔ یہ حقیقت کہ اللہ تعالی لا الہ الا للہ پر ایمان رکھنے والوں کی پشت پر ہے۔ یہ کہ اُس کی خدائ جھوٹ پر کھڑی ہے۔ وہ اپنی گمراہی میں اس حد تک چلا گیا تھا کہ وہ خود کو ��لنے والے آخری موقع کو بھی نہیں پہچان سکا۔
موسی کے لشکر کے سامنے بھی تو ایسا لمحہ آیا تھا کہ جدھر وہ نعوذ باللہ اللہ کی کبریائ سے مایوس ہو کر اُس کی حکمت پر سوال اٹھاتے۔ پیچھے خدائ کا دعویدار، آگے لپکتی لہریں۔ نا آگے جا سکتے نہ پیچھے مڑ سکتے۔ تھے تو وہ بھی انسان۔ ایک لمحے کو شاید انہوں نے بھی سوچا ہو کہ اُن کے سفر کا انجام بس یہی تھا۔ مگر کیا چیز تھی جو انہیں فرعون کے لشکر سے مختلف بنا رہی تھی؟ ایمان۔ ایمان کا تقاضہ تھا کہ وہ اپنا سرجھٹک کر اللہ پر بھروسہ رکھ کر آگے بڑھتے۔ کہ وہ اپنی reality کو confront کرتے، کیونکہ وہ حق پر تھے۔
فرعون کی فرعونیت اور اہلِ ایمان کا انجام صرف اس ایک لمحے کے فیصلے پر مربوط تھا۔ وہ ایک لمحہ جس میں فرعون نے اپنے تکبر میں رُکنے سے انکار کیا۔ وہ ایک لمحہ جس میں اہل ایمان نے کسی وسوسے کو دل میں جگہ نہ دے کر جھکنے سے انکار کیا۔ اُس ایک لمحے نے دونوں لشکروں کا انجام لکھا۔ اللہ چاہتا ��و وہ فرعون کو اس لمحے سے پہلے بھی غرق کرسکتا تھا۔ اللہ چاہتا تو ایمان والو کو کسی اور راستے بھی نکال سکتا تھا اُس کی خدائ میں کون سی بات ناممکن تھی؟
مگر اللہ نے اُس ایک لمحے میں دونوں لشکروں کو موقع دیا۔ ایک کے تکبر نے اُسے غرق کردیا۔ دوسرے کے توکل نے اُسے امر کردیا۔
میرے پاکستانیو!
اللہ تبارک و تعالی جب ہم سے پچھلی قوموں کے واقعات بیان کرتا ہے تو کہتا ہے کہ اِن سے سبق سیکھو۔ آج ہم ایسے ہی ایک لمحے میں کھڑے ہیں۔ وقت کا فرعون اپنی طاقت کے نشے میں نقارۂ خدا کو جھٹلا چکا ہے۔ آپ کے فیصلے پر بارگیننگ اور ڈیلیں کی جارہی ہیں۔ اقتدار کا فیصلہ مفادِ عامہ/ ملکی مفاد نہیں اپنی ذات اور اپنے آقاؤں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے مستقبل کو داؤ پر لگا کر چند افراد اپنی طاقت کو دوام دینے کی تگ و دو میں ہیں۔
مگر آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ جو ایمان ہمیں اس کنارے تک لے کر آیا ہے وہی ہمیں یہ دریا پار بھی کرائیگا اور اسی پانی میں ان کا تکبر بھی غرق ہوگا۔ ہمیں نظر اپنی منزل پر رکھنی ہے اور دل میں وسوسوں کو جگہ نہیں دینی۔ یہ اپنا آخری موقع گنوا چکے ہیں اور ہمیں اللہ کے بھروسے پانی میں قدم رکھنا ہے۔
اپنے امیدواروں کی پشت پر کھڑے رہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو سال کی فسطائیت اور ہر قسم کے دباؤ کو برداشت کیا ہے۔ صرف اللہ اور آپ کے بھروسے۔ یہ آگے کے مرحلے بھی آپ کی سپورٹ سے طے کریں گے۔
اگر آپ کے امیدوار جیت گئے ہیں تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا کام یہاں ختم ہوگیا ہے۔ آواز اٹھاتے رہیں جس طرح ستائیس سال آپ کے لیڈر نے آپ کے حق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔
یاد رکھیں یہ الیکشن نہیں ہماری آزادی کی جنگ ہے۔ ہمارے لیے ایک ایک حلقہ اہم ہے۔ اس امر کو یقینی بنائیں کہ تمام حلقوں پر فارم-۴۵ کے مطابق حتمی نتائج مرتب ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پرامن طور پر متعلقہ آر او آفس کے باہر بیٹھیں اور تب تک بیٹھے رہیں جب تک درست نتیجہ جاری نہیں ہوتا۔
میں جانتا ہوں ہم میں سے بہت سے مایوس ہورہے ہوں گے۔ بہت سوں کے ذہن میں یہ ڈالا جارہا ہوگا کہ تمہارا اختیار بس یہیں تک تھا۔ مگر یاد رکھیں بحیثی��ِ قوم ہماری زندگی موت کا فیصلہ اس لمحے نے کرنا ہے۔ اگر ہم ڈٹے رہتے ہیں۔ ہم اِن کی خدائی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار نہیں کرتے تو اُس ذات کے لیے نہ کل پانی میں رستے بنانا مشکل تھا نہ آج مشکل ہے۔
اجتماعی دعا...
یا مولا کریم تو موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے اوپر غالب کرنے پر قادر ہے، یونس کو مچھلی کے پیٹ سے نکالنے پہ غالب ہے۔۔۔۔ تو پھر شیر پاکستان کا معاملہ تو تیرے آگے کچھ بھی نہیں ، یامولا شیر پاکستان کو زمینی خداوں کے مقابلے فتح یاب فرما آمین
کل جو فیصلے میں تاخیر ہوئی اور بلے کا نشان نہیں ملا اصل میں یہ ہے اسکی وجہ !
ٹویٹ کرنا میرا کام تھا، ریٹویٹ کر کے پھیلانا آپ نے ہے ۔
#عوام_کا_لاڈلا_عمران
ریٹویٹ کریں اور اس ہیش ٹیگ کے ساتھ #عوام_کا_لاڈلا_عمران
کمنٹ میں آمین لکھتے ج��ئیں.
ابھی پتا چل جائے گا کہ کتنے پاکستانی چاہتے ہیں کہ انکی اولاد عمران خان جیسی ہو ؟
ریٹویٹ کرنے پر پیسہ نہیں لگتا !
عمران خان سچا عاشق رسول (ص) ہے اور وہ مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا تھا ۔ یہ ہی اسکا ق��ور ہے!
#عوام_کا_لاڈلا_عمران