آج یہ تینوں دو سیاسی خاندان اور ایک چوکیدار ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں کہ ملک کو زیادہ نقصان کس نے پہنچایا۔ ی بات کی پیش گوئی خان نے پہلے ہی کر دی تھی کہ ‘ایک وقت آئے گا جب یہ ایک دوسرے کے گریبانوں میں ہوں گے، ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگائیں گے۔
صدر انصاف یوتھ ونگ جنوبی پنجاب وقار خان سے مشاورت کے بعد، جنرل سیکرٹری انصاف یوتھ ونگ جنوبی پنجاب شعیب ڈوگر نے انصاف یوتھ ونگ ضلع ملتان کی کابینہ کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
صدر انصاف یوتھ ونگ جنوبی پنجاب وقار خان سے مشاورت کے بعد، جنرل سیکرٹری انصاف یوتھ ونگ جنوبی پنجاب شعیب ڈوگر نے انصاف یوتھ ونگ ضلع ڈیرہ غازی خان کی کابینہ کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
انصاف یوتھ ونگ خانیوال کےسابق صدرپی پی 210 چودھری اشتیاق احمد آرائیں، سابق جنرل سیکرٹری ملک ندیم فیض کھنڈ، حمزہ آرائیں،سینئیر سیاسی رہنما عبدالقیوم ہزاروی کے زیر انتظام بانی چئیرمین پی ٹی آئ عمران خان صاحب کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا،
جس میں عمران خان صاحب کی رہائی کے لیے دعا کی۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
- 22 ستمبر 2025
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے کیونکہ یہ کیس جس شخص کے بیان کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا وہ گواہ ہی عدالت میں جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔ اس کیس کو مزید کھینچنے کا جواز نہیں بنتا کیونکہ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہ بریگیڈیئر احمد اور کرنل ریحان نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ توشہ خانہ سے لیے گئے تحفوں کے کاغذات مکمل تھے۔ لیکن تمام ثبوتوں اور سرکاری گواہوں کے جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود کیس کی سماعت جاری ہے۔ اگر سیاسی انتقام ہی مقصد نہ ہو تو اس جھوٹے کیس میں بھی میری اور بشرٰی بیگم کی بریت اسی ہفتے ہو جانی چاہیئے۔ جمعرات کو القادر کیس کی بھی بالآخر تاریخ دے دی گئی ہے۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ عدالت میرٹ اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے ان مقدمات میں انصاف دے گی اور اس جھوٹے کیس میں رہائی ہو جائے گی۔
محسن نقوی نے کرکٹ اور عاصم منیر نے پاکستان کا ایک جیسا حال کر دیا ہے۔ پاکستان میں ہر ادارہ اس وقت تباہی کا شکار ہے۔ کرکٹ واحد کھیل ہے جو پوری قوم شوق سے دیکھتی ہے۔ کرکٹ کو بھی جب سے منظور نظر محسن نقوی کے حوالے کیا گیا ہے تباہی ہی تباہی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے 2021 میں بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی اور تب ایک باعتماد ٹیم تھی۔
ان کے پاس میچ جیتنے کا ایک واحد طریقہ یہ ہے کہ عاصم منیر اور محسن نقوی کو اوپننگ بیٹسمین کے طور پر بھیجا جائے اور سکندر سلطان راجہ، قاضی فائز عیسٰی کو امپائرنگ دی جائے اور ڈوگر کو تھرڈ امپائر بنا دیا جائے کیونکہ موجودہ سیٹ اپ کو جیتنے کا یہی ایک طریقہ معلوم ہے۔
عاصم منیر کو سوچنا چاہئے کہ اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینے کے لیے اس نے کیا کچھ کیا ہے:
سب سے پہلے جمہوریت ختم کی۔ 9 مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جو مجھے دو تہائی اکثریت دی اسے چھین کر اقتدار ان چوروں کے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے عوام کا پیسہ لوٹنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کیا۔ باوجود ڈکٹیٹرشپ کے مشرف کو اگر کوئی عوامی حمایت حاصل تھی تو اس کی دو وجوہات تھیں: ایک، اس نے میڈیا کو آزاد کیا تھا۔ دو، وہ ملک کے دو کرپٹ ترین خاندانوں یعنی شریف و زرداری خاندان کا احتساب کر رہا تھا۔ اب اسی سزا یافتہ کرپٹ مافیا کو دوبارہ ملک پر مسلط کر کے ملک کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
دوسرا، چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی خودمختاری سلب کر کے اسے ایک سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ ججز قابل تحسین ہیں جو آج بھی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ججز پوری قوم کے ہیروز ہیں اور پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے جنھوں نے ان کٹھن ترین حالات میں بھی حق کا علم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب، وہ ججز جو عاصم لأ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، انھیں نہ تو تاریخ اور نہ ہی یہ قوم کبھی معاف کرے گی۔
تیسرا، ملک میں ظلم کا بازار گرم کیا گیا، اخلاقی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کی گئیں۔ لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ملٹری ٹرائل کر کے غیرقانونی سزائیں دی گئیں، اور یہ سلسلہ بنا کسی احتساب کے خوف کے جاری ہے۔
اپنی جماعت بالخصوص، علی امین، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر گوہر، کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے اگر کوئی بات کرنی ہے تو اڈیالہ جیل آ کر مجھ سے کریں۔ آپ ان سے جتنی مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، وہ اتنا ہی ظلم و ستم کی شدت بڑھا کر ہماری جماعت کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کس قدر غیر انسانی عمل ہے کہ گوجرانوالہ میں دو سال سے بےگناہ قید قاسم کھوکھر کا بروقت علاج نہیں کروایا گیا جس سے اس کی جیل میں ہی موت واقع ہو گئی۔ اس سے پہلے بھی کئی ورکرز جیل سے آ کر فوت ہو چکے ہیں۔۔۔ میں ان کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔
27 ستمبر کے پشاور جلسے میں پوری قوم شرکت کرے۔ یہ جلسہ قانون کی بالادستی، آزاد میڈیا، خودمختار عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ہے اس لیے پوری قوم کو یک زبان ہو کر نکلنا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور اس جلسے کے انتظامات کریں اور جنید اکبر ان کا ساتھ دیں۔ پوری پارٹی اور ورکرز اس جلسے کو تاریخی بنانے کے لیے محنت کریں۔”
#حق_کی_جیت_ہو_گی
انصاف یوتھ ونگ لودھراں کے صدر راؤ طارق حنیف بوبی اور ملک خالد نواز سید فیصل شاہ انصاف یوتھ ونگ کے دوستوں کے ہمراہ لودھراں کے سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کیلئے کھانا منرل واٹر فروٹس بچوں کے لئے نیسلے بسکٹ اور چیزیں پہنچانے میں مصروف ہیں
سابق تحصیل صدر انصاف یوتھ ونگ PP210 جہانیاں چودھری اشتیاق احمد آرائیں اور سابق جنرل سیکرٹری PP210 جہانیاں ندیم فیض کھنڈ نے لودھراں میں سیلاب متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا۔
صدرانصاف یوتھ ونگ جنوبی پنجاب وقارخان صاحب کی زیرقیادت
سینئر نائب صدرانصاف یوتھ ونگ اظہرجوئیہ،ڈپٹی جنرل سیکرٹری انصاف یوتھ ونگ عمیراسلم اعوان ،سابق ضلعی جنرل سیکرٹری عمران حاصلہ پرمشتمل وفد نے تحصیل علی پور کے سیلاب زدہ علاقے سیت پور میں متاثرین میں کھانا تقسیم کیا۔۔۔!
انصاف یوتھ ونگ کے دوستوں کے ہمراہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے جملیرا اور ساہوکا (بوریوالا) جانا ہوا۔
بہت مشکل ہے کسی سفید پوش کا خیموں میں بیٹھنا.
یا اللہ سیلاب زدگان کی غیبی مدد فرما 🤲🏻
صدر انصاف یوتھ ونگ جنوبی پنجاب وقار خان کی ہدایت پر حمزہ میتلا ہیڈ فلڈ ریلیف ٹیم ضلع خانیوال نے تحصیل میاں چنوں، ضلع خانیوال میں فلڈ ریلیف ٹیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
صدر انصاف یوتھ ونگ جنوبی پنجاب، وقار خان کی خصوصی ہدایت پر جنرل سیکرٹری انصاف یوتھ ونگ جنوبی پنجاب شعیب ڈوگر کی جانب سے ڈی جی خان ڈویژن کے تمام اضلاع میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی فوری امداد کے لیے امدادی ٹیم تشکیل دی۔
صدر انصاف یوتھ ونگ جنوبی پنجاب وقار خان کی ہدایت پر، جنرل سیکرٹری انصاف یوتھ ونگ جنوبی پنجاب سردار شعیب ڈوگر نے بہاولپور ڈویژن کی فلوڈ ریلیف ٹیم کا نوٹیفکیشن باضابطہ طور پر جاری کر دیا ہے۔
صدر انصاف یوتھ ونگ جنوبی پنجاب، وقار خان کی خصوصی ہدایت پر جنرل سیکرٹری انصاف یوتھ ونگ جنوبی پنجاب شعیب ڈوگر کی جانب سے ملتان ڈویژن کے تمام اضلاع میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی فوری امداد کے لیے امدادی ٹیم تشکیل دی۔