مولانا فضل الرحمن کو کبھی بندوقوں کے سائے میں نہیں دیکھا
لیکن
آج حالات کا تقاضا ہی کچھ اور تھا
شدید خطرات اور دھمکیوں کے باوجود مولانا فضل الرحمن چارسدہ پہنچے اور طویل وقت سٹیج پر گزارا جامع خطاب کیا
اللہ تعالی مولانا فضل الرحمن کی حفاظت فرمائے
آمین
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واٹس ایپ پر پوسٹیں بھیجی کے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف یہ پوسٹ شئیر کرو
ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب اس نہیں پر اتر آئے ہو
انجنئیر ضیاء الرحمن
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
مسلم لیگ نواز کی وفاقی اور پنجاب حکومت کی کل ملا کر اوقات اتنی رہ گئی ہے کہ ان سے مہنگائی اور کارکردگی پر سوال کریں تو یہ PTI کی 9مئی کو پاکستان کیخلاف بغاوت سنانے لگ جاتے ہیں، PTI کی کرپشن کی داستانیں سنانے لگ جاتے ہیں، معرکہ حق سنانے لگ جاتے ہیں۔
جیسے PTI ہر پاکستانی کو اپنے جیسا چ و ت ی ا سمجھتی تھی، عین اسی طرح مسلم لیگ نواز بھی ہر پاکستان کو اپنے جیسا چ و ت ی ا سمجھتی ہے
محترم نواز شریف صاحب کی TV چینلز پر ایسی جعلی گفتگو کو Paid خبر بنا کر چلوانے سے بات نہیں بنے گی۔
آپ نے خود ہی تو اپنی صاحبزادی کو وزیر اعلی اور بھائی کو وزیر اعظم بنوایا ہے تو اب ان دونوں کی نالائقی کی ذمہ داری بھی لیں۔۔۔
مہنگائی کنٹرول کرنے سے یاد آیا کہ آپ کی صاحبزادی نے مہنگائی کنٹرول کرتے ہوئے ہی تو 11 ارب کا جہاز لیا ہے، اگر حالات بہتر ہوتے تو شاید تین چار جہاز خریدتی محترمہ۔۔۔ ایک بیرون ملک سفر کیلئے۔۔۔۔ ایک جاتی امراء سے وزیر اعلی ہائوس تک۔۔۔ ایک وزیر اعلی ہائوس سے مری تک اور پھر ایک مری سے جاتی امراء تک۔۔۔۔
اشرافیہ اور مافیاز کے ٹائوٹوں کی جماعت کے وزراء، ترجمان، مشیر اور راتب خور صحافی و سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم جہلاء کی طرح بکواس کرنا ہی بند کر دیں
کمال ہے جی ،
غریدہ فاروقی کے ڈریس کو غلط کہنے والوں کو ملزم پے ملزم گرفتار ہو رہے ہیں اور لاکھوں علماء کے استاد شیخ ادریس کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کرکے اس کو شہید کروانے والے ایک بھی بندہ گرفتار نہیں ہو رہا ۔اور قاتل تو دور کی بات ہے ۔
سائبر کرام زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
آئیں ان سب پر لعنت بھیجیں۔۔۔۔۔ جب بھی آپ پیٹرول یا ڈیزل ڈلوائیں یا مئی کا بجلی کا بل ادا کریں تو ان چاروں شخصیات کے آبائو اجداد، آل اولاد اور انکی بدترین گورننس کا دفاع کرنے والوں کے آبائو اجداد اور آل اولاد پر لعنت ضرور بھیجئے گا، انہیں بد دعائیں ضرور دیجئے گا۔۔۔۔
یہ قائد پاکستان نہیں بلکہ بے غیرت پاکستان ہیں بلکہ اس ویڈیو میں نظر آنے والی تمام شخصیات ہی بے غیرت پاکستان ہیں جنہوں نے اپنی عیاشیاں پوری کرنے کیلئے غریب عوام خون نچوڑ لیا ہے۔
یہ بے غیرت تھے، بے غیرت ہیں اور آئندہ بے غیرت ہی لکھے اور پکارے جائیں گے۔
عالمِ دین کا قتل صرف ایک انسان کی جان لینا نہیں، بلکہ علم، ہدایت اور روشنی کے چراغ کو بجھا دینا ہے۔ یہ ایسا زخم ہے جو صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پوری امت کے دل پر لگتا ہے۔ جب اہلِ علم کو خاموش کر دیا جائے تو معاشرہ اندھیروں میں ڈوبنے لگتا ہے، اور حق کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
شیخ الحدیث مولانا ادریس صاحب کو ظالموں نے شھید کردیا ہے اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول کرے اور قاتلوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو دنیا و آخرت میں نشانِ عبرت بنائے
آمین
کراچی سے لوٹا ہوں اور دیکھ آیا ہوں کہ جمہوریت بہترین انتقام کیسے لیتی ہے.
آپ یقین کریں لاہور اسلام آباد تو دور کی بات ہے اس سے تو ہمارے سرگودھا کا انفراسٹرکچر بہتر حالت میں ہے.
کراچی پہنچتے ہی، صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے برادرم سبوخ سید کے ساتھ ساحل پر گیا. چونکہ سمندر پر سورج طلوع ہوتا دیکھنا تھا نزدیک ترین سپاٹ پر پہنچے. ساحل گندگی اور غلاظت سے بھرا پڑا تھا. متلی ہونے لگی.
واپس ہوئے تو خیال آیا عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی جائے. سنی ہوں اور بڑی خواہشوں میں سے ایک ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے مزار پر حاضری دینے جاؤں. وہاں کا موقع تو جانے کب ملے. عبداللہ شاہ غازی بھی تو اسی خانوادے سے ہیں ، بس دل کھچا سا چلا گیا.
مزار تو ابھی بند تھا لیکن اس کے اطراف میں دیوار کے ساتھ ساتھ گندگی اور غلاظت کے نشانات دیکھ کر دل لہو گیا.
آگے پل کی طرف گئے تو پل کے نیچے ایک صاحب باقاعدہ شلوار اتار کر فٹ پاتھ پر رفع حاجت کر رہے تھے.
پیپلز پارٹی سے پوچھا جانا چاہیے کیا گڑھی خدا بخش کے مزاروں کے اطراف میں بھی ایسی ہی بد انتظامی ہے؟
جب جب موبائل فون نکالا ، کسی نے تنبیہہ کر دی کہ جیب میں ڈالو کوئی چھین لے گا. یاد رہے کہ ہر بار تنبہہہ کرنے والا کوئی مقامی ہی تھا. یعنی یہ تنبیہہ مشاہدے کی بنیاد پر کی جا رہی تھی نہ کہ بدگمانی کی بنیاد پر.
حالت یہ تھی کہ صبح سویرے ساحل کے لیے
نکلے تو گارڈ کہنے لگا میری مانیں تو
نہ جائیں، یہ وقت خطرناک ہو سکتا ہے. گارڈ بھی وہیں کا تھا.
رات کے آخری پہر برادرم فیض اللہ خان 1952 کےبنے ایک قدیم اور معروف ہوٹل پر ہمیں کباب کھلانے لے گئے تو راستے میں وہ سڑک پڑی جسے یونیورسٹی روڈ کہتے ہیں اور جو کئی سالوں سے اسی طرح کھدی پڑی ہے اور مکمل ہونے میں نہیں آ رہی. جانے کتنے پیسے کس کس نے کھا لیے ہوں یا شاید نہ کھائے ہوں اور پوری ایمانداری سے جمہوریت اپنے شہریوں سے انتقام لینے پر تلی پڑی ہو.
میں نے سڑک کا حال دیکھ کر فیض اللہ خان صاحب سے پوچھا کیا پیپلز پارٹی پر اس سڑک کی وجہ سے عوامی دباؤ نہیں آتا؟ انہوں نے جو، جواب دیا وہ ان کے کھلائے گئے لذیذ کبابوں اور سبوخ سید صاحب کی پرلطف رفاقت سے بھی زیادہ مزیدار تھا.
زندہ بھٹو کے مزاج خراب ہوں یا شمال مغرب کے انقلابیوں کی طبیعت بوجھل ہو جائے ، سچ یہ ہے کہ ترقیاتی کاموں اور انتظامی مہارت میں ن لیگ ان سے آگے ہے،. بہت آگے.
کراچی والوں سے واقعی ہمدردی ہو رہی ہے. کوئی شہر اس سلوک کا مستحق نہیں جو کراچی کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے. کراچی سسک رہا ہے. کراچی واقعی سسک رہا ہے.
جو لوگ کراچی میں نہیں رہ رہے وہ شکر کریں اور کراچی والوں کو دعاؤں میں یاد رکھیں کہ اللہ انہیں اس اذیت سے نجات دلا دے.
Connect with the Quran in the blessed month of Ramadan
Ramadan is the month of the Quran. Take this blessed opportunity to strengthen your and your children’s Islamic education.
*Tajweedi qaida
*Nazra Quran
*Quran with Tajweed
*Translation & Tafseer
Register Now
+923152075814
Connect with the Quran in the blessed month of Ramadan
Ramadan is the month of the Quran. Take this blessed opportunity to strengthen your and your children’s Islamic education.
*Tajweedi qaida
*Nazra Quran
*Quran with Tajweed
*Translation & Tafseer
Register Now
+447514 454491
ایک اہم وضاحت
جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ ملک خداد کے موجودہ جنگی صورتحال میں ہر کوئی اپنے افواج کے ساتھ عقیدت کا اظہار کرتا ہے ایسے میں ہمارے چند ساتھیوں نے میری ایک تصویر آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنوائی ہے جس میں مجھے آرمی کی وردی میں ملبوس دکھایا گیا ہے
تحریک لبیک سنی تنظیم تھی اس نے ایک ایمبیسی کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا ان کا بھرکس نکال دیا آج تک ان کے لیڈر ملے بھی نہی
یہ مظاہروں سفارت خانوں کے دروازوں تک پہنچ گے ان کو کچھ نہی کہا جا رہا صحافی بھی تحریک لبیک کی دفعہ کہتے تھے توپوں سے کچل دو ان مظاہرین کے لئے چھاتیوں میں دودھ اترا ہے
ایک جیسا سلوک کیوں نہی ؟