خوشی، محبت،اخلاق ،مسکراہٹ اور علم بانٹنا سب سے بڑی اور دلچسپ سخاوت ہے کہ بغیر پیسے کے بھی آپ سخی بن جاتےہیں اور جتنا آپ بانٹتے ہیں آپ کواس سے زیادہ واپس مل جاتا ہے۔سخی بنیے اور خوشیاں بانٹیے،یہ آقا کریم ﷺ کی سنت بھی ہے نیز آپ نے فرمایا:خوشخبریاں دو ، نفرتیں نہ پھیلاو (بخاری)
گھر، دفتر، بازار وغیرہ میں ہرجگہ سب کی چھوٹی سی چھوٹی مہربانی پر بھی شکریہ،جزاک اللہ وغیرہ کہہ کر شکریہ ادا کرنا معاشرے کو خوشگوار اور خوبصورت بنادیتا ہے۔ آقا کریم ﷺ نے فرمایا:جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا شکر ادا نہیں کرتا۔ (ترمذی) اسلام کے خوبصورت حکم پر عمل کریں۔
ہمیں کسی جگہ زیادہ صفائی، نوکری میں زیادہ دیانتداری،مزدوری میں بہت محنت،عام
زندگی میں بہت اچھا رویہ نظر آئے یا کسی محکمے کا آدمی بغیر رشوت ومطلب کے بھاگ دوڑ کرکے کام کردے تو ہم کہتے ہیں کہ یار یہ تو پاکستان لگتاہی نہیں۔ کیا ہمارا پیارا وطن ایساہے؟کیا ہمارا پیارااسلام ایسا ہے؟
بعض لوگوں کو ایسی گندی عادت ہے کہ گھر کی چھت یا بالکونی سے سیدھا گلی میں کوڑے سے بھری تھیلی پھینک دیتے ہیں اور یوں راہ چلتے لوگوں کو ستاتے ہیں ۔ یہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ صفائی نبی پاک ﷺ کی بہت پیاری سنت ہے۔
موٹرسائیکل،کار یاگدھاگاڑی والے تقریباہر شخص کی عادت یہی دیکھی ہے کہ تھوڑی دیر کےلئے رکناہو توکہیں سائیڈ میں نہیں بلکہ راستے کے درمیان میں کھڑے ہوتے ہیں اور جب کوئی آکر ہارن بجاتاہے تو یوں سر ہلاتے ہیں جیسے اب پتہ چلا کہ عالیجناب راستہ روکے کھڑے ہیں۔دوسروں کا خیال کرنا سنت ہے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت سے پاکستان میں کروڑوں لوگ سخت تکلیف میں ہیں جن میں آپ کے رشتے دار اور اہل محلہ بھی ہوں گے۔ آسانی کی دعا بھی کریں اوراگر آپ کے پاس گنجائش ہو تو غریبوں کی مدد کریں۔ حدیث میں ہے کہ جو کسی کی مشکل دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کی مشکل دور کرے گا
کل اخبارات میں معراج شریف کے متعلق ہر فرقے والے کا خصوصی مضمون پڑھ کرلگاکہ شاید معراج کی محفل منع ہے لیکن کالم لکھنا نہیں حالانکہ صحابہ سے اس دن محفل کرنا اور خصوصی مضمون لکھنا دونوں ہی ثابت نہیں۔حقیقتا دونوں ہی جائز ہیں کیونکہ اصول یہ ہے کہ جس کام سے منع نہیں کیا گیا وہ جائز ہے۔
پاکستان میں ہر روزتقریبا 15سے 20 افراد ٹریفک حادثات میں جان کی بازی ہارتےہیں۔ہفتے کو بھکر کے قریب بس نے اسکول رکشہ کچل دیااور 6طالبات جان سے چلی گئیں جبکہ دادو حادثے میں 7افراد جاں بحق ہوئے۔ سب سے بڑی وجہ جاہل ڈرائیور اور قانون سے لاپرواہی ہے۔ ہمیں انسانی جان کی قدر کب ہو گی۔
مرچ مصالحہ،خوراک،دودھ،ادویات،پیٹرول بیچنے والوں کو لوگ ملاوٹ باز کہتے ہیں جبکہ سبزی، پھل، مشینری،روزہ مرہ کی اشیاء خریدتےہوئے انہیں دھوکے بازسمجھتےہں اور مزدور، پلمبر، الیٹکریشن،مکینک سے کام کراتےانہیں فراڈایا سجھتےہیں۔یہ ہے ہمارا معاشرہ۔ وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
این جی اوز یعنی موم بتی مافیا کا ہمیشہ سے طریقہ ہے کہ کوئی کفر سے اسلام کی طرف آئے تو یہ جھوٹا پروپیگنڈہ کریں گے، ٹی وی پر جعلی فلاسفر و دانشور بن کراس عمل کی مخالفت کریں گے جبکہ کوئی اسلام سے کفر کی طرف جائے تو آزادی کی چیخیں مار مار کرحمایت کریں گے۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔
افسروں، وزیروں، عہدے اور طاقت والوں، میڈیا کے لوگوں اور بہت سے رشتےداروں سے لوگ ان کے شر کی وجہ سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگ یہ حدیث یاد رکھیں کہ فرمایا ’ اللہ کے نزدیک سب سے برا شخص وہ ہے جس کی برائی کے ڈر سے لوگ اسے چھوڑدیں (البخاری
محبت الِہی اور خوف الِہی وہ دو چراغ ہیں جن میں ایک وہ چیزیں دکھاتا ہے جو خدا کا قرب دلاتی ہیں اور دوسرا وہ چیزیں دکھاتا ہے جو خدا سے دور کرنے والی ہیں۔ جس کے دل میں یہ دو چراغ ہیں وہ خدا کے قرب کے قریب اور دوری سے دور ہوجاتا ہے۔
عام سے محکموں سے لے کر بڑے بڑے محکموں میں کام کرنے والے چپڑاسی،کلرک سے لے چھوٹے بڑے افسروں کی سو فیصد تعداد اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں سے پڑھ کر آتی ہے لیکن ان میں بڑی تعداد کرپٹ بددیانت اور رشوت خور ہوتی ہے۔ آخر تعلیمی اداروں میں تربیت کیوں نہیں؟
مارچ کے مہینے میں بہت شادیاں ہوتی ہیں ۔شادی کا معنی ہے خوشی لیکن کان پھاڑ موسیقی اور آتش بازی سے دوسروں کوخوشی کی بجائے تکلیف دی جاتی ہے۔خوشی کے موقع پر خوش ہوں اور خوشیاں بانٹیں، تکلیف نہ دیں۔مہذب اور سلجھے مسلمان و انسان ہونے کا ثبوت دیں، جاہل و موذی نہ بنیں۔
کچھ مفت خورے انگریزوں کی کتاب سے بگ بینگ اور کائنات کی وسعت کے متعلق لمبی چوڑی نقل مار کر مضمون کے آخر میں لکھ دیتے ہیں کہ دیکھو دنیا کہاں پہنچی اور مولوی ابھی عورت مارچ پر تنقید کر رہا ہے۔ ملک کا بیڑہ غرق کرنے والے ان نقالوں سے کہیں کہ پردے کا حکم اسی عظیم کائنات کے خالق کا ہے
ہمارا خداوند کریم رحمان و رحیم ہے، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رووف ورحیم و رحمت و رحمۃ للعالمین ہیں،صحابہ علیھم الرضوان رحماء بینھم یعنی آپس میں بہت رحمدل تھے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم مسلمان بھی آپس میں مہربان، شفیق،کریم اوررحم دل ہوجائیں
اکثر جگہ مسجدوں کے اسپیکر ضرورت سے زیادہ تعداد اوربہت اونچی آواز میں لگے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے پڑوسیوں کو آزمائش ہوتی ہے۔ یونہی مسجد کے اندر نماز پڑھنے والوں کو بھی بعض اوقات مشقت ہوتی ہے۔ اسے بھی بہتر کرنے کی حاجت ہے
کل ایک چوک سے گزرنے کا اتفاق ہوا، چاروں طرف سے کم تعداد میں ٹریفک آرہی تھی۔اس کے باوجودسب پھنسے کھڑے تھے کیونکہ ہر ایک خود پہلے نکلنے چاہتاتھا اور دوسروں کو راستہ دینے کو تیارنہ تھا۔معمولی سی خودغرضی و بے حسی نے سب کو پریشان کر رکھا تھا، یہ ہماری معاشرتی بے حسی کا ایک نمونہ ہے