ابو جہل اور حضرت ابو طالب کا آپس میں کوئی قریبی خونی رشتہ نہیں تھا دونوں قریش قبیلہ کے مختلف ذیلی خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے ابو طالب بنو ہاشم سے تھے عبدالمطلب کے بیٹے اور نبی ﷺ کے حقیقی چچا اور حضرت علی رضی الله عن کے والد تھے، جبکہ ابو جہل کا اصل نام عمرو بن ہشام تھا اور وہ بنو مخزوم سے تھا یہ دونوں صرف ایک ہی بڑے قبیلے قریش کے افراد تھے، یعنی دور کے قبائلی ساتھی، لیکن چچا، بھائی یا قریبی رشتہ دار نہیں تھے
حضور ﷺ کے ایک چچا ابو لہب تھا مگر وہ بھی سوتیلا چچا تھا ابو لہب کا اصل نام عبد العزیٰ بن عبد المطلب تھا نبی ﷺ کے سگے چچا نہیں تھا وہ عبد المطلب کا بیٹا تو تھا، مگر ماں مختلف تھیں
ابو طالب اور نبی ﷺ کے والد عبد اللہ کی ماں فاطمہ بنت عمرو تھیں ابو لہب کی ماں لبنیٰ بنت ہاجر بنی خزاعہ سے تھیں
بلی تھیلے سے باہر آگئی اور آج یہ ثابت ہوگیا کہ پپل پالٹی کا وزیراعظم ہندوستان ایکشن کمیٹی کی پشت پناہی کرکے انتخابات کا التوا چاہتا ہے اور آج خواجہ آصف کے سوال کا جواب مل ہی گیا کہ ازادکشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر پپل پالٹی سے سوال پوچھا جانا چاہئے
خواجہ صاحب جواب حاضر ہے
وزیر بجلی اویس لغاری کو حکومت کارکردگی پر تمغہ دے چکی ہے مگر ہر سال کی طرح اس سال بھی گرمیوں میں بجلی کا بحران آٹھ کھڑا ہوا ہے مہنگے ترین بل اور چھپڑ پھاڑ فکسڈ چارج کے علاوہ ٹراسمیشن سسٹم فرسودہ ہو چکا ہے 49 ہزار میگاواٹ ہماری انسٹال کپیسٹی ہے مگر پھر بھی اس وقت اس سے آدھی بجلی کی ضرورت اور پوری نہی ہو رہی ہے سرکلر ڈیبٹ اور مالی مسائل کی وجہ سے مکمل صلاحیت (installed capacity 40,000+ MW) استعمال نہیں ہو پاتی ہے اور پیسے پورے چالیس کے بھرنے ہیں
ٹرانسمیشن نقصانات، ایندھن کی قلت، اور پلانٹس کی مینٹیننس کی وجہ سے بھی شارٹ فال آتا ہے
دنیا اے آئی سے ربوٹکس میں آٹو میشن پر چلی گئی ہمارے ہاں بتی آ گئی بتی چلی گئی کھیل رہے اور تمغے لے رہے ہیں
فرد کے ریاست میں بنیادی حقوق کی حفاظت سیاسی جماعت کرتی ہے ہمارے سیاستدان جب اقتدار سے نکلتے تو عدالت میں سب سے پہلے اپنے fundamental rights مانگتے عمران خان سب کیسیز میں یہی بنیاد بناتا ہے نواز شریف مریم نواز شہباز صاحب بھی یہئ کرتے تھے اور حیرت ہے جب یہ حکمران ہوتے تو عوام کے بنیادی حقوق کے خلاف قانون بنانے کے خواب دیکھتے ہیں
پاکستان کی اصل بدقسمتی اس کے سیاستدان ہیں ورنہ یہاں کوئی بے قابو نا ہوتا
سب مہم چلائیں
جیو نیوز کو ایک بھی سرکاری اشتہار نہیں ملنا چاہیے
میرخلیل الرحمان خود ناک رگڑے ۔ گریہ زاری کرے ۔ معافیاں مانگے ۔
یہ تو کوئی طریقہ نہیں کہ اتنی بڑی گستاخی پر صرف 15 دن کی پابندی اور ایک معذرت پر معاملہ ختم ہوجائے ۔
ان کو نشان عبرت بنانا چاہیے
جیو پر آن ائر جانے سے قبل مواد کو کئی لوگ اسے دیکھتے ہیں۔ میڈیا میں موجود ایک عمومی عقل کے حامل ذہن کو پتہ ہوتا ہے کہ جو کچھ وہ دیکھ رہا ہے وہ قابل نشر ہے کہ نہیں۔ میری رائے میں اس ڈاکومنٹری کے پروڈیوسر اور ایگزیکٹو پروڈیوسر کے خلاف 295 سی کے تحت مقدمہ ہونا چاہئے۔
ان فرقہ پرستوں کو اسی طریقے سے روکا جا سکتا ہے۔
نون کے بنائے پیکا قانون پر 2018 کے بعد جتنے بھی مقدمات بنے وہ سارے نون لیگ کے سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کے خلاف بنے تھے اور کچھ کے تو پی ڈی ایم دور تک قائم رہے اب پنجاب میں
Punjab Control of Habitual Offenders and Anti-Social Behaviour Bill, 2026” ہے،
جو پنجاب حکومت نے متعارف کرایا ہے۔ یہ جائداد چھیننے بینک اکاؤنٹ بند کرنے اور یہ سب اختیار افسر شاہی پر مبنی انٹیلیجنس کمیٹئُ کے ہاتھ ہو گا جو الزام لگائیں گے وہی فیصلہ بھی کریں گے یہ تو سب پنجاب کو مکمل غلام بنانے کا پلان ہے سی سی ڈی کی یہ دوسری قسم جو جائیداد مال سب چھین لے گی
وزارت اطلاعات جیوکے تمام سرکاری اشتہارات بند کرنے کا اعلان کرے ورنہ لوگ یہی سمجھیں گے ان کو علامتی سزا دے کر بچا رہے ہیں
نبی کریم ﷺ اور مقدس ہستیوں کے AI سے جو خاکے اور واقعات کو دوبارہ عکس بند کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے کیا آپ کو اندازہ ہے اس سے کیا طوفان آئے گا ؟ کیسی کیسی گستاخیاں شروع ہوں گی ؟ ان ہستیوں کے خاکوں کی اشاعت پر تو مسلمانوں نے عالمی سطح پر احتجاج کر رکھے ہیں آپ اس کو normalise کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟
جیو نے مذاق بنایا ہوا ہے اب کہتے ہیں کہ ہماری یہ پالیسی نہی تھی تو پھر یہ پیغمبروں کے بیت اطہار کے مکمل خاکے کیسے چل گئے ؟
ایڈیٹوریل بورڈ کہاں تھا؟ جیو کی معطلی کافی نہی ہے ان کو جو اربوں کے سرکاری اشتہارات دیتے وہ بند کرنے کی ضرورت ہے
وزیر تعلیم پنجاب کا کہنا ہے سرکاری استاد سکول سے جاتے ہوئے ٹوٹیاں اور پنکھا اتار کر لے جاتا ہے
مجھے استاد کا تو نہی پتہ مگر وزیر تعلیم کو بتائیں ان کے ساتھی وزیر تو باقاعدہ سرکاری رہائش گاہ سے چمچے کانٹے لے گے گھروں سے بسیں برآمد ہوئیں ترکی والا ہار نکلا
باقی باتیں تو چھوڑ دیں یہ 5558 عورتوں کا شوہر ایک کیسے ہو سکتا ہے یہ اتنی حوریں تو جنت میں بھی ایک مرد کو نہی ملیں گی یہ دنیا میں ایسا کون ہے ؟
یہ مذاق کا معاملہ نہی ہے نو سو ارب روپے بانٹنے والا پروگرام ہے وہ بھی اس غریب ملک کے جس نے آٹھ ہزار ارب ہر سال قرضے پر سود دینا ہے
آپ معاملہ یوں دیکھیں کہ ایک بجٹ دینے پر وزارت خزانہ اور وزیراعظم کے تمام ملازمین کو چھ مہینے کی ایکسٹرا تنخواہ بطور بونس دے دی
جبکہ عام غریب ایک یونٹ 200سے اوپر استعمال کر لے اسے چھ مہینے کے لئے بارہ ہزار بل بھیج دیتے ہیں
یہی آپ کے بل سے وصولے چھ مہینے کے پیسے ان کی عیاشیوں پر لگ رہے ہیں
منقول
ملتانیو اس شہری کی آواز بنیں زیادہ سے زیادہ شیئر کریں
کل میں ملتان آیا ہوا تھا تو خان پلازہ کے سامنے مجھے ایک ٹریفک پولیس اہلکار نے روکا میں روک گیا اس نے مجھ سے لائسنس مانگا میں نے دے دیا کیوں کہ میں نے سیٹ بیلٹ لگایا ہوا تھا میری گاڑی کے ڈاکومنٹس پورے تھے تو جناب نے کہا آپ کی ڈگی کا شیشہ بلاک ہے تو میں نے ان کو بتایا جناب یہ جو گرینڈی گاڑی نیو آ رہی اس کے اس طرح بلاک ہی ہوتا ہے کمپنی کی طرف سے اگر آپ چاہیں تو میں جناب رہنمائی کے لیے اس کے بارے بتا سکتا ہوں تو جناب نے مجھے 5 ہزار کا چالان کر دیا اور کہا میں یہاں سے بھر دیتا ہوں آپ پیسے مجھے دے دیں میں نے اس وقت ادھر ادھر دیکھا محرم کی وجہ سے کوئی دکان کھلی نہیں تھی تو پیسے دے دیے اس کے بعد مجھے جو میسج آیا اس پر 2 ہزار کا چالان تھا اور جناب نے چلان ابھی تک بھرا نہیں نہ ہی مجھے کوئی میسج آیا پولیس والے کا نام
ممتاز تھا اس کے ساتھ ایک جوان اور بھی تھا
Your Traffic Challan PSID:492619031369471895 is generated using ePay Punjab on 23-Jun-2026 for payment of Rs.2000 against vehicle number AQH 167
میری آئی جی پنجاب ڈی پی او ملتان سے درخواست ہے ایسے لوگ محکمے کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں اگر کوئی شک ہو تو خان پلازہ میں کیمرے بھی لگے ہوۓ ہیں وہاں سے بھی چیک کر لیں یہ بندہ پیسے لے رہا ہے اور چلان 2 ہزار کا کیا پیسے 5 ہزار کے لیے چالان بھرا ابھی تک نہیں
ہت دفعہ لکھا کہ نون لیگ کی موجودہ حکومت مکمل عوام دشمن ہے ان سے جو مرضی کروا لیں یہ شوق اقتدار میں کر لیں گے اب نون کی وزیر شزا فاطمہ صاحبہ نے قومی اسمبلی سے قانون منظور کروا لیا کہ کسی کے گھر ذاتی جائداد سے فائبر تاریں گزار سکتے اگر کوئی کھمبا جرنیٹر لگانا تو تیس دن میں گھر خالی کرنا ہو گا اگر نا کیا تو پانچ کروڑ جرمانہ اس فون کمپنی کو دیں گے
یہ آپ سب کے گھروں کا سودا ہے اور قومی اسمبلی کے انگوٹھا چھاپوں نے بغیر پڑھے یہ بل پاس بھی کر دیا تھا
اب کیا اس کام پر نون کی حکومت کی تعریفیں کریں ؟
آپ دل تھام کر سنیں کہ بیکن ہاؤس سکول / یونیورسٹی کو ایک این جی او کے تحت رجسٹر کر کے ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے اس کی فیسیں آپ جانتے اور وہاں صرف الیٹ کلاس جاتی ہے
شفا انٹرنیشل پاکستان کا مہنگا ترین ہسپتال ہے اسے بھی ٹیکس چھوٹ دی جاتی ہے
باقی سو یونٹ والے لائف لائن صارف تک پر چھ سو روپے فکسڈ چارج لگتا ہے
اسطرح غریب کا احساس کیا جاتا ہے
نون لیگ نے اپنے منشور میں بجلی سستی کرنے کا وعدہ کیا دو سو یونٹ تک مفت بجلی کا لکھ کر وعدہ کیا اب اگر چار سال کے دور کے بعد بھی بجلی عوام کے لئے عذاب بنا دی جس نے جیب سے سولر لگوایا اس کی بھی کھال اتارنے کی تیاری کر رہے تو اس پر تنقید ہی ہو گی عوام کو غصہ ہی آئے گا راتب خور درباری الٹا بھی لٹک جائیں کوئی بیانیہ نہی بن سکے گا
یہ ہیں وفاقی وزیرِ محافظِ کپیسٹی پیمنٹس اویس لغاری
ان حضور کے مطابق جو آدمی اپنی چھت پر سورج کی روشنی قید کر کے بجلی کا بل کم کرے، وہ 'بوجھ' بن جاتا ہے، اور جو قوم کی جیب سے اربوں کھینچ کر بند پڑے کارخانوں اور بجلی گھروں کے معاہدے پالے، وہ معیشت کا محسن کہلاتا ہے۔
اصل جرم بجلی بچانا نہیں، ان ہاتھوں سے نکل جانا ہے جو برسوں سے عوام کی جیب کو اپنی جاگیر سمجھتے آئے ہیں۔ اب رعایا نے سورج سے دوستی کر لی ہے تو دربار کو تکلیف ہو رہی ہے۔"
پہلے کہا گرین میٹر والوں کی وجہ سے باقی صارفین کو مہنگی بجلی مل رہی ان پر ٹیکس لگے گا اب کہہ رہے جس نے بھی سولر سسٹم لگایا اور اس وجہ سے اس کا بجلی کا بل کم ہو گیا بھلے گرین میٹر نہی بھی ہے وہ مجرم ہے وہ سسٹم پر بوجھ ہے اب ان پر ٹیکس کی تیاری ہے
جبکہ نجی بجلی گھر مفت بجلی لینے والے بجلی چوری کرنے والوں بارے مکمل خاموش ہیں
سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ حکومت بجلی کے بل پر کوئی سبسڈی دیتی ہے آپ سو پچاس یونٹ والوں کا بل دیکھ لیجئے اس میں کونسی سبسڈی ہے ؟
حکومت بجلی کے بلوں سے بجلی نا بنانے والے الیٹ حکمرانوں کے نجی بجلی گھروں کے خرچے نکالتی ہے ورنہ دنیا میں ستر اسی روپے یونٹ بجلی کہاں بکتی ہے؟
اس وفاقی وزیر کی منطق دیکھیں ۔ یہ کہتا ہے کہ 200 یونٹ سےکم بجلی استعمال کرنیوالے " حقدار " صارفین کو سبسڈی ملتی رہےگی
اب یہ حقدار کا تعین کرنے کیلئے کیو آر کوڈ بھیجے گا ۔ اور جن لوگوں نے مہنگی بجلی سے تنگ آکر سولر لگایا ہوا ہے ۔ اور ان کی بجلی 200 یونٹ سے کم استعمال ہورہی ہے ۔
یہ ان پر بھاری ٹیکس لگا کر مہنگی بجلی بیچے گا کیوں کہ اس ارسطو کے مطابق ایسے لوگ بوجھ ہیں ۔ کیوں کہ انہوں نے سولر لگا کر بجلی کا استعمال کم کردیا ہے
اور اپنی عیاشیوں کیلئے انہوں نے جو آئی پی پیز سے معاہدے کئے ہیں ۔ اس کیلئے ماہانہ اربوں روپے چاہیے ۔ اب اس کے لئے پیسہ ان لوگوں سے ہی نکلوایا جائے گا جنہوں نے دو چار پلیٹیں لگا کر بجلی کے یونٹس کو کم کیا ہے
ورنہ امیروں کیلئے بجلی کا بل اور سولر لگوانا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ کسی امیر آدمی کو بجلی کے بل سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔