نئی جاری کردہ فوٹیج میں جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ "میرے پاس ایک اچھا آئینہ ہے"، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سوچتا ہے کہ وہ خود شیطان ہیں۔ مکمل ویڈیو فائل - جو تقریبا دو گھنٹے تک چلتی ہے - ایپسٹین کو ایک انٹرویو لینے والے کے سوالات کا سامنا کرتے ہوئے دکھاتی ہے۔ اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ کون سوالات پوچھ رہا ہے، یا فوٹیج کب اور کیوں فلمائی گئی۔
ایک حصے میں، ایپسٹین سے اس کی دولت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اور بعد میں ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ "کلاس تھری جنسی شکاری" ہیں یا نہیں۔ ��ہ ویڈیو امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے جمعہ 30 جنوری 2026 کو جاری کی گئی لاکھوں فائلوں کا حصہ ہے۔
یہ ایپسٹن فائلز کے سیاہ صفحات میں سے ایک ہے۔ ایسی بدکاریاں کل دیکھ کر روح کانپ اٹھے۔
ایپسٹین فائلزنے استعماری اور بدسلوکی کے سیاہ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے جس پرعوامی غصہ جائز ہے۔
مجرموں کا تحفظ نہیں ہونا چاہیئے ،سچ سامنے آنا چاہیے۔
#EpsteinFiles
🚨 ایپسٹین کا خفیہ جزیرہ 🏝️
جزیرے کا نام “لِٹل سینٹ جیمز” تھا، جو سائے کی ایک سلطنت بن چکا تھا…
مہمانوں کو اس کے نجی طیارے 🛩️ Lolita Express کے ذریعے لایا جاتا، پھر ہیلی کاپٹر سے اس پوشیدہ جہنم کے عین وسط میں اتارا جاتا۔
وہاں معصوموں کا استحصال کیا جاتا…
سیاستدان، مشہور شخصیات اور کاروباری افراد بدترین جرائم میں ملوث پائے گئے۔ ⚡️👁️🗨️
🕵️♂️ ہر کونا ایک سیاہ راز چھپائے ہوئے ہے… کیا کوئی اسے بے نقاب کرنے کی ہمت کرے گا��
لیڈی گاگا سے لے کر بل گیٹس تک
بہت سے چہروں کے نقاب اترے تو پتہ چلا کہ وہ سب شیطان کے پیروکار تھے
انسان اس کائنات کا سب سے بڑا سنگدل اور بےرحم جانور ھے ۔۔
کمبوڈیا میں چینی بلیک کمپنیوں کے ہاتھوں 12 پاکستانی نوجوانوں کے اغوا کا انتہائی سنگین واقعہ سامنے آیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق نوجوانوں کو بیرونِ ملک روزگار کا جھانسہ دے کر کمبوڈیا بلایا گیا، جہاں پہنچتے ہی ان کے پاسپورٹ، ویزے، شناختی کارڈ، تمام دستاویزات، موبائل فون اور لیپ ٹاپ چھین لیے گئے اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لاہور کا رہائشی طاہر رسول جان بچا کر فرار تو ہو گیا، مگر وہ اس وقت بھی انتہائی خطرے میں ہے اور اغواکار اس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔ طاہر رسول نے ایک زیرِ تعمیر عمارت میں چھپ کر ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں حکومتِ پاکستان اور تمام اداروں سے فوری مدد کی اپیل کی گئی ہے یہ واقعہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے سخت وارننگ ہے کہ کمبوڈیا میں غیر مصدقہ کمپنیوں کے جھانسے میں نہ آئیں، کیونکہ وہاں انسانی اسمگلنگ اور اغوا کے سنگین خطرات موجود ہیں۔ حکومتِ پاکستان سے مطالبہ ��یا جا رہا ہے کہ متاثرہ نوجوانوں کو فوری طور پر بحفاظت وطن واپس لایا جائے۔ اس کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ان کی جان بچ سکے اور خیر وفیت سے اپنے وطن لوٹ سکے