آج ہم اپنے رہبرِ تحریک اسفندیار ولی خان کی 77ویں سالگرہ بڑے فخر اور عقیدت کے ساتھ منا رہے ہیں، جو جرات، ثابت قدمی اور جمہوری جدوجہد کی روشن علامت ہیں۔ اس موقع پر ہم جمہوریت، امن اور پشتونوں سمیت تمام مظلوم اقوام کے وقار اور حقوق کے لیے اُن کی طویل اور لازوال جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ انہیں صحت اور درازیٔ عمر عطا فرمائے اور اُن کا سفر ہمیں اتحاد، ترقی اور خوشحالی کی راہ دکھاتا رہے۔
77ویں سالگرہ مبارک ہو، رہبرِ تحریک!
#HBDAsfandyarWaliKhan
Remembering the 'Frontier Gandhi' Abdul Ghaffar Khan on his death anniversary.
A towering symbol of nonviolence, courage, and sacrifice, he devoted his life to India’s freedom struggle, peace, and social reform through steadfast Gandhian principles.
We pay our tribute to Khan Abdul Ghaffar Khan, popularly known as 'Frontier Gandhi'.
A towering figure in India's freedom struggle, he is widely remembered for his unwavering commitment to nonviolence and Hindu-Muslim unity, which remains a guiding light for all of us.
آج جس طرح سندھ پولیس نے ہمارے ساتھیوں پر تشدد کیا ہماری ماؤں بہنوں کے سروں سے چاردیں کھینچی ان پر تشدد کیا گیا بہت شرمناک عمل ہے۔
کراچی میں ہمارے آگاہی مہم کا سلسلہ جاری ہے کل ہم ملیر شرافی میں 2 بجے کے وقت ریلی نکالینگے کراچی میں موجود تمام بکوچوں سے درخواست کرتے ہیں کہ کل کے احتجاج میں شرکت کرے ریاست اور سندھ پولیس کو یہ پیغام دیں کہ ہم اکھٹے ہیں اور بلوچ نسل کشی اور ریاستی جبر کے سامنے کھڑے ہوں۔
ریاست پاکستان اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے سمی دین سمیت بلوچ خواتین کی چادر پر ہاتھ ڈال کر بلوچ غیرت اور ننگ پر حملہ کیا ہے۔ اس عمل کو نہ ہم فراموش کریں گے اور نہ ہی ریاست کو فراموش کرنے دیں گے۔
سمی دین، لالا وہاب، فوزیہ بلوچ، باجی آمنہ سمیت ہمارے دیگر دوستوں کی گرفتاری اور ان پر تشدد ریاست پاکستان کی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پرامن مزاحمتی تحریک کے سامنے شکست کا واضح اعلان ہے۔ ریاست مکمل طور پر بوکھلاہٹ اور حواس باختگی کا شکار ہو چکی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی بہت جلد اس جابرانہ نظام کے خلاف اپنے آئندہ لائحۂ عمل کا اعلان کرے گی۔
#StopBalochGenocide
#BalochGenocideRemembranceDay
امن عدل وانصاف کیلئےآوازبلندکرنےکی پاداش میں ریاستی جبروظلم کےشکارماورائےآئین وقانون قید@Aliwazirna50 سےملاقات
مضبوط وپختہ ارادوں کےمالک علی وزیرکی بلندیوں کےانتہاکوپہنچےحوصلےیقیناًتاریخ میں پشتون بلوچ و دیگراقوام کی قومی تحریکوں میں شامل سیاسی و مزاحمتی ورکرزکیلئے مشعل راہ ہوگی
چیئرمین صاحب جمہوریت پسندی کا دعویٰ اپنی جگہ مگر آپ لوگوں کے اتحاد سے بنی وفاق نے پختونوں کے ایک بڑی تحریک پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیکر اس پر آج تک پابندی لگائی ہے۔
یہ کیسی جمہوریت پسندی ہے کہ آپ لوگوں کی بلوچستان حکومت کے ماتحت علی وزیر کو حب چوکی میں پی ٹی ایم کی کارنر میٹینگ پر ہونے والے ایک ایسی ایف ائی ار میں قید کیا ہے کہ اس کارنر میٹنگ کے انعقاد کے وقت علی وزیر کراچی جیل میں قید و بند کی زندگی گزار رہے تھے۔
آپ کی پولیس نے ایسی ایف ائی ار میں جسمانی ریمانڈ بھی مانگی اور انصاف کے ترازو کے نیچے بیٹھے جج نے جسمانی ریمانڈ پر دے بھی دیا۔
#پنجاب_اسلام_آباد والوتم پھربھی خوش قسمت ہو
کہ ریاست تمام تربےحیائی،بےشرمی،ڈھٹائی کےبعدجوبھی ڈرامہ رچاتاہےرہاتوکرتےہیں
جبکہ #بلوچ_پشتون کوتواٹھانےکےبعدہمیشہ کیلئےمسنگ کرتےہیں
ججز،وکلا،پارلیمنٹیرین،سیاسی ورکرز،خواتین سمیت کوئی مکتبہ فکران کی ننگی ٹارچر سے محفوظ نہیں رہاہیں
غم سے نڈھال، مگر با حوصلہ بلوچ ماؤں کی مثالی جدوجہد ہماری قومی مزاحمت کا مضبوط حصہ ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قیادت میں جبری گمشدگی کے خلاف تحریک کے ساتویں دن شال میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی ، کل نوشکی میں احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جائے گا ، بلوچ قوم ریاستی مظالم کے خلاف مستقل مزاجی سے قومی تحریک کا حصہ بنیں۔
#EndEnforcedDisappearences
#StopBalochGenocide
ابھی پشاور ہسپتالوں کے مخصوص زمہ داروں کو سرکاری طور پر پیغام ملا ہے جس میں واضح لکھا ہے کہ آج رات ہسپتال میں ایمرجنسی حالات نافذ کرے کیونکہ آج خیبر جرگہ گراونڈ پر پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کے مشترکہ کریک ڈاؤن میں جانی نقصانیں ہوسکتے ہیں۔
وفاقی حکومت کی طرف سے تو مکمل اعلان جنگ ہے مگر ہم صوبائی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ فلحال یہ بحث چھوڑ دے کہ حکم وفاق نے دیا ہے بس اپنی طرف سے اس عمل کو روکنے کی بھرپور کوشش کرے۔
تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین سے امید کرتے ہیں کہ آج رات گراونڈ میں پرامن پشتونوں کی قتل عام سے پہلے اس عمل کی روک تھام کے لئے کوشش کرے۔
وفاقی حکومت کے وزراء بلخصوص وزیر دفاع اور وزیر اطلاعات نے پی ٹی ایم کے خلاف جو جھوٹے، من گھڑت اور بے ہودہ الزامات لگائے ہیں اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
۱. پی ٹی ایم پر بیرونی فنڈینگ کا الزام۔
الزام۔سات سالوں سے مقتدر حلقہ پی ٹی ایم پر بیرونی ممالک کی طرف سے فنڈینگ کا الزام لگاتی چلی آرہی ہے مگر آج تک ان لوگوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے اور ہمیشہ اپنے ہی جھوٹ لے کر کچھ عرصہ کے لئے خاموش ہوجاتے اور پھر دوبار حسب ضرورت شروع جاتے ہیں۔
حقیقت۔پی ٹی ایم نے آج تک دنیا کے کسی بھی حکومت یا ادارے سے کوئی فنڈینگ نہیں لی ہے اور نہ ایسا کوئی کوشش کیا ہے بلکہ اپنے پشتون عوام کے چندوں سے اپنے پرامن تحریک کو آگے لے کے جارہے ہیں۔ ہمارے ساتھ ثبوت ہے کہ پشتون سرزمین پر پراکسی جنگوں کو گرم رکھنے کے لئے ریاست نے اربوں ڈالر بیرونی ممالک سے لئے ہیں اور اس جنگ کے نتیجے میں پشتون وطن مکمل طور پر تباہ برباد ہوچکا ہے۔
۲۔ملک دشمن بیانیہ
الزام۔ پی ٹی ایم پاکستان پر پشتون بیلٹ میں دھشتگردی اور تباہی برپا کرنے کا دعوی کر رہی ہے۔
حقیقت۔
خود ہی پاکستان کے ملٹری افیشلز کے ویڈیوں بیانات، کتابی تحریریں اور ثبوت موجود ہے جسمیں انہوں نے ثبوت پیش کئے ہیں کہ دہشتگرد تنظیم اور دھشتگردوں کو پاکستانی اداروں نے خود بنائے ہیں۔ اور ہم آج بھی چیلنج دے کر ثبوت کیساتھ دعوی کرتے ہیں کہ کافی سارے دھشتگرد، ٹارگٹ کیلر اور پولیس و عوام کے قاتل فوجی قلعوں میں رہ رہے ہیں۔
مگر پھر بھی اگر آپ لوگوں کو اپنا دعوی سچا نظر آرہا ہے تو ائیں جس بھی فورم پر ثبوت اور دلائل کے لئے تم تیار ہو مجھے وقت اور جگہ بتاؤ وہاں پر تم سب حاظر ہوجاو اور میں پشتون قوم کی طرف سے اکیلا آونگا، دونوں طرف سے ثبوت اور گواہ پیش کرتے ہیں اگر مجھے جھوٹا ثابت کیا تو قانون سے بالاتر بھی جو سزا دینا چاہو میں حاضر ہوں۔
الزام۳۔ واللہ اتنا فضول الزام ہے کہ بندا اس پر بات نہیں کر سکتا ہے وہ یہ الزام ہے کہ پی ٹی ایم کا ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی کیساتھ رابطے۔
حقیقت۔
پی ٹی ایم کا مزکورہ تنظیموں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے جبکہ خود پاکستانی ریاست کا ان سے رابطے بھی ہے ان سے مزاکرات، ان کے قیدیوں کو واپس دلانا اور ٹی ٹی اے کو اسلام آباد میں مکمل سفارتخانہ دیا ہے، انکے ساتھ موجودہ حکومت کے بہترین تعلق ہے اور اس سفارتخانے میں پی ٹی ایم کے علاوہ باقی سارے سیاسی پارٹیوں کے لوگ جاکر ان سے ملتے رہتے ہیں۔صرف پی ٹی ایم ایک ایسی تنظیم ہے جس نے ان تنظیموں کے ساتھ ریاستی قربتوں پر ہمیشہ احتجاج کیا ہے کہ یہ قربتیں نہ رکی جائے۔
الزام۴۔ ایمبسی پر حملے۔
حقیقت۔
پی ٹی ایم نے آج تک پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے ایمبسی پر حملہ نہیں کیا ہے چند مہینے پہلے جرمنی میں پی ٹی ایم کی طرف سے نہیں بلکہ ایک عام احتجاج کے دوران پاکستانی کونسلیٹ کے ساتھ ہونے والے ایک ناخوشگوار واقعے کی مخالفت سب سے پہلے ہم نے کی ہے اور ہم نے واقعہ کرنے والوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جسکے تحریری ثبوت موجود ہے جبکہ الزام لگانے والے وزیر اطلاعات کی طرف سے ایسی کوئی مزمت آج تک دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔
الزام۵۔ پی ٹی آئی کے ساتھ تعلق۔
حقیقت۔ پی ٹی آئی اس ملک میں ایک سیاسی جماعت ہے جسکی خیبرپختونخوا میں حکومت ہے اور واقعی ان کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے اور جرگے کی دعوت دی ہے مگر کیا تمہارے نقوی سمیت تمہارے پشاور کورکمانڈر نے ان کے صوبائی عہدیداروں سے ملاقات نہیں کی ہے ؟ تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماء ان سے ملتے رہتے ہیں وہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں بیٹھتے ہیں تو ان کے ساتھ ملنا اور جرگے کا دعوت دینا کونسی غلط بات ہوئی ہے۔
الزام ۶۔ ملک میں ترقی کا دور شروع ہوا ہے تو اس وقت پی ٹی ایم کو خاموش رہنا چاہیئے۔
حقیقت۔
نون لیگی حکومت اگر پنجاب کو ملک شمار کرتے ہیں تو ان کا دعوی سہی ہے مگر پختون بیلٹ میں ترقی کا دور نہیں بلکہ دھماکو، حملوں، ٹارگٹ کیلنگ، استحصال، کریک ڈاونز، اور یہاں تک کے جانوروں کو زندہ جلانے کا دور شروع ہے۔
۷۔ پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دینے کا عمل۔
ملکی مقتدر حلقہ پختونوں کے خون اور معدنیات پر عمر بھر کے لئے ڈالر کمانے چاہتے ہیں اور وہ گیار اکتوبر جرگے میں اس کاروبار کی بندش کی کرن دیکھتے ہیں تو اس لئے جرگے کے منتظم پی ٹی ایم پر بین لگا دئے تاکہ جرگہ نہ ہوسکے اور وہ اپنا کاروبار جاری رکھ سکے۔
ایسے حال میں جب پختون اپنے امن اور وسائل کے لئے جرگے کا انقعاد کر رہے تھے تاکہ اپنی برباد وطن اور زندگی کو تھوڑا آرام مل سکے اسی وقت وفاقی حکومت کے اس ظلم جبر اور انتہائی جھوٹے پروپیگنڈے اور جرگے کے منتظم پی ٹی ایم پر بین لگانے کے عمل کو پختون قوم یاد رکھینگے۔
تم پی ٹی ایم پر پابندی لگا سکتا ہے لیکن مزید پختونوں کے خون پر ڈالر کمانا اور انکے معدنیاتی وسائیل کی لوٹ مار ہم کرنے نہیں دینگے۔
ہروہ شخص گروہ جو@ANPMarkazکیخلاف #PashtunNationalCourt11October میں پارٹی فیصلہ آنےسےپہلےہی شرکت نہ کرنےکوبطورپروپیگنڈااستعمال کررہےتھے
کیاآج وہ پارٹی اورصدر@AimalWaliکےبھرپورطریقےسےقامی عدالت میں شرکت کےاعلان کےبعداپنےکئےگئےپروپیگنڈےپراخلاقی جُرات کامظاہرہ کرتےہوئےمعافی مانگےگے؟
پشتون تحفظ مومنٹ پر پابندی لگانے کا نوٹیفکشن ایک تاریخی اور سنگین غلطی ہے جس کے اثرات بہت جلد نظر آئیں گے
سیاسی و جمہوری آوازوں کو جب دبایا جاتا ہے تو انکی جگہ پرتشدد طریقے لے لیتے ہیں، تنظیموں اور جماعتوں پر پابندی لگایا جاسکتا ہے مگر اسکے بدلے عام لوگوں کے زہنوں میں پیدا ہونے والی نفرت کو انکی سوچ کو کیسے پابندی لگا سکتے ہو ؟ پشتون تحفظ موومنٹ کو انکی عوامی حمایت کو اس پابندی پر کوئی اثر نہیں پڑئے گا بلکہ پشتون نوجوانوں کے دلوں میں نفرت کی آگ مزید بلند ہوگی ۔
سیاسی پرامن تحریکوں پر پابندی سے انکے نظریات پر پابندی نہیں لگتی، حکومت پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکشن واپس لے اور پرامن آواز کو ایسے حربوں سے خاموش کرنے کی روش ختم کی جائے۔
#PashtunNationalCpurt11October
The decision to declare the Pashtun Tahafuz Movement (PTM) a banned organization represents a severe encroachment on democratic principles and an alarming escalation of state authoritarianism.
This action is indicative of the ongoing trend by the state of Pakistan to suppress peaceful political movements and dissenting voices through repressive measures. PTM, a peaceful political organization advocating for the fundamental human rights of the Pashtun community, has faced relentless state opposition. Despite state oppression, the movement has remained steadfast in its commitment to peaceful activism.
The decision to outlaw PTM is a concerning step that undermines the values of political pluralism and human rights. In response, all political and human rights organizations must unite in solidarity with PTM and work collectively to challenge this unjust and repressive decision.