میں خدا کی ایک تخلیق ہوں اور میری ملّت مسلم کی ہے۔ جب خود کو کسی اور تخلیق کے ماتحت پاتا ہوں تو خودکو اسیر پاتا ہوں ۔ جب اپنی ہی ملت کو زمین کو درجہ یزداں دیتے پاتا ہوں تو خودکو اسیر پاتا ہوں۔ جب خود کو تصدیقِ حق سے قاصر پاتا ہوں تو خودکو اسیر پاتا ہوں ۔
Two optimisms: That of Muhammad (a) on the day of the treaty of Hudaibiyah, and that of Abu Jahal on the eve of Badr’s battle.
One rooted in Tawwakul, the other rooted in vanity.