🧵 خضدار واقعہ: ایک لڑکی کی اغوا، دھمکیوں اور اس کے والد کا قتل ایک ۔تفصیلی تھریڈ
گزشتہ سال خضدار سے ایک لڑکی کے اغوا کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے شاہراہ بلاک کی اور دھرنا دیا، جس کے بعد انتظامیہ دباو میں آگیا ڈرامی انداز میں لڑکی کی بازیابی عمل میں آئی۔
If you had to nominate someone for the #NobelPeacePrize, who truly deserves it? Donald Trump, whose foreign policy is associated with military conflict, or a frontline human rights advocate like Dr Mahrang Baloch?
@PEN_Norway@BBCWorld@GlblCtzn@NobelPrize
🚨 A Palestinian mom was shot point blank in her head by IDF soldiers while she was carrying her child.
Retweet and expose Israel if you have a little Humanity left in you.
افسوسناک خبر: خود کو گولی مارنے والے اسلام آباد پولیس کے ایس پی عدیل اکبر جانبر نہ ہو سکے، کیا مسائل، کیا پریشانی ہو گی جو اس نوجوان افسر ن�� اپنی جان ہی لے لی۔۔!!
Hostels are not luxuries—they are necessities for BMC students.
Education without access, space, or peace of mind is impossible.
Fix this failure now!
#ReOpenBMC#SaveBMC#RestoreBMCHostels
گزشتہ رات سے لانگ مارچ کے شرکاء پر مسلسل شیلنگ اور فائرنگ کی جا رہی ہے۔ ان کی موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں چھین لی گئی ہیں، اور کچھ کو جلا دیا گیا ہے۔ لانگ مارچ اس وقت بھی لکپاس پر رکا ہوا ہے۔
اگر یہ نااہل حکومت صرف ہمیں پرامن طریقے سے کوئٹہ میں داخل ہونے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کی اجازت دے دیتی — جیسا کہ ہم نے پہلے دن سے واضح کیا ہے — تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ ہم نے بارہا اپنے کارکنان اور عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی، اور اب بھی کرتے ہیں۔ مگر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ چند لاکھ نہتے عوام سے خوفزدہ ہے۔
وہ لوگ جو جمہوریت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، آج کے دن پر ضرور غور کریں۔ آج انہوں نے بلوچ اور پشتون اقوام کو جو پیغام دیا ہے، وہ بہت واضح ہے: پاکستان کی مرکزی سیاست میں نہ انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ ہے، نہ سیاسی ج��اعتوں کے لیے، اور نہ ہی پرامن احتجاج کرنے والوں کے لیے۔
ریاست نے نوجوانوں کو ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ پرامن طریقوں کو چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کریں۔ ہمیں نہ اپنی ماؤں اور بہنوں کے لیے آواز اٹھانے کی اجازت ہے، نہ لاپتہ افراد کے لیے احتجاج کی اجازت ہے، نہ ان کی لاشیں ملنے پر سوال اٹھانے کی اجازت ہے۔
اور ہم اسے جمہوریت کہتے ہیں؟
جناب زرداری اور شریف صاحب، میں کبھی نہیں بھولوں گا جب مریم نواز اور فریال ترلپر کو سرِ عام رسوا کیا گیا، تب ہم آپ کے ساتھ کھڑے تھے۔ کیونکہ ہمارے لیے عزت سب سے پہلے ہے، اور عورتوں پر حملہ ہماری آخری حد ہے۔ ہم نے ہمیشہ عورت کی عزت پر سیاست سے بالاتر ہو کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ لیکن آج میری بیٹیاں سڑکوں پر دوپٹے کے بغیر گھسیٹی جا رہی ہیں، اور آپ نہ کہ خاموش بنے بیٹھے ہیں بلکہ اس گناہ میں برابر شریک ہیں۔ میں یہ کبھی نہیں بھولوں گا — یہ ایک بلوچ کا وعدہ ہے
ایک کھلا خط… ہر اس شخص کے نام جو ہمیں سمجھنے کا دعویٰ کرتا ہے
مزاحیہ بات ہے کہ آپ میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان صرف گوادر تک محدود ہے۔ گوادر کو نکال بھی دیں، تب بھی بلوچستان برصغیر کا سب سے زیادہ وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ مگر افسوس، ریاستی بیانیے نے آپ کو اس سچ سے دور رکھا ہے۔
اب ذرا حقیقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں۔
بلوچستان وہ خطہ ہے جہاں ریکوڈک کی زمینوں میں سونا اور تانبا دفن ہے، جن کی مالیت کھربوں ڈالرز میں ہے۔ اگر یہ وسائل بلوچ عوام کے ہاتھ میں ہوتے تو شاید آج وہ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے۔ پھر سینڈک ہے، جہاں کے خزانے نکالے جا رہے ہیں، مگر ان کے وارث آج بھی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔
یہ وہ سرزمین ہے جس نے پاکستان کو قدرتی گیس دی، جس سے پورے ملک کے چولہے جلتے ہیں، فیکٹریاں چلتی ہیں، معیشت پروان چڑھتی ہے—مگر اسی بلوچستان کے کئی گھر آج بھی اندھیروں میں ڈوبے ہیں، چولہے ٹھنڈے ہیں، بچے سردیوں میں ٹھٹھر کر مر جاتے ہیں۔
یہ وہ خطہ ہے جس نے پاکستان کو سمندر دیا، گوادر دیا جس پر آج سب کی نظریں ہیں، اقتصادی راہداری دی جس سے پورے ملک کے تاجروں کو فائدہ پہنچا، مگر یہی گوادر جہاں کے ماہی گیر آج بھی مچھلیاں پکڑنے کے لیے اجازت نامے مانگتے ہیں، روزی روٹی کے لیے ترستے ہیں۔
بلوچستان نے سب کچھ دیا، مگر خود ہمیشہ بھوک، محرومی، اور لاپتہ افراد کے نوحے سنے۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ جس زمین نے سب کچھ دیا، اس کے لوگ آج بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں؟ جس زمین نے پاکستان کو شناخت دی، آج اسی کے فرزندوں کی قبریں بے نام ہیں؟
یہ وہی بلوچستان ہے جہاں ایک بیٹی اپنے باپ کے جوتے ڈھونڈتی ہے، اور جب ان میں سے دھول نکلتی ہے، تو وہ ایسی چیخ مارتی ہے کہ پورا بلوچستان اس کے ساتھ چیخ اٹھتا ہے۔ کیونکہ یہاں کوئی ایک گھر نہیں بچا جس کا کوئی فرد لاپتہ نہ ہو، میرا اپنا گھر بھی نہیں!
چلو، وہ سب تو “ایجنٹ” ہیں، مگر میرا والد؟ وہ جو بلوچستان کا پہلا وزیرِاعلیٰ تھا؟ وہ جس نے آپ کے آئین پر حلف اٹھایا، جمہوریت پر یقین رکھا، ہر غیر آئینی طاقت سے لڑا؟ وہ جو مینگل قبیلے کا سردار تھا؟ اس کا بیٹا بھی لاپتہ ہو گیا! پھر بھی بلوچستان ہی غلط؟
اور جب انصاف مانگنے آتے ہیں تو کیا ملتا ہے؟ ہمدردی؟ پچھتاوا؟ نہیں! سوال پوچھا جاتا ہے: “کیا آپ خود کو پاکستانی سمجھتے ہیں؟”
اور ہاں، بہت معذرت کے ساتھ، یہاں برابری صرف اس وقت آتی ہے جب کسی پنجابی کے خون پر مذمت کرنی ہو، ورنہ بلوچ کی چیخوں پر یقین تک نہیں آتا کہ یہ اسی ملک کے شہری ہیں۔
دوری خود پیدا کر کے پوچھتے ہو، “کیوں رو رہے ہو؟”
یہ ملک ہمیشہ ہماری چیخوں پر بہرا بنا رہا، ہمیشہ ہمیں نظر انداز کیا، ہمیشہ ہمیں غدار کہا، اور اب وہی کہہ رہا ہے: “ہمیں تمہاری ضرورت ہے!”
آپ خوش ہوں یا ناراض، مجھے یہ کہنا پڑے گا: پاکستان، بلوچستان کے بغیر کچھ بھی نہیں۔
اللہ آپ سب کے دل میں اتنی ہمدردی ڈالے کہ آپ سمجھ سکیں کہ آج کا بلوچ نوجوان آپ سے بات کرنے کے لیے تیار کیوں نہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ آپ کی وہ “انا پرستی” ہے جو آج بھی اسے اپنا مقام دینے کو تیار نہیں۔
A record 338 individuals and organizations have been nominated for the prestigious Nobel Peace Prize.
Dr Mahrang Baloch a human rights activist in Balochsitan also nominated for World Nobel prize for peace.
@MahrangBaloch_@WIONews