انہوں نے قاسم کے نام کے ساتھ گولڈ سمتھ لکھا ہے، قاسم اور سلیمان کا باپ دنیا کا ایک برانڈ ہے انہیں نانا کے نام کی ضرورت نہیں۔
نانا کا نام وہ لوگ لگاتے ہیں جن کو اپنے باپ کے نام پہ یقین نا ہو
نورین خان چھا گئی
@OryaMaqboolJan او ایم جان صاحب لعنت بھیجنا بھی تو جائز نہیں ہے۔۔۔ مسلط شدہ لوگ کاروباری ہیں وہ تو بس کاروبار کر رہے ہیں اپنا اپنا۔ سیاست تو انکا پیشہ ہی نہیں ہے۔۔ سیاست تو ان سے زبردستی کروائی جارہی ہے۔
ساری زندگی اللہ سے کبھی شکوہ اور شکایت نہ کرنا۔۔۔ آپ لوگوں نے وہ مشکلیں اور پریشانیاں دیکھی ہی نہیں ہیں جو اس امت کا بہترین حصہ آج کاٹ رہا ہے۔۔ اور صبر کر رہا ہے شکر کر رہا ہے۔
پاکستانیوں مدد کی اپیل
ٹویٹر نے آخری وارننگ بھیجی ہے اندرونی غداروں کا کچھ ٹولہ میرے اکاؤنٹ کے پیچھے لگے ہیں
کمنٹ، ری ٹویٹ کرتے جائیں تاکہ اکاؤنٹ بچ سکے.
جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ محسن نقوی نے جس طرح پنجاب میں ظلم اور دہشت کردی برپا کی اسے وفاق میں وزیر داخلہ لگایا جائے تو وہ پورے ملک میں ایسا کرے گا ، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ اس میں محسن نقوی کا کوئی کمال نہیں ، یہ پنجاب کی بیغرت اور بےشرم پولیس کی غلاظت ہے جسے انگریز نے 1850 سے عوام پر دہشت پھیلانے اور اپنے بھائی بہنوں پر تشدد کرنے کے تیار کیا ہے ۔ آپ اس پولیس کو بلوچستان اور سرحد میں لگا کر دیکھیں آپ کو دن میں تارے نظر آجائیں گے
یہ تو آغاز ہے ، اس قوم نے آٹھ فروری کو جس اجتماعی شعور کا ثبوت دیا ہے ، جس نے اس عظیم استاد کو میڈیاکے روبرو یہ جرآت بخشی ۔ یہ ہے وہ استاد جو پاکستان کے سب سے بڑے اعزاز کی مستحق ہے ۔ اب وہ وقت دور نہیں جب لوگ ایسے فرعون صفت حکمرانوں کا گریبان گلی کوچوں میں پکڑیں گے
عالیہ حمزہ کا عمران ریاض کو خراج تحسین
عمران بھائی آپ نے گھبرانا نہیں ہے اگر ہم خواتین اس ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہیں
تو آپ نے بھی ڈٹ جانا ہے ہم آپکے ساتھ ہیں
بہادر لیڈی 🔥
اڈیالہ جیل کے اطراف سے دھشت گردوں کا پکڑا جانا ، سمیت خطرناک ہتھیاروں اور جیل کے نقشہ جات سے صاف واضح ہے کہ نقلی حکوُمت کیا ٹوپی ڈرامہ سوچ رہی ہے۔
لیکن عوام کی آواز بھی کان کھول کر سُن لیں۔ جس نے ووٹ دیا ہے ، وہ جان بھی دے گے اپنے 🇵🇰 کے سچے بیٹے @ImranKhanPTI عمران خان کے لیۓ۔
عمران خان عالمِ اسلام کا لیڈر ہے۔ اگر اس کے ایک بال کو بھی ہاتھ لگایا تو پھر بُھولنا مت، یہ گوالمنڈی اور لیاری کے گیدڑ قوم نہیں, بلکہ نبی پاک علیہ سلام(ص) کی قوم ہے جس نے محض 313 لوگوں کے ساتھ کفار مکہ کو اللہ کی مدد سے جہنم رسید کیا تھا۔#عمران_خان_کی_جان_کو_خطرہ #عمران_تیرے_جانثار_بے_شُمار_بے_شُمار
مجھے خوشی ہوئی ISPR نے کہا ہم دھاندلی میں ملوث نہیں ہیں ، لیکن وہ کرنل اور میجر صاحبان کون تھے جو رات کے دو دو بجے آر او آفسں میں آ جا رہا تھے ؟ ہماری آرمی نے تے ان لوگوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے لیکن ان پہ تحقیق ہونی چاہئے یہ لوگ کون تھے جو آرمی کی یونیفارم استعمال کرکے ہماری آرمی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے تھے
قاضی انور 🔥
عالمی یوم خواتین کے موقع پر میں اپنی والدہ بی بی قیصرہ الہی، اپنی خالہ بی بی ثمیرا الہی اور محترمہ ریحانہ ڈار کو ان کی فولادی ہمت و جرات اور اسیران جمہوریت محترمہ ڈاکٹر یاسمین راشد، محترمہ عالیہ حمزہ، محترمہ صنم جاوید، محترمہ طیبہ راجا، محترمہ خدیجہ شاہ جیسی تمام بہادر پاکستانی خواتین کو ان کی بے مثال استقامت پر سلام پیش کرتا ہوں۔
#InternationalWomenDay
افسوسناک،دردناک،،،
اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینی بچوں کا ہولوکاسٹ جاری ہے،عالم اسلام کے حکمران اور عالمی برادری مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
اسرائیل کا غزہ میں اسکول کی عمارت پر میزائل حملہ ۔ پناہ گزین بچوں کی بڑی تعداد اسکول میں مقیم تھی ۔ متعدد بچے شہید اور زخمی ہوگئےہیں،
۲۰۱۳ کے انتخابات کے وقت جب ٹکٹس کے فیصلے ہورہے تھے تو اُس وقت کے پارٹی کے کرتا دھرتاؤں نے میرے ٹکٹ کی بھرپور مخالفت کی۔ “نوجوان ہے، سیاسی بیک گراؤنڈ نہیں ہے، نا اپنا کوئی ووٹ ہے نا خاندان کا”۔ صرف ایک شخص تھا جس کو یقین تھا کہ پاکستان بدل چکا ہے اور اِس تبدیلی کا “پوسٹر بوائے” بننا میرے حصے میں لکھا گیا۔ کافی بڑے گھروں میں خطرے کی گھنٹیاں بجیں۔ ان کی نسلوں کے مستقبل کا سوال تھا۔ الزامات کی بوچھاڑ، جعلی ڈگری سے لیکر غلیظ ذاتی حملے ہوئے۔
اگلی حکومت میں عمران خان نے پھر اسی ذی شعور اعلی قیادت کے مخالف جاکر سب سے بڑے بجٹ والی وزارت سونپ دی۔ بڑی بڑی کرسیوں پر لوگ تلملائے۔ اللہ کا کرم تھا اُس نے مجھے عمران خان کا اعتماد قائم رکھنے کی توفیق دی۔ دہشت گردی کی واپسی پر میرا سٹینڈ اور ۹ مئی کے بہانے تو بعد میں ہاتھ آئے کہ جن کے ذریعے مجھے انتخابات سے مائنس کرنے کا جواز ڈھونڈا۔ “ڈی چوک پر پھانسی” کی دھمکی تو باجوہ صاحب نے مجھے مارچ ۲۰۲۲ میں ہی پہنچا دی تھی۔ اور یہ ضروری بھی تھا، میرا نشانِ عبرت بننا ضروری تھا۔مگر مس کیلکولیشن ہوگئی۔ ہم سمجھاتے رہ گئے مگر اپنے گھمنڈ میں سمجھ نہیں پائے۔۔وہ بات جو عمران خان جانتا تھا، جو یہ سمجھ نہیں پائے کہ میں تبدیلی کا پوسٹر بوائے ضرور تھا فقط میں ہی تبدیلی نہیں تھا!
عمران خان نے ہزاروں کی پود اپنے ہاتھوں لگائی تھی۔ اور اُن ہزاروں کے بعد لاکھوں تیار ہیں۔ میں نہیں لڑا۔ میرے ایک یونین کونسل کا ورکر اِن خدائی کے دعویداروں کے حمایت یافتہ امیدوار سے تاریخی لیڈ لے گیا۔
جن خاندانوں کو اتنے سال گھاک سیاست دان نہیں ہرا سکے آج اُس بلور خاندان سے جیت کر یوتھ ونگ کا صدر مینا خان آفریدی حلف لے رہا ہے۔ جس فاٹا کی نشستوں پر ایک خاندان سے دوسرے خاندان کی باریاں لگتی تھیں اُس کے نمائندگی میرے بازو سہیل آفریدی کے پاس ہے۔ وہ جس کو پختونخواہ میں عمران خان کی سیاست کو دفن کرنے کا دعوی تھا، اُس کی رعونت پر آخری فاتحہ پڑھنے والا شاہ احد میرے آئ ایس ایف کا نوجوان ہے۔ پختونخواہ میں مسلم لیگ کے آخری قلعہ ہزارہ پر یوتھ ونگ کے اکرام خان غازی نے انصاف کا پرچم لہرایا، شیر علی آفریدی، شاہد خٹک، اب کتنوں پر کاٹا لگانا ہے؟
مجھے انتخابات سے باہر کر دیا اور میدان سے بھی ہٹنے پر مجبور کردیا لیکن شور کم ہوا کیا؟ مجھ سے اونچا بول رہا ہے صدام ترین، پارلیمان میں جگہ بناتے تو شاید اُسے سال لگ جاتے مگر اُس کا حق چھین کر آپ نے اُس کی آواز دنوں میں گھر گھر پہنچا دی۔ قاسم خان سوری نہیں ہے، تو سالار کاکڑ ہے آپ نے اُس کا مینڈیٹ جس کو بھی دیا عوام کے لیے تو وہی نمائندہ ہے جس کو انہوں نے ووٹ دیا۔ عالمگیر محسود اور ارسلان گھمن کو قیادت سے دور رکھا تھا، اپنے ہاتھوں ان کا راستہ صاف کردیا۔ آج ان کی سیٹیں لے کر اوروں کی جھولی میں ڈال بھی دیں تو کون سی کسی نے عزت سمیٹ لی اور کون سی ہار انہوں نے تسلیم کرلی؟
اور یہ تو وہ نام ہیں جو ہم سُن رہے ہیں۔ دو سال سے پارٹی کو کون زندہ رکھے ہے؟ عمران خان تو چھ مہینے سے جیل میں ہے، مجھ سے فسادی بھی منظر سے غائب ہوگئے۔ جن پہ تکیہ تھا وہ بڑے بڑے نام توڑ دیے؟ “لیڈر” لیڈر نہیں رہے۔ کوئ ہرس و حوس میں لُڑک گیا۔ کوئی جبر کے سامنے ہار گیا۔ کسی نے گھر بار کی عزت بچائی تو کوئی آل اولاد کے نام پر ٹوٹ گیا۔ ایک سہارہ تھا انتخابی نشان کہ کھمبے کو بھی ملا تو لوگ سر آنکھوں پر بٹھائیں گے وہ بھی لے لیا۔ پھر کون تھا کہ جس نے گاجر، مولی، گائے، بھینس، چمٹے، پیالے گھر گھر پہنچائے؟ پاکستان کی عوام، بچے بچے کو ازبر تھا کہ عمران خان کا نشان کون سا ہے! فقط جوان نہیں۔۔ ۸-۱۰ سال کے بچوں کو بھی علم ہے کہ عمران خان کیا ہے!
ایک مراد سعید خاموش ہوا تو اتنی زبانیں کھل گئیں۔ اتنی زبانیں کھینچوگے تو کتنے سر گویا ہونگے کوئی اندازہ ہے؟
آج سے دس سال پہلے ایک بڑے صحافی کا فون آیا تھا، دُکھی تھا، ایک بہت بڑے سیاست دان نے کہا تھا “دیکھو! یہ کیسے لوگوں کو لے آیا ہے عمران خان پارلیمان۔ اب یہ بیٹھیں گے ہمارے برابر؟”۔ آج اور بھی تلملا رہا ہے، عمران خان نے اُس کے ولی عہد کی تاج پوشی کے امکانات خاک کردیے۔ بہت سوں کے قدموں تلے سے زمین سرکی ہے ابھی جبر کے ہاتھوں سے تھامے ہیں تو نہیں لگ رہا، جب ہاتھ تھک جائیں گے (جو کہ تھکیں گے کیونکہ انہیں بڑا بھی خدائی کا دعوی ہو، ہے یہ انسان ہی) تو گمنامی کے اندھیروں میں گُم ہونے کی خواہشوں کو زباں ملے گی۔ تب تک جمے رہنا ہے۔ منزل پر نظر رکھنی ہے۔ اپنا حق واپس لینا ہے۔ برابر نہیں برتر ہو تم۔ مالک ہو تم۔