"ون یونٹ کی خفیہ دستاویز میں چودھری محمد علی نے لکھا : پنجاب؛ سرحد کی بجلی، بلوچستان کے کوئلے و گیس اور سندھ کے وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے پاکستان پر حکمرانی پنجاب کی ہونی چاہیے ـ
اگر آپ نے یہ خفیہ دستاویز نہیں پڑھی تو مجھے بتا دیں میں اس کی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی آپ کو بھیج دوں گا ـ پاکستان ٹوٹنے کے باوجود پنجابیوں کی یہ ذہنیت آج بھی برقرار ہے اور وہ ابھی بھی پاکستان کے مامے بننے کی کوشش کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے"
ولی خان کا حنیف رامے کے نام کھلا خط
جولائی 1987 ـ روزنامہ جنگ لاہور۔
میں آج بھی اپنے اس موقف پر قائم ہوں کہ گورنر راج یا ایمرجنسی مسائل کا حل نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ 2013ء میں 1200 شہداء کا بوجھ اٹھانے کے باوجود ہمیں انتخابات میں ہرایا گیا۔ ہمارے خلاف پراپیگنڈا کیا گیا کہ ہم کرپٹ ہیں۔ پھر ان کا احتساب کمیشن کہاں گیا؟ اس نے ہمیں پکڑا کیوں نہیں؟ اُس وقت تو عمران خان اور فوج ایک ہی پیج پر تھے۔ پھر 2018ء میں آر ٹی ایس بٹھا کر ہمیں ہرایا گیا۔ میں آج بھی وہ حلقے دکھا سکتا ہوں جہاں ہمیں ہرا کر پی ٹی آئی کو کامیاب کرایا گیا۔ اس کے بعد 2024ء میں ایسا ماحول بنایا گیا کہ جیسے صرف پختونخوا ہی پی ٹی آئی کا ہوم گراؤنڈ ہے، جبکہ باقی پاکستان میں اسے شکست ہوئی۔ ہمارا مینڈیٹ ایک بار پھر چوری کیا گیا اور پختونخوا میں پی ٹی آئی کی مقبولیت کا ایک جعلی بھوت کھڑا کیا گیا۔
آج بھی اگر ہم گورنر راج یا ایمرجنسی کی مخالفت کر رہے ہیں تو اس کی بنیاد اصولی ہے، کیونکہ یہ اقدامات غیر جمہوری اور جمہوری روایات کے منافی ہیں۔ ہماری مخالفت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم پی ٹی آئی کی طرزِ حکمرانی کی حمایت کر رہے ہیں۔پی ٹی آئی نے پختونخوا کو مالی، انتظامی اور سیاسی لحاظ سے تباہ کر دیا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے والوں سے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہمارے شہداء کا مذاق اڑا کر اور ہمیں پارلیمان سے باہر رکھ کر آپ کو کیا ملا؟ پختونخوا کو کیا ملا؟
کیا 2013ء میں ٹی ٹی پی کے ذریعے ہمیں پارلیمان سے باہر کرنے والوں، 2018ء میں آر ٹی ایس کے ذریعے ہمیں پارلیمان سے دور رکھنے والوں اور 2024ء میں پی ٹی آئی کی جعلی مقبولیت کا تاثر پیدا کرنے والوں کا بھی احتساب ہوگا؟ یا آج بھی کسی کو سیاسی شہادت کے مرتبے پر فائز کر دیا گیا ہے؟
ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی مخالفت کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ حالات کو اس نہج پر پہنچانے کے ذمہ دار تحریک انصاف کی حکومت اور ان کو لانے والے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت گزشتہ ڈھائی سال میں ہر لحاظ سے بدترین طور سے ناکام رہی ہے۔ اس حکومت نے عوام کے مسائل حل کرنے میں معمولی دلچسپی بھی نہیں لی بلکہ صوبے کو ایک مسلسل ہیجانی کیفیت میں مبتلا رکھ کر کرپشن کا ایک بازار گرم رکھے ہوا ہے۔ یہ دہشتگردی سے نمٹنے میں کبھی سنجیدہ نہیں رہی بلکہ اس نے اپنے قول و فعل سے ہمیشہ یہ ثابت کیا کہ اس کی ہمدردیاں عوام، صوبے اور ملک کے ساتھ نہیں بلکہ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں۔ پولیس اور عوام کے شہداء کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے اس نے دہشتگردوں کی بالواسطہ یا بلا واسطہ سہولتکاری کی۔ اس کا انعام اسے عوام اور قانون کے ساتھ کھڑی ہونے والی جماعت کو دہشتگردی اور ففتھ جنریشن کے پراپیگنڈے کا شکار بنا کر اسے اکیلے جگہ دے کر دیا گیا۔
گورنر راج یا ایمرجنسی لگے یا نہ لگے، یہ ایک زمانے میں دو باہمی محبت کرنے والوں کی آپس کی لڑائی ہے۔ ہم تحریک انصاف اور اس کو لانے والوں، دونوں کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مرحوم عبدالشکور کاکڑ کی پہلی برسی کے موقع پر ان کی قبر پر حاضری
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے پارٹی کے مرکزی، صوبائی اور ضلعی رہنماؤں کے ہمراہ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما، سابق صوبائی جنرل سیکریٹری اور پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی رہنما، قید و بند اور جلاوطنی کے تکلیف دہ ادوار میں مزاحمتی جدوجہد کرنے والے مرحوم عبدالشکور کاکڑ کی پہلی برسی کے موقع پر ان کی قبر پر حاضری دی۔
اس موقع پر مرحوم کی قبر پر پھول چڑھائے گئے، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی گئی، جبکہ ان کی سیاسی، قومی اور مزاحمتی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
اس موقع پر پارٹی کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکریٹری عبیداللہ عابد، مرکزی ڈپٹی ایڈیشنل سیکریٹری جاوید کاکڑ، ڈاکٹر اقبال ترین، صوبائی نائب صدر جمال الدین رشتیا، ضلعی صدر کوئٹہ ثنااللہ کاکڑ، صاحب جان لالا، عصمت بازئی، حاجی نظام الدین کاکڑ، ایڈووکیٹ ملک تاج بازئی، ڈاکٹر عیسیٰ خان جوگیزئی، ڈاکٹر صوفی اکبر، پی ایس ایف کے رزاق عاصم سمیت پارٹی کے دیگر مرکزی، صوبائی و ضلعی رہنماؤں، کارکنان، سیاسی و سماجی شخصیات اور علاقے کے معززین نے مرحوم کی قبر پر حاضری دی۔
شرکاء نے مرحوم عبدالشکور کاکڑ کی سیاسی جدوجہد، جمہوری اقدار اور عوامی حقوق کے لیے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کی سردار عطا اللہ خان مینگل کی برسی کے موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیرِ اہتمام کراچی پریس کلب میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔
#AsgharKhanAchakzai | #AwamiNationalParty | #ANP
عوام کو "سسٹم ری سیٹ" اور صوبوں کی تقسیم کی بحث میں الجھا دو، اور پیچھے سے پٹرول کی قیمت میں 12.99 روپے فی لیٹر تک اضافہ کر دو۔ مسلم لیگ والے خوش ہیں کہ انہیں آشیرباد حاصل ہے۔ انہیں عوام کی کیا فکر؟ انہیں تو یقین ہے کہ اگلے انتخابات میں عوام نہیں، آقاؤں کی مرضی انہیں کامیاب کروائے گی۔کوئی بڑے میاں صاحب کو خبر دیں کہ عوام کا خون چوس کر ووٹ کو زبردست طریقے سے عزت دی جارہی ہے۔
Pukhtunkhwa is a homeland, not a business proposal. Reform must serve its people—not turn their land, resources and future into a revenue plan for the powerful.
" جن صوبوں کے وسائل سے پنجاب کی ترقی کی بنیاد رکھی گئی، آج انہی صوبوں کو پنجاب کے لیے خطرہ قرار دینا 1947 سے چلی آ رہی بالادستانہ سوچ کا ثبوت ہے۔
اصغر خان اچکزئی کا مریم نواز کے اشتعال انگیز بیان پر ردِعمل
@MaryamNSharif
Ma’am CM Punjab
May we know the terrible circumstances the other nations of Pakistan are suffering from is from?
May we know who started terrorism, who made the camps, who trained the terrorists, who created these monsters and why and who used them in Afghanistan and Kashmir
And may we know who is sponsoring all this evil in our lands? If you don’t have answers then I do have them. I would then just need some courageous people to listen to it.
@KhawajaMAsif بچے کو صرف ایک ہی جواب دینا چاہیے تھا کہ پچاس سال تک پاکستان نے افغانستان میں جو خون کی ہولی کھیلی اور اربوں ڈالر اس نام نہاد جنگ میں کمائیں اور آج تک اسی ڈالروں سے اپنی زندگی گزار رہے ہو تو پاکستان میں رہنے کی ہمارے اوپر کوئی احسان نہیں جتا سکتے ہو۔
In the ideas of delimitation I want to float our historical idea also. ANP’s think tank,central cabinet,central working committee, central council meetings very soon and if approved by all, Then a movement. Who are with me in this process? Work on it and put it for discussion. All the Saraikis, Sindhis, Kashmiris, Baloch, Gilgitis and Pakhtuns wake up and stand for your nations.
خپله خاوره ـ- خپل اختيار
ہم آج بھی وہی مؤقف رکھتے ہیں جو باچا خان، خان عبدالولی خان اور اسفندیار ولی خان نے پوری زندگی اختیار کیا۔ ہماری سیاست کسی فرد، کسی حکومت یا کسی ادارے کے گرد نہیں گھومتی، بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی، جمہوریت، آئین اور وفاق کی مضبوطی کے گرد گھومتی ہے۔
اگر واقعی انتظامی اصلاحات مقصود ہیں تو سب سے پہلے عوام کو اختیار دیا جائے، مضبوط بلدیاتی نظام قائم کیا جائے، صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دیے جائیں اور پارلیمنٹ کو فیصلوں کا مرکز بنایا جائے۔ نئے یونٹ بنانے یا نقشے تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، جب تک عوام کو اپنے وسائل اور اپنے فیصلوں پر اختیار حاصل نہ ہو۔
پختونوں کے حوالے سے ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے۔ ہم مزید تقسیم کے قائل نہیں ہیں، بلکہ اتحاد کے قائل ہیں۔ سابق فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام ہماری دہائیوں پر محیط جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ اب ہماری خواہش ہے کہ بلوچستان کے وہ اضلاع جہاں اکثریت پختون آبادی پر مشتمل ہے، انہیں بھی ایک آئینی اور جمہوری عمل کے ذریعے پختونخوا کا حصہ بنایا جائے تاکہ تمام پختون ایک ہی انتظامی اکائی میں اپنے جمہوری حقوق استعمال کر سکیں۔
یہ کسی دوسرے کی زمین یا حق پر دعویٰ نہیں، بلکہ تاریخی، ثقافتی، لسانی اور جمہوری حقیقت کی بنیاد پر ایک آئینی مطالبہ ہے۔ ایسے تمام فیصلے عوام کی مرضی، پارلیمنٹ اور آئین کے مطابق ہونے چاہییں، نہ کہ کسی بند کمرے میں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی مضبوطی مزید تقسیم میں نہیں بلکہ ایک حقیقی وفاق، صوبائی خودمختاری، بااختیار بلدیاتی نظام، آزاد پارلیمنٹ، آزاد عدلیہ اور عوام کی حکمرانی میں ہے۔
باچا خان نے ہمیں نفرت نہیں، خدمت کا راستہ دکھایا۔ ولی خان نے ہمیں جمہوری جدوجہد سکھائی۔ اسفندیار ولی خان نے ہر مشکل وقت میں آئین اور پارلیمنٹ کا ساتھ دیا۔ آج بھی عوامی نیشنل پارٹی اسی نظریے پر قائم ہے: بندوق نہیں، بیلٹ؛ جبر نہیں، جمہوریت؛ تقسیم نہیں، اتحاد؛ اور طاقت کا ارتکاز نہیں، بلکہ اختیار کی نچلی سطح تک منتقلی۔
ہمارا پیغام واضح ہے: ایک متحد پختونخوا، مضبوط مقامی حکومتیں، آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، اور ایک ایسا پاکستان جہاں ہر قومیت کو برابری، عزت اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو۔
ابھی ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو نظر سے گزری، جس میں ایک بے بس ماں آہ و پکار کے ساتھ یہ فریاد کررہی تھی کہ اُس کی معصوم بیٹی کچے کے ڈاکوؤں کے قبضے میں ہے۔ ایک ماں کی بے بسی، اُس کی چیخیں اور اپنی بچی کیلئے تڑپ شاید کسی بھی انسان کے دل کو ہلا دینے کیلئے کافی ہیں۔
انشاء اللہ، ہم سے جتنا ممکن ہوسکا اس معصوم بچی کو اُس کی ماں سے ملانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔
سندھ حکومت اور بالخصوص بلاول بھٹو زرداری سے اپیل ہے کہ اس ماں کی فریاد سنی جائے اور فوری طور پر اس بچی کی بازیابی کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
اللہ تعالیٰ اس بچی کو جلد اور خیریت کے ساتھ اُس کی ماں سے ملائے۔ آمین۔@CMSindh@BBhuttoZardari