سہیل آفریدی کا آنلائن جلسہ سے آج کا اہم خطاب۔
پاکستان میں جاری ریاستی جبر کا برملا پول کھولا۔ پچھلے چار سال سے عوام کو شہید کیا جا رہا ہے۔ 9 مئی کو شہید کیا، 26 نومبر کو شہید کیا، مریدکے میں شہید کیا، خامنائی کی شہادت پر اہل تشئی بھائی شہید کیے، کشمیر میں سینکڑوں سہید کیے۔
پنجاب کے کسانوں کو اپنے حق کے لیے ضرور نکلنا چاہیئے جعلی وزیراعلی مریم نواز سے جان چھرا نے کا وقت پہچ چکا ہے نکلو پنجاب کے کسانوں اپنے حق لیے اب نہیں تو کب کسان نہیں تو کون
جو جتنا بڑا ظالم ہوتا ہے اتنا ہی بزدل ہوتا ہے اور جو اللہ پر کامل ایمان رکھتا ہے وہ ان کے خلاف ڈٹ جاتا ہے اور کامیابی انھیں کا مقدر ہوتی ہے، سہیل آفریدی
سوشل میڈیا تو ہماری طاقت ہے پاکستانی ہماری آواز ہیں ہم سوشل میڈیا پر تمام صحافیوں کے لیے پہلے بھی حاضر تھے اور اب بھی،انشالله یہ خان کے نظریے کو نہیں روک سکتے
🚨🚨🚨
سوات کی تحصیل کبل، گاؤں کبل سے سامنے آنے والی اطلاعات انتہائی سنگین ہیں۔ مقامی سطح پر یہ مبینہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ مراد سعید اور ان کے خاندان سے تعلق یا وابستگی رکھنے والے ساٹھ سے زائد گھروں پر چھاپے مارے گئے اور خاندان کے افراد کو ہراساں کیا گیا۔ اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ مراد سعید کی بزرگ رشتہ دار خواتین اس وقت گھر پہ موجود تھیں-
مزید تشویشناک اطلاعات یہ ہیں کہ ان مبینہ کارروائیوں کے پیچھے آئی ایس آئی کے بعض اہلکاروں اور مبینہ طور پر پشاور میں متعلقہ سیکٹر کمانڈ کی ہدایات کا کردار تھا، جبکہ بعض مقامی دعووں میں نام نہاد ’’گڈ طالبان‘‘ یا مسلح غیر ریاستی عناصر کے استعمال کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔ یہ الزامات اگر درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ محض سیاسی دباؤ یا انتظامی کارروائی کا نہیں رہتا، بلکہ یہ ریاستی اختیار، شہری آزادیوں اور قانون کی بالادستی سے متعلق ایک انتہائی سنگین سوال بن جاتا ہے۔
اسی دوران خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کے اراکین، کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے خلاف تازہ کریک ڈاؤن کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ بعض کارروائیوں میں انہی مبینہ مسلح عناصر کو استعمال کیا جا رہا ہے جن کی دوبارہ آباد کاری یا ریاستی سرپرستی کے خلاف ماضی میں شدید تحفظات ظاہر کیے گئے تھے۔
اگر واقعی سیاسی کارکنوں، منتخب نمائندوں یا ان کے خاندانوں کے خلاف غیر رسمی مسلح گروہوں کو استعمال کیا جا رہا ہے تو یہ ایک غیر معمولی اور خطرناک الزام ہے، جسے محض سرکاری تردیدوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی مکمل، آزاد اور قابلِ اعتبار تحقیقات ضروری ہیں۔
یہ واقعات ایک مرتبہ پھر اس مبینہ تعلق کے سوال کو سامنے لے آئے ہیں جسے ناقدین طویل عرصے سے ریاستی اداروں اور بعض شدت پسند عناصر کے درمیان مبینہ نیکسس کے طور پر بیان کرتے آئے ہیں۔ اس سوال کا جواب نعروں، دھمکیوں یا خاموشی سے نہیں بلکہ شواہد، عدالتی نگرانی اور قانونی کارروائی سے آنا چاہیے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کو اس معاملے پر فوری اور واضح اقدام کرنا چاہیے۔ متاثرہ خاندانوں کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں، چھاپوں میں شریک تمام افراد کی شناخت کی جائے، دستیاب سی سی ٹی وی، موبائل فوٹیج، کال ریکارڈ، پولیس ریکارڈ اور دیگر شواہد محفوظ کیے جائیں، اور ایک آزاد تحقیقاتی عمل شروع کیا جائے۔
اگر کسی سرکاری اہلکار، مسلح گروہ یا دوسرے فرد کے خلاف قابلِ اعتبار شواہد سامنے آتے ہیں تو اس کے خلاف بلاامتیاز ایف آئی آر اور قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ کسی وردی، ادارے، عہدے یا سیاسی وابستگی کو قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
خیبر پختونخوا کے عوام پہلے ہی دہشت گردی، عسکریت پسندی اور ریاستی ناکامیوں کی بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں۔ انہیں دوبارہ کسی سیاسی انتقام، مسلح پراکسی یا غیر قانونی طاقت کے استعمال کا میدان بنانا ناقابلِ قبول ہے۔ کبل کے واقعات کی حقیقت سامنے آنی چاہیے، ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے اور اگر الزامات ثابت ہوں تو قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
بیلجیم کے وزیراعظم:
غزہ میں اعضاء سے محروم ہونے کے باعث 15 ہزار سے زائد افراد کو مصنوعی اعضاء کی ضرورت ہے۔ ان متاثرین میں سے 10 ہزار بچے ہیں.
اس سب میں انسانی وقار کہاں ہے ؟ ؟ ؟
نام کیوں نہیں لیتی میاں داؤد کا۔ لقوہ مار گیا ہے۔ ہائے عظمی اس نے کچھ پلے نہیں چھوڑا گندی گالیاں دی ہیں۔ گندی بہت گندی۔ شدید گندی۔
اگر آپ میں واقعی غصہ اور غیرت ختم ہو چکی تو میں انہیں باجی کہتا ہوں میں مقابلہ کرنے کو تیار ہوں میاں داؤد کا۔ کھل کر بتائیں۔ اتنا ڈر کس بات کا
آج تک پاکستان کی تاریخ میں ماؤں،بہنوں اور بیٹیوں کی عزت کو اس طرح رسواء نہیں کیا گیا۔جس طرح ان 3 سالوں میں جعلی نظام اور جعلی حکومت کو بچانے کے لئے کیا جارہا ہے
”چاہے جان بھی چلی جائے، حقیقی آزادی کے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ہم پُرامن لوگ ہیں، لیکن بزدل نہیں۔ نقاب پہن کر کیوں آتے ہو؟ نقاب کے بغیر آؤ۔“پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا کے نائب صدر کمال سلیم سواتی. غیرقانونی گرفتاری اور اغوا کرنے کی کوشش کے خلاف
ایف آئی آر کے لیے کارکنان کے ہمراہ ڈی پی او آفس مانسہرہ کے باہر دھرنا دینے کا اعلان!
#AsimLaw
راولپنڈی میں کنٹینرز اور رکاوٹوں کی وجہ سے نظام زندگی اور ٹریفک کا نظام مکمل درہم برہم ہو گیا ہے، یہ IJP پرنسپل روڈ کے مناظر ہیں، جہاں ٹریفک کی طویل قطاریں ہیں
عوام پر فارم 47 رجیم عذاب بن کر مسلط ہوئی ہے
مراد سعید کی رہائشگاہ پر نامعلوم نقاب پوش افراد کا حملہ اور توڑ پھوڑ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ گھر میں ان کی معذور والدہ اور کینسر کے مرض میں مبتلا بھائی موجود ہیں۔
مراد سعید کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ اپنی قوم کی بات کرتا ہے اور مشکل وقت میں اپنی قوم کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔ ایسے اقدامات خوف نہیں، صرف مزید تشویش اور اضطراب پیدا کرتے ہیں