یہ سابق وفاقی وزیر برائے مذھبی امور مفتی عبد الشکور شہیدرحمہ اللہ کے فرزند محمد ہے جو صبح مدرسے کی طرف جارہے تھے اور نامعلوم گاڑی کے ٹکر مارنے کیوجہ سے ہاتھ دوجگہ ٹوٹ گئی ہے
اللہ تعالیٰ صحت کیساتھ ساتھ حفاظت فرمائے
ہم اس ملک میں ان بدمعاشوں ،قاتلوں اور ناسور کیساتھ لڑررہے ہیں
کابل: افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر کا مولانا فضل الرحمان سمیت وفد کے اعزاز میں عشائیہ
کابل میں پاکستانی سفارتخانہ پہنچنے پر سفیر عبیدالرحمان نظامانی نے مولانا فضل الرحمان کا استقبال کیا
امارت اسلامی افغانستان میں تعینات پاکستانی عبیدالرحمان نظامانی نے مولانا فضل الرحمان کو سفارتی صورتحال سے آگاہ کیا
مولانا فضل الرحمان نے پاکستانی سفیر اور سفارتخانے کے عملے کی خدمات کو سراہا
اس حالات میں آپکا دورہ افغانستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پاکستانی سفیر
امارت اسلامی افغانستان کے وزیراعظم اور دیگر اکابرین سے ملاقاتیں مثبت رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان
دونوں ممالک کے درمیان بہترین اور مظبوط تعلقات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مولانا فضل الرحمان
دونوں برادراسلامی ممالک کی تہذیب اور ثقافت مشترک ہے۔ مولانا فضل الرحمان
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری سے خطے میں استحکام ائے گا۔ مولانا فضل الرحمان
وفد میں مولاناشیخ ادریس، مولانا عبدالواسع، مولانا صلاح الدین ایوبی، مولانا عطاء الحق درویش، مولانا امداداللہ، مفتی ابرار احمد شامل
وفد میں مولانا جمال الدین، فضل الرحمان خلیل، مولانا عبدالرشید ، سلیم الدین شامزئی، مصباح اللہ، حافظ یوسف شامل
مولانا فضل الرحمان نے اختتام پر مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کئیے
جاری کردہ: مرکزی میڈیا سیل جمعیت علماء اسلام
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا دورہ افغانستان
مولانا فضل الرحمان کی امارت اسلامی افغانستان کے وزیرداخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی سے ملاقات
ملاقات میں وزیر مہاجرین حاجی خلیل الرحمان سمیت دیگر عہدیداران موجود
وزیرداخلہ خلیفہ سراج الدین نے مولانا فضل الرحمان کے دورہ افغانستان کو خوش آئند قرار دیا
وزیرداخلہ خلیفہ سراج الدین نے مولانا فضل الرحمان کو افغانستان کی داخلی صورتحال سے آگاہ کیا
مولانا فضل الرحمان نے خلیفہ سراج الدین کی دونوں ممالک کے درمیان کردار اور کاوشوں کو سراہا
ہمارے دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان داخلی و خارجی استحکام لانا ہے۔ مولانا فضل الرحمان
دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھے گی تو خوشحالی اور امن آئے گا۔ مولانا فضل الرحمان
پاکستانی قوم افغانستان کی عوام کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے۔ مولانا فضل الرحمان
پاکستان کے ساتھ داخلی معاملات پر بہترین تعلقات چاہتے ہیں۔ خلیفہ سراج الدین
پاکستان اور افغانستان کی سرحدی امور پر مذاکرات اور باہمی اشتراک سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ وزیرداخلہ خلیفہ سراج الدین
افغان وزیر مہاجرین حلیل الرحمان حقانی نے پاکستان سے افغان مہاجرین کی بے دخلی پر شدید تشویش کا اظہار کیا
افغان مہاجرین کے ساتھ پاکستان کا ناروا سلوک ختم ہونا چاہئیے۔ خلیل الرحمان حقانی
افغان مہاجرین کو واپسی کیلئے حکومت پاکستان کو رضاکارانہ طور پر وقت دینا چاہیے تھا۔ خلیل الرحمان حقانی
پاکستان سے افغان مہاجرین کی بے دخلی کے وقت ناروا سلوک پر ہم نے آواز اٹھائی تھی۔ مولانا فضل الرحمان
جاری کردہ : مرکزی میڈیا سیل جمعیت علماء اسلام
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا دورہ افغانستان
مولانا فضل الرحمان کی افغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات
ملاقات میں وزیردفاع ملا یعقوب ، وزیرخارجہ ملا امیر متقی، وزیر تجارت سمیت دیگر وزراء موجود
نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برابر نے مولانا فضل الرحمان کا استقبال کیا
ملا عبدالغنی برادر نے مولانا فضل الرحمان کے دورے کو دونوں ممالک کیلئے خوش آئند قرار دیا
وزیردفاع ملا یعقوب نے بھی مولانا فضل الرحمان کے دورے کو وقت کی مناسبت قرار دیا
امارت اسلامی کی اپنی ایک تاریخ ہے، مولانا فضل الرحمان
ہمارے دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان مسائل کو حل کرنا ہے۔ مولانا فضل الرحمان
پاکستان کی خواہش ہے افغانستان کے ساتھ تجارت قانونی طور پر ہوں۔ مولانا فضل الرحمان
پاکستان کے علماء امارت اسلامیہ کے ساتھ ہے، ہمارہ دورہ جزبہ خیرسگالی کے تحت ہے۔ مولانا فضل الرحمان
امارت اسلامی محفوظ اور پر امن ملک ہے۔ ملا برادر
آپ کے دورے کے مثبت اثرات ہوں گے۔ مولانا عبدالغنی برادر
ہمارہ اور آپکا تعلق آج کا نہیں بڑوں کے وقت کا چلتا آرہا ہے۔ ملا یعقوب
ہم نے کبھی آپ کے اور اپنے درمیان فرق نہیں کیا ہے۔ ملا یعقوب
ہم امید کرتے ہے آپ کے دورے کے بعد صورتحال میں تبدیلی ائے گی۔ ملا یعقوب
آپ کے اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہوگی۔ ملا یعقوب
وزیرتجارت نے ملاقات کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان مثبت تجارت پر زور دیا
مولانا فضل الرحمان نے امارت اسلامی کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند سے ملاقات
وزیراعظم کا پاکستانی علماء کے وفد کا خیرمقدم
بیرونی قبضے کے خلاف امارت اسلامیہ کو عظیم فتح حاصل ہوئی ہے ۔مولانا فضل الرحمان صاحب
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند سے ملاقات
وزیراعظم کا پاکستانی علماء کے وفد کا خیرمقدم
بیرونی قبضے کے خلاف امارت اسلامیہ کو عظیم فتح حاصل ہوئی ہے ۔مولانا فضل الرحمان
افغانستان کے عوام کو مبارکباد دیتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
افغانستان میں اسلامی نظام مزید مستحکم ہو گا جس کی برکت سے اس کے مثبت اثرات پوری اسلامی دنیا تک پہنچیں گے۔مولانا فضل الرحمان
ہمارے دورہ افغانستان کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرناہے ۔مولانا فضل الرحمان
دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات، معیشت، تجارت اور باہمی ترقی میں تعاون کی راہیں تلاش کرنا ہے۔مولانا فضل الرحمان
جے یو آئی نے افغان مہاجرین کے ساتھ پاکستان کے حکمرانوں کے رویے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے ۔مولانا فضل الرحمان
ہم اس قسم کے رویے کو غلط اور دونوں ممالک کے درمیان مسائل کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان
ہم یہاں خیر سگالی کا پیغام لائے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس سفر کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔مولانا فضل الرحمان
امید کرتے ہیں کہ دورہ دونوں پڑوسی ممالک اور برادر عوام کے درمیان بھائی چارے اور مثبت تعلقات کی مضبوطی کا باعث بنے گا۔ملا محمد حسن
افغانستان اور پاکستان دو ایسے ممالک ہیں جن کے مختلف شعبوں میں بہت سی مشترکات ہیں اس لیے ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ملا محمد حسن
افغانستان میں اسلامی نظام کی حکمرانی ہے۔ملا محمد حسن
علمائے کرام ہر معاملے کو شریعت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ملا محمد حسن
امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان سمیت کسی بھی پڑوسی ملک کو نقصان پہنچانے یا مسائل پیدا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ۔ملا محمد حسن
مسائل کے حل اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے علمائے کرام کا کردار اہم ہے ۔ملا حسن
پاکستانی حکام کا افغان مہاجرین کے ساتھ اپنا ظالمانہ رویہ بند کرنا چاہیے کیونکہ اس قسم کے رویے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مخالفت اور مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے۔ملا حسن
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کو مل کر تمام مسائل کے حل کی راہیں تلاش کرنی چاہئے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس سے مزید مسائل پیدا ہوں۔
اس ملاقات میں مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ مولانا عبدالواسع ،مولانا صلاح الدین ،مولانا کمال الدین ،مولانا جمال الدین ،مولانا سلیم الدین شامزئی، مولانا امداد اللہ ،مولانا ادریس ،ڈاکٹر عتیق الرحمان ،مفتی ابرار بھی تھے
امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم جبکہ حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی، وزیر ارشاد حج و اوقاف شیخ الحدیث مولوی نور محمد ثاقب اور بعض دیگر حضرات نے شرکت کی۔ کابینہ کے ارکان نے بھی شرکت کی۔پاکستانی سکالرز نے وفد سے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خارجہ مولوی امیر متقی نے افغان مہاجرین کے مسائل کے علاوہ افغان تاجروں کے مسائل، پاکستانی حکام کی طرف سے راہداری اور برآمدات میں پیدا ہونے والے مسائل کا بھی ذکر کیا جس سے ہر سال افغان تاجروں کو بھاری مالی نقصان ہوتا ہے اور اس بات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی یا اقتصادی لین دین کو سیاسی مسائل کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
بلاول بھٹو زرداری صاحب آپ کس منہ سے چائیلڈ ہیلتھ کیئر ہسپتال کی بات کرتے ہیں جہاں سے دو روز قبل میں نے اپنی بیٹی کا جنازہ اٹھایا ہے اور آدھے گھنٹے میں 10 بچوں نے دم توڑ دیا۔
این اے 194 کے کاغذات کی جانچ پڑتال کیلئے آمد کے موقع پر آر او آفس لاڑکانہ کے باہر میڈیا سے گفتگو
#جےیوآئی_چھائےگی
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کا جے یو آئی لکی مروت کے سابق امیر مولانا عبدالرحیم کی وفات پر اظہار افسوس
مولانا عبدالرحیم مرحوم کے ساتھ دیرینہ ذاتی اور جماعتی تعلق تھا ۔مولانا فضل الرحمان
مولانا مرحوم کی ذات اہل علاقہ ،مساجد ،مدارس اور جے یو آئی کے لئے نعمت تھی ۔مولانا فضل الرحمان
مرحوم کی زندگی دین کی خدمت اور اشاعت میں گذری ۔مولانا فضل الرحمان
دعاء ہے کہ اللہ کریم مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے ۔مولانا فضل الرحمان
دکھ کی اس گھڑی میں ان کے خاندان اور تلامذہ کے ساتھ برابر کا شریک ہوں ۔مولانا فضل الرحمان
اللہ کریم اہل خانہ کو صبر جمیل عطاء فرمائے ۔مولانافضل الرحمان
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان