اور اگر میں تجھ سے پہلے مر جاؤں گا
وعدہ ہے میرا میں تجھ سے ملنے آؤنگا
کبھی صبح کی پہلی دھوپ میں
کبھی بلی یا کبھی تتلی کے روپ میں
کبھی دوپہر کی چھاؤں بن کے
کبھی تیری پرچھائی کبھی تیرے پاؤں بن کے
میں آؤں گا تجھ سے ملنے آؤں گا
توں ڈھونڈنا مجھے-
میں تیرے گھر کے چمیلی کی خوشبو میں آؤنگا
میں بارش کی بوندوں میں مٹی کی خوشبو میں آؤنگا
زندگی کے جینے کے طریقے سکھاؤں گا
میں ہر رات تیرے خوابوں میں آؤنگا
تجھے کبھی یاد آئے میری تو چھت پہ آنا تو
میں اس رات تجھے گلے سے لگاؤنگا
اور اگر میں تجھ سے پہلے مر جاؤں گا
وعدہ ہے میرا میں تجھ سے ملنے آؤں گا
🌹♥️
اے ہمارے رب! ہم تیرے شکر گزار، تیرا ذکر کرنے والے، تیری حمد و ثنا بیان کرنے والے اور تیری رضا پر راضی ہیں۔
ہم تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں، تمام تعریفیں اور شکر تیرے ہی لیے ہیں۔
اے ہمارے رب! اپنی نعمتوں، عافیت اور پردہ پوشی کو ہم پر مکمل فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت میں سعادت، کامیابی اور خوشیاں عطا فرما۔
🌹 شام بخیر 🌹
اللہ تعالیٰ آپ کو رحمتوں، برکتوں، خوشیوں اور سکون سے بھر دے۔ آمین۔ 🌷✨
انڈیا میں جب ٹاٹا نے نینو لانچ کی تو لوگوں نے بولنا شروع کر دیا یہ واحد گاڑی ہے جو کسی کے پاس ہو تو پتہ چل جاتا ہے کہ بندہ کنفرم غریب ہے۔
حالانکہ یہ گاڑی ٹاٹا گروپ نے متوسط طبقے کو سپورٹ کرنے اور اس مشن میں لانچ کی کہ اب ہر انڈین کے پاس اپنی گاڑی ہو گی۔
جب اس کی لانچنگ پرائس reveal کی گئی تو ساری دُنیا حیران رہ گئی کیونکہ اس کی پرائس صرف ایک لاکھ روپیہ تھی۔جو کہ تقریبا ایک موٹر سائیکل کی قیمت کے برابر تھی۔
شروع شروع میں تین گاڑیوں میں آگ لگنے کے واقعات سامنے آئے تو ٹاٹا نے pre delivery audit شروع کیا۔اور اس مسئلے پہ قابو پایا۔
یہ کسی بھی ملک کے بزنس ٹائیکون کا اس کی عوام کے لیے بہت بڑا قدم تھا کہ اس سوچ سے گاڑی لانچ کرنا کہ ہر کسی کے پاس گاڑی ہو۔لیکن کچھ کمپیٹیٹرز نے مارکیٹ میں یہ جملہ نکال کر لوگوں کے برین واش کی کوشش کی۔کہ اگر کسی بندے کے پاس گاڑی نہ ہو تو غریب نہیں لگتا لیکن جس کے پاس نینو ہے وہ کنفرم غریب ہے۔
2008 میں لانچ ہوئی اور 2018 میں بند ہوئی لیکن اس گاڑی کے ٹوٹل دو لاکھ اٹھانوے ہزار گیارہ یونٹ بکے۔آپ کے خیال میں پاکستان میں وہ کونسی گاڑی ہے جو اگر کسی کے پاس ہے تو لوگ اسے کنفرم غریب سمجھتے ہیں۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ یہاں چھوٹی سے چھوٹی گاڑی بھی لانچ ہو تو اس پہ ٹیکس وغیرہ ڈال کے قیمت چالیس لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔کیونکہ یہاں گاڑی کو ضرورت نہیں لگژری سمجھا جاتا ہے۔
اس لیے حکومت بھی دبا کے ٹیکس لگاتی ہے۔یہ نہیں سوچا جاتا کہ غریب آدمی بھی گرمی سردی بارش اور دھوپ سے بچ جائے تو یہ لگژری پن میں نہیں آتا۔یہ ضرورت ہے۔
کوئی اس دل کا حال کیا جانے
ایک خواہش ہزار تہہ خانے
कोई इस दिल का हाल क्या जाने
एक ख़्वाहिश हज़ार तह-ख़ाने
موت نے آج خودکشی کر لی
زیست پر کیا بنی خدا جانے
मौत ने आज ख़ुद-कुशी कर ली
ज़ीस्त पर क्या बनी ख़ुदा जाने
پھر ہوا کوئی بد گماں ہم سے
پھر جنم لے رہے ہیں افسانے
फिर हुआ कोई बद-गुमाँ हम से
फिर जनम ले रहे हैं अफ़्साने
وقت نے یہ کہا ہے رک رک کر
آج کے دوست کل کے بیگانے
वक़्त ने ये कहा है रुक रुक कर
आज के दोस्त कल के बेगाने
دور سے ایک چیخ ابھری تھی
بن گئے بے شمار افسانے
दूर से एक चीख़ उभरी थी
बन गए बे-शुमार अफ़्साने
زیست کے شور و شر میں ڈوب گئے
وقت کو ناپنے کے پیمانے
ज़ीस्त के शोर-ओ-शर में डूब गए
वक़्त को नापने के पैमाने
کتنا مشکل ہے منزلوں کا حصول
کتنے آساں ہیں جال پھیلانے
कितना मुश्किल है मंज़िलों का हुसूल
कितने आसाँ हैं जाल फैलाने
راز یہ ہے کہ کوئی راز نہیں
لوگ پھر بھی مجھے نہ پہچانے
राज़ ये है कि कोई राज़ नहीं
लोग फिर भी मुझे न पहचाने
شکیبؔ جلالی
اللّٰہُمَّ! اے وسیع فضل و رحمت والے، اے وہ ذات جو اپنے بندوں میں سے جسے چاہے رزق عطا فرماتی ہے،
ہمیں اپنے فضل و کرم اور برکتوں سے ایسا رزق عطا فرما جو ہمیں دوسروں کا محتاج نہ بنائے، 🌷
اور جو کچھ تو نے ہمیں عطا فرمایا ہے اس میں برکت نصیب فرما، 🌷
اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والوں میں شامل فرما، 🌷
اور خوشی و غم، آسانی و دشواری ہر حال میں تجھ پر بھروسہ کرنے والوں میں شامل فرما۔ 🌷
🎀🎀
🌱 آپ کی شام نور، خوشیوں اور مسرتوں سے بھرپور ہو۔ شام بخیر! 🌱
ایک دفعہ ایک جنگل میں آگ لگ گئی کئی جانور پرندے جنگل سے بھاگنے اور اڑنے لگے ایک چھوٹا سا پرندہ اپنی چونچ میں دور سے پانی بھر کر لاتا اور جنگل کی آگ پر پھینکتا ۔ یہ عمل وہ بار بار کرتا کسی سمجھ دار پرندے نے پوچھا کہ بھائی یہ تم کیا کر رہے ہو ؟تمہارے اس قطرے سے یہ آگ بجھنے والی نہیں تم خو د بھی اس میں جل سکتے ہو ........... تو اس چھوٹے سے پرند ے نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ میری اس کوشش سے آگ نہیں بجھے گی مگرجب تاریخ لکھی جائے گی میرا نام آگ بجھانے والوں میں ہوگا نہ کہ آگ لگانے والوں میں۔
کبھی کبھار آگ بجھانا ہمارے بس میں نہیں ہوتا لیکن خود کو پھونک مار کر آگ بھڑکانے والوں میں شامل نہ کریں۔ ظلم کے خلاف آواز ضرور اٹھائیں بھلے ہی آپ کی آواز کہیں پہنچ نہ پائے مگر خدا تو شاہد ہو کہ تم گونگے نہیں تھے۔
رات میرے نمبر پہ ایک میسج آیا:
‘ابو، میں کامیاب ہو گئی۔ آج میرا نام رجسٹرڈ نرسوں
میں آ گیا ہے۔’ لیکن میری تو کوئی بیٹی ہی نہیں۔”
میرا نام سلیم ہے۔
عمر اٹھاون سال۔
میں راولپنڈی میں ایک پرانی کتابوں کی دکان چلات ہوں۔
میری دو اولادیں ہیں۔
دونوں بیٹے۔
اسی لیے اُس رات جب میرے فون پر پیغام آیا:
"ابو، میں کامیاب ہو گئی۔"
تو میں چونک گیا۔
پہلے خیال آیا غلط نمبر ہے۔
پھر سوچا جواب دے دوں۔
میں نے صرف اتنا لکھا:
"مبارک ہو بیٹا، اللہ تمہیں کامیاب رکھے۔"
چند سیکنڈ بعد جواب آیا:
"مجھے معلوم تھا آپ یہی کہیں گے۔"
میں دیر تک اس جملے کو دیکھتا رہا۔
اس میں خوشی کم اور برسوں کی پیاس زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔
پھر پیغامات آنے لگے۔
اس نے بتایا کہ اُس کا نام مریم ہے۔
چار سال سے نرسنگ پڑھ رہی تھی۔
گھر کے حالات اچھے نہیں تھے۔
لوگ کہتے تھے وہ کامیاب نہیں ہو سکے گی۔
مگر آج وہ کامیاب ہو گئی تھی۔
اور سب سے زیادہ خوشی اسے اپنے والد کو بتانے کی تھی۔
میں کئی بار لکھنے لگا:
"بیٹا، آپ غلط نمبر پر پیغام بھیج رہی ہیں۔"
مگر ہر بار انگلی رک جاتی۔
کیونکہ ہر نئے پیغام کے ساتھ مجھے احساس ہو رہا تھا کہ وہ مجھ سے نہیں، اپنے باپ سے بات کر رہی ہے۔
اور شاید اُس کے باپ نے کبھی اسے سننے کی کوشش نہیں کی تھی۔
تقریباً دو ہفتے تک کبھی کبھار اُس کے پیغامات آتے رہے۔
کبھی ڈیوٹی کی بات۔
کبھی کسی مریض کی۔
کبھی اپنے خوابوں کی۔
پھر ایک دن اُس کا پیغام آیا:
"ابو، آپ نے کبھی مجھ پر فخر کیوں نہیں کیا؟"
میں کافی دیر فون ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا۔
پھر پہلی بار سچ لکھ دیا۔
"بیٹا، میں تمہارا ابو نہیں ہوں۔"
دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔
تین دن تک کوئی جواب نہیں آیا۔
مجھے لگا شاید میں نے اسے تکلیف دی ہے۔
پھر چوتھے دن ایک مختصر سا پیغام آیا:
"مجھے پچھلے ہفتے ہی پتہ چل گیا تھا کہ نمبر غلط ہے۔"
میں حیران رہ گیا۔
اس نے لکھا:
"میں نے جان بوجھ کر بات جاری رکھی۔"
"کیونکہ جس آدمی کو میں ابو سمجھ کر پیغام بھیج رہی تھی، اُس نے پہلی بار مجھے یہ کہا تھا کہ اُسے مجھ پر فخر ہے۔"
میری آنکھیں دھندلا گئیں۔
اگلا جملہ آج تک میرے دل میں محفوظ ہے۔
"آپ اجنبی تھے، مگر آپ نے وہ ایک جملہ کہہ دیا جو میرے اپنے والد نے کبھی نہیں کہا۔"
اس کے بعد اُس کا کوئی پیغام نہیں آیا۔
نہ میں نے کبھی رابطہ کیا۔
مگر آج بھی جب میری دکان پر کوئی نوجوان لڑکا یا لڑکی اپنی کامیابی کا ذکر کرتا ہے تو میں ایک بات ضرور کہتا ہوں:
"شاباش، مجھے تم پر فخر ہے۔"
کیونکہ میں جان چکا ہوں کہ بعض اوقات انسان کو زندگی بھر صرف ایک جملے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اور افسوس یہ ہے کہ اکثر وہ جملہ اجنبیوں سے مل جاتا ہے، اپنوں سے نہیں۔
ایک زمین / بحر، ایک ردیف تین شاعر
" آنا دل کا "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داغ دہلوی .....
اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کا
تم بھی منہ چوم لو بے ساختہ پیار آجائے
میں سناؤں جو کبھی دل سےفسانہ دل کا
ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ
ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا
میری آغوش سے کیا ہی وہ تڑپ کر نکلے
ان کا جانا تھا الہٰی کہ یہ جانا دل کا
حور کی شکل ہو تم نور کے پتلے ہو تم
اور اس پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا
چھوڑ کر اس کو تیری بزم سے کیوںکر جاؤں
اک جنازے کا اٹھانا ہے اٹھانا دل کا
بے دلی کا جو کہا حال تو فرماتے ہیں
کر لیا تو نے کہیں اور ٹھکانا دل کا
بعد مدت کے یہ اے “داغ“ سمجھ میںآیا
وہی دانا ہے کہا جس نے نہ مانا دل کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نواب مُصطفٰی خان شیفتہ ....
ہائے اس برقِ جہاں سوز پر آنا دل کا
سمجھے جو گرمیِ ہنگامہ جلانا دل کا
ہے ترا سلسلۂ زلف بھی کتنا دل بند
پھنسنے سے پہلے بھی مشکل تھا چھٹانا دل کا
دیکھتے ہم بھی کہ آرام سے سوتے کیوں کر
نہ سنا تم نے کبھی ہائے فسانہ دل کا
ہم سے پوچھیں کہ اسی کھیل میں کھوئی ہے عمر
کھیل جو لوگ سمجھتے ہیں لگانا دل کا
عاقبت چاہِ ذقن میں خبر اس کی پائی
مدتوں سے نہیں لگتا تھا ٹھکانا دل کا
کس طرح دردِ محبت میں جتاؤں اس کو
بھید لڑکوں سے نہیں کہتے ہیں دانا دل کا
ہم یہ سمجھے تھے کہ آرام سے تم رکھو گے
لائیے تم کو ہے منظور ستانا دل کا
ہم بھی کیا سادے ہیں کیا کیا ہے توقع اس سے
آج تک جس نے ذرا حال نہ جانا دل کا
جلوہ گاہِ غم و شادی، دل و شادی کم یاب
کیوں نہ ہو شکوہ سرا ایک زمانہ دل کا
شکل مانندِ پری اور یہ افسونِ وفا
آدمی کا نہیں مقدور بچانا دل کا
شیفتہ ضبط کرو ایسی ہے کیا بے تابی
جو کوئی ہو تمہیں احوال سنانا دل کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیر سید نصیر الدین نصیرؒ ....
ان کے اندازِِ کرم ان پہ وہ آنا دل کا
ہائے وہ وقت وہ باتیں وہ زمانہ دل کا
نہ سنا اس نے توجہ سے فسانہ دل کا
عمر گزری ہے مگر درد نہ جانا دل کا
دل لگی دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے
روگ دشمن کو بھی یا رب نہ لگانا دل کا
وہ بھی اپنے نہ ہوئے دل بھی گیا ہاتھوں سے
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنادل کا
نقش برآب نہیں رحم نہیں خواب نہیں
آپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مٹانا دل کا
ان کی محفل میں نصیر انکے تبسم کی قسم
دیکھتے رہ گئے ہم ہاتھ سے جانا دل کا
وہ زمانہ بھی کیا خوب تھا جب نہ موبائل تھے نہ کارڈ، نہ پیغام لمحوں میں پہنچتا تھا اور نہ ہی دعوت ایک کلک پر دی جاتی تھی۔ پھر بھی خوشیوں کی خبر پورے گاؤں میں ایسے پھیلتی تھی جیسے خوشبو ہوا میں بکھر جائے۔
شادی کی دعوت دینے والا خود گھر گھر جاتا، کبھی سائیکل پر اور کبھی پیدل، اور ہر دروازے پر جا کر محبت بھرا پیغام دیتا۔ اس میں نہ صرف خبر ہوتی تھی بلکہ اپنائیت، تعلق اور دلوں کو جوڑنے والی گرمی بھی شامل ہوتی تھی۔
“سلطان محمد خان ولد دلدار خان” کی شادی کی خوشخبری ہو یا “بیشراں بی بی بنت …” کا ذکر، ہر نام کے ساتھ ایک پورا خاندان، ایک پوری بستی جُڑ جاتی تھی۔ اور دعوت صرف رسم نہیں ہوتی تھی بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہوتی تھی کہ شادی سے چند دن پہلے ہی بستی میں پہنچ کر تیاریوں میں ہاتھ بٹایا جائے۔
پھر گاؤں کے جوان سب سے آگے ہوتے۔ کوئی لکڑیاں جمع کرتا، کوئی چارپائیاں اٹھا لاتا، کوئی بستروں کا انتظام کرتا۔ ہر چیز محلے داروں اور رشتہ داروں سے مانگی جاتی، اور ان سب پر نام لکھ کر ایک دوسرے کی امانت کا احترام کیا جاتا۔ برتن بھی گھروں سے مانگے جاتے، مٹی کے، تانبے کے یا المونیم کے، اور ہر چیز میں سادگی کے ساتھ اعتماد اور تعلق کی خوشبو بسی ہوتی تھی۔
جیسے جیسے دن قریب آتے، گاؤں میں ایک خاص سی رونق بڑھنے لگتی۔ راتوں کو دلہے کے دوست جمع ہوتے، گیت گاتے، ہنسی مذاق کرتے اور خوشی کو اپنے انداز میں زندہ رکھتے۔ گھروں کے اندر خواتین بھی سہرے اور شادی کے گیت گا کر ماحول کو مزید رنگین بنا دیتیں۔
مہندی اور ابٹن کی رسومات شروع ہوتیں تو پورا گھر ایک خوشی کے سمندر میں ڈوب جاتا۔ سویاں، خشک میوے، دیسی گھی اور چوہاروں کی خوشبو گھر کے کونے کونے میں پھیل جاتی۔ دلہن کئی دن گھر کی چار دیواری میں رہ کر اس دن کا انتظار کرتی جس دن اس کے ہاتھوں میں مہندی کے رنگ اترنے والے ہوتے۔
جب سہیلیاں جمع ہو کر مہندی لگاتیں تو قہقہے گونج اٹھتے، اور ہر نقش ایک دعا بن جاتا۔ ادھر دلہا بھی اپنے دوستوں کے ساتھ اسی خوشی میں شریک ہوتا، اور اس کے ہاتھوں پر لگنے والی مہندی ہنسی مذاق اور محبت کی علامت بن جاتی۔
پھر وہ دن آ پہنچتا جب بارات دروازے پر ہوتی، ڈھول کی تھاپ پر دل دھڑکتے، اور دلہن رخصت ہوتی۔ اس لمحے خوشی اور اداسی ساتھ ساتھ چلتے، ایک طرف ماں باپ کی آنکھوں میں بچھڑنے کا درد ہوتا اور دوسری طرف نئی زندگی کی امیدیں۔
وہ وقت واقعی ایسا تھا جب ایک شادی صرف دو انسانوں کا نہیں بلکہ پورے گاؤں کا جشن ہوا کرتا تھا۔ ہر ہاتھ شریک، ہر دل شامل اور ہر گھر ایک دوسرے کی خوشی میں برابر کا حصہ دار ہوتا تھا۔
آج سہولتیں بڑھ گئی ہیں، وقت بچ گیا ہے، مگر شاید وہ محبتیں، وہ اپنائیتیں اور وہ سادگی کہیں پیچھے رہ گئی ہے جو ہر خوشی کو حقیقت میں خوشی بنا دیتی تھیں۔
زور سے ہاتھ جھٹک، یار مکمل کردے
تو میرے ہجر کو اس بار مکمل کردے
ان دنوں آدھے ادھورے ہیں تخیل سارے
بھیج وہ درد جو اشعار مکمل کردے
روٹھ جانے کی یہ تلوار ہٹا دے سر سے
ورنہ رستے کـی یہ دیوار مکمل کـردے
کردے اعلان مسخر ھـوئی کومل جوئیہ
جیتنے والے مِیری ہار مکمل کر دے
کومل جوئیہ
@UrduVirsa محسن نقوی صاحب... درد کو لفظ دینے والے شاعر۔ ان کا ہر شعر دل پر دستک دیتا ہے:
ہم کو معلوم ہے، جنوں کے نتیجے کیا ہیں
سارے یوسف ہی تو نہیں، سارے زلیخا بھی نہیں
تمہیں کس نے کہا تھا
دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو
اور اتنی دیر تک دیکھو
کہ بینائی پگھل جائے
تمہیں کس نے کہا تھا
آسماں سے ٹوٹتی اندھی الجھتی بجلیوں سے دوستی کر لو
اور اتنی دوستی کر لو
کہ گھر کا گھر ہی جل جائے
تمہیں کس نے کہا تھا
ایک انجانے سفر میں
اجنبی رہرو کے ہمرا دور تک جاؤ
اور اتنی دور تک جاؤ
کہ وہ رستہ بدل جائے
محسن نقوی
اردو ادب کی ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور مترجم الطاف فاطمہ کا 99واں جنم دن ۔
الطاف فاطمہ 10جون 1927ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئیں۔ والد فضل امین، علی گڑھ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور ریاست جاورہ کے چیف سیکریٹری تھے۔ ’’دیوانِ غالب‘‘ کے مرتب اور انگریزوں سے حبسِ دوام کی سزا پانے والے فضل حق خیرآبادی اور ہندوستان کی کسی بھی زبان میں لکھے جانے والے پہلے ناول ’’نشتر‘‘ کے خالق حُسین شاہ کی علمی و ادبی روایت انھیں ورثے میں ملی، آخر دونوں کا تعلق انہی کے خاندان سے تھا۔ نامور افسانہ نگار سیّد رفیق حسین ان کے سگے ماموں تھے، جبکہ حمیدہ اختر حسین رائے پوری ان کی خالہ زاد بہن تھیں۔
الطاف فاطمہ 1947ء میں خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے لاہور آگئیں۔ یہاں لیڈی میکلیگن کالج سے بی ایڈ اور یونیورسٹی اورینٹل کالج سے ایم اے اُردو کرنے کے بعد اسلامیہ کالج برائے خواتین لاہور میں اُردو کی لیکچرر مقرر ہوئیں اور بحیثیت صدرِ شعبۂ اُردو یہیں سے سبکدوش ہوئیں۔ اس اثنا میں ریڈیو کے لیے لاتعداد فیچرز لکھے۔
پہلا ناول ’’نشانِ محفل‘‘ اپنے زمانۂ طالب علمی میں تحریر کیا۔ 1964ء میں ناول ’’دستک نہ دو‘‘ کو غیرمعمولی شہرت حاصل ہوئی اور ٹی وی کے لیے ڈرامائی تشکیل بھی دی گئی۔ یہ ناول نصاب کا حصہ بنا اور اس کا انگریزی میں ترجمہ بھی ہوا۔ المیہ مشرقی پاکستان کے پس منظر میں ناول’’چلتا مسافر‘‘ لکھا۔ ان کا افسانوی مجموعہ ’’وہ جسے چاہا گیا‘‘ اپنی منفرد شناخت کا حامل ہے۔
انہوں نے عالمی ادب پاروں کے اُردو تراجم بھی کیے۔ ہارپر لی کے شہرۂ آفاق ناول "To Kill a Mockingbird" کا ترجمہ ’’نغمے کا قتل‘‘ کے عنوان سے کیا۔ رما مہتا کے ساہتیہ اکادمی ایوارڈیافتہ ناول ’’حویلی کے اندر‘‘ کو انگریزی سے اُردو رُوپ دیا۔ بنگالی، مراٹھی، تامل، گجراتی اور ہندی افسانوں کے تراجم کی کتاب ’’سچ کہانیاں‘‘ کی صورت میں منصہ شہود پر آئی۔ ایلسا مارسٹن کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق کہانیوں کو ’’زیتون کے جُھنڈ‘‘ کے عنوان سے اُردو پیرہن عطا کیا۔ جاپانی خواتین کے افسانوں کے تراجم بھی کیے۔ لاطینی امریکی خواتین کی کہانیوں کے تراجم کا مجموعہ ’’پرائی آگ‘‘ کے نام سے تشکیل دیا، یہ انتخاب ان کی وفات کے بعد منظرِ عام پر آیا۔ بک کارنر نے اس شاہکار کو ورلڈ وائیڈ کلاسکس سیریز کے تحت شائع کیا۔
اس قدر زرخیز وراثت کی حامل الطاف فاطمہ کی لازوال تحریریں یقیناً اس قابل ہیں کہ اُردوزبان و ادب انھیں فخر سے دنیا کے سامنے پیش کر سکے۔ ان کا تخیل بھرپور، نثرمسحور کن، کردار نگاری جان دار، منظر کشی اور جزیات نگاری طلسماتی حد تک دلآویز ہے۔ ان سے متعدد بار قومی سِول اعزازات کے لیے نامزدگی کی اجازت طلب کی گئی، مگر انہوں نے ہر بار اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اس کی منظوری دینے سے انکار کیا۔
29 نومبر 2018 کو لاہور میں وفات پا گئیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے آمین