نن دولت خان پراعلزي شهيد کړل شو، پرون پر صدر رحمان الله قاتلانه بريد وشو، ابله ورځ د ممتاز علي خان د غنمو تيار فصل وسوځول شو او د هغه يو خپلوان ټپي کړل شو. د ايوب خان اشاري پر کور بريد وشو او ميا صاحب ته د مرګ ګواښونه ورکړل شول.
که په دې ګوند کې رښتيا هم څه شته، نو هغه څه دي؟ بايد هغه ومنل شي او که هېڅ نه وي، بيا ولې منلي او نامنلي، مخالف او موافق، ټول په يوه خوله او يو ډول پرې بريدونه کوي؟
پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں لینڈ مائنز کے پھٹنے سے ہونے والی ہلاکتیں کئی سالوں سے معمول بن چکی ہیں، جسکی روک تھام میں ناکامی کی ذمہ داری سیکیوریٹی کے اداروں پر عائد ہوتی ہے ،پختون نوجوانوں کو کوتاہی پر تنقید پرگرفتار کیا جاتا ہے لیکن کوتاہی کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی
A lazy version of Pashtun nationalism is emerging. They equate criticizing Taliban with supporting the military establishment to cover their own silence about "Project Taliban". Surrendering Afghan-Pashtun nationalism to Taliban is the worst thing you can do with Afghan identity.
انشاللہ جس دن عمران خان کی حکومت آئی۔ جھوٹی اسمبلی جھوٹے مینڈیٹ سے کی گئی یہ تمام جھوٹی غیر آئینی ترامیم جڑ سے ختم کی جائیں گی۔ ان ترامیم کے جنم کو گناہ قرار دیا جائے گا۔ اور یوں جس جس نے ان ترامیم سے فائدہ اٹھایا ہوگا ان سب کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انشاللہ۔
تصور کې مې نګاره ، کله وی او کله نه وی
مسافر په دغه لاره ، کله وی او کله نه وی
د هوا مکر ته ګوره چې رخساره سره دې چیړی
خو ځه خیر دغه مکاره کله وی او کله نه وی
مونږ دلرې نه هم یو بل دسپوږمۍ په لاره وینو
خو افسوس چې دغه لاره کله وی او کله نه وی
سعدالله جان برق
Pashto Poetry
چلو ٹیک ہے ایمل پختونوں کے غدار ہے
یہ جو تیرا سالوں سے پختونخوا اور پختونوں پر اقتدار کررہاہے اس نے پختونوں کیلئے کیا کیا ہے کوئی ایک کام جو نیازی اور اس کے ٹولے نے پختونخوا یا پختونوں کے کیلئے کیا ہو سوا دہشتگردی کے کہ پختونخوا کو دہشت گردوں کو حوالے کردیا
سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا انہی ریاستی پالیسیوں کا تسلسل ہے جس کے تحت ادارے تحریک انصاف کی گرتی ہوئی مقبولیت کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف علی آمین گنڈاپور کو آسان راستہ دیا گیا، وہی علی آمین جسے کل تک پی ٹی آئی خود گالیاں دے رہی تھی، آج اسی کو دوبارہ ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف غیر ضروری شور، واویلا اور پریس کانفرنسوں کا ڈرامہ رچایا گیا۔ سیاسی جماعتوں کو عدالتوں کے چکروں میں الجھایا گیا اور سہیل آفریدی کو اس ماحول میں پختونخوا اسمبلی کا نیا "قائد ایوان" منتخب کیا گیا۔ خیبرپختونخوا میں ایک بار پھر جذباتی ماحول پیدا کیا گیا تاکہ صوبہ انتظامی اور معاشی طور پر مزید کمزور، غیر مستحکم اور قرضوں میں جکڑا رہے۔ اس سب کا مقصد صوبے میں غیر یقینی صورتِ حال کو برقرار رکھنا ہے، تاکہ اس جنگ زدہ خطے میں بدامنی، انتشار اور سیاسی افراتفری کو دوام دیا جا سکے۔ یہی پالیسی ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایسے حکمران لائے جائیں جو عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے عوام کو آپس میں تقسیم اور بے اتفاقی میں مبتلا رکھیں۔
جب تک یہ پرائی اور ڈالر سے چلنے والی جنگیں جاری ہیں، تب تک ریاست اور اس کے ادارے ایسے ہی غیر سنجیدہ اور غیر سیاسی حکمرانوں کو صوبے پر مسلط رکھتے رہیں گے۔
درحقیقت، وزیراعلیٰ کو اپنے قائد عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا ایک سوچی سمجھی چال ہے تاکہ تحریک انصاف کو مظلوم ظاہر کیا جا سکے اور عوام کے دلوں میں ہمدردی پیدا کی جا سکے۔
عوامی نیشنل پارٹی سو سالہ تاریخ رکھتی ہے اور ہمیشہ جمہوریت کے فروغ کے لیے جدوجہد کرتی آئی ہے اور آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں جو فیصلے کیے گئے، اُن کا فائدہ کس کو ہوا اور نقصان کس کو پہنچا؟ ہمارا مؤقف ہے کہ ان فیصلوں نے ریاستی ڈھانچے سے لے کر عوامی مفاد تک، ہر سطح پر قومی مفاد کو نقصان پہنچایا ہے۔ پختونخوا میں جاری غیر یقینی حالات کے خاتمے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک مؤثر اور مشترکہ حل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اگر اس حوالے سے مثبت اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے نتائج سب کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ارباب عثمان خان کا میڈیا سے گفتگو
#ANP | #ANPKhyberPakhtunkhwa | #ArbabUsmanKhan
The relationship between Pakistan and the Taliban is that of a mentor and protege. Pakistan has supported Taliban for decades. The Taliban do not stand for Afghans. Bombing Kabul and killing civilians will alienate millions of Afghans further. Suicidal policies haven't changed.
مئی 2025 کے بعد خطے کے حالات بدل گئے ہیں۔ باگرام ائیر بیس کو امریکہ کے حوالے کرنے میں پیسوں کے معاملے پر معاملات تھوڑے بگڑ گئے تھے، اس کے علاوہ افغان طالبان کو بیس امریکہ کے سپرد کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ ان کو اب پیسوں کی لت لگ گئی ہے، اب نہ تو امریکہ کوئی طاغوتی قوت ہے اور نہ اب یہ کوئی کفر و اسلام کا معاملہ ہے۔ اس میں اب مفادات کی بات آگئی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کی خودمختاری کو ہر صورت قبول کرنا پڑے گا اور ایک دوسرے کے خلاف اپنی زمین کے استعمال کو روکنا ہوگا۔
انجینئر احسان اللہ خان
مرکزی ترجمان عوامی نیشنل پارٹی
@ANPSpox
اگر تاریخ کے پیچھے جائے تو آپ کو این اے این پی کے جمہوریت اور جمہوری اقدار کیلئے قربانی نظر آئے گے اور اصول پسندانہ سیاست بھی سیکھے گے اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہ کرنا دیکھے گے اگر چہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو تاریخ 2021.22 دیکھے تھے لیکن اسے پیچھے بھی ایک تاریخ ہے وہ بھی زرا پڑ لئے