حملے میں بچنے والے جمشید حسین کہتے ہیں کہ "میری گاڑی قافلے کے درمیان تھی۔ گولیوں کی تڑ تڑاہٹ کے ساتھ ہی میں نے سواریوں کو فوری گاڑی سے نیچے اترنے کا کہا۔ جان بچانے کی خاطر ہم نے قریبی ایک پہاڑی کی جانب رخ کیا۔ لیکن وہاں بھی گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔" https://t.co/bjnM3swQhB
جن سے ایک موبائل فون ٹریس نہیں ہوتا، ایک چور نہیں پکڑا جاتا، جو گاہے بگاہے کچے ہے ڈاکوؤں سے مار کھاتے ہیں، شریفوں کی غلامی میں جاتی عمرہ، ماڈل ٹاؤن میں سر جھکائے 24/7 کی ڈیوٹیاں دیتے ہیں انکی پرامن شہری جن کی تنخواہوں پر یہ پلتے ہیں پر ٹوٹ پڑنے کی پھرتیاں ملاحظہ ہوں۔ #خان_کے_دیوانے_تو_نکلیں_گے