سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت پر ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا اظہارِ تشویش
سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے حکومت اور متعلقہ حکام کا طرزِ عمل قابلِ افسوس اور کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے حوالے سے واضح احکامات جاری کیے تھے، جن میں ہسپتال منتقلی اور میڈیکل بورڈ کے ذریعے معائنے کی ہدایت شامل تھی۔ اس کے باوجود چند گھنٹوں کے طبی عمل کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کی مکمل طبی اور قانونی بنیاد عوام کے سامنے آنی چاہیے۔
آخر ایسی کیا عجلت تھی کہ ایک ایسے مریض، جس کی صحت کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے، کو چند گھنٹوں میں طبی طور پر مطمئن قرار دے کر دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا؟
اگر ان کی طبی حالت مکمل طور پر تسلی بخش تھی تو تفصیلی اور مستند میڈیکل رپورٹ سامنے لائی جائے۔ اور اگر مزید نگرانی یا علاج درکار ہے تو اسے عدالتی احکامات کے مطابق بلا رکاوٹ فراہم کیا جائے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ عمران خان کی صحت، طبی معائنے، ہسپتال کی منتقلی اور دوبارہ اڈیالہ جیل بھیجنے کے پورے عمل میں مکمل شفافیت اختیار کی جائے اور سپریم کورٹ کے احکامات پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
صحت سیاسی معاملہ نہیں، بنیادی انسانی حق ہے۔
جمشید حسین
@jamshed_hrc
چیئرمین
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan)
#ImranKhan #ImranKhanHealth #RightToHealth #HumanRights #RuleOfLaw #SupremeCourt #AdialaJail #HRCPakistan #Pakistan
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
جھوٹے مقدمے، انگنت جعلی سزائیں، کینگرو کورٹس، بدنامِ زمانہ گواہ، بدترین فاشزم۔ وہ کھڑا تھا، کھڑا رہے گا۔ کیونکہ قیدی نمبر 804، صرف اللّٰہ کے سامنے جھکتا اور اللّٰہ سے مدد مانگتا ہے۔
"ججز کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ یا عدالتوں کو تالے لگیں گے یا پھر جنہوں نے توہین عدالت کی ہے ان کے خلاف کاروائی ہوگی اگر یہ طاقتور عدلیہ کا حکم نہیں مانتے تو کل سب بغاوت پر اتر آئیں گے جنگل کا قانون ہوگا جو جتنا طاقتور ہوگا اتنا ظلم کرے گا اب ججز کو فیصلہ کرنا ہوگا "۔
وزیراعلی سہیل آفریدی
ہم حکومتی رویے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس کے خلاف توہینِ عدالت کی پٹیشن دائر کریں گے۔ ہم نے حزبِ اختلاف کے اتحاد کو مزید وسیع اور مضبوط کرنا ہے۔ تمام پارلیمنٹرینز نے اس فیصلے کی توثیق کی اور اسے خوش آئند قرار دیا۔ 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے چاروں صوبوں میں کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مولانا صاحب کے ساتھ فی الحال پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن بنائیں گے۔ کل ان شاء اللہ توہینِ عدالت کی پٹیشن دائر کریں گے۔
”کل فون آیا اور تقریباً 8 بجے ہم اڈیالہ پہنچ گئے، ہمیں ڈی ایس پی سبطین کے کمرے میں بٹھایا گیا۔ رات 12:40 پر ڈی ایس پی نے ڈاکٹر فیصل سے کہا، آئیں اور یہ چلے گئے، مجھے نہیں معلوم کہاں گئے۔ 15 منٹ بعد ایک خاتون اے ایس آئی اور مجھے بلا لیا۔ مجھے پمز لیجایا گیا، میں نے کہا کہ عدالت کا حکم شفا انٹرنیشنل لیجانے کا ہے۔ مکمل اندھیرا تھا، ہمارے پاس موبائل نہیں تھا، اسلیے وقت کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ ایک آدمی آیا اور موبائل کی لائٹ میں مجھے اندر لے گیا، میں اوپر گئی تو وہاں عمران خان تھے، وہ مجھے دیکھ کر حیران ہوئے اور اُن سے کہا کہ ’میری بہن ہے، میں 10 ماہ بعد اسے مل رہا ہوں‘ انہوں نے اٹھ کر مجھے پیار کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ یہاں آپ کا چیک اپ ہونا، پھر ہم شفا جا رہے ہیں، وہاں ڈاکٹر فیصل بھی ہیں، عمران خان خوش تھے اور کہا ٹھیک ہے۔“
ڈاکٹر عظمٰی
#ContemptOfCourt
عمران خان کی صحت کیساتھ خصوصی طور پر جس طرح انہیں قید تنہائی میں رکھ کر اذیت دی جارہی ہے اس سے ان پر جو اثرات آ رہے ہیں انکا سن کر جس طرح انکی ہمشیرہ نورین نیازی آبدیدہ ہیں، پوری قوم کے یہی محسوسات ہیں۔
سپریم کورٹ کو اس پر فیصلہ لینا ہوگا۔
#ہر_دل_سے_دعا_خان_کے_نام
#ContemptOfCourt
”عمران خان نے کہا، میری قوم کو بتائو یہ جیل میں میرے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں۔ یہ انسان نہیں ہیں، انہوں نے مجھے قید تنہائی میں ٹیلی ویژن یا پڑھنے کیلئے کسی بھی قسم کے مواد سے دور رکھا۔ میرے سر میں کچھ ہوتا تھا، میں نے ڈاکٹرز سے اپنی طبیعت کا کئی بار ذکر کیا مگر انہیں کوئی پرواہ نہیں۔“ ہمشیرہ اعظممئ خان، 9 ماہ بعد عمران خان سے ملنے کے بعد ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے آبدیدہ
No cause is sacred enough to block an ambulance. A mother in Buner ripped off her headscarf, screaming for a path so her son could be saved and the road stayed shut. A road blocked in front of a dying child is simply unacceptable.