It Is Not Over. You Just Gave Up.
پکچر ابھی باقی ہے
آج کل یہ بیانیہ ایک فیشن بن چکا ہے کہ پاکستان "ختم" ہو چکا ہے، نظام مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے، اور اب صرف مایوسی ہی واحد سچائی بچی ہے۔ یہ سننے میں تو بڑا دلیرانہ اور حقیقت پسندانہ لگتا ہے، لیکن اگر آپ ذرا سا نیوٹرل ہوکر غور کریں تو اس کی حقیقت کچھ اور ہی نکلتی ہے: اور عموماً مفرضوں میں ڈوبا آدھا سچ ہوتا ہے۔
اگر پاکستان واقعی کچھ نہیں دے رہا، اگر یہاں صرف ظلم اور زوال ہی ہے، تو پھر ایک عام سی بات کی وضاحت کر دیں۔ کیسے ایک اوسط درجے کا طالب علم، جو مکمل طور پر پاکستان سے پڑھا ہو، یہاں سے ایل ایل بی (LLB) کرتا ہے اور پھر امریکہ کی کسی نامور یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے چلا جاتا ہے؟ ایک ایسے ملک میں جو مبینہ طور پر اپنے شہریوں کو کوئی موقع نہیں دیتا، غربت ہے، یہ راستہ کیسے موجود ہے؟ کیا یہی سفر کسی دوسرے ترقی پذیر ملک، یا یہاں تک کہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں ممکن ہوتا؟حقائق اہمیت رکھتے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی ناگوار کیوں نہ ہوں۔
میڈیکل تعلیم ہی کو دیکھ لیں۔ جنوبی ایشیا کے کنگ ایڈورڈ جیسے پرانے اور معتبر ترین میڈیکل اداروں میں سے ایک، طالب علم سالانہ محض ایک سو ڈالرز سالانہ میں ایم بی بی ایس (MBBS) مکمل کر سکتا ہے۔ پانچ سال کی میڈیکل تعلیم تقریباً صرف 500 ڈالرز میں اور جو طلبہ واقعی غریب ہیں، ان کی یہ فیس بھی اکثر معاف کر دی جاتی ہے۔ نشتر میڈیکل یونیورسٹی جیسے اداروں میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد کی فیسیں مکمل طور پر 'نشتر ایلومنائی آف نارتھ امریکہ' دیتی ہے جو تقریباً 50 فیصد طلبہ کے اخراجات اٹھاتی ہے۔ کسی دوسرے ملک کا نام بتائیں جہاں ایک غریب خاندان کا بچہ اس خرچے میں ڈاکٹر بن سکتا ہو؟ آپ نہیں بتا سکتے۔ کیونکہ بہت کم نظام ایسے ہیں جو اپنی تمام تر خرابیوں کے باوجود رسائی کا یہ درجہ فراہم کرتے ہیں۔ یہی بات انجینئرنگ اور ٹیکنیکل ایجوکیشن پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ UET، NED اور دیگر بڑی یونیورسٹیوں نے انجینئرز اور ٹیکنالوجسٹ کی وہ نسلیں پیدا کی ہیں جو آج پوری دنیا میں کام کر رہی ہیں۔ تنقید جائز ہے، لیکن انکار بددیانتی ہے۔
پھر ایک آسان سا دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ "پاکستان سے کچھ بڑا نہیں نکل سکتا"۔ یہ مفروضہ اس وقت چکنا چور ہو گیا جب ریحان جلیل نامی ایک پاکستانی کاروباری شخصیت نے اپنی کمپنی 1.7 ارب ڈالر میں فروخت کی۔ یہ سب خلا میں نہیں ہوا۔ یہ نظام کے باوجود ہوا، لیکن اس لیے بھی ہوا کہ نظام نے انہیں مکمل طور پر روکا بھی نہیں۔ حقیقت نعروں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔
اس شکست خوردہ نظریے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ انسان سے اس کی ذاتی ذمہ داری مکمل طور پر چھین لیتا ہے۔ ہر چیز کا ملبہ نظام، حکومت، مقتدرہ یا پچھلی نسل پر ڈال دیا جاتا ہے۔ فرد پر کوئی بوجھ نہیں رہتا۔ یہ بہادری نہیں، یہ فرار ہے۔
ایک چھوٹے گھر کی لڑکی آج بھی سی ایس ایس (CSS) پاس کر سکتی ہے۔ ایک غریب کا بچہ آج بھی ڈاکٹر یا انجینئر بن سکتا ہے۔ پاکستانی طلبہ آج بھی USMLE، PLAB اور GRE جیسے امتحانات پاس کر کے عالمی سطح پر مقابلہ کر رہے ہیں۔ یہ کوئی معجزے نہیں ہیں، یہ محنت، نظم و ضبط اور اپنی ذمہ داری خود اٹھانے کے نتائج ہیں۔ اور اس سے پہلے کہ آپ عالمی شخصیات کی مثالیں دیں، یہ یاد رکھیں: ایلون مسک کسی مثالی نظام سے نہیں نکلا تھا۔ جنوبی افریقہ کوئی جنت نہیں تھا۔ جیف بیزوس نے ایمازون اس لیے نہیں بنائی تھی کہ حکومت نے اسے کامیابی کا نقشہ ہاتھ میں تھما دیا تھا۔ ان میں سے کوئی بھی اس لیے کامیاب نہیں ہوا کہ نظام ان پر مہربان تھا، بلکہ وہ اس لیے کامیاب ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنی زندگیوں کی ذمہ داری کسی اور پر ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔
تو ذرا مشکل سوالات پوچھیں:
کتنے لوگ شکایت کرنے کے بجائے اصل میں کچھ بنا رہے ہیں؟
کتنے لوگ مایوسی بھرے ٹویٹس کرنے کے بجائے تحقیق کر رہے ہیں؟
کتنے لوگ الزام تراشی کے بجائے جدت لا رہے ہیں؟
سرمایے کی کمی نہیں ہے۔ پاکستان میں وینچر کیپیٹل، پرائیویٹ ایکویٹی اور اینجل فنڈنگ موجود ہے۔ 'شارک ٹینک پاکستان' میں پیسہ آئیڈیاز کے پیچھے جاتا ہے، غصے کے پیچھے نہیں۔
یہ نااہلی، بدعنوانی یا سستی کا دفاع نہیں ہے۔ یہ مسائل حقیقت ہیں اور ان کا سامنا کرنا ضروری ہے۔ لیکن یہ دکھاوا کرنا کہ یہاں کچھ بھی ممکن نہیں، کوئی مزاحمت نہیں ہے، بلکہ یہ "ہتھیار ڈال دینا" ہے۔ میں کسی حکومت، ادارے یا اتھارٹی کی وکالت نہیں کر رہا۔ میں ایک خاص ذہنیت کے خلاف بات کر رہا ہوں۔ وہ ذہنیت جو تنقید کو محنت سے چھٹکارے کا بہانہ بنا لیتی ہے۔
اپنی جوابدہی دوسروں پر ڈالنا ختم کریں۔
ملک تب تباہ ہوتے ہیں جب نوجوان اپنی ذمہ داری خود اٹھانا چھوڑ دیتے ہیں۔
کھیل ابھی ختم نہیں ہوا۔
بس آپ نے میدان چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
راؤ کامران کی ڈائری سے 🙏
Ramadan Riddle Rush: Solve Riddles & Share $30,000 in Rewards! | Sign up as a Binance user to get 100 USD worth of trading fee rebates now!
https://t.co/oo3BBfKZv2
Just 10-20 minutes of exercise three days a week will increase your happiness by around 10 to 20%. The Journal of Happiness Studies finds that doing any kind of physical activity for as little as 10 minutes out of your week can significantly improve your odds of feeling happy.
Your brain secretes certain chemicals when you have trees or plants around you which boosts the brain thinking. Therefore no. of psychological treatments including strolling in the garden.
Half of a person’s genes are responsible for the complex design of the brain with the other half describing the organization of the remaining 98% of the body.
Eating broccoli can make your brain more powerful and sharpen your thinking. Its because broccoli is high in compounds called glucosinolates, it helps slow the breakdown of the brain chemical, acetylcholine, which we need to keep our brains and memories sharp.