کیا یہ ضروری ہے کہ آپ کے اکابر جس دروازے سے جنت میں داخل ہوں گے، پوری امت اسی دروازے سے جنت میں داخل ہو، جنت کے اور بھی بہت سے دروازے ہیں اور اللہ کی رحمت اس سے بھی زیادہ وسیع ہے، اس لیے دوسرے کی جنت کا زیادہ ٹینشن نہ لیں، خود بھی سکون سے رہیں اور دوسروں کو بھی سکون سے رہنے دیں
عبادت میں دل لگنا اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے خصوصاً جس کا دل نماز میں لگے تو سمجھو اس کو دین و دنیا کی تمام خیر مل گئی
دل لگنے سے مراد یہ ہے کہ بہانے بہانے سے انسان نماز کی طرف دوڑے، فرض کے بعد سنت اور سنت کے بعد نفل نماز کے لیے کھڑے ہو جائے، خالی اوقات میں نماز پڑھنے کا دل کرے
پوری دنیا میں یوم عرفہ اسی دن ہوتا ہے جس دن حاجی وقوف عرفہ کرتے ہیں باقی رہی ٩ ذو الحجہ کی تاریخ تو وہ چاند کے اعتبار سے ہر ملک کی مختلف ہوگی لیکن یوم عرفہ پوری دنیا میں ایک ہی دن ہوتا ہے
جب بھی مولویوں کے دو گروہ میں لڑائی ہوتی ہے تو ہم ہمیشہ لڑائی کے ساتھ ہوتے ہیں کیونکہ...
علماء کرام کا اختلاف (جو حقیقت میں موجودہ دور میں لڑائی ہوتی ہے) امت کے لیے باعث رحمت ہے
اپوزیشن کو #SIR کی جس طرح مخالفت کرنی چاہیے تھی اس طرح انہوں نے نہیں کی، جمہوریت میں اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے عدالت کے علاوہ اور بھی بہت سے راستے ہیں جیسے پر امن احتجاج بھوک ہرتال، دھرنے لیکن افسوس ممتا بنرجی کے علاوہ کسی نے بھی SIR کے خلاف مضبوط موقف و عملی احتجاج نہیں کیا
مجھے اب کیوں ایسا لگنے لگا ہے کہ ایران خود چاہتا ہے کہ عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب اس جنگ میں کود پڑے اور پھر یہ جنگ ایران - امریکہ اسرائیل کے بجائے ایران - عرب ممالک کے بیچ میں شروع ہو جائے، ماضی میں ایران کی کرتوتیں اس شک کو یقین میں بدل دیتی ہیں
کیا ماضی میں کبھی جمعیت علمائے ہند نے کانگریس پارٹی کو فرقہ واریت کہا ہے؟ جبکہ اس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں
ایم آئی ایم @aimim_national کی سیاسی پالیسی سے اختلاف اپنی جگہ لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ آپ اسکو فرقہ پرست کہہ کر بی جے پی اور آر ایس ایس کے ساتھ کھڑا کریں
آپ لاکھ تفسیروں کے سہارے قرآن سمجھنے کی کوشش کریں، چاہے جتنے درس قرآن کے حلقوں میں شریک ہو جائیں، اس کے سہارے آپ کو قرآن بھی سمجھ میں آ جایے لیکن قرآن کو براہ راست سمجھ کر تلاوت کرنے کا جو اثر دل دماغ اور طبیعت پر پڑتا ہے اس کا متبادل کوئی چیز نہیں ہو سکتی ہے
خدا کے تصور کے بارے میں انسان کی ایک بڑی غلطی یہ رہی ہے کہ وہ اس تصور کو محبت کی جگہ خوف و دہشت کی چیز بنا لیتا ہے.
امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد رح
ہمارے درمیان مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر موجود ہیں، اس کا احساس ہر جمعہ کو ان کا مضمون پڑھ کر ہی ہوتا ہے ورنہ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ بڑے سے بڑا معاملہ (ماب لنچنگ، ہیٹ اسپیچ، اتم نگر) ہو جائے، اس کے خلاف عملی اقدام کرنا تو دور کی بات ہے صدر صاحب ایک بیان تک نہیں دیتے
एक हिंदू युवक ने Observe किया
कि ईद के मेले में 80% दुकान हिंदू समुदाय के लोग लगाते हैं
फिर भी वहां के लोग कभी किसी दुकानदार को religious identity के नाम पर भगाते नहीं हैं
यही सोंच हर धर्म के मेलों में होनी चाहिए
चाहे वो दशहरा, दिवाली, जन्माष्टमी कोई भी मेला हो
اگر ہولی راستے پر کھیلی جا سکتی ہے، کانوڑیوں کے جلوس کے لیے راستے بند کئے جا سکتے ہیں تو نماز بھی ضرورت کے وقت راستے پر پڑھی جا سکتی ہے، قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور مسلمانوں کو اس کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے پھر چاہے سنگھیوں اور نفرتی چنٹوں کو کتنا ہی برا کیوں نہ لگے
چلو مانا کہ ہندوستان کے ماحول میں مدارس کا وجود بہت ضروری ہے لیکن یہ کیوں ضروری ہے کہ ان مدارس کو زکوۃ پر ہی چلایا جائے، کیا یہ مدارس دوسرے تعلیم اداروں کی طرح فیس (قیام طعام تعلیم) لے کر نہیں چلائے جا سکتے؟ اب یہ نہیں کہنا کہ مدارس والوں کو فیس دینے والے طلباء ہی نہیں ملتے ہیں
مدارس کے نصاب و نظام سے خود مدارس کے فارغین کتنا مطمئن ہیں، اس کو جاننے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ کتنے مدارس کے فارغین اپنے بچوں کو مدرسے میں بھیج رہے ہیں؟
سچ یہ ہے کہ اگر معاشی مجبوری نہ ہو تو فارغین کی ١٠ ٪ تعداد بھی اپنے بچوں کو مدرسے میں نہیں بھیج رہی ہے