“ہماری ون پوائنٹ ڈیمانڈ یہ ہے کی عمران خان کے تمام بنیادی حقوق بحال کیے جائیں اور سب سے اولین ترجیح ان کا فوری طبی معائنہ اور ہسپتال میں علاج ہے۔“
- @Aleema_KhanPK#FreeImranKhan
مریم اورنگزیب جیسا لب و لہجہ یہ تکبر یہ رعونیت تب آتی ہے جب آپ کو لانے والے یہ گارنٹی دے دیں کہ عوام یا کوئی بھی الیکشن کوئی بھی ووٹ آپ کو گھر نہیں بھیج سکتا جب تک ہم چاہیں آپکو اقتدار میں رکھیں گے تو رعونیت تب آتی ہے
سید ذیشان
دنیا کا سب سے بڑا معجزہ: نوبل پرائز بنگلہ دیش کو ملا، لیکن اصل حقدار پاکستان کا بیٹا نکلا!
کیا آپ جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے محمد یونس اور ان کے گرامین بینک کو غریبوں کو چھوٹے قرضے دینے پر نوبل امن انعام سے نوازا گیا؟ بظاہر یہ بہت بڑا فلاحی کام تھا، لیکن پردے کے پیچھے کی حقیقت آپ کو حیران کر دے گی۔
نوبل پرائز اور سود کا چکر!بنگلہ دیش کا گرامین بینک غریبوں کو قرض تو دیتا تھا، لیکن اس پر 20% سے 28% تک بھاری سود (Interest) وصول کیا جاتا تھا۔ غریب قرض کی اصل رقم سے زیادہ سود کے چنگل میں پھنس جاتا تھا۔ لیکن دنیا نے اس سود پر مبنی نظام کو سراہا اور نوبل پرائز دے دیا۔
اب دیکھیے پاکستان کا اصل معجزہ: ڈاکٹر امجد ثاقب اور "اخوت"پاکستان کے سابق سی ایس ایس افسر ڈاکٹر امجد ثاقب نے سرمائے دارانہ نظام کے اس شکنجے کو چیلنج کیا۔ انہوں نے 2001 میں صرف 10 ہزار روپے سے "اخوت فاؤنڈیشن" کی بنیاد رکھی۔ ان کا طریقہ کار بینکوں جیسا نہیں بلکہ "مواخاتِ مدینہ" (مدینہ کے بھائی چارے) پر مبنی ہے۔
200 ارب روپے سے زائد کی تقسیم: صرف 10 ہزار روپے سے شروع ہونے والا یہ سفر آج 220 ارب روپے سے زائد کے بلا سود قرضے تقسیم کر چکا ہے، جس سے پاکستان کے کروڑوں غریب خاندان اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔
0% سود (Zero Interest): اخوت غریبوں کو کاروبار، شادی اور گھر کے لیے بالکل مفت اور بلا سود قرضے دیتا ہے۔
سو فیصد (100%) واپسی کی شرح: دنیا کے بڑے بڑے بینک جن کے قرضے ڈوب جاتے ہیں، وہاں اخوت کا لون ریکوری ریٹ 99.9% (تقریباً 100 فیصد) ہے! غریب خود عزتِ نفس کے ساتھ پائی پائی واپس کرتا ہے۔
کوئی عدالت نہیں، کوئی پولیس نہیں: اخوت کسی غریب کو قرض واپسی کے لیے ہراساں نہیں کرتا، بلکہ مساجد اور گرجا گھروں کی چٹائیوں پر بیٹھ کر شخصی ضمانت پر قرضے دیے جاتے ہیں۔
صرف قرض ہی نہیں، مفت یونیورسٹی بھی!ڈاکٹر امجد ثاقب کا سفر صرف قرضوں تک نہیں رکا۔ انہوں نے پاکستان کی پہلی فیس سے پاک یونیورسٹی "اخوت کالج یونیورسٹی" قائم کی۔ اس یونیورسٹی میں پاکستان بھر کے غریب اور مستحق طلبہ کو نہ صرف بین الاقوامی معیار کی تعلیم بالکل مفت دی جاتی ہے، بلکہ ان کے رہنے، کھانے اور ہاسٹل کے تمام اخراجات بھی اخوت خود اٹھاتا ہے۔
سوچنے کی بات!سود پر قرض دینے والے کو دنیا نے نوبل پرائز دیا، لیکن اللہ کے نظام (بلا سود قرضِ حسنہ) پر چل کر کروڑوں خاندانوں کو غربت سے نکالنے والے ڈاکٹر امجد ثاقب کا کام اس سے ہزار گنا بڑا ہے۔ اگرچہ انہیں ایشیا کا سب سے بڑا اعزاز ریمن میگسیسے ایوارڈ مل چکا ہے، لیکن ہمارا اصل فخر ان کا یہ بے لوث نظام ہے۔آئیں پاکستان کے اس سچے ہیرو کو خراجِ تحسین پیش کریں۔ کمنٹس میں "ماشاءاللہ" لکھیں اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کر کے دنیا کو پاکستان کا یہ خوبصورت اور مثبت چہرہ دکھائیں!
#DrAmjadSaqib #AkhuwatFoundation #PakistanPride #InterestFreeLoans #HumanityFirst
مقدموں کا ایک انبار بنا ہوا تھا، تین سو سے زائد کیسز تھے۔ عمران خان صاحب نے فیصلہ کیا کہ میں اس سکور کو چیس کروں گا۔ انہوں نے اپنی قانونی ٹیم میدان میں اتاری اور انہیں impossible task دیا کہ 300 مقدمے لڑو۔ ہم نے 300 مقدمے لڑے اور جیت بھی لیے۔ اب اگر ایمپائر میں مسئلہ ہے اور آخری وکٹ نہیں گر رہی تو اتنا کریڈٹ تو دے دیں کہ انہوں نے 300 کیسز لڑ کر ثابت کیا کہ یہ تمام کیسز جھوٹے، بے بنیاد، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی تھے۔
بیرسٹر سلمان صفدر
نوجوان کسی بھی تحریک کی اصل طاقت ہوتے ہیں، اور جب وہ بیدار ہوتے ہیں تو وقت کا دھارا بدل دیتے ہیں اور طوفانوں کی سمتیں موڑ دیتے ہیں۔
یہی نوجوان 30 جون کو اڈیالہ کے باہر اپنی پر امن مگر طاقتور آواز بلند کریں گے۔
چلو چلو اڈیالہ چلو،
ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کرنے چلو۔
#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
#چلو_چلو_اڈیالہ_چلو
نہ وکیل۔ نہ کتابیں۔ نہ فون کالز۔ نہ اہلِ خانہ سے ملاقات۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اب سات ماہ سے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ جیل انتظامیہ اور وہ کرنل جو عاصم منیر کی ہدایات پر عمل کر رہا ہے، جو کچھ کر رہے ہیں وہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔
#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
ڈاکٹر یاسمین راشد آہستہ آہستہ اپنی اس فانی زندگی کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہی ہیں .. اور شاید باقی انکے تمام ساتھی بھی ..
وہ دیکھ چکی ہیں کہ نہ سوشل میڈیا، نہ گراؤنڈ ورکرز، نہ کوئی قیادت، نہ عوام، اور نہ ہی کوئی عدالتی نظام انہیں انصاف دلا سکتا ہے .. اس لیے وہ انتظار کر رہی ہیں کہ کب اللہ ان کی روح کو جسم سے رہائی عطا کرے ..
لیکن سوال یہ ہے کہ اتنی مایوسی کے باوجود بھی وہ کیوں ڈٹی ہوئی ہیں وہ سرکار یا حکومت سے مل کیوں نہیں جاتیں ؟؟
جو خواتین ان کے ساتھ تھیں، وہ سب یا تو ملک چھوڑ گئیں یا پی ٹی آئی سے الگ ہو گئیں یا سرکاری وریاستی سیاسی جماعتوں کا حصہ بن گئی .. مگر وہ آج بھی اکیلی کھڑی ہیں .. آخر کیوں ؟؟
کیونکہ وہ “راہِ حق” پر ہیں ..
اور انہیں اللہ کے سامنے حاضر ہونے پر اطمینان ہے کہ وہ سچی ہیں اور حق پر ہیں .. انہوں نے کوئی شرک نہیں کیا .. وہ اس عقیدے پر قائم ہیں کہ “اللہ ایک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں” ..
اور کسی بھی چیز، پیسے، زمین، عہدے یا طاقت سے بڑا ہمارا وہ دعویٰ ہے جو ہم نے اللہ کے ساتھ کیا ہے کہ لا إلہ إلا اللہ ..
کیونکہ اللہ ہی عزت دیتا ہے اور اللہ ہی ذلت دیتا ہے، اللہ ہی زندگی دیتا ہے اور اللہ ہی موت دیتا ہے .. کوئی انسان کسی کو کچھ نہیں دے سکتا .. جب تک اللہ کی مرضی نہ ہو .. اور یہ بات وہ سمجھ چکی ہیں ..
کیونکہ یہ ساری بات ‘ توکل’ کی ہے ..
اور توکل ‘لافانی’ ہے و زندگی فانی !!
یہ ایک قانون بننا چاہیئے کہ کرنسی نوٹوں پر قائداعظم کے علاوہ کسی کی تصویر نہیں ہو سکتی۔
ورنہ شریف خاندان سے کوئی بعید نہیں یہ قائداعظم کی تصویر کی جگہ نواز شریف کی تصویر لگا دیں۔
کیوں اپنے لوگوں کو مجبور کر رہے ہو؟ یہ آپ کا فلسفہ ہمیں نہیں لگتا ۔۔
آپ الیکشنوں کی منڈی لگائیں گے، الیکشن بیچیں گے، اسمبلیاں بیچیں گے، اس کو آپ نہ غداری سمجھتے ہیں نہ برا کام سمجھتے ہیں اور جو اس کام کو روکتے ہیں ان کو آپ غدار کہتے ہیں۔
دماغ خراب ہو گیا ہے آپ کا؟
کونسے مذاکرات؟ مجھے گرفتار کرنا ہے تو کر لیں، لیکن یاد رکھیں، عمران خان ڈیل کر چکا ہے۔ عمران خان نے ڈیل اللہ تعالیٰ سے کر لی ہے۔ جو بندہ اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے، وہ ان یزیدوں سے مانگے گا؟ عمران خان 20 مرتبہ کہہ چکا ہے کہ میں ان یزیدوں کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا۔ علیمہ خان
#pakistan @Aleema_KhanPK
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
اپنی بے ایمانی اور کرپشن کا ذمہ دار سسٹم کو ٹھہرانا ایک طرف تو بیغیرتی اور بے ضمیری ہے، اور دوسری طرف فوج کے سیاسی کردار کی پردہ پوشی۔
قاضی فراڈ پر تاریخ ہمیشہ جرنیلوں کی طرح لعنت ہی بیجھے گی۔
پاکستان میں سب سے بیکار ترین اے سی اور اے سی کی سروس. Haier ایئر کنڈیشن والوں کی ہے
حالانکہ اس کے گارنٹی کارڈ پر صاف صاف لکھا ہوا ہے کہ پارٹس کی گارنٹی تین سال تک ہے
اور اس کے ان ڈور یونٹ میں جو
Evaporator Coil
لگایا جاتا ہے مطلب وہ جو اندر پائپوں کا جال ہوتا ہے جس میں سے گیس گزر کر ٹھنڈک پیدا کرتی ہے وہ اس قدر گھٹیا کوالٹی کا لگایا جاتا ہے کہ بڑی مشکل سے ایک دو سیزن ہی چلتا ہے
تو ہوا کچھ یوں کہ اس سال سیزن سٹارٹ ہوتے ہی
جب میں نے اے سی چلایا تو اس نے کولنگ نہیں کی میں سمجھا کہ شاید سروس کا کوئی مسئلہ ہے مطلب صاف صفائی کا میں نے وہ بھی کروائی کوئی فرق نہیں پڑا تو میرے کاریگر نے کہا استاد کیونکہ یہ ac گارنٹی میں ہے تو بہتر ہے کہ کمپنی والی کو فون کرو میں نے سروس سینٹر پر فون کیا اپ نے کمپلین درج کرائی انہوں نے مجھے ایک otp یا کہ یہ اسی وقت ہمارے کاریگر کو دیجیے گا جب اپ کا مسئلہ حل ہو جائے بہرحال اس کی وزٹنگ فیس 800 روپیہ ہے جو کہ اپ نے ادا کرنی ہے
میں نے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں ٹیکنیشن ایا اس نے چیک کیا اس نے مجھے بتایا کہ اس کے ان ڈور میں مسئلہ ہے ac کو اتارنا پڑے گا اور یہ سروس سینٹر جائے گا
اس کو اتارنے کے3500 روپے لگیں گے اپ کو سروس سینٹر خود لے کر جانا پڑے گا مطلب وہ سروس سینٹر میرے گھر سے کوئی 20 کلومیٹر دور تھا تو ایئر کنڈیشن کو لے کر جانے کا اور واپس لانے کا تقریبا 10 ہزار روپے کرایہ لگتا مطلب 5 ہزار اس کو لے کر جانے کا اور پھر پانچ ہزار اس کو واپس لے کر انے کا اس کے علاوہ جو بھی پارٹس تبدیل ہوگا وہ مجھے خود خریدنا پڑے گا
مطلب اگر اس کا اوپوریٹر کوائل خراب ہے تو اس کو خریدنے پر 22 سے 28 ہزار روپے لگیں گے
پھر جب ٹھیک ہو کر واپس ائے گا تو اس کو لگانے کے 3500 روپے لگے اور گیس فیلنگ کے 7 ہزار روپے
تو میں نے اس سے کہا کہ بھائی پھر گارنٹی کس چیز کی ہے اور بھائی مجھے یہ بتائیں کہ 3500 روپے لگانے اور 35 سو روپے اتارنے کے جو لگیں گے اس دوران کوئی آپ کوئی خاص رسم اپ ادا کریں گے مطلب ہمارے ادھر کے کاریگر یہی کام ہزار روپے میں کر دیں گے
مطلب کمپنی نے اگر کوائل اچھی کوالٹی کا نہیں لگایا تو اس میں میری کیا غلطی ہے
مطلب اپ نے جتنا خرچہ بتایا ہے میرے پیارے بھائی وہ ٹوٹل 52 ہزار بن رہا ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ مقامی کاریگر سے گیس مزدوری اور پارٹ سمیت یہ سارا کام اٹھ سے 10 ہزار روپے میں کروا سکتا ہوں
میں نے اسے بولا کہ میں ایک دن 2 دن میں بتاؤں گا کہ کیا کرنا ہے تیسرے دن میں نے سروس سینٹر میں فون کیا چلو انہی سے ٹھیک کرواتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ پارٹس جو اپ تین سال کی گارنٹی دے رہے ہو کہ سروس سینٹر والے نے بولا کہ بھائی اس پر کتنی گارنٹی ہوتی ہے یہ تو ہمیں نہیں معلوم یہ ٹیکنیکل سٹاف بتا سکتا ہے بس کال ختم ہونے پر اپ اچھے پوائنٹ دیجیے ہاں اپ کی پہلی والی کمپلین ختم کی جا چکی ہے لہذا اس دفعہ اگر اپ کمپلین اگر پھر سے لکھواتے ہو تو دوبارہ سے ہمارا جو کاریگر ائے گا اس کی سروس فیس 800 روپے ہوگی اور وہ اپ کو پھر وہی چیزیں بتائے گا کہ یہ یہ کرنا ہے
اب اپ ہی بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اسے مقامی کاریگر سے ٹھیک کرواؤں یا پھر نیا ہی لگوا لوں۔۔۔۔۔
آج نہیں تو کب آپ نے پاکستان میں انصاف کے لیے کھڑا ہونا ہے؟ کیا وکلا برادری کی کوئی ذمہ داری نہیں ہےجس طریقے سے پاکستان میں عدالتوں کو بے وُقعت کر دیا گیا ہے،؟
#ShameOnJudges
عسکری پنجاب اسمبلی کے سپیکر خود ایک ”نامعلوم“ بل سے لاعلم نکلے، سپیکر کی منظوری کے بغیر ہی بل کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ پنجاب حکومت ایک ایسا قانون لانے جا رہی ہے جس کے تحت کسی بھی شہری کی زمین ضبط کی جا سکے گی، موبائل فون تحویل میں لیے جا سکیں گے، بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جا سکیں گے، کسی شخص کی آن لائن موجودگی ختم کی جا سکے گی اور شہریوں کی الیکٹرانک نگرانی بھی ممکن ہو جائے گی۔ یہ تمام اختیارات محض ایک انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر استعمال کیے جا سکیں گے۔ یہ بل مینڈیٹ چور، عسکری وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم کی اپنی اور اُن کو مسلط کرنے والوں کی ذہنیت کی عکاسی ہے، جو پاکستان میں عوام کے تمام بنیادی حقوق سلب کرنا چاہتے ہیں۔
#AsimLaw
ایئر پورٹ پر اوور سیز پاکستانی سے نامناسب رویہ اور رشوت کا مطالبہ
میرا نام محمد ارشد ہے اور میں گزشتہ 16 سال سے یورپ میں مقیم ہوں۔ میں 11 مئی 2026 کو فلائٹ PK-750 کے ذریعے پاکستان آیا تھا۔ میری واپسی کی فلائٹ PK-749 مورخہ 21 جون 2026 کو تھی۔
میں تقریباً 9:00 بجے ایئرپورٹ پہنچا۔ اندر داخل ہوتے ہی میری ملاقات ایک افسر جناب ارشد خالد سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں لیٹ ہو چکا ہوں اور مجھ سے انتہائی غیر مہذب اور نامناسب انداز میں بات کی۔( جیسا کہ تصویر میں بھی ان کا انداز دیکھا جا سکتا ہے) حالانکہ میرے پہنچنے کے بعد بھی کئی دوسرے مسافروں کی بورڈنگ جاری تھی اور وہ میرے بعد ایئرپورٹ میں داخل ہوئے تھے۔
میں نے مؤدبانہ طور پر انہیں بتایا کہ میری فلائٹ کا مقررہ وقت 11:45 بجے تھا اور اس وقت صرف 9:00 بجے تھے۔ بظاہر فلائٹ کے وقت میں ایک گھنٹے کی تبدیلی کی گئی تھی، لیکن مجھے اس تبدیلی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
اس کے باوجود جناب ارشد خالد بار بار یہ کہتے رہے کہ میں لیٹ ہوں اور مجھے فلائٹ میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن پھر 20 ہزار مانگ لیئے جس پر جب میں نے رقم دینے سے انکار کیا تو انہوں نے مجھے بورڈنگ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اور کہا کہ 20 ہزار کے بغیر سوچنا بھی مت
میں نے کئی منٹ تک انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانا اور میں سفر نہ کر سکا، میرا ٹکٹ ضائع ہو گیا، اور مجھے پورے دن شدید ذہنی اذیت، پریشانی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
میں گزشتہ 16 سال سے یورپ میں مقیم ہوں اور میرے پاس تمام ضروری سفری دستاویزات موجود ہیں۔ ایک فرد کے غیر مناسب رویے کی وجہ سے مجھے مالی نقصان اور شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مجھے امید ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات اور انکوائری کر کے مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اوور سیز پاکستانی
محمد ارشد
ٹکٹ نمبر: 2142431511028