ایک ریٹائر ذہینی مریض کو آرمی چیف بنانے کا انجام ‼️
یہ عاصم منیر کی چارج شیٹ ہے ۔
ایک ایٹمی ملک کی ایسی رپورٹ اسکی سالمیت کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے اسکا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔
یہ چار سدہ اور مالا کنڈ کے اسٹریٹ مومنٹ کے تازہ مناظر ہیں
اب آپ سمجھیں سہیل آفریدی کو Controversial کرنی کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟!
کمپنی ڈیسپرٹ ہے کیونکہ اسکے پاس اطلاعات ہیں کہ اس بار عوام کاسڑکوں پر سونامی نکلے گا اور ان سب کو بہا کر لے جائے گا ۔
فوج اسی بات سے خوفزدہ ہے اس کی ایک بار پھر مس انفارمیشن کا سہارا لے رہی ہے ۔ مگر اسے اندازہ ہی نہیں بات اب سہیل آفریدی یا تحریک انصاف کی نہیں رہی بات آب سری لنکا ، نیپال اور بنگلہ دیش کے انقلاب کی طرف بڑھ رہی ہے ۔
اپنا ملک عاصم منیر کی سربراہی میں دہشت گردی کی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر آچکا ہے۔ اور یہ چلا ہے مکہ معاہدے کے تحت سعودیہ کو حوثیوں کے دہشتگردانہ کاروائیوں سے بچانے😆
فیل*مارشل!💥
سر اگر پی ٹی آئی نے چار اکتوبر کا لانگ مارچ 14 اکتوبر تک ملتوی کر دیا تو؟
سر چور اور چوکیدار تو کہہ رہے ہیں کہ قومی سلامتی کو لانگ مارچ سے نہیں سہیل آفریدی سے خطرہ ہے ۔
توصحیح تو کہہ رہے ہیں جو ملک کو لوٹنے والے چوروں ڈاکوں اور انکے سہولتکار چوکیدار کی مخالفت کرے گا، اسی سے اس ملک کی قومی سلامتی کو خطرہ ہوگا۔
سر اگر پی ٹی آئی والے اسی طرح لانگ مارچ ملتوی کرتے رہے اور شہر کنٹینرز سے بند رہا تو ملک کی معشیت اورقومی خزانے کا تو بیڑہ غرق ہو جائے گا ۔
سنتری صحیح کہتے ہو! اس ملک خطرہ کو نہ لانگ مارچ ، نہ دھرنوں نہ سہیل آفریدی، نہ سندھی نہ بلوچ نہ کسی پختون یا پنجابی سے ہے اس ملک کو اگر خطرہ ہے تو ان جرنیلوں سے ہے جو اپنا کام کرنے کے بجائے سویلنز کے کاموں میں ٹانگ اڑاتے ہیں ۔
سر اگر یہ قوم چاہتی ہے کہ یہ ملک ترقی کرے تو اس قوم کو سب سے پہلے چوکیداروں کو اپنی جگہ پر بھیجنا ہو گا،جنکی وجہ سے یہ دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ان جرنیلوں کے کاروبار بند کروانے ہوں گے۔قوم کو فوجیوں کی بنائی گئی تمام مصنوعات خریدنا بند کرنی ہوں گی تاکہ ان جرنیلوں کی بھی کمر ٹوٹے جیسے انھوں نے ملک و عوام کی کمر توڑی ہے ۔
پی آئی اے میں سفر کرنا بند کرنا ہو گا، جسے انہوں نے نیلام کروا کے خود ہی خرید لیا۔ عسکری بینکس سے پیسے نکال کر اکاونٹس بند کرنے ہوں گے ۔ جب تک انکے کاروبار بند نہیں ہوں گے یہ سرحدوں پر نہیں جائیں گے ۔اور جب تک یہ سرحدوں پر نہیں جائیں گے نہ یہ ملک ترقی کرے گا نہ یہ اس قوم کو اپنی مرضی سے حکمران منتخب کرنے دیں گے ۔
احسن اقبال کی ڈھٹائی، بےشرمی اور بےغیرتی دیکھنے کے بعد یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ؛
اگر مطمئن بےغیرتی کا کوئی چہرہ ہوتا، تو وہ جعلی ارسطو کا ہوتا۔
⚠️اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اگر عوام کا سمندر سڑکوں پہ نکل آیا تو عاصم منیر اور اسکی مسلط کردہ حکومت کو گھر جانا ہو گا ۔ پہلے دن سے یہ کسی بڑے عوامی احتجاج سے ڈر رہے ہیں۔ اسی لیے نو مئی اور چھیس نومبر کیا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی رہائی ہو یا مہنگائی کے خلاف احتجاج یا پھر عاصم منیر سے قبضہ چھڑانا ان سب کے لیے ن�� کسی سہیل آفریدی نہ تحریک انصاف بلکہ ایک بڑے عوامی انقلاب کی ضرورت ہے۔ اور جس دن اس ملک کی چوبیس کروڑ آبادی میں سے دو تین لاکھ بندہ بھی سڑکوں پہ نکل آیا، وہ دن عاصم منیر کے قبضے کا آخری دن ہو گا۔ فوج کے اندر سے لوگ اسے گھر بھجیں گے ۔ مگر یہ تب تک ممکن نہیں جب تک عوامی احتجاج طوفان کی صورت میں سڑکوں پر نہ نکل آئے۔
عمران خان صاحب کی بھانجی ، نورین نیازی صاحبہ کی بیٹی حاجرہ نیازی صاحبہ کا ٹویٹ
حاجرہ نیازی @Hajraniazi3
کہتی ہیں کہ
ایک خاندان کی حیثیت سے ہم اپنی والدہ نورین نیازی اور خالاؤں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں، جو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں غیر قانونی طور پر قید اور زیرِ حراست ہیں۔
ان کی گرفتاری کے بعد سے ہمیں ان تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے اور تشویشناک بات یہ ہے کہ ان کے وکلا میں سے بھی کوئی ان سے ملاقات یا رابطہ نہیں کر سکا۔
براہِ راست رسائی نہ ہونے کی صورت میں ہمارے پاس ان کی خیریت سے متعلق اس وقت گردش کرنے والی افواہوں اور رپورٹس کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
یہ عمر رسیدہ خواتین ہیں اور انہیں طبی ضروریات لاحق ہیں، جن میں باقاعدگی سے ادویات کا استعمال بھی شامل ہے۔ ان کے اہلِ خانہ کا یہ بنیادی حق ہے کہ انہیں معلوم ہو کہ وہ محفوظ ہیں، انہیں درکار طبی سہولیات اور دیکھ بھال مل رہی ہے اور ان کے ساتھ انسانی اور باوقار سلوک کیا جا رہا ہے۔
ہم اپنے ماموں عمران خان کے معاملے میں بھی ایسا پہلے دیکھ چکے ہیں۔ جب ان کے اہلِ خانہ اور وکلا کو ان تک رسائی سے محروم رکھا گیا تو ان کی صحت کے بارے میں افواہیں اور متضاد رپورٹس بغیر کسی تصدیق کے گردش کرتی رہیں۔ جب ان کی حالت کا علم ہوا، اس وقت تک ان کی بینائی کو شدید نقصان پہنچ چکا تھا۔
ہم صرف اس چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ایک بنیادی اور مسلمہ حق ہونا چاہیے، یعنی ہماری والدہ اور خالاؤں تک رسائی۔
ان کے اہلِ خانہ اور وکلا کو ان سے ملاقات کرنے، ان سے بات کرنے اور خود یہ دیکھنے دیا جائے کہ وہ محفوظ ہیں اور انہیں درکار طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔
حاجرہ نیازی
ایک طرف تو نعیم اشرف بٹ صاحب کے مطابق اسٹیبلیشمنٹ اور عمران خان کے معاملات اتنے زبردست ہو گئے ہیں کہ 14 اگست کو عمران خان کی پسند کا کیک لے جایا گیا اور جیل میں کاٹا گیا ، دوسری طرف آج کہہ رہے ہیں کہ عمران خان اتنے پریشان ہیں کہ میرا کچھ نہیں ہورہا ، اس لیے سہیل آفریدی عہدہ چھوڑ دے