ایک نہیں دو پاکستان۔۔۔
ہرجگہ غریبوں کی جیب سے چالان نکلوانےوالے سفید چمگادڑ ایک سائیں کے لونڈے کی ون ویلنگ کو پروٹو کول دیتے ہوئے۔۔۔
سائیں تو سائیں کا کتا بھی سائیں۔۔🤔
گلگت بلتستان کی بیٹی منیشہ علی کی شاندار جیت کے بعد اپنے والدین سے فون پر ہونے والی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس میں کامیابی کی خوشی اور جذبات صاف نظر آتے ہیں۔ ❤️
گلگت بلتستان کی بیٹی منیشہ علی نے پاکستان کا نام روشن کر دیا! 🇵🇰🥇
پاکستان کی منیشہ علی نے انگولا کے شہر لوانڈا میں ہونے والے IMMAF ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔ منیشہ علی نے میزبان انگولا کی فائٹر لیونیلا ازابیل بلائیے کو دوسرے راؤنڈ میں اسٹینڈنگ گلوٹین سبمیشن کے ذریعے شکست دی۔
گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی اس باصلاحیت فائٹر کی نظریں اب IMMAF ورلڈ چیمپئن شپ پر ہیں، جو یکم نومبر سے جارجیا میں شروع ہونے والی ہے۔
منیشہ علی کی یہ کامیابی گلگت بلتستان اور پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے
اہ انسانیت بھی شرما گئی ہوگی
باپ زندگی اور موت کے کشمکش میں ہے بیٹا سر کے پاس بے بس ہو کر کھڑا ہے
اور وارڈن پولیس چالان کاٹنے کے لیے بستر پے پڑا ہوا باپ سے سوالات کر رہا ہے
بہاولپور میں وارڈن پولیس کا ایک شہری پر تشدد وجہ شہری کا کہنا تھا کہ ناجائز چالان کر رہا تھا وارڈن پولیس
جب شہری نے مزاحمت کی تو وارڈن پولیس کا شہری پر مبینہ تشدد ایمرجنسی کی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا
وارڈن پولیس کا ہسپتال پہنچ کر بھی چالان کرنے کی کوشش یہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
اگر ایک شہری زخمی حالت میں ایمرجنسی میں زیرِ علاج ہو اور اس وقت بھی اہلکار اسے چالان کے لیے پریشان کریں تو یہ رویہ قانون کی بالادستی نہیں بلکہ شہری کی تذلیل کے مترادف ہے۔
اس منظر نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے
پہلے تو ہمیں یہ بتائیں کہ ایک وارڈن پولیس والے کو یہ کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ ایک عام شہری کے اوپر ہاتھ اٹھائے؟
کیا پاکستان میں قانون کا جنازہ اٹھ چکا ہے جو ایک ملازم ایک شہری کے اوپر پہلے تشدد کرتے ہیں پھر یہ سب کچھ ہونے کے بعد بھی ہسپتال جا کر اس شہری کے اوپر چالان کرتا ہے؟
کیا اب پاکستانی شہری کی زندگی کی قیمت دو ہزار روپے کے چالان سے بھی کم ہو گئی ہے؟
شئیر کریں اس سے پہلے کہ درندوں کے ہاتھ لگ جائے
ابھی کچھ دیر قبل بنی گالہ اسلام آباد کی حدود سے ماریہ نامی یہ معصوم بچی ملی ہے جو غلطی سے بس میں سوار ہوکر کوئٹہ سے اسلام آباد آگئی ۔
سڑک پہ بیٹھی سہمی ہوئی تھی ﷲ نے کرم کیا کہ کسی برے ہاتھ میں نہیں گئی
اس بچی کو کچھ بھی نہیں پتا بس اتنا پتا ہے کہ یہ اس کے والد کا نام غلام رسول ہے چودہ اگست کو کسی نے اس کو بس میں چڑھا دیا تھا
یہ بیچاری اسلام آباد پہنچ گئی پشتو بولتی ہے دس دن سے مختلف علاقوں میں رل رہی ہے ۔
ایک پشتو سمجھنے والے پولیس والے نے اس کو پکڑا تو پتا چلا کہ یہ زہنی معذور ہے بیچاری بھوکی تھی انہوں نے کھانا کھلایا
یہ کاسی روڈ / حاجی غیبی روڈ، کوئٹہ کی رہائشی ہے اور اس کی عمر 24 سال ہے۔
جیسے کل آپ نے کراچی والے بچے کو سب تک پہنچایا تو الحمداللہ اس کے والدین کا پتا چل گیا
تو اس بچی کا بھی فرض ادا کریں ہوسکتا ہے کہ آغواء کرکے کوئی لے آیا ہو
😥😔😪😪
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
یہ قیدی ایسے عدالتی فیصلے کا سہارا کیوں لے رہے ہیں جس پر عملدراۤمد ہی نہیں ہوا۔
یہ علاج کیلئے 4 ہفتے تک لندن جانے کی درخواست دیں اور پھر نوازشریف کی طرح 4 سال وہاں رہیں ، اس فیصلے پر تو عمل بھی ہوچکا ہے
ہری پور میں احتجاج کے دوران عوام ڈی پی او ہری پور پر سوالات اٹھارہے ہیں ۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ 14 روز گزر چکے ہیں لیکن پولیس 5 سالہ معصوم بچی آیت نور کا سراغ نہیں لگاسکی ۔ اس پر ڈی پی او کو استعفیٰ دینا چاہیے ۔
#JusticeForAyatNoor
دو قدم پر سندھ پولیس کا ہیڈ کوارٹر ہے اور یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ گاڑیاں روک رہے ہیں ۔ ان سے دس دس ہزار روپے مانگ رہے ہیں ۔ ٹاور بس اسٹاپ کراچی کی ویڈیو ہے ۔ اس شخص نے ہمت کی ویڈیو بنائی تو ٹریفک پولیس اہلکار جو وہاں قریب موجود تھا فرار ہوگیا جبکہ یہ نامعلوم شخص ویڈیو بنانے والے کو دھمکاتا رہا لیکن اس کے پاس کوئی پرمپٹ کوئی دستاویزات موجود نہیں تھیں ۔
🚨جو لوگ اپنے اساتذہ اور بزرگوں اور والدین کا احترام نہیں کرتے عزت نہیں کرتے وہ زلیل و خوار ہوتے ہیں اور انکی نسلیں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں
چہرے پر بیشمار زخم سجائے ہوئے پولیس اسٹیشن ہٹیاں بالا میں سلاخوں کے پیچھے پابند یہ بزرگ ۔کوئی پیشہ ور مجرم نہی ہیں نا ہی انہوں نے ملک کا پیسہ لوٹا ہے ناہی یہ کسی غیر اخلاقی جُرم کے مرتکب ہوئے ہیں
بلکے یہ پیشے کے اعتبار سے معلم ہیں انکا نام پروفیسر جمیل صاحب ہے انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی سے فزکس میں ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے ۔۔۔۔پروفیسر ڈاکٹر نے آج جہلم ویلی کے ڈی سی صاحب کے دفتر میں جاکر ۔پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی کیخلاف درخواست دی اور احتجاج کرا ۔شاید بزرگ غصے میں کچھ تلخی بھی کر گئے ہونگے
جس پر ڈی سی صاحب نے پولیس کے ذریعے اس عظیم اُستاد پر خوفناک تشدد کروا کر ۔۔۔انِہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیاجس معاشرے میں اُستاد اور وہ بھی ایک پی ایچ ڈی اُستاد کی یہ عزت ہو اُس درندوں کی زمین پر بارشیں نہ ہونا۔خشک سالی ہونا وباوں کا پھوٹ جانا کوئی اچنبے کی بات نہی
ہمیں افسوس ہے اس قانون پر جس کی زد میں ہمیشہ کمزور آتے ہیں اور جانوروں سے بدتر عتاب کا شکار ہوتے ہیں خطے بھر کے طلبہ اور اساتذہ کو اس بیہمانہ اقدام کے خلاف یک زبان ہو کر اُٹھنا ہو گا وگرنہ یہ رسم چل نکلی تو کوئی بھی نہی بچے گا
پنجاب کے ایک گاؤں نے جنازے کی رسم کو بدل کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔
جہاں ایک غریب شخص کا جنازہ جب جنازہ گاہ پہنچا اور صفیں درست ہوئیں، تو امام صاحب نے شرکاء سے مخاطب ہو کر ایک دل سوز اعلان کیا:
یہ میت جس کا ہم جنازہ پڑھنے لگے ہیں، اپنے گھر کا واحد کفیل اور سہارا تھا۔ سوگواران میں صرف ایک بیوہ اور تین چھوٹے بچے ہیں۔ عدت کے ایام میں ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ لہذا، جنازہ گاہ کے مرکزی دروازے پر ایک چادر بچھا دی گئی ہے۔ جو بھی صاحبِ توفیق بغیر کسی دکھلاوے کے، اللہ کی رضا کے لیے ایک روپے سے لے کر اپنی حیثیت کے مطابق جتنی رقم دے سکتا ہے، وہ وہاں ڈال دے۔
جنازے کے بعد جب چادر سے رقم جمع کی گئی تو وہ ایک لاکھ روپے سے زائد کی تھی۔ کسی کے 10 روپے تھے تو کسی کے 100، لیکن اس مشترکہ ہمدردی نے یتیم بچوں کے لیے کئی مہینوں کا معاشی سکون فراہم کر دیا۔ تعزیت صرف ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا نام نہیں، بلکہ دکھ کی گھڑی میں عملی سہارا بننے کا نام ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر کوئی پودا لگائے اور اس سے کسی انسان، پرندے یا جانور کو فائدہ پہنچے، تو لگانے والے کو اس کا بھی ثواب ملتا رہتا ہے۔ جنت کا آسان راستہ خلقِ خدا کی خدمت میں چھپا ھوا ہے۔
جزاک اللّہ خیر۔جَـــزَاڭَ_اللّٰہُ خَــیْراً کَـــثِیْرَا وَ اَحْـــسَنَ الْـــجَزَاء فِی الــدُّنْیَا وَلْآخِـرَةْ.