Independent media platform documenting Balochistan’s history, human rights, law & order, and untold stories through investigative reports & documentaries.
ضلع بارکھان کے علاقے رکھنی سے اغوا کیے گئے شہری کی بازیابی کے لیے مسوری امن فورس نے بڑا آپریشن کیا ہے، جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم بی ایل ایف (BLF) کے دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق امن فورس نے بی ایل ایف کے ان دہشت گردوں کا تعاقب کیا جنہوں نے رکھنی کے علاقے سے واحد بخش نامی شہری کو اغوا کیا تھا۔
تعاقب کے دوران دہشت گردوں نے مغوی واحد بخش کو قتل کر کے اس کی لاش درخت سے لٹکا دی اور فرار ہونے کی کوشش کی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی امن فورس کے کمانڈر جیٹھا مسوری اور آفتاب بگٹی کی قیادت میں 150 سے 200 بلوچ رضاکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مفرور دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے ضلع بارکھان کے علاقوں بغاوو اور تغاؤ تک پہنچ گئے۔
ذرائع کے مطابق وہاں پر بی ایل اے کے لوگ بھی موجود تھے ۔ دونوں تنظیموں کے دہشت گردوں نے مختلف گروپس میں تقسیم ہو کر فرار ہونے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں فورس اور دہشت گردوں کے درمیان وقفے وقفے سے شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق کارروائی میں بی ایل ایف کے 2 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے ایک کی لاش برآمد کر لی گئی ہے جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔
آپریشن کے دوران امن فورس کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم فائرنگ کے تبادلے کے دوران یو بی جی ایل (UBGL) پھٹنے سے آفتاب بگٹی زخمی ہوئے ہیں۔ علاقے میں سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔
پاکستان کے خلاف انڈیا اور افغانستان کا ایک اور منصوبہ بینقاب ہوگیا ۔ معتبر ترین سیکیورٹی ذرائع سے حاصل ہونے والی تازہ ترین اطلاعات نے پورے خطے میں ہلچل مچا دی ہے۔ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے ایک ہولناک پلان سامنے آیا ہے جس کے تانے بانے سرحد پار دشمن قوتوں اور ان کے آلہ کاروں سے ملتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، افغانستان میں موجود بی ایل اے اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کے لیے تلملا رہی ہے۔ خفیہ رپورٹس سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ گروہ اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے بلوچستان میں ایک بار پھر 'ہیروف' جیسے بڑے حملوں کی کڑی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
گزشتہ دنوں چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی جانب سے سرحدی باڑ کاٹ کر دہشت گردوں کو پاکستانی حدود میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی، جسے پاک فوج کے جوانوں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے بروقت ناکام بنا کر دشمن کے ارادے خاک میں ملا دیے۔
چمن واقعے کے بعد جب سیکیورٹی اداروں نے سیٹلائٹ ڈیٹا، فون ٹیپنگ اور خفیہ انٹیلی جنس معلومات کا باریک بینی سے جائزہ لیا، تو ایک لرزہ خیز نقشہ سامنے آیا۔ دشمن کے نشانے پر اب صرف سرحدی علاقے ہی نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی شہ رگ بھی ہے
انڈیا، جو پاکستان کی 'ایران امریکہ ثالثی' میں بڑھتے ہوئے کردار اور گوادر و کراچی پورٹس کی ترقی سے سخت خار کھائے ہوئے ہے، اب دہشت گردی کا دائرہ ملک کے معاشی مرکز کراچی تک پھیلانے کی سازش کر رہا ہے۔
عام شہریوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانا دشمن کا بنیادی ہدف ہے۔
بینکوں، پیٹرول پمپس اور حساس سرکاری دفاتر کو نشانہ بنا کر ملکی معیشت کو مفلوج کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
ایک طرف بھارتی افواج کی سرحدوں پر غیر معمولی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تو دوسری طرف بی ایل اے کے ہینڈلرز کراچی کو لہو لہو کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
لیکن دشمن یہ بھول گیا ہے کہ پاکستان کے محافظ سوئے نہیں ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام حساس اداروں اور سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ کراچی سمیت ملک بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے ہیں اور ہر اس ہاتھ کو توڑنے کی تیاری مکمل ہے جو پاکستان کی سلامتی کی طرف بڑھے گا۔
🚨Breaking : China Warns Taliban: Halt Support for Terror Groups or Face Suspension of All Development Projects in Afghanistan
According to reliable sources, Chinese officials have issued a strong warning to the Afghan Taliban leadership, stating that continued patronage of terror outfits will leave Beijing with no choice but to freeze its investments and projects in the country.
China and Pakistan have jointly expressed serious concern over the presence of safe havens for groups like the BLA and TTP inside Afghanistan.
Both countries maintain that these terror networks are using Afghan soil to launch attacks against Chinese and Pakistani interests.
China and Pakistan have already submitted a joint proposal at the United Nations to declare the BLA as an international terrorist organization.
Sources further reveal that Beijing is also deeply dissatisfied with the current policies of the Afghan interim government regarding counter-terrorism and regional stability.
🚨بریکنگ نیوز🚨
نرگس بلوچ کے اغواہ پر بی وائی سی کی پرسرار خاموشی سامنے آئی ہے ۔
نرگس بلوچ کو بی ایل اے سے وابستہ عناصر نے اغواہ کیا ۔ اس پر بی وائی سی نے آج تک ایک بیان نہیں دیا۔
خدیجہ بلوچ کو شواہد کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا ۔ اس پر بی وائی سی احتجاج کررہی ہے ۔
بلوچستان میں خواتین کے استحصال کا ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے پوری بلوچ قوم کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے ۔اور اب ہر شخص یہ سوچ رہا ہے کہ بچیوں کی شادی سے قبل ممکنہ شوہر کی جانچ پڑتال ضرور کرنی چاہیے ۔ یہ واقعہ ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں واقع فیصل کالونی کی رہائشی رحیمہ بلوچ کیساتھ پیش آیا ہے جو ایک عام گھریلو خاتون تھیں۔ محمد رحیم کی بیٹی رحیمہ کا تعلق ایک عام بلوچ خاندان سے تھا۔
زرائع کے مطابق اپریل 2025 میں ان کی شادی منظور احمد نامی شخص سے ہوئی تھی۔ شادی کے ابتدائی مہینوں میں گھریلو زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی، مگر جلد ہی شوہر کے ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم سے روابط سامنے آئے جنہوں نے ان کی پوری زندگی کو المناک موڑ پر دھکیل دیا۔شادی کے تقریباً دو ماہ بعد منظور احمد نے رحیمہ کے نام پر ایک سم کارڈ حاصل کیا اور انہیں ایک موبائل فون بھی دے دیا۔
ذرائع کے مطابق شوہر نے اس فون کو دہشت گردوں سے رابطے کے لیے استعمال کیا، جبکہ رحیمہ کو اس کی مکمل تفصیلات کا علم نہیں تھا۔ نومبر 2025 میں ان کے گھر ایک عورت زرینہ رفیق آئی جسے منظور احمد نے ’’مسافر‘‘ یا مہمان کے طور پر پیش کیا۔زرینہ رفیق بی ایل ایف سے منسلک ایک خاتون تھی جو خودکش حملہ آور بننے والی تھی۔
رحیمہ کے گھر میں اسے پناہ دی گئی اور اگلے ہی دن منظور احمد نے اسے افغانستان لے جا کر تربیت دلائی۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد زرینہ کو پاکستان واپس بھیجا گیا اور نومبر 2025 کے آخر میں اس نے ایف سی کے ایک کیمپ پر خودکش حملہ کر دیا۔حملے کے فوراً بعد منظور احمد نے رحیمہ کو حاملہ چھوڑ کر خود افغانستان فرار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
اس نے رحیمہ کے بھائی زبیر سے رابطہ کیا اور مدد مانگی تاکہ وہ بچ سکے۔ رحیمہ بلوچ نے بعد میں اپنے بیان میں واضح کیا کہ انہیں شوہر کی ان تمام سرگرمیوں کا مکمل علم نہیں تھا۔ وہ صرف گھریلو زندگی گزار رہی تھیں، مگر شوہر نے انہیں اور ان کے گھر کو دہشت گردوں کی سہولت کاری کے لیے استعمال کر لیا۔
رحیمہ بلوچ کو افغانستان جاتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ اپنے اعترافی بیان میں انہوں نے تمام واقعات تسلیم کر لیے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ دہشت گرد گھریلو ماحول کو بھرتی، تربیت اور سرحد پار معاونت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ بلوچ خواتین کو بے خبر رکھ کر ان کا مکمل استحصال کیا جا رہا ہے۔
بی وائی سی بلوچستان کی مقامی غیر رجسٹرڈ تنظیم ہے ۔
لیکن بی وائی سی اور اس کی رہنماؤں کے اکاؤنٹس پر ٹویٹس صرف انگلش میں ہوتی ہیں ۔
بلوچستان میں لوگوں کو اردو بمشکل سمجھ آتی ہے۔ انگلش تو بعد کی بات ہے۔
تو پھر بی وائی سی انگریزی ٹویٹس کن کے حقوق کیلئے کرتی ہے
یہ خاتون رحیمہ بلوچ ہے، جس کے شوہر نے بی ایل اے کے کارندے کے طور پر اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ شوہر نے رحیمہ کے نام پر سم نکلوائی اور اسے فون لے کر دیا، جس کے ذریعے وہ مسلسل دہشت گردوں سے رابطے میں رہا اور سہولت کاری کرتا رہا۔ اس شخص نے نہ صرف ایک خاتون خودکش حملہ آور کو اپنے گھر میں پناہ دی بلکہ اسے افغانستان لے جا کر حملے کی تربیت بھی دلوائی۔
بعد ازاں، اسی تربیت یافتہ خودکش حملہ آور خاتون، جس کا نام زرینہ رفیق تھا، کو نوشکی میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس بزدلانہ کارروائی کے بعد رحیمہ کا شوہر خود تو افغانستان فرار ہو گیا، لیکن اس نے اپنے سالے (بیوی کے بھائی) کو پیغام بھیجا کہ وہ رحیمہ کو بھی کسی طرح سرحد پار افغانستان پہنچا دے۔ تاہم، یہ گروہ ریاست کے حفاظتی اداروں کے ریڈار پر آ چکا تھا، چنانچہ افغانستان فرار ہونے کی یہ کوشش ناکام بنا دی گئی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
آج رحیمہ بلوچ نے خود اپنی زبان سے بی ایل اے کے لیے سہولت کاری کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ یہ وہی خاتون ہے جس کی رہائی کے لیے 'بلوچ یکجہتی کمیٹی' مسلسل مہم چلاتی رہی اور اسے معصوم قرار دے کر ریاست مخالف بیانیہ ترتیب دیا جاتا رہا۔
اب حقائق بلوچ عوام کے سامنے مکمل طور پر واضح ہو چکے ہیں کہ کس طرح معصومیت کا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردی کی پشت پناہی کی جا رہی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب بھی کوئی خاتون خودکش حملہ آور سامنے آتی ہے، اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا نام اور کردار ضرور نمایاں ہوتا ہے۔
🚨 بریکنگ نیوز🚨
بلوچستان حکومت نے جیونی گوادر میں کوسٹ گارڈ پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کی تصاویر جاری کردی ہیں ۔ اور ان دہشتگردوں کے سر پر انعام بھی رکھ دیا گیا گیا ہے
یہ دہشتگرد اس کے علاوہ بھی متعدد وارداتوں میں مطلوب ہیں اگر ان سے متعلق اطلاع ہو تو قریبی تھانے میں یا پھر 1244 پر کال کریں ۔
بلوچستان کا ایران کیساتھ 900 کلو میٹر سے زائد طویل بارڈر ہے ۔ جہاں پر پاک فوج تعینات ہیں لیکن بارڈر پر آج تک بی ایل اے نے ایک بھی حملہ فوج پر نہیں کیا ۔ کیوں کہ پھر آمنے سامنے لڑنا پڑے گا اور ڈالرز کیلئے کوئی بھی سرمچار اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا ۔ اگر مسئلہ فوج سے ہے ۔ پھر بارڈر پر فوج سے کوئی لڑائی کیوں نہیں ۔
لیکن بی ایل اے نے ہمیشہ عام عوامی مقامات پر عام بلوچوں کے درمیان سے اچانک حملے کئے ہیں ۔ تاکہ عام بلوچوں کو مشکوک بنایا جائے ۔
موٹر سائیکل غریب بلوچ کی آمد و رفت کا سب سے سستا ذریعہ ہے ۔ بی ایل اے کی دہشتگردی میں سب سے زیادہ موٹرسائیکل کا استعمال کیا گیا ۔ اب سیکیورٹی اہلکار ہر موٹرسائیکل کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ کیوں کہ ایسی ہی موٹرسائیکلز سے ان پر حملے ہوتے ہیں ۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمی حالات کی وجہ سے عام لوگ چہرے اور سر کو مفلر سے ڈھانپ لیتے ہیں بی ایل اے نے سب سے زیادہ اس کا بھی غلط استعمال کیا ۔ بلوچستان میں اب چہرہ اور سر ڈھانپنے پر پابندی پر غور کیا جارہا ہے ۔ جس کا نقصان عام بلوچ کو ہوگا ۔ کیوں کہ بی ایل اے کا ہر دہشتگرد چہرہ ڈھانپتا ہے ۔
گوادر جیونی میں غریب مچھیرے عام کشتیوں میں شکار کرتے ہیں یہی ان کا واحد روزگار ہے ۔ اب بی ایل اے نے عام غریب مچھیرے بن کر کشتی سے اچانک کوسٹ گارڈ پر حملہ کیا ۔ اس میں عام بلوچوں کی جان بھی جاسکتی تھی ۔ اب کشتیوں پر نگرانی سخت کردی جائے گی ۔ اور مسئلہ عام بلوچ کو ہی ہوگا ۔ کیوں کہ ان ہی کشتیوں سے کوسٹ گارڈ پر حملہ ہوا ہے ۔
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ بڑھی تو موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی لگادی گئی تھی ۔ یعنی اس سے نقصان عام عوام کا ہوتا ہے ۔
بی ایل اے کے ہر اقدام سے نقصان عام غریب بلوچوں کا ہورہا ہے اور بی ایل اے کو اس کی پروا بھی نہیں ہے ۔ اس کو ان ڈالرز سے مطلب ہے جو انڈیا اور دیگر ملک اس کو دیتے ہیں کہ گوادر کو کبھی بین الاقوامی پورٹ نہ بننے دینا کیوں کہ پھر روزگار آئے گا عام بلوچ خوشحال ہوجائے گا۔ اور پاکستان کے خلاف مہم چلانے کیلئے کچھ نہیں رہے گا ۔
🚨 BREAKING EXPOSÉ: Over 3,000 fake accounts running anti-Saudi Arabia , anti-Iran & anti-Pakistan campaigns have been traced back to India.
Led by ZIA UL REHMAN FAROOQI a Sindh-origin employee of the Indian Embassy in Malaysia & RAW operative under Major Arjun Shukla’s social media cell.
Zia Shar alone created 1,300 accounts using fake Baloch names & identities, including “Balochistan Facts”, directly supervised by Indian handlers.
These accounts attack PTI, PML-N & PPP, damage Pakistan’s ties with Saudi Arabia, Turkey, UAE, Iran & Gulf states, while pushing pro-India narratives disguised as Baloch voices.
Afghan accounts also linked in this coordinated network clear violation of X policies.
Evidence is damning. Full details dropping soon.
🚨 EXCLUSIVE:
The Baloch Yakjehti Committee (BYC) was formed in 2020.
Just 2 years later, on April 26, 2022, Shari Baloch became the first woman in Balochistan's history to carry out a suicide bombing at Karachi University.
Since then, a disturbing wave has followed:
- Sammi Qalandrani Baloch (Turbat, June 2023)
- Mahil Baloch (Bela, Aug 2024)
- Mahkan Baloch (Gwadar, March 2025)
- Zarina Rafiq Baloch (Nokkundi, Feb 2026)
- Asifa Mengal & Hawa Baloch (Feb 2026)
All highly educated women with zero personal grievances.
Coincidence?
Before BYC: No Baloch women in armed militancy.
After BYC: Women training with BLA & carrying out suicide attacks.
The pattern is clear.
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم انٹیلی جنس آپریشن میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے افغان طالبان سے وابستہ 20 سالہ دہشتگرد حبیب اللہ عرف لالو کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ شخص بلوچستان میں کوآرڈینیٹڈ دہشتگردی کی کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ تھا اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے دو جوانوں کے قتل سمیت متعدد خفیہ آپریشنز میں ملوث رہا ہے۔
سیکیورٹی زرائع نے بتایا کہ ملزم تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کا رکن ہے اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ساتھ ساتھ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بھی اس کے مضبوط روابط تھے۔
حبیب اللہ افغانستان کے پکتیا صوبے کا رہائشی ہے۔ وہ ٹی ٹی اے میں بھرتی ہوا، فوجی تربیت حاصل کی اور جعلی پاکستانی سی این آئی سی اور پاسپورٹ استعمال کر کے پاکستان میں داخل ہوا۔ یہ شخص پہلے دو بار سیکیورٹی فورسز سے بچ کر افغانستان فرار ہو چکا تھا، مگر دوبارہ واپس آ کر دہشتگردی کی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
اس کا بھائی پکتیا میںافغان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا کمانڈر ہے۔
ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں ایرانی سیکورٹی فورسز اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ دونوں جانب جانی نقصان ہوا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آئی آر جی سی کے کم از کم دو اہلکار ش ہ ی د اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ش ہ ی د ہونے والوں میں ایک بسیج کمانڈر بھی شامل ہے۔مغرب کی جانب سے کردوں اور مشرق کی جانب سے بی ایل اے کے ذریعے ایران پر پراکسی حملے کیے جا رہے ہیں۔
ایران اور پاکستان دونوں کو مشترکہ طور پر ان گروہوں کا سامنا رہا ہے ۔ جن کے متعلق مبینہ طور پر دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ ان کو ایک اسلامی ملک کی حمایت حاصل ہے ۔
بی این ایم ایک ایسی تنظیم ہے جو بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کیلئے مہم چلاتی ہے ۔ ایسی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں کہ مبینہ طور پر اس تنظیم کو انڈیا سے فنڈنگ ملتی ہے ۔ اس تنظیم کا سربراہ ڈاکٹر نسیم ماضی میں دہشتگرد تنظیم ایل ایف کا حصہ رہا ہے ۔ اس کو ڈاکٹر اللہ نذر کا دست راست سمجھا جاتا تھا لیکن پھر افغانستان کے راستے ڈاکٹر نسیم یورپ فرار ہوگیا ۔ اور وہاں پر سیاسی پناہ لے لی ۔ حال ہی میں اختر مینگل نے اس تنظیم کے ایک پروگرام میں بھی شرکت کی ہے ۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کا قیام باقاعدہ طور پر 2020 میں عمل میں لایا گیا تھا۔ بی وائی سی کے قیام کے محض دو سال بعد 26 اپریل 2022 کو شاری بلوچ نے کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکہ کیا ۔ یہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا کہ کسی خاتون نے خودکش دھماکہ کیا ۔ اور پہلی بار بی ایل اے میں خواتین ٹریننگ لیتی بھی نظر آئی۔
جیسے جیسے بی وائی سی کی سرگرمیاں بڑھی ۔ بی ایل اے میں خواتین کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور خواتین کی جانب سے خودکش حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔
تین جون 2023 کو سمعیہ قلندرانی بلوچ نے تربت میں خودکش حملہ کیا ۔ ماہل بلوچ نے اگست 2024 میں بیلہ میں خودکش دھماکہ کیا ۔ ماہکان بلوچ نے مارچ 2025 میں گوادر میں خودکش کیا ۔ زرینہ رفیق بلوچ نے فروری 2026 کو نوکنڈی میں خودکش کیا ۔ آصفہ مینگل اور حوا بلوچ نے فروری میں ہی آپریشن ہیروف دو کے دوران خودکش کئے ۔
ان میں سے اکثر خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں ۔ کوئی محرومی یا لاپتہ افراد کا سامنا نہیں تھا ۔ ان کے پاس خودکش کرنے کیلئے کوئی ایک جواز بھی نہ تھا ۔
یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ بی وائی سی کے قیام سے قبل بلوچستان کی تاریخ میں کبھی کسی خاتون کے ہتھیار اٹھانے کا زکر نہیں ملتا۔ اور بی وائی سی کے قیام کے بعد خواتین نا صرف خودکش حملے کرتی ہیں بلکہ جنگی ٹریننگ کی ویڈیوز بھی سامنے آرہی ہیں ۔
بلوچستان کے ضلع خاران میں سیکیورٹی فورسز کی اہم کاروائی میں بی ایل اے کے 4 دہشتگرد مارے گئے ہیں ۔ جبکہ دو کو زخمی حالت میں زندہ گرفتار کرلیا گیا ہے ۔
اطلاعات کے مطابق، افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے آپریٹ کرنے والے بی ایل اے کے دہشت گردوں نے خاران میں ایک گاڑی میں نصب 14.5 ملی میٹر کی ہیوی مشین گن (HMG) سے سکیورٹی فورسز پر بزدلانہ فائرنگ شروع کی۔ دہشت گردوں کا خیال تھا کہ وہ اپنی بھاری مشین گن کے بل بوتے پر پوسٹ کو نقصان پہنچائیں گے، لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ اوپر فضا میں ایک " ڈرون" کوّے کی طرح ان پر منڈلا رہا ہے۔
ڈرون آپریٹر نے مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کی متحرک گاڑی پر لیزر لاک کیا اور عین نشانے پر فائر کیا۔
ایک زوردار دھماکے کے ساتھ دہشت گردوں کی گاڑی ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔ گاڑی میں سوار 4 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ان کی بھاری مشین گن بھی تباہ ہو گئی۔
دھماکے کے فوراً بعد دو دہشت گردوں نے زخمی حالت میں قریبی جھاڑیوں اور پہاڑوں کی آڑ لے کر فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم زمین پر موجود سکیورٹی فورسز کے کوئیک ریسپانس دستوں نے ان کا گھیراؤ کر لیا اور دونوں کو زخمی حالت میں زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ ان گرفتاریوں سے بی ایل اے کے نیٹ ورک اور ان کے افغان سرپرستوں کے بارے میں اہم معلومات ملنے کی توقع ہے۔
یہ آپریشن بی ایل اے کے ان آقاوں کے لیے ایک کھلا پیغام ہے جو افغانستان میں بیٹھ کر معصوم پاکستانیوں اور سکیورٹی اداروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
پاکستان اب ڈرون وارفیئر میں اتنا خود کفیل ہو چکا ہے کہ دہشت گردوں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ دہشت گرد سرحد پار سے جدید اسلحہ لے کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، لیکن پاک فوج کی چاک و چوبند دستے ان کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی کاروائیوں میں سیکیورٹی فورسز اور مقامی قبائیل نے نے بی ایل اے کو شرمناک شکست سے دوچار کر دیا ہے۔
پنجگور کے مختلف علاقوں میں بی ایل اے کے دہشت گردوں نے رات کی تاریکی میں نہتے شہریوں اور مقامی بلوچ قبائل کے گھروں پر راکٹوں اور مارٹروں سے حملہ کیا۔
مقامی بلوچ قبائیل اور سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور بھرپور جواب دیا جس کے نتیجے میں 6 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے راکٹ لانچرز، امریکی ساختہ M16 رائفلیں، جامرز اور بی ایل اے کے جھنڈے برآمد ہوئے، جو ثابت کرتے ہیں کہ یہ گروہ غیر ملکی آقاؤں کے ایجنڈے پر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے مکمل لیس تھا۔
اس معرکے میں امیر، برہان، مجاہد اور امداد جیسے بہادر بلوچ قبائیلی جوانوں نے اپنے گھروں اور وطن کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی قربانی نے ثابت کر دیا کہ بلوچستان کا بچہ بچہ پاکستان کی سالمیت کے لیے سیسہ پلائی دیوار ہے۔
ان پے در پے حملوں اور جدید ٹیکنالوجی (جامرز اور ڈرونز) کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد گروہ بیرونی مدد کے باوجود سیکیورٹی فورسز کے سامنے بے بس ہو چکا ہے۔ عوام اور فورسز کا اتحاد ہی وہ طاقت ہے جس نے دہشت گردوں کو پہاڑوں میں چھپنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ایران اور پاکستان کو آپس میں لڑانے کا منصوبہ پکڑا گیا ۔ ایرانی خفیہ ایجنسیوں نے ایک بڑی سازش کا پتا لگالیا ۔
ایرانی انٹیلی جنس ذرائع اور معروف تجزیہ کار محمد حسین باقری نے انتباہ جاری کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف انڈین انٹیلی جنس اور افغان سر زمین کے استعمال سے ایران کے اندر ایک بڑا فالس فلیگ آپریشن کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، اس منصوبے کا مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو خراب کرنا ہے۔ ا
بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں کو بھارتی مالی معاونت اور افغانستان میں محفوظ ٹھکانے میسر ہیں، جہاں سے وہ سرحد پار ایرانی سیستان و بلوچستان میں کارروائی کر کے اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتے ہیں۔
اس پورے کھیل کی اصل ڈوریاں ایک ناجائز ریاست کے ہاتھ میں ہیں، جو نہیں چاہتی کہ مسلم ممالک متحد ہوں۔ ناجائز ریاست خطے میں عدم استحکام پیدا کر کے ایران کو مختلف محاذوں پر الجھانا چاہتی ہے۔
ایرانی حکام نے تین ممکنہ حملوں کے بارے میں سنگین الرٹ جاری کیا ہے
ایران کے اندر دہشت گردی: بی ایل اے کے ذریعے ایران میں خونریزی کرنا تاکہ تہران اور اسلام آباد کے تعلقات دشمنی میں بدل جائیں۔
حرمین شریفین پر حملہ: مقدس مقامات کو نشانہ بنا کر اس کا الزام ایران پر تھوپنا تاکہ پوری مسلم امہ کو ایران کے خلاف کھڑا کیا جا سکے۔
مسجدِ اقصیٰ پر میزائل حملہ: ناجائز ریاست کی جانب سے خود مسجدِ اقصیٰ پر حملہ کر کے اسے ایرانی میزائل قرار دینا، تاکہ عالمی سطح پر ایران کو تنہا کیا جا سکے۔
پی ٹی آئی نے بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیم بی این ایم سے ہاتھ ملالیا ۔ سیکیورٹی زرائع
جنیوا کے سفارتی حلقوں سے موصول ہونے والی اندرونی معلومات کے مطابق، پاکستان کی معیشت کو بین الاقوامی سطح پر مفلوج کرنے کے لیے ایک نیا اور خطرناک اتحاد سامنے آیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان اور کالعدم تحریکوں سے ہمدردی رکھنے والے بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم نے ایک مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کر لیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جنیوا میں ہونے والی حالیہ ملاقاتوں میں قاسم خان اور ڈاکٹر نسیم نے یورپی یونین سے باقاعدہ مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس (GSP+) اسٹیٹس فوری طور پر واپس لیا جائے۔ اس مطالبے کے پیچھے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کو ڈھال بنایا جا رہا ہے، تاہم مبصرین اسے پاکستان کے خلاف "معاشی دہشت گردی" قرار دے رہے ہیں۔
اس خبر نے اس وقت سنگین رخ اختیار کر لیا جب یہ بات سامنے آئی کہ قاسم خان کے ساتھ بیٹھےڈاکٹر نسیم نہ صرف بلوچستان کی علیحدگی کے داعی ہیں بلکہ ان کے روابط مبینہ طور پر دہشتگرد تنظیم بی ایل اے (BLA) سے بھی جوڑے جاتے ہیں۔
دونوں شخصیات کا مقصد یورپی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی روک کر ملک میں بیروزگاری اور معاشی انارکی پھیلانا ہے۔
ڈاکٹر نسیم کی تنظیم بی این ایم (BNM) عرصہ دراز سے عالمی فورمز پر پاکستان کی سالمیت کے خلاف مہم چلا رہی ہے، اور اب پی ٹی آئی کے اہم حلقوں کا ان کے ساتھ ایک ہی پیج پر آنا ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔