اس انجکشن کے سارے پیسے حکومت پنجاب دے رہی ھے
میں بھی اس شعبے میں پچیس چھبیس سال سے ہوں۔ شاید مجھے بھی اتنا اندازہ نہیں تھا کہ یہ انجکشن ایک معجزہ ہے مریضوں کے لیے۔ کیونکہ جو چار مریض جن کے اندر ہم نے یہ انجکشن لگایا ہے، چاروں کے اندر بہت بہتری آئی ہے۔ دو مریض ہم ماشاءاللہ ڈسچارج کر چکے ہیں دو مریض ایسے تھے کہ وہ زیرو بائے فائیو یعنی بازو بھی کام نہیں کر رہا، ٹانگ بھی کام نہیں کر رہی اور بعد میں وہ اپنے پیروں پر چل کر یہاں سے ڈسچارج ہوئے ہیں۔
https://t.co/EEQTjpPMQo
SERIOUS DISEASES THAT START WITH SIMPLE SYMPTOMS
1. COLON CANCER - Very thin or pencil-like stools
2. KIDNEY DISEASE - Swelling around the eyes especially in the morning
3. HEART DISEASE - Shortness of breath while climbing stairs
4. LUNG CANCER - Persistent voice changes or hoarseness
5. LIVER DISEASE - Regular bloating after eating meals
6. THYROID IMBALANCE - Thinning or loss of eyebrow hair
7. BRAIN TUMOR - Morning headaches along with nausea
8. DIABETES - Feeling thirsty again and again without reason
9. HEPATITIS - Yellowing of skin or eyes (jaundice)
10. PANCREATIC CANCER - Ongoing back pain without clear cause
11. ANEMIA - Constant fatigue even without heavy work
12. ALZHEIMER’S DISEASE - Frequently forgetting or misplacing things
13. PARKINSON’S DISEASE - Handwriting becoming smaller over time
14. ACID REFLUX (GERD) - Burning sensation in chest after eating
15. OSTEOPOROSIS - Repeated bone pain or weak back
آج ساغر صدیقی کی 52 ویں برسی ہے
ساغر صدیقی جن کا اصل نام محمد اختر تھا، 1928 میں انبالہ میں پیدا ہوئے۔ گھر میں انتہائی غربت تھی۔ ایسے میں تعلیم کا کیا سوال ! محلے میں ایک بزرگ حبیب حسن رہتے تھے، انہیں کے پاس جانے آنے لگے۔ جو کچھ پڑھا انہیں سے ۔ ایک دن انہوں نے اس ماحول سے تنگ آکر امرتسر کی راہ لی اور یہاں ہال بازار میں ایک دکان دار کے ملازم ہو گئے جو لکڑی کی کنگھیاں بنا کر فروخت کیا کرتا تھا۔ انہوں نے بھی یہ کام سیکھ لیا۔ دن بھر کنگھیاں بناتے اور رات کو اسی دکان کے کسی گوشے میں پڑے رہتے۔ لیکن شعر وہ اس 14، 15 برس کے عرصے میں ہی کہنے لگے تھے اور اتنے بے تکلف دوستوں کی محفل میں سناتے بھی تھے۔ شروع میں تخلص ناصر مجازی تھا لیکن جلد ہی اسے چھوڑ کر ساغر صدیقی ہو گئے۔
(برادرم الطاف ملک /اشرف حسن کے والد سے ساغر کے امرتسر کے زمانے کے تعلقات تھے. وہ ان سے ملنے کرشنا گلی گوالمنڈی آتے رہتے تھے. ان کے مطابق ساغر کی فیملی انبالہ سے امرتسر کے ہال بازار کے قریب کرمو ڈھوری محلے میں آگئی تھی )
ساغر کی اصل شہرت 1944ء میں ہوئی۔ اس سال امرتسر میں بڑے پیمانے پر ایک مشاعرہ ہوا۔ اس میں شرکت کے لیے لاہور کے بعض شاعر بھی مدعو تھے۔ ان میں ایک صاحب کو معلوم ہوا کہ یہ لڑکا (ساغر صدیقی) بھی شعر کہتا ہے۔ انہوں نے منتظمین سے کہہ کر اسے مشاعرے میں پڑھنے کا موقع دلوا دیا۔ ساغر کی آواز میں بلا کا سوز تھا اور وہ ترنم میں پڑھنے میں جواب نہیں رکھتا تھا۔ بس پھر کیا تھا، اس شب اس نے صحیح معنوں میں مشاعرہ لوٹ لیا۔
اس کے بعد امرتسر اور لاہور کے مشاعروں میں اس کی مانگ بڑھ گئی۔ اب اس نے کنگھیاں بنانے کا کام چھوڑ دیا اور بعض سرپرست احباب کی مدد سے اپنا علم اور صلاحیت بڑھانے کی کوشش کی۔ مشاعروں میں شرکت کے باعث اتنی یافت ہو جاتی تھی کہ پیٹ پالنے کے لیے مزید تگ و دو کی ضرورت نہ رہی۔ گھر والے بے شک ناراض تھے کہ لڑکا آوارہ ہو گیا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا۔ لیکن اسے ان کی کیا پروا تھی، اس نے گھر آنا جانا ہی چھوڑ دیا۔ کلام پر اصلاح لینے کے لیے لطیف انور گورداسپوری مرحوم کا انتخاب کیا اور ان سے بہت فیض اٹھایا۔
1947ء میں پاکستان بنا تو وہ امرتسر سے لاہور آگئے۔ یہاں دوستوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ان کا کلام مختلف پرچوں میں چھپنے لگا۔ فلم بنانے والوں نے ان سے گیتوں کی فرمائش کی اور انہیں حیرت ناک کامیابی ہوئی۔ اس دور کی متعدد فلموں کے گیت ساغر کے لکھے ہوئے ہیں۔ اس زمانے میں ان کے سب سے بڑے سرپرست انور کمال پاشا (ابن حکیم احمد شجاع مرحوم) تھے۔ جو پاکستان میں فلم سازی کی صنعت کے بانیوں میں سے تھے۔ انہوں نے اپنی بیشتر فلموں کے گانے ساحر سے لکھوائے اور یہ بہت مقبول ہوئے۔
1947ء سے 1952 تک ساغر کی زندگی کا زرّیں دور کہا جا سکتا ہے۔ وہ لاہور کے کئی روزانہ اور ہفتہ وار پرچوں سے منسلک رہے، بلکہ بعض جریدے تو انہی کی ادارت میں شائع ہوتے رہے۔ لیکن اس کے بعد حالات نے پلٹا کھایا
1952ء کی بات ہے کہ وہ ایک ادبی ماہنامے کے دفتر میں بیٹھے تھے۔ انہوں نے سردرد اور اضمحلال کی شکایت کی۔ پاس ہی ایک اور شاعر دوست بھی بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنی طرف سے تو اخلاص اور ہمدردی میں انہیں مارفیا کا ٹیکہ لگا دیا۔ سردرد اور اضمحلال تو دور ہو گیا لیکن اس معمولی واقعے نے ان کے جسم کے اندر نشّہ کے درخت کا بیج بو دیا۔ بدقسمتی سے ایک اور واقعے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی۔
اب ان کی یہ عادت ہو گئی کہ کہیں کوئی اچھے وقتوں کا دوست مل جاتا تو اس سے ایک چونی طلب کرتے. چونی مانگنے کی یہ عادت سب کو معلوم تھی چنانچہ بارہا ایسا ہوا کہ کسی دوست نے اسے سامنے سے آتے دیکھا اور فورا جیب سے چونّی نکال کر ہاتھ میں پکڑ لی۔ پاس پہنچے اور علیک سلیک کے بعد مصافحہ کرتے وقت چونی ساغر کے ہاتھ میں چھوڑ دی۔ یوں شام تک جو پیسے جمع ہو جاتے، وہ اس دن کے چرس اور مارفیا کے کام آتے۔
جنوری1974ء میں ان پر فالج کا حملہ ہوا اس کا علاج بھی چرس اور مارفیا سے کیا گیا۔ فالج سے تو بہت حد تک نجات مل گئی، لیکن اس سے دایاں ہاتھ ہمیشہ کے لیے بے کار ہو گیا۔ پھر کچھ دن بعد منہ سے خون آنے لگا۔ اور یہ آخر تک دوسرے تیسرے جاری رہا۔ ان دنوں خوراک برائے نام تھی۔ جسم سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا. چنانچہ 19 جولائی 1974ء صبح کے وقت اس کی لاش سڑک کے کنارے ملی اور دوستوں نے لے جا کر اسے میانی صاحب کے قبرستان میں دفن کر دیا۔
ساغر نے غزل، نظم، قطعہ، رباعی، ہر صنف سخن میں خاصا ذخیرہ چھوڑا ہے۔ وہ خود تو اسے کیا چھپواتا، ناشروں نے اپنے نفع کی خاطر اسے چھاپ لیا اور اسے معاوضے میں ایک پیسہ تک نہ دیا۔ چھ مجموعے اس کی زندگی میں لاہور سے چھپے۔ غم بہار، زہر آرزو (1946ء)، لوح جنوں (1971ء) اور سبز گنبد اور شب آگہی (1972ء)۔۔۔
منقول
جب نامور گلو کار مہدی حسن نے ساغر صدیقی کی غزل " چراغِ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے"گائی تو ان کی آواز میں یہ غزل ہندوستان بھی پہنچی اور اسے دیگر ہندوستانی گلوکاروں نے بھی گایا ۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن ساغر صدیقی سوتر منڈی (پاکستان) میں ایک پان کی دکان کے سامنے سے گزر رہے تھےتو اس وقت آل انڈیا ریڈیو کے کسی سٹیشن سے کوئی گائک ان کی یہی غزل گا رہا تھا ، ساغر صدیقی رک گئے ۔غزل کے اختتام پر اناؤنسر نے جب یہ کہا ''ابھی آپ پاک و ہند کے مشہور شاعر ساغر صدیقی کی غزل سن رہے تھے'' تو ساغر نے ہنس کر کہا ''واہ رے مولا ان کو معلوم ہی نہیں کہ ساغر کس حال میں زندہ ہے'' ،اور یہ شعر کہہ کر چل دیے ۔
ساقیا تیرے بادہ خانے میں
نام ساغر ہے مے کو ترسے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے
ذرا نقاب اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے
ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے
ابھی فریب نہ کھاؤ بڑا اندھیرا ہے
وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں
انہیں کہیں سے بلاؤ بڑا اندھیرا ہے
مجھے تمہاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں
مرے قریب نہ آؤ بڑا اندھیرا ہے
فراز عرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارہ
کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ بڑا اندھیرا ہے
بصیرتوں پہ اجالوں کا خوف طاری ہے
مجھے یقین دلاؤ بڑا اندھیرا ہے
جسے زبان خرد میں شراب کہتے ہیں
وہ روشنی سی پلاؤ بڑا اندھیرا ہے
بنام زہرہ جبینان خطۂ فردوس
کسی کرن کو جگاؤ بڑا اندھیرا ہے
ساغر صدیقی
الرعاة الشباب من قبيلة "بانا" في إثيوبيا يستخدمون الاعمدة الخشبية للمشي والتنقل عبر الأراضي الرطبة، وتجنب الأفاعي والحيوانات المفترسة، ومراقبة مواشيهم من مكان مرتفع..
وهذه المهارة تتطلب الكثير من التوازن والتركيز ويتم التدرب عليها من سن مبكرة..
Every porn site is watching you.
Tucker Carlson claims all major porn sites are controlled by governments and intel agencies, every click is stored and can be used against you.
He says cuckold porn is pushed deliberately to weaken men: “If you convince him it’s hot to have some random dude sleep with his wife, you have defeated him as a man.”
A blunt, unfiltered take on how porn affects masculinity.
What do you think, is pornography quietly reshaping how men see themselves and their relationships?
فیض صاحب نے مجھ سے پوچھا: تم نے کبھی اردو میں لکھا؟
میں نے جواب دیا: ’جی کوشش کی تھی لکھ نہیں سکا۔ اردو میں نثر تو لکھی ہے نظم نہیں لکھ سکا‘۔
تو انہوں نے پوچھا کہ تم خواب کس زبان میں دیکھتے ہو؟
میں نے کہا: ’جی میں خواب پنجابی میں دیکھتا ہوں‘۔
کہنے لگے ’نظم بھی اسی زبان میں کہنی چاہیے جس میں آدمی خواب دیکھتا ہے‘۔
منو بھائی
*********
فیض صاحب سے کسی نے پوچھا تھا کہ آپ نے اپنی شاعری کے لئے پنجابی کی بجائے اردو کا انتخاب کیوں کیا تو انہوں نے جواب دیا، میں نے اردو زبان کو اس لیے چنا اپنی شاعری کے لئے کہ اگر ساری زندگی لکھتا رہا تو شاید غالب اور اقبال جیسے شعرا کی صف میں اپنا کچھ مقام بنا سکوں مگر پنجابی زبان میں جو کچھ وارث شاہ، بلھے شاہ، سلطان باہو اور بابا فرید لکھ گئے ہیں ایک کیا، اپنے دو چار جنموں میں بھی ان کے قدموں کی خاک بھی نہیں چھو سکتا۔
ایک تھا بادشاہ&ایک تھی وزیر کی بیٹی
ایک خوشگوار سی حیرت ہوئی جب الف لیلوی کہانیوں کی ریڈنگز لاہور کی شاندار کتاب پر قمیت صرف 625 روپے دیکھی۔
اب تو عمر گزر گئی کسی فکشن یا نان فکشن انگلش کتاب کی قیمت ہزار روپے سے کم ہو اس لیے خوشگوار حیرت ہوئی۔
اس خوبصورت کتاب کی پرنٹنگ اور معیار دیکھ کر دل خوش ہوا۔ ہمارے ہاں اب پاکستان میں چھپی کتاب کی اتنی کم قیمت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ عالمی معیار پر چھپی کتاب کی لندن یا امریکہ میں قیمت دس پونڈ یا پندرہ ڈالرز سے کم نہیں ہو گی اور اکثر پاکستانی بک اسٹورز پر وہ تین ہزار روپے تک دستیاب ہوتی ہے۔
کچھ عرصے سے ریڈنگز لاہور نے انگریزی، روسی اور فرنچ کلاسک ناولز/کہانیوں کے پاکستانی ایڈیشن چھاپنے شروع کیے ہیں اور ان کی قیمتیں بہت کم رکھی گئی ہیں۔
سوال یہ ہے اگر ریڈنگز لاہور اس عالمی معیار کی کتاب پیپر بیک ایڈیشن میں سوا چھ سو روپے رکھ کر بھی منافع کما سکتا ہے تو باقی پبلشرز کیوں نہیں؟ مجھے ویسے بھی ہمیشہ سے پیپر بیک انڈیشن پسند رہے ہیں چاہے وہ نئے ہوں یا پرانے۔
یہ ایڈیشن آپ کوArabian nights خریدنا چاہیے۔ میں تو خود بھی یہ داستانیں بڑے شوق سے دوبارہ پڑھ رہا ہوں۔ انسانی ذہانت، خیالات اور imagination کی حد محسوس کرنی ہو تو یہی کہانیاں پڑھ کر دیکھیں۔۔ کہ کیسے ایک عقلمند لڑکی نے بادشاہ شہریار کو ایک ہزار کہانیاں ایک ہزار راتوں تک سنائیں۔ ایک ایسا بادشاہ جو ایک عورت کی بے وفائی کے بعد ہر رات نئی لڑکی کے ساتھ بسر کرتا اور صبح ہوتے ہی مروا دیتا تھا۔
اور پھر ایک دن وزیر کی عقلمند بیٹی شہرزاد نے اپنے وزیر باپ کو کہا آج رات وہ بادشاہ کے ساتھ گزارنے جائے گی۔
وزیر باپ کو پتہ تھا کہ صبح وہ زندہ واپس نہیں آئے گی۔ بیٹی نے باپ کو تسلی دی اور مسکرا کر وہ چیلنج قبول کیا کہ وہ اگلی صبح زندہ رہے گی۔
بادشاہ شہریار بھی تلا ہوا تھا کہ اگلی صبح شہرزاد بھی اس سے پہلے دیگر لڑکیوں کی طرح اگلے دن کا سورج نہیں دیکھے گی تو دوسری طرف عقلمند شہرزاد نے باپ کو قسم دی ہوئی تھی کہ وہ زندہ رہے گی۔ ایک سخت گیر بادشاہ اور وزیر کی پراعتماد بیٹی کی اس جنگ میں آخر فاتح کون ٹھہرا؟
خوبصورت سسپنس سے بھرپور وہ غیرمعمولی فیئری کہانیاں جو ہزاروں سال بے رحم وقت کو شکست دے کر ہم تک پہنچی ہیں ۔
تحریر/رئوف کلاسرا
@readingspk
In 1859, an English settler named Thomas Austin released just 24 wild rabbits on his estate in Australia for sport hunting. With few natural predators and ideal conditions, the population exploded. Within about 70 years, rabbit numbers had reached an estimated 10 billion, making them one of the country’s most destructive invasive species.
In 1859, English settler Thomas Austin released European rabbits on his estate at Barwon Park in Victoria, Australia, hoping to recreate the sport hunting he had enjoyed in England. Instead, the decision sparked one of the most devastating ecological disasters in Australian history.
Australia had no native rabbit population, and the environment proved ideal for the animals. Mild winters allowed them to breed for much of the year, while expanding farmland provided abundant food and open habitat. With few effective natural predators, their numbers exploded.
By the 1920s, the rabbit population was estimated to have reached 10 billion. They stripped vegetation, accelerated soil erosion, devastated crops, and competed with native wildlife for food and habitat. Over the years, authorities tried fencing, trapping, poisoning, shooting, and biological control programs, but rabbits remain a major invasive species.
It remains one of history’s clearest examples of how a single human decision, made for recreation, can transform an entire ecosystem.
A 2022 genetic study confirmed that Australia’s widespread rabbit population can be traced largely to Austin’s 1859 release, showing that this single introduction played a central role in the invasion.
اپنے حالات کے ہاتھوں سے یہ مارا ہوا شخص
پھر بھی مضبوط ہے اندرسے یہ ٹوٹا ہوا شخص
اپنی مرضی سے نہ جی سکتا نہ مر سکتا ہے
کتنا مجبور ہے جنت سے نکالا ہوا شخص
آگہی اپنی کہاں پائے رہا کیسے ہو
وقت کے رسموں رواجوں میں یہ جکڑا ہوا شخص
لے گیا خواب چُرا کر کوئی آنکھوں کے سبھی
قابلِ رحم ہے صدیوں کا یہ جاگا ہوا شخص
خود کلامی بھی ہے تنہائی بھی خاموشی بھی
دُو بدو خود سے ہی رہتا ہے یہ ہارا ہوا شخص
نا تو تفکیر و عمل اور نہ اپنی کوئی بات
جان سے جائے گا خوابوں میں یہ کھویا ہوا شخص
ریاض شاہد
مفتی طارق مسعود صاحب کا اک کلپ دیکھا جس میں وہ یزید لعنتی کا دفاع کر رہے تھے ۔ یقین مانیے بہت دکھ ہوا ۔
چلیں مفتی صاحب اسلامی بیانات میں لطیفے طنز و مزاح شادیوں کے قصے چار بیویوں کی کہانیاں یہاں تک تو ٹھیک تھا ۔۔۔
مگر اپ یزید جیسے نجس پلید ادمی کا دفاع کرنے لگ جائیں گے یہ لبھی نہی سوچا تھا منبر رسول پر بیٹھ کر نواسہ رسول جنت کے سرداروں کے قاتلین کا دفاع کریں ۔
مفتی صاحب اپ کہتے ہیں کہ تقی عثمانی اور بڑے علما نے کتابیں لکھی ہیں کہ یزید کو فاسق اور فاجر ثابت کرنے کیلے کوی مستند روایات نہی ہیں ۔
یزید امام حسین کی شہادت میں ملوث نہی تھا یہ ہمیں کسی جگہ درست دلیل نہی ملی ۔
آئیے اس دعوے کو تاریخ کی روشنی میں پرکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ دلیل کس کے ساتھ ہے۔
پہلی بات یہ کہ یزید نے خود ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا۔ جب یزید کو اطلاع ملی کہ کوفہ کے لوگ امامِ حسین کی بیعت کر رہے ہیں اور گورنر نعمان بن بشیر ان سے نرمی برت رہا ہے تو اس نے عبیداللہ بن زیاد کو بصرہ سے کوفہ کا گورنر مقرر کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یزید نے ابن زیاد کو اس لیے بھیجا کہ وہ امامِ حسین کا استقبال کرے؟ یا اس لیے کہ انہیں ہر قیمت پر روکے، دبائے اور بیعت پر مجبور کرے؟ گورنر کی تبدیلی کا وقت اور مقصد خود بتاتا ہے کہ یہ کاروائی کس کے ایما پر ہوئی۔
دوسری بات یہ کہ مسلم بن عقیل نے کوفے میں امامِ حسین کے حق میں زمین ہموار کرنا شروع کی تو یزید نے ابن زیاد کو بصرے سے تبدیل کرکے کوفے کا گورنر مقرر کیا۔ ابن زیاد نے پہلے حر بن یزید کو ایک ہزار سوار دے کر امام کا راستہ روکنے پر مامور کیا، پھر عمر بن سعد کو دس ہزار کا لشکر دے کر کربلا بھیجا، اور پھر شمر بن ذی الجوشن جیسے سفاک شخص کو امامِ حسین اور ان کے اہلِ بیت کے قتل کے لیے بھیجا۔
اب جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب ابن زیاد نے اپنے طور پر کیا ان سے پوچھا جائے کہ کیا ایک گورنر اپنے خلیفہ کی اجازت کے بغیر اتنا بڑا قدم اٹھا سکتا ہے؟ کیا یزید کو اپنے ہی مقرر کردہ گورنر کی کارروائیوں کی اطلاع نہیں ہوتی تھی؟
جب امامِ حسین کا سرِ مبارک یزید کے دربار میں لایا گیا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اہلِ خانہ کو قید میں رکھا۔
اگر یزید واقعی بے قصور تھا، اگر اسے امامِ حسین کی شہادت سے دکھ ہوا تھا، تو اس نے اس موقع پر قاتلوں کو سزا کیوں نہیں دی؟ قتل کے ذمہ داروں کو انعام دینے کی بجائے پھانسی پر کیوں نہیں لٹکایا؟ ایک حاکم جو اپنے گورنر کی بربریت سے ناراض ہو، وہ اس کا سر قلم کرتا ہے، اسے گلے نہیں لگاتا۔
اور بات سنیے، اور خود فیصلہ کریں۔ تاریخ میں یزید نے اہلِ بیت کو دربار میں حاضر کرکے کفر آمیز اشعار کہے اور واقعہ کربلا کو اپنے لیے افتخار شمار کیا۔ ان اشعار میں اس نے بدر میں مارے گئے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے بدر کا بدلہ لے لیا۔
اے سنی بھائیو! کوئی بے گناہ اور ماتم زدہ خلیفہ ایسے اشعار کہتا ہے جن میں وہ شہادتِ حسین کو اپنی فتح قرار دے؟
سب سے اہم بات یہ کہ مشہور دیوبندی عالم محمد قاسم نانوتوی نے یزید کو پلید کا خطاب دیا، رشید احمد گنگوہی نے بھی یہی لفظ استعمال کیا، اشرف علی تھانوی نے یزید کی مخالفت کی اور اسے فاسق کہا، اور مفتی محمد شفیع نے لکھا کہ جب امامِ حسین کا سر یزید کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے چھڑی سے ان کے دانتوں کو چھیڑتے ہوئے اشعار پڑھے، جس پر صحابیٔ رسول ابو ہرزہ اسلمی نے اسے سخت سرزنش کی۔
یہ وہ علما ہیں جنہیں خود دیوبندی مکتبہ فکر اپنا امام مانتا ہے۔ تو کیا تقی عثمانی صاحب کا نام لے کر ان تمام اکابرین کو رد کیا جا رہا ہے؟
اپ جیسے لوگ سب کچھ ابن زیاد پر ڈال کر پتلی گلی سے یزید کو کلین چٹ دینا چاہ رہے ہیں ۔۔ ہم اپنے سنی مولویوں سے اپنے مفتیوں سے بچپن سے سنتے ا رہے ہیں یزید لعین تھا ۔
میں اپنے سنی بھایوں سے پوچھتا ہوں کیا ہم نے پوری زندگی اپنے باپ دادا سے اپنے مولویوں سے اپنے مدرسوں میں اپنی دینی محفلوں میں یزید پر لعنت کرتے نہی دیکھا تو اچانک سے مفتی صاحب نے پینترا کیوں بدل دیا ؟ ۔
اور ساتھ میں تقی عثمانی صاحب کو کوٹ کر دیا تاکہ اتنے بڑے عالم کا نام سن کر ہم یزید کے حق میں دھمالیں ڈالنے لگ جائیں ۔
یہ باریک واردیتے ہیں جو کل تک حکومت کے اک جھاڑ پر سارے حکمرانو کے اگے سربسجود تھے ۔ان سے یہی بعید تھی ۔