“Pakistan does not have a hybrid system, rather a brutal martial law: a complete dictatorship. A clear manifestation of this was President Trump choosing to meet Asim Munir instead of Shehbaz Sharif or Zardari because he knows that Asim Munir holds all the power. That is also why I have always said that negotiations should be with the ones who hold power.
The loss of innocent lives in drone attacks in areas of Khyber Pakhtunkhwa is extremely tragic. I have protested and marched all over the world against American drone attacks in Pakistan and my stance on this issue is clear and well known. Every time innocent people are killed, terrorism increases. The Khyber Pakhtunkhwa government should register criminal cases (FIRs) against those responsible for these drone attacks.
The people of Khyber Pakhtunkhwa placed their trust in me through their votes. That is why I had instructed that Ali Amin, Muzzammil Aslam, Omar Ayub, Shibli Faraz, and Taimur Jhagra must brief me on the budget before its passage. Prior to approving the budget, Ali Amin and the KP government should have approached the Supreme Court and stated unequivocally that the party leading the province is headed by Imran Khan, and it is from him that guidance on budgetary matters must be sought, without which even the IMF will not accept the budget.
I issue a clear directive once again: the Khyber Pakhtunkhwa government must petition the Supreme Court. This budget is not final. My designated consultative team must meet with me, and the budget should only be passed after incorporating the amendments that I specify.
While other provincial governments are not presenting surplus budgets, offering a surplus from Khyber Pakhtunkhwa's funds serves only to benefit the illegitimate federal government. I will not allow the people of KP to be harmed under any circumstances.
In these difficult times, when mainstream media has either been gagged or bought out, I commend the role of social media for continuing to raise the voice of truth. It is thanks to social media that the voice of the people remains alive.”
Chairman Pakistan Tehreek-e-Insaf, Imran Khan, speaking to family members at Adiala Jail - June 24, 2025
“جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طور پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے- پاکستان کو بڑی قربانیاں دے کر انگریز سے آزاد کروایا گیا تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہو- مگر یہاں حالات بالکل برعکس ہیں اور ایک مافیا پوری قوم کو غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ میں جیل کی کال کوٹھڑی میں رہ لوں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میرا تمام لوگوں کو پیغام ہے کہ سب کو ایسی غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ جب ہم باہر آزاد ہی نہیں ہیں تو پھر ایسی رہائی کا کیا فائدہ؟ علامہ اقبال کا شاہین اونچا اڑتا ہے، وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہتا-
پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ عاشوراء کے بعد ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے اس غلامی کے نظام کو قبول کرنے سے بہتر موت ہے۔
میری آواز ہر طرح سے دبائی جا رہی ہے تا کہ لوگوں تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے اور جبر کے خلاف کوئی کھڑا ہونے والا نہ بچے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا- اور میرا اپنے رب پر یقین ہے کہ پاکستان سے ظلم کا سایہ جلد ختم ہو گا-
جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
۱: ووٹ کا حق: جب ایک ڈکٹیٹر آتا ہے تو اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلاتا ہے- جس طرح فارم 47 والی اسمبلیاں بنائی گئیں اور اب مخصوص نشستیں بانٹی گئیں اس سے عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۲: قانون کی حکمرانی: عدلیہ کو حکومت کے ایک ذیلی محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے ججز سے بھر دی گئی ہیں اور آزاد ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں- ایسا صرف مارشل لاء میں ہی ہوتا ہے۔
۳: معاشرے کی اخلاقیات: اس ترمیم سے معاشرے میں اخلاقیات دفن کر دی گئی ہیں۔ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بٹھا دئیے گئے ہیں جو عوام کے م��تخب نمائندے نہیں ہیں- ارکان اسمبلی کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے- اور عدلیہ بھی اسی مافیا کے انگوٹھے کے نیچے ہے-
۴: آزاد میڈیا: ڈکٹیٹرشپ میں میڈیا کو مکمل طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے-
احتجاج بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے- لیکن پنجاب اسمبلی میں احتجاج کرنے والے ہمارے 26 اراکین اسمبلی کو معطل کر دیا گیا- احمد بھچر اور تحریک انصاف کے ایم پی ایز شاباش کے مستحق ہیں جنہوں نے فرعونوں کو چیلنج کیا- جب تک ہمارے 26 ارکان بحال نہیں ہوتے ہمارے اراکین اپنی اسمبلی باہر لگا لیں- فارم 47 کی دو نمبر اسمبلیاں ویسے بھی عوام کی نمائندہ ہی نہیں ہیں- “
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ سے گفتگو (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
“جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!!
دو سال سے میں صرف پاکستانی قوم کی خاطر جیل میں قید ہوں تا کہ آپ کو کوئی غلام نہ بنا سکے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ آپ خود اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہوں اور اس جابر نظام کو شکست دیں۔
ملک کی خاطر میں نے بارہا مذاکرات کی بات کی مگر اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے ۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد اس ملک میں آئین و قانون اور انصاف کو دفن کر دیا گیا ہے۔ ہمیں عدالتوں سے انصاف کی جو امید تھی وہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اس لیے اب پاکستانی قوم کو ملک گیر احتجاجی تحریک کے علاوہ کوئی اور طریقہ لا قانونیت کی اس دلدل سے باہر نہیں نکال سکتا۔
ملک گیر تحریک کا مکمل لائحہ عمل اسی ��فتے پیش کیا جائے گا- پانچ اگست کو میری نا حق قید کو پورے 2 برس مکمل ہو جائیں گے۔ اسی روز ہماری ملک گیر احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج ہوگا۔
اب کسی سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے! صرف اور صرف سڑکوں پر احتجاج ہو گا تاکہ قوم زبردستی کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات حاصل کرے۔
دوٹوک پیغام دے رہا ہوں کہ تحریک انصاف کا جو عہدہ دار اس تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتا وہ ابھی سے الگ ہو جائے۔ جن لوگوں نے اُن کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں وہ یاد رکھیں! کچھ عرصے بعد یہی لوگ انہیں کرش کر دیں گے اور عوام بھی انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی-
نیلسن منڈیلا اور گاندھی تک کو دیگر قیدیوں سے ملنے، کتابیں پڑھنے اور کتابیں لکھنے کی اجازت تھی- میں ایک ایسی قید کاٹ رہا ہوں جہاں روزانہ 22 گھنٹے مجھے 6x8 کے سیل میں بند رکھا جاتا ہے، پولیس اہلکار تک مجھ سے بات نہیں کر سکتے، 6 ماہ سے کتابیں بند ہیں، میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میرے وکلأ اور ساتھی مجھ سے نہیں مل سکتے، میرے اہل خانہ کو ایک ہفتے بعد چند منٹ کے لیے ملنے دیا جاتا ہے اور اکثر انہیں بھی روک لیا جاتا ہے، دس ماہ سے میرے ذاتی ڈاکٹر سے میرا معائنہ نہیں کروایا گیا، پچھلے ایک ہفتے سے تو میرا اخبار اور ٹی وی بھی بند ہے۔ جو کتابیں مجھے خاندان کی طرف سے بھجوائی جاتی ہیں وہ تک مجھے مہیا نہیں کی جاتیں اور سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں پڑی رہتی ہیں۔ میری اہلیہ کو بھی بدترین حالات میں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے-
اس سب کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ اور اس کے بغل بچوں کا ہاتھ ہے۔ یہ سب کچھ مجھے توڑنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا-
ہم نے قبائلی علاقوں کو کئی دہائیوں بعد ان کے آئینی و قانونی حقوق دلوائے اور علاقے کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے بھرپور وسائل مہیا کیے- موجودہ رجیم نے پہلے تو تین سال تک ان علاقوں کے جائز فنڈز روکے رکھے اور اب ان کے آئینی حقوق واپس لینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے- ہمارے پارلیمینٹیرینز اور نمائندوں نے ان اقدامات کا بائیکاٹ کر کے اچ��ا فیصلہ کیا-
ہمارے پنجاب کے ایم پی ایز کو جعلی حکومت کے بجٹ کے دوران احتجاج کرنے پر معطل کرنے کے پیچھے یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کے خلاف احتجاج ان کو بہت ناگوار گزرا ہے- حالانکہ ہمیشہ بجٹ کے دوران احتجاج ہوتا آیا ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (۸ جولائی، ۲۰۲۵)
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا و�� بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام ��ھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں ب��ے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
سید زلفی بخآری جس طرح آپ نے عمران خان�� تحریکِ انصاف اور پوری قوم کا حقیقی سفیر بن کر آج عالمی سطح پہ انتہائی بہادری سے پاکستان کا مقدمہ لڑا اس پر آپکو پوری قوم کا سلام۔۔۔