ہمیں یہ دھمکیاں دی جارہی ہے کہ ہم سے بات کرلو 3، 4 سیٹیں دے دینگے، ورنہ فلانے فلانے امیدوار کو دے دینگے ۔۔۔
ہمیں آپ سے کوئی سیٹ نہیں چاہیے۔ جس کو جو سیٹ دینی ہے دے دو۔ ہم زندہ رہے تو آپ کی اس بدمعاشی کو ایک دن ختم کر کے رہینگے۔
سردار لطیف کھوسہ صاحب کو دلی مبارکباد
عوامی فیصلے پر خوش دلی سے
سر ِ تسلیم خم
اللّٰہ کریم آنیوالی پارلیمان کو متحد ھو کر قومی بحرانوں پر قابو پانے کی توفیق و تقویت عطا فرماۓ
آمین
ایمانداری کسی کی وراثت نہیں ہوتی۔
کل میں کلب جم میں اپنے ائرپوڈز بھول آیا تھا۔ آج جانے لگا تو گھر ڈھونڈے ۔ نہ ملے۔ سوچا کہیں پڑے ہوں گے۔ رکھ کر بھول گیا ہوں گا۔ آج بغیر ائر پوڈ جم گیا۔ جم کر کے فارغ ہوا تو وہاں جم ہیپلر نسرین صاحبہ بولیں کل آپ اپنے ائر پوڈز بھول گئے تھے۔ میں نے ڈیسک پر جمع کرا دیے ہیں۔ لے لیں۔ یہ ائرپورڈ اچھے خاصے مہنگے پڑتے ہیں۔
اپنے مہربان ہارون الرشید کا فقرہ یاد آیا کہ روپے دولت کی ضرورت غریب سے زیادہ امیر کو ہوتی ہے۔
بہت شکریہ نسرین صاحبہ۔ آپ جیسے اچھے لوگ ابھی موجود ہیں۔ بات ائرپوڈ کی نہیں آپ کے اس خوبصورت gesture کی ہے۔ سلامت رہیں
پیر حق خطیب کے ساتھ میری لڑائی دراصل طریقت اور تصوف کے اصل پیغام کے لئے ہے، یہ لڑائی درگاہوں اور خانقاہوں کی عزت کی لڑائی ہے۔ علمائے دین، مشائخ عظام اور پیرانِ کرام سے گذارش ہے کہ اس ڈھونگ کے خلاف میرا ساتھ دیں ورنہ لوگ اسی شعبدے بازی کو اولیاء کا طریق سمجھ بیٹھیں گے۔
پاکستانیوں کو بھیک نہیں انکا حق چائیے !
مریم نواز ہوں ، حمزہ شہباز شریف ہوں یا پھر بلاول بھٹو ان سب کو عوام سے 100 یونٹ ، 300 یونٹ تک فری بجلی کے جھوٹے وعدے بند جرنا ہونگے ۔ پاکستان کی آدھی ابادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے اور پاکستان جیسا غریب ملک مفت بجلی دینا افورڈ ہی نہیں کر سکتا ۔ اگر عوام کو کچھ دینا ہی ہے تو حکمرانوں کو اپنی شاہی پروٹوکال اور مہنگی گاڑیوں اور اپنے خاندانی جاہ و جال سے نجات دینی ہو گی ، تاکہ وہی پیسہ غریب عوام پر لگایا جا سکے .
#Election2024
#Pakistan
https://t.co/srOx3mS8Zc
یہ تربت میں پاکستانی فوج کے ڈیٹھ سکواڈ CTD کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل ھونے والے بالاچ بلوچ کی بہن ہے اور اسے راضی نامہ کے لئے 4 کروڑ روپے کی آفر کی گئی لیکن اسے پیسے نہیں بلکہ انصاف چاہیے
#JusticeForBalachBaloch#MarchAgainstBalochGenocide
اِس نوٹیفیکیشن میں صرف جسمانی تلاشی کا ذکر ہے جس سے سپریم کورٹ کے ججوں اور انکی اہلیہ کو استثنا دیا گیا ہے، سامان کی تلاشی ابھی بھی لی جا سکتی ہے۔ یہ چند صحافی اور رینکر اینکر حضرات کو زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔
ویسے اگر یہ نوٹیفیکیشن نہ بھی جاری ہوتا تو آسمان نہیں گر جاتا اگر خواتین پولیس ججوں کی بیویوں کی در پردہ تلاشی لے لیتی اور مرد اہلکار چیف جسٹس اور ججوں کی تلاشی لے لیتے۔ چیف جسٹس فائز عیسی نے گھر سے دفتر پیدل آنا اِس لئیے چھوڑا تھا کہ بقول انکے وہ سیکیورٹی کے حوالے سے پولیس کے فرائض میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔ مگر پھر دوسری حقیقت یہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اِس دور میں اب ائیرپورٹس پر لگی ایکسرے مشینوں سے مرد اور عورت کی ویسے ہی تلاشی ہو جاتی ہے پاکستان میں نہیں تو سپین اور دیگر ممالک میں تو ضرور ہوتی ہے، کیا ہمارے چیف جسٹس اور ججوں اور انکی بیگمات کو بھی یورپ اور امریکہ کے ائیرپورٹس پر بھی جامہ تلاشی سے استثنی حاصل ہے؟ ہم پاکستانی اپنے ملک میں تلاشی کے لئیے ہاتھ تک اُٹھانا توہین سمجھتے ہیں اور دوسرے ممالک کے ائیرپورٹس پر ۰۰۰۰۰
سپریم کورٹ کو وضاحت کرنا ہو گی کہ حکومتی نوٹیفیکیشن حکومت کی اپنی سوچ تھی یا سپریم کورٹ کی تجویز اور اگر یہ حکومت کی سوچ ہے یا سپریم کورٹ کی تو اِسکی منطق کیا ہے؟ اور کیوں ضروری ہے کہ ائیرپورٹس پر ہائی کورٹوں کے ججز اور انکی بیگمات کی جامہ تلاشی نہ ہو؟ کیا یہ آئین کے آرٹیکل ۲۵ میں درج سب کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک کے بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں؟ چیف جسٹس تو ویسے بھی کہتے رہتے ہیں کہ ہم بھی جوابدے ہیں۔
اگر 21 اکتوبر تک الیکشن کمیشن نے انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان نہ کیا تو اُس روز ہی نواز شریف کی پاکستان واپسی سیاسی خودکشی ہو گی۔ انتخابی ریلیوں اور مہم کا آغاز نواز شریف کے لاہور میں استقبالی جلسے سے ہو گا جسکا اور صرف الیکشن کی حتمی تاریخ کے اعلان سے ہی انتخابی مہم کا تسلسل برقرار رہ سکے گا۔ انتخابی تاریخ کے بغیر کسی بھی جماعت کے لوگوں کے لئیے گھروں سے باہر نکلنا بے معنی ہو گا۔
وہ اگر چاہتے تو کپتان / میجر کو بھی ڈی جی نادرا لگا سکتے تھے، یہ انہوں نے قوم کو عزت بخشی ہے کہ اپنے بڑے افسر کو ہمارے معمولی اداروں میں لگا دیا۔شناخت تو پہلے بھی ان کے حوالے تھی، اب شناختی کارڈ بھی ان کے حوالے ہوں گے۔جِن کو آئین، قانون اور گورننس کا وائرس زیادہ تنگ کرے اُن کے شناختی کارڈ پر علامتی نشان گمشدہ لکھا جائے گا۔
فورٹ عباس سے ایک انتہائی لائق سکول ٹیچر بہن جسکی ساتھ سسرال والوں کی طرف سے انتہائی ظلم کیا جاتا رہا،
آخر کار اس نے عدالت سے رجوع کیا اور خلع لے لی، اور اپنی دو چھوٹی سی بچیوں کے ساتھ علیحدہ کرایہ کے مکان میں رہنے لگی،
لیکن اسکا سابقہ شوہر اور اسکا بھائی جو کہ فورٹ عباس ٹی ایم اے کا ملازم ہے اسکے پیچھے پڑے ہوئے ہیں
اسے آئے دن ذہنی پریشانیوں سے دوچار کرتے ہیں،
وہ اکیلی عورت جسکی فیملی بھی اسکے پیچھے نہیں ہے،
کَل اسکی چھ سالہ بیٹی کو اسکے سکول والے رکشے سے اسکے سابقہ خاوند اور اسکے بھائی نے اغواء کر لیا،
کل سے وہ بہن کبھی عدالت تو کبھی تھانے کے چکر لگا رہی ہے،
اسکے نہ کوئی سورسسز ہیں نہ کوئی سفارش،
عدالت آرڈرز کے باوجود پولیس اسکی کوئی بات سننے کو تیار نہیں،
ابھی تک بچی کو بازیاب بھی نہیں کروایا گیا،
اس بہن کو انصاف دلانے میں سب اپنا کردار ادا کریں، وہ انتہائی تکلیف سے گزر رہی ہیں۔
@Dpobahawalnagar@OfficialDPRPP@GovtofPunjabPK@MohsinnaqviC42