میں نے چیئرمین نیب کیخلاف 15 ارب کا ہتکِ عزّت کا دعویٰ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں چیئرمین نیب کو نوٹس بھجوا چکا ہوں۔
میری گرفتاری کے وارنٹس چھٹی کے روز جاری کئے گئے اور 8 روز تک انہیں چھپا کر رکھا گیا۔ مجھے القادر ٹرسٹ کیس کی انکوائری کے انوسٹیگیشن میں تبدیل کئے جانے کے حوالے سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا۔ نیب آرڈیننس کے سیکشن 24 میں درج شرائط کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ جس انداز میں میرے وارنٹس کی تعمیل کروائی گئی وہ غیرقانونی اور غیرآئینی تھا۔ وارنٹس کی تعمیل کیلئے پاکستان رینجرز کو استعمال کیا گیا جنہوں نے وحشیانہ انداز میں مجھ پر طاقت آزمائی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے میری گرفتاری کا اوّلین مقصد میری نیک نامی (اچھی شہرت) کو داغدار کرنا تھا تاکہ دنیا پر (دھوکے سے) ظاہر کیا جاسکے کہ مجھےکرپشن کے الزامات پر گرفتار کیا گیا ہے۔
میں سالانہ 10 ارب کے عطیات جمع کرتا ہوں۔ میری ساکھ پر کبھی کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ اس کے باوجود ایک جعلی انکوائری میں مجھے مورودِ الزام ٹھہرانے اور (بعد ازاں نِری بدنیتی سے) غیرقانونی طور پر گرفتار کئے جانے سے میری ساکھ کو بری طرح متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔
چنانچہ میرا حق ہے کہ میں (چیئرمین نیب کیخلاف) ہتکِ عزَّت کی کارروائی کا آغاز کروں۔
قانون کی حکمرانی کو پوری طرح پسِ پشت ڈالتے ہوئے یہ فسطائی حکومت جنرل مشرف کے مارشل لاء کو کہیں پیچھے چھوڑتے ہوئے، تحریک انصاف کو کچلنے کے یک نکاتی ایجنڈے پر کاربند ہے۔
اس دوران ملکی معیشت اوندھے منہ تباہی کی گہری کھائی میں گرتی جارہی ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 315 روپے میں فروخت ہورہا ہے جبکہ شناختی کارڈ نہ رکھنے والوں کیلئے تو یہ 320 سے 325 روپے میں دستیاب ہے۔ سرکاری اور اوپن مارکیٹ کے نرخ میں 30 روپے فی ڈالر کا فرق ہے۔
معیشت میں ڈالرز کی ذخیرہ اندوزی/روپے کے مقابلے میں ڈالرز پر عوام/کاروباری طبقے کے غیرمعمولی اعتماد کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ملک میں مقامی یا غیرملکی سرمایہ کاری ناپید ہے جس سے مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں شدید سکڑاؤ پیدا ہوگا یا معیشت کو اس سے بھی شدید دھچکہ پہنچے گا اور ملک نہایت بلند افراطِ زر (شدید ترین مہنگائی/ہائیپر انفلیشن) کے چنگل میں پھنسے گا۔
پی ڈی ایم رہنماؤں کے اربوں ڈالرز بیرونِ ملک تجوریوں میں محفوظ ہیں چنانچہ یہ قابلِ فہم ہے کہ (کیوں) انہیں (معیشت کی تباہی کی) رتّی بھر فکر نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے پاکستانی مقتدرہ (اسٹیبلشمنٹ) ملک کو مکمل معاشی تباہی و بدحالی کی دلدل میں گرنے کی اجازت کیسے دے رہی ہے؟
اوپن مارکیٹ میں ڈالر 310 روپے میں فروخت ہورہا ہے اور ملک آج کل ریکارڈ کمر توڑ مہنگائی کےچُنگل میں ہے۔
قرضوں کے حجم میں نہایت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جبکہ معیشت اسی تیزی سے سکڑ رہی ہے۔
ہماری مجموعی سالانہ آمدن تو اس سود کیلئے بھی ناکافی ہے جسے ہمیں اپنے قرضوں پر ادا کرنا ہے۔
ایسے میں جب معیشت ہماری نگاہوں کے سامنے بکھر رہی ہے، قوم پر مسلط فسطائی حکومت تحریک انصاف کو کچلنے کیلئے جبر و ستم کے نت نئے طریقوں کی ایجاد میں لگی ہوئی ہے۔
پی ڈی ایم قیادت کو روپے کی قدر میں اس تاریخی گراوٹ سے یقیناً کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ ناجائز طریقوں سےجمع کی گئی انکی ساری دولت ڈالروں کیصورت میں بیرون ملک چھپائی گئی ہے۔ پی ڈی ایم قائدین کیلئے تو روپے کی قدر میں گراوٹ سود مند (منافع بخش) ہے جبکہ پاکستان کے عوام غربت اور مہنگائی کے بوجھ تلے کُچلے جائیں گے۔
The nation demands to know the whereabouts of journalists Sami Ibrahim and Imran Riaz Khan.
Why is the journalistic community so overawed and scared to demand for both to be produced in the court of law within 48 hours, as it is their fundamental right.
Otherwise it should then be called an abduction.
These terror tactics are just an attempt to muzzle the media, so that this unprecedented fascist crackdown on the largest political party is only to be kept out of any media coverage.
Strongly condemn the appalling and cowardly action by authorities to demolish Ali Nawaz’s house & tear down its gate.
His elderly mother & his sister (a differently-abled child) lives inside the house.
While it is evidently clear that they’re devoid of any morality, the PDM govt should at least fear the wrath of Allah, which they’ll invite by such fascism.