What’s happening in Herat?
- The governor, a hardliner, reportedly decided in last week’s government meeting to round up women in the city who do not fully cover their faces.
- On Saturday, the PVPV arrested up to 35 women at three locations, including the Lilami area, a busy bazaar known for its second-hand clothing shops and carts, in downtown Herat.
- The women were later released after their male family members were summoned and warned.
- Today, a few dozen men and women from the Hazara neighborhood of Jebrail in western Herat took to the streets in protest. The Taliban opened fire on the protesters, reportedly killing a child and wounding several others.
- There is talk of wider protests in the coming days, including after Friday prayers.
Warning: Sensitive Content ⚠️🔞
امارات غیر اسلامی افغانستان کے طالبانی درندے حکومت مخالفین کو گرفتار کرنے کا بعد قتل کرتے ہوئے،،
یہ درندے اگلے 5000 ہزار سال بعد بھی انسانیت کے دائرے میں داخل نہیں ہو سکتے ۔۔
اگر ایسی پالیسیاں جاری رہے تو یہ افغانستان میں مزید نسلی تنازعات کو جنم دے سکتی ہیں اور ملک کی وحدت کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہیں اور افغانستان کی تقسیم پر م��تج ہوگی
محمود خان اچکزئی کی جانب سے پاکستانی پشتونوں کو افغان تذکرہ حاصل کرنے کی ترغیب دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پشتون افغانستان میں ایک واضح اقلیت ہیں۔ ناقدین کے مطابق، اس اقدام کے ذریعے ہزارہ، ازبک اور تاجک آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے ایجنڈے پر عمل کیا جا رہا ہے۔ 1/2
Their ultimate goal appears to be the creation of a “Loy Pakistan”🇵🇰. This is why Mr. Achakzai, speaking at a large gathering last year, openly called himself the Taliban’s Foreign Minister.
افغانستان کے سابق نائب وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل نمائندے ناصر اندیشہ نے محمود خان اچکزئی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی شہریت، قومی شناخت اور داخلی معاملات پر کسی بیرونی سیاسی شخصیت کو مداخلت کا حق نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان ایک خودمختار قومی ریاست ہے اور افغان شہریت کی بنیاد آئین اور ریاست سے وابستگی ہے، نہ کہ سرحد پار نسلی سیاست۔ ان کے مطابق ماضی کی نسلی قوم پرستی نے خطے کو صرف تنازعات اور تباہی دی، جبکہ آج ایس�� بیانات مزید تقسیم اور عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں۔ناصر اندیشہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی پشتون سیاستدانوں کو افغانستان کے معاملات میں مداخلت کے بجائے اپنے ملک کے آئینی اور سیاسی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ افغانستان اس وقت طالبان کی اجارہ دار حکمرانی کے باعث سنگین مشکلات سے دوچار ہے اور عالمی برادری و خطے کے ذمہ دار حلقوں کو افغان عوام کی حمایت کرنی چاہیے، نہ کہ متنازع بیانیوں کو فروغ دینا چاہیے۔
@mehrubawan According to Foreign Minister of Taliban Mehmood Khan, But Taliban is good for committing Genocide of #Hazaras and Tajiks. Asking for Pashtoonistan is good in Pakistan but demanding Hazaristan in Afghanistan is a crime.
افغانستان کے معاملے میں لوگ مداخلت نہ کریں، افغانستان تاریخی طور پر آزاد رہا ہے۔ا
گر خدانخواستہ افغانستان ٹوٹا تو پاکستان اور ایران بھی ٹوٹ جائیں گے۔ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔افغانستان کے ہمسایہ ممالک بیٹھ کر مسئلہ حل کریں
روس کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کے بعد ابن ملا عمر نے پاکستان کو دھمکی لگائی ہے، وہ یہ بات یاد رکھیں کہ بھارت کا اس سے زیادہ بڑا معاہدہ موجود ہے، روس بھارت کو نہیں بچا سکا تو تم جیسے بھکاریوں کو کیسے بچائے گا۔ ویسے روس پہلے آپ کو بچانے کے لئے ایک دفعہ ادھر آ چکا ہے۔
قوم پرست ، سندھی ، بلوچ ، پشتون ،بلوچ سردار ، پنجابی ، موجودہ حکمران سب میں ایک قدر مشترک ہے ان کے بچے اثاثے مستقبل سب یورپ امریکہ میں ہے پاکستان سے ان کا تعلق نو آبادیاتی آقاؤں جیسا ہے
معتبر صحافی عبداللہ جان صابر ایک انتہائی لرزہ خیز اور ہولناک انکشاف سامنے لے آئے ہیں۔ گزشتہ چند روز سے جس گیارہ سالہ بچی کے اغوا کی کہانی گردش کر رہی تھی اور ��ہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ اسے کچے کے ڈاکو اٹھا کر لے گئے ہیں، اب معلوم ہوا ہے کہ معاملہ اغوا کا نہیں بلکہ اس معصوم بچی کی باقاعدہ خرید و فروخت کا ہے۔
مبینہ طور پر اس معصوم کو اس کی اپنی ہی سگی ماں نے صدام نامی شخص کے ذریعے آٹھ لاکھ روپے کے عوض ایک مولوی کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ یہی نہیں، بلکہ بعد میں اسی کمسن بچی کا پندرہ لاکھ روپے کے بھاری عوض نکاح کروا دینے کا شرمناک دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔
اگر یہ تمام دعوے اور شواہد سچ ثابت ہو جاتے ہیں، تو یہ محض ایک عام مجرمانہ فعل نہیں بلکہ انسانیت، اخلاقیات اور ہمارے معاشرتی ڈھانچے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ تف ہے ایسے کرداروں پر ��و چند روپوں کی خاطر اپنی ہی اولاد کا سودا کر بیٹھتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جانور بھی اپنے بچوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے۔اب یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کا امتحان ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیں۔ اصل حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور اس مکروہ دھندے میں ملوث ہر کردار کو ایسی عبرتناک سزا دی جائے جو رہتی دنیا تک مثال بن جائے۔
This man seems to be an attention-seeker.. he sells the products which have a high demand in the current market. Taliban knew well who was backing them, where were their families settled safe and secure. Where were their business blossoming; whom travel documents they were using when going abroad.
As far weapons are concerned, the commodity was always in high supply with in Afghanistan.
پښتو کې وائي
ما او مار ماما زمری وژلې
The stability of the afghan state is questionable because each ethnicity has been part of the regional security complex long before the British and the taliban regime
So afghan regime will have to either let go of power be inclusive or be ready to see divisions which will reverse the British order of division of the afghan creation of the current afghan satellite