میں ان شہداء کے قاتل علی امین گنڈہ پور کو سمجھتا ہوں جو خان کے بار بار کہنے کے باوجود اپریشن روکنے کیلئے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھاتا۔۔۔
وادی تیرا کے لوگ تمام شہداء کی۔لاشیں گنڈہ۔پور ہاوس کے باہر رکھیں جائے۔,اقر استعفیٰ کا مطالبہ کریں۔
@AliAminKhanPTI@PTIKPOfficial@PTIofficial
ؔ ریاستِ پاکستان نے پُرامن مظاہرین پر بلا تفریق فائرنگ کر کے قیامت برپا کر دی ہے۔ کوئٹہ کے عوام اپنے گھروں سے باہر نکل آئے ہیں،شہیدوں کے لاشوں کے ہمراہ سریاب میں دھرنا دیا جارہا ہے ،عوام سریاب ��ھرنے میں جل�� ازُ جلد پہنچے ،جبکہ سول اسپتال میں خون کی اشد ضرورت ہے۔
#StopBalochGenocide
پاکستانی ریاست کے سیکورٹی اداروں کی فائرنگ سے تین مظاہرین شہید جبکہ 7 زخمی ہیں۔ لاشوں کو منیر احمد روڈ لے کر آۓ ہیں اور لاشوں کے ساتھ دھرنا دیا جارہا ہے۔
اس بربریت کے خلاف پورے بلوچستان کے عوام سڑکوں پر نکلے۔
ریاستِ پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے بی وائی سی کے پُرامن دھرنے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کوئٹہ میں مظاہرین پر بلا تفریق فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں تین افراد شہید جبکہ سات افراد شدی�� زخمی ہوگئے۔
اس دوران بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، خواتین اور بچوں پر لاٹھی چارج، شدید شیلنگ اور مسلسل مواصلاتی بلیک آؤٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ دریں اثنا، سریاب میں سرچ آپریشن کے دوران مزید مظاہرین کو گرفتار کرنے کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔
لاشوں کو منیر احمد روڈ لے کر آۓ ہیں اور لاشوں کے ساتھ دھرنا دیا جارہا ہے۔ ہم بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ منیر احمد روڈ پہنچ جاہیں۔
ہم پورے بلوچستان کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس بربریت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
فوج کی بدمعاشی- پشتون بچے کی زبانی
پاکستانی فوج نے اس بچے کے گھر پر پانچ مرتبہ چھاپہ مارا ہے۔ اس کا والد سعودی عرب میں محنت مزدوری کرتا ہے، جبکہ اس کی ماں اور تینوں بھائی گھر میں رہتے ہیں۔ فوجی ان کے گھر کے دروازے توڑ دیتے ہیں اور دیواروں سے کود کر اندر گھس جاتے ہیں۔ ان مسلسل چھاپوں کی وجہ سے یہ بچہ نفسیاتی مریض بن چکا ہے۔ فوجی خیبر اور دوسرے اضلاع میں پشتونوں کے گھروں پر ایسے چھاپے مار کر اپنی مشقیں کرتے ہیں۔ ایسا ظلم شاید اسرائیل نے غزہ میں نہ کیا ہو، جیسا کہ پاکستانی فوج پشتونوں پر کر رہی ہے۔
#PakistanUnderMilitaryFascism
#Pakistan #StopPersecutingPashtunLeaders #ReleaseAliWazir #PakistanUnderMilitaryFascism #StopPersecutingPashtuns #StateTerrorismContinues #StopPersecutingPTMActivists #StateDeniesPashtunsJustice #WeStandWith11OctJirga
کالونئل ریاستی نظام کا ظلم جبر اپنے عروج پر ہے۔
ایک طرف پی ٹی ائی احتجاج پر ظلم جبر، شھادتیں، زخمی اور گرفتاریاں تو دوسری طرف انکو کوریج دینے والے صحافی مطیع اللہ جان کی اغوائیگی اور جھوٹے ایف ائی ار۔
اس ظلم جبر پر ہمیں سخت افسوس ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں پی ٹی ائی اور حق گو صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
ریاستی میشنری عوام پر کئے گئے ظلم جبر کو بطور فتح جشن منا رہی ہے مگر یقین کر لے کہ یہی اعمال ان ظالموں کے شکست اور بھیانک انجام کا سبب بنینگے۔
پی ٹی ائی کے شہیدوں کے اللہ تعالی درجات بلند فرمائے اور زخمیوں کو کامل شفاء نصیب فرمائے۔آمین
ظلم جبر اور طاقت کے ناجائز استعمال کے زریعے عوام کو خاموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔
جتنا یہ ظلم زیادہ کرینگے اتنا ہی ان کے زوال کے دن کم ہوتے جائینگے بشرطہ یہ کہ مختلف عوامی حلقے انکے خلاف جدوجہد میں حوصلے بلند رکھے اور اپنی جدوجہد جاری رکھے۔
چیئرمین صاحب جمہوریت پسندی کا دعویٰ اپنی جگہ مگر آپ لوگوں کے اتحاد سے بنی وفاق نے پختونوں کے ایک بڑی تحریک پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیکر اس پر آج تک پابندی لگائی ہے۔
یہ کیسی جمہوریت پسندی ہے کہ آپ لوگوں کی بلوچستان حکومت کے ماتحت علی وزیر کو حب چوکی میں پی ٹی ایم کی کارنر میٹینگ پر ہونے والے ایک ایسی ایف ائی ار میں قید کیا ہے کہ اس کارنر میٹنگ کے انعقاد کے وقت علی وزیر کراچی جیل میں قید و بند کی ز��دگی گزار رہے تھے۔
آپ کی پولیس نے ایسی ایف ائی ار میں جسمانی ریمانڈ بھی مانگی اور انصاف کے ترازو کے نیچے بیٹھے جج نے جسمانی ریمانڈ پر دے بھی دیا۔
کالونیل نظام واقعی عوام دشمن ہوتا ہے لیکن دشمنی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ظالم جاہل سہی مگر ان اصولوں کے پاس لحاظ رکھنے سے کم از کم انسان تو نظر انے لگو گے۔
پوری دنیا نے دیکھا اور تسلیم بھی کیا کہ اسلام آباد میں پی ٹی ائی احتجاج پرظلم جبر کر دیا گیا، زخمی، شہید، گرفتاریاں اور جھوٹے ایف ائی ارز ہوے ہیں، مگر تم اتنے بزدل ہو، کہ اپنے کئے گئے مظالم کو قبول نہیں کر سکتے ہو۔
ہمیشہ عوام کو مارنے کے بعد جشن منانے سے تم نے خود عوام کے ذہن میں ریاستی مشینری سے محبت کے تمام دلائل ختم کر دئے ہیں تو اینٹی سٹیٹ کون ہوگیا۔؟ مطلب احتجاج کرنا اینٹی سٹیٹ ہے اور عوام کو قتل کرنا پرو سٹیٹ فیکٹر ہے۔
پشتون تحریک افغانستان کے ایجنٹ، بلوچ سیاسی تحریک انڈیا کے ایجنٹ، پی ٹی ائی نے احتجاج کیا تو افغان بلوائیوں کی جماعت، کسی اور سیاسی جماعت نے احتجاج کیا تو ملک دشمن۔مگر چلو ایک سادہ سی بات سے اس کی وضاحت ہوجائے۔
ملک دشمن یہاں کے عوام کے دشمن ہونگے نا۔
تو ��وام کو تو تم خود قتل کر رہے ہو جبکہ جس جس پر تم نے ملک دشمنی کا دعویٰ کیا ہے وہ تو امن اور انصاف مانگ رہے ہیں۔
یہ ملک دشمن وہ ملک دشمن کا منتر تو بہت پڑھ لیا مگر چلو آج تو سچ مُچ میں گِن ہی لے کہ تم سمیت کس ملک نے یہاں کہ سب سے زیادہ شہریوں کو قتل کیا ہے، کس ملک نے یہاں کے پشتون اور بلوچ آبادیوں پر بمباریاں کر کے عام عوام شہید اور بے گھر کئے ہیں تاکہ فہرست بنایا جاسکے کہ دشمن نمبر۱، پھر نمبر۲ ، ۳ وغیرہ۔
اور رہی بات احتجاج کی تو احتجاج سے یہاں کے عوام کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے البتہ تمھارے جھوٹ اور ناانصافی کے لئے خطرہ ضرور ہوسکتا ہے مگر عوام پر تمہاری ظلم ۱۰۰ فیصد ملک کے لئے خطرات پیدا کرتے ہیں۔
خیبر میں تو دِن دھاڑے پشتون جرگے کے اراکین کو شہید کیا گیا ریاست شہریوں کا خیال کرتے تو انصاف دیتے چلو نہیں دیا مگر اسکا ایف آئی ار الٹا ہم خیبر جرگے کے منتظمین پر کاٹا گیا جسمیں خان والی آفریدی آج بھی جیل کاٹ رہے ہیں، کیا اسطرح ضمیر رکھنے والوں کو کوئی اپنا حکمران تسلیم کریگا۔؟؟؟(میں مشکل حالات میں کبھی کسی سے طعنے شکوے نہیں کرتا ہو مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ صوبائی حکومت سے کئی بار معاونت مانگی کہ ہم نے ڈی ایس پی سے لیکر محسین نقوی تک سارے قاتلوں پر ایف ائی ار کرنا ہے مگر صوبائی حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی معاونت نہیں کی گئی جسکی وجہ سے ایف آئی ار ممکن نہیں ہوا۔)
احتجاج کو سیکورٹی دینا اور انکے جائز مطالبات تسلیم کرنا ریاست کا کام ہوتا ہے بے شک اپنے سرکاری عمارتوں کی سیکورٹی ضرور رکھے مگر احتجاجوں پر حملے کرنا، مظاہرین کو قتل کرنا جیل میں بند کرنا، ان پر جھوٹے ایف آئی ار درج کرنا چاہے آج ہورہا ہو پچھلے دور میں ہوا ہو یا جس دور میں بھی ہوا ہو کھلم کھلا دھشتگردی ہے لہذہ یہ سلسلہ مزید بند کرنا چاہیئے۔
بنوں کے #بکاخیل میں رات کو فوج نے آپریشن کے دوران مقامی لوگوں کے گھروں پر بمباری کی، جس سے گھر تباہ ہو گئے، ایک شخص جاں بحق اور تین زخمی ہوئے۔ جانی خیل میں کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔
بنوں کے دیگر علاقوں میں رہنے والے بکاخیل قبیلے کے لوگوں نے اپنے قبیلے کے افراد سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آج بنوں-میرانشاہ روڈ پر احتجاج کیا اور #کرفیو ختم کرنے اور زخمیوں کو اسپتال پہنچانے کا مطالبہ کیا۔
مظاهرین کا کہنا ہے کہ فوج طالبان کے خلاف آپریشن کے بہانے عام لوگوں کے گھروں کو نشانہ بناتی ہے۔ دوسری طرف، فوج کہتی ہے کہ دس عسکریت پسند مارے گئے، لیکن ان کی لاشیں اب تک کسی نے نہیں دیکھیں۔ فوج ہر وقت عسکریت پسندوں کو مارنے کے دعوے کرتی ہے، لیکن کبھی ان کی لاشیں عوام کو نہیں دکھاتیں۔ یہ دعوے صرف آئی ایس پی آر کے ٹویٹر اور مین سٹریم میڈیا پر نظر آتے ہیں، حالانکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔
#StopPersecutingPashtuns #StateTerrorismContinues #ReleasePTMActivists #StopPersecutingPTMActivists #StateDeniesPashtunsJustice #WeStandWith11OctJirga
#BakkaKhel #Bannu
شمالی وزیرستان کے علاقے تپی میں دھماکے سے ایک مکمل گھر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہو گئے۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ پشتون علاقوں میں روزانہ اموات کی خبریں آتی ہیں، اور یہ سلسلہ کی عشروں سے جاری ہے۔ اس علاقے میں پشتونوں کے نسل کشی جاری ہے۔
#StopPersecutingPashtuns #StateTerrorismContinues #ReleasePTMActivists #StopPersecutingPTMActivists #StateDeniesPashtunsJustice
#WeStandWith11OctJirga
نۀ محالونه غواړو نه مو بنګلې پکار دي
��ه بلډینګونه غواړو نه مو پیسې پکاردي
د غیر اغیار د غلامئ نه آزادی پکار ده
منظور خانی پکار ده پښتونوالی پکار ده
#منظورخانی
نور الله ترین: پورے پشتونخوا وطن پر برا وقت آ رہا ہے۔ اگر ہم اپنی زمین اور عزت کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے آپس کے اختلافات ختم کرنے ہوں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونا ہوگا۔ آئیں، خیبر قومی جرگہ کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنائیں اور اپنی سرزمین اور قوم کو بچائیں۔
#StopPersecutingPashtuns #StateTerrorismContinues #ReleasePTMActivists #StopPersecutingPTMActivists #StateDeniesPashtunsJustice
پشاور کے حیات آباد سے لاپتہ چار بھائیوں کے کیس میں ایک نیا اور متنازعہ موڑ آیا ہے، جہاں مدعیان نے پشاور ہائی کورٹ میں کیس واپس لینے کی درخواست دائر کی، یہ مؤقف اپناتے ہوئے کہ کیس واپس لینے سے ہی مغویوں کی بحفاظت واپس�� ممکن ہے۔ یہ معاملہ صرف چار بھائیوں تک محدود نہیں بلکہ ہزاروں پشتون بھی اسی طرح لاپتہ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان گمشدگیوں کے پیچھے فوجی جرنیلوں کا ہاتھ ہے، جو اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان معاملات کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان جبری گمشدگیوں نے پورے پشتون معاشرے میں خوف اور بےیقینی کی فضا پیدا کر دی ہے، اور لوگ سوال کر رہے ہیں کہ ان کے پیارے کب اور کیسے واپس آئیں گے۔
#StopPersecutingPashtuns #StateTerrorismContinues #ReleasePTMActivists #StopPersecutingPTMActivists #StateDeniesPashtunsJustice