جس نے رسول کی اطاعت کی تواس نے اللہ کی اطاعت کی
(سورۃ النساء : 80) سب سے اچھی بات کتاب اللہ اور سب سے اچھا طریقہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ہے
(صحیح بخاری : 7277)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
میں نے تم لوگوں کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا تاکہ مالدار لوگ ان لوگوں کے لیے کشادگی کر دیں جنہیں قربانی کی طاقت نہیں ہے، سو اب جتنا چاہو خود کھاؤ دوسروں کو کھلاؤ اور (گوشت) جمع کر کے رکھو۔
(ترمذی : 1510)
#عيد_الأضحى
( کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں ) ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اب کھاؤ ، کھلاؤ اور جمع کرو ۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے ، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو ۔
(صحیح البخاری : 5569)
2 /2
#Hajj2026#عيد_الأضحى#Eid#Eid2026
نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو ۔ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا ۔
1/2
”اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے ( ساری کائنات کی ) بادشاہت ہے، اسی کے لیے ساری تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“۔
(جامع ترمذی : 3585)
2/2
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
سب سے بہتر دعا عرفہ والے دن کی دعا ہے اور میں نے اب تک جو کچھ ( بطور ذکر ) کہا ہے اور مجھ سے پہلے جو دوسرے نبیوں نے کہا ہے ان میں سب سے بہتر دعا یہ ہے: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير
1/2
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو ، وہ ( اپنے بندوں کے ) قریب ہوتا ہے اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بنا پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے : یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟
(صحیح مسلم : 3288)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
میں نے (منی میں) اس جگہ قربانی ذبح کی ہے جبکہ منی سارے کا سارا قربان گاہ ہے اور میں نے یہاں وقوف کیا ہے جبکہ میدان عرفات سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے اور میں نے یہاں وقوف کیا ہے جبکہ مزدلفہ سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے۔
(مشکوٰۃ المصابیح : 2593)
#Hajj2026
حاضر ہوں ! اے اللہ حاضر ہوں ‘ میں حاضر ہوں ‘ تیرا کوئی شریک نہیں ‘ حاضر ہوں ! تعریفیں اور نعمتیں تیری ہی ہیں اور بادشاہی بھی ، تیرا کوئی شریک نہیں ۔
(ابن ماجہ : 2919)
2/2
#Hajj2026#Eid#قربانی#Eid2026
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،
انھوں نے فرمایا :
رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا : ( لَبَّيْكَ ! اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ! لَبَّيْكَ ! لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ )
1/2
حضرت ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،
انھوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا :
اے اللہ کے رسول ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں ، نہ حج اور عمرہ ادا کر سکتے ہیں اور نہ سواری پر سوار ہو سکتے ہیں۔ آپ نے فرمایا :
اپنے والد کی طرف سے حج و عمرہ کرو ۔
(ابن ماجہ : 2906)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ملاقاتی ( اور مہمان ) ہیں ۔ اگر وہ اللہ سے دعا کریں تو اللہ ان کی دعا قبول کرتا ہے اور اگر وہ بخشش مانگیں تو انھیں بخش دیتا ہے ۔
(ابن ماجہ : 2892)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا :
میں نے کہا :
اے اللہ کے رسول !
کیا عورتوں پر بھی جہاد فرض ہے ؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
ہاں ! ان پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں جنگ نہیں ہوتی ۔ وہ حج اور عمرہ ہے ۔
(ابن ماجہ :2901)
رسول اللہ ﷺ فرمایا :
جس شخص نے اللہ کے لیے اس شان کے ساتھ حج کیا کہ نہ کوئی فحش بات ہوئی اور نہ کوئی گناہ تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔
(صحیح البخاری : 1521)
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
کہ چار کام نبی کریم ﷺ کبھی نہیں چھوڑتے تھے :
عاشوراء ( ۱۰محرم ) کا روزہ ، ذوالحجہ کے پہلے عشرے ( یعنی نو دن ) کے روزے ، ہر مہینے سے تین دن کے روزے اور نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں ۔
(سنن نسائی : 2418)
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ :
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو ، وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو ( نہ کاٹے ) اپنے حال پر رہنے دے (جب تک قربانی نہ کر لے)۔
(صحیح مسلم : 1977)
#قربانی#عید_الاضحی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
جس کے پاس ( قربانی کرنے کی ) گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو اسے چاہیے کہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے ۔
(ابن ماجہ :3123)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ :
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جس کا ارادہ فریضہ حج ادا کرنے کا ہو تو اسے چاہیے کہ جلدی کرے (یعنی استطاعت کے بعد بلاوجہ تاخیر نہ کرے)۔“
(سنن ابی داؤد : 1732)