پنجابی نیشنلزم یا فوجی غلامی؟ حقائق کی روشنی میں جواب
پاکستان کو وجود میں آئے 76 سال ہو چکے ہیں، لیکن اگر اس کی تاریخ پر غور کیا جائے تو یہ جمہوریت، مساوات اور ترقی کے بجائے ایک مخصوص طبقے کی استحصالی حکمرانی کی داستان دکھائی دیتی ہے۔ حال ہی میں، پنجابی نیشنلست فورم (PNF) نے پاکستانی فوج کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس سے کئی بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں:
1. اگر فوج اتنی “بہادر” ہے تو ملک کیوں نہ بچا سکی؟
پاکستانی فوج، جو خود کو ایک “عظیم جنگجو ادارہ” کہتی ہے، 1971 کی جنگ میں 93 ہزار فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کی وضاحت کیوں نہیں دیتی؟ یہ وہی فوج ہے جو پشتونوں، بلوچوں اور سندھیوں کے خلاف آپریشنز کرتی ہے، لیکن بھارت کے خلاف میدان میں وہی “بہادری” کیوں نظر نہیں آتی؟
2. پنجابی نیشنلزم کا اصل مقصد کیا ہے؟
اگر PNF واقعی پنجابی عوام کے حقوق کا علمبردار ہے، تو وہ پنجاب کے لوگوں کی آزادی اور خودمختاری کی بات کیوں نہیں کرتا؟ اگر یہ واقعی آزاد سوچ کے حامل ہوتے، تو پنجابی عوام کے سیاسی اور معاشی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے، لیکن حقیقت میں یہ صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔ PNF کا کردار پنجابی عوام کی نمائندگی کے بجائے فوج کی غلامی کی ترویج ہے۔
3. منظور پشتین سے خوف کیوں؟
PNF کا دعویٰ ہے کہ “منظور پشتین کچھ نہیں کر سکتا”، لیکن سوال یہ ہے کہ پھر فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو ان سے اتنا ڈر کیوں ہے؟ اگر پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) واقعی بے اثر ہوتی، تو فوج ان کے جلسے جلوسوں پر پابندیاں کیوں لگاتی؟ PTM کے کارکنان کو گرفتار یا لاپتہ کیوں کیا جاتا؟
4. فوج اپنے سیاہ ماضی کا حساب کب دے گی؟
پاکستانی فوج بنیادی طور پر صرف اشرافیہ، خاص طور پر پنجابی اشرافیہ، کے مفادات کی محافظ رہی ہے۔ اس کی مثالیں درج ذیل ہیں:
•بلوچستان کی معدنیات لوٹی جاتی ہیں، لیکن بلوچ عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جاتی ہے۔
•پشتون علاقوں کو جنگ کا میدان بنایا جاتا ہے، لیکن پنجاب کی سیاست اور معیشت محفوظ رہتی ہے۔
سندھی رہنما اغوا کیے جاتے ہیں، لیکن وفاقی اقتدار میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
PNF کا بیان: غلامی کا اعتراف
PNF کے حالیہ بیانات دراصل فوج کے استحصالی نظام کے دفاع کے مترادف ہیں۔ اگر یہ واقعی پنجابی عوام کے خیر خواہ ہوتے، تو فوج کے زیر سایہ نظام کی حمایت کرنے کے بجائے پنجاب کے عوام کے سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے۔
حقیقت:
منظور پشتین، PTM، بلوچ، سندھی، اور دیگر مظلوم اقوام اپنی آزادی، برابری اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ پاکستانی فوج کا مقصد صرف اپنے اقتدار اور استحصالی نظام کو قائم رکھنا ہے۔ اگر PNF واقعی پنجابی عوام کے لیے مخلص ہوتا، تو وہ فوجی استبداد کے خلاف کھڑا ہوتا، نہ کہ ان کے ظلم و ستم کا دفاع کرتا۔
PNF کا مؤقف درحقیقت پنجابی عوام کی نمائندگی نہیں بلکہ فوجی غلامی کی عکاسی ہے۔
#StopPashtunsGenocide #Pashtunslivematter #StopBalochGenocide
حدِ اَدراک سے آگے ہے، تیرے قرب کی شام
ڈھونڈنے تجھ کو کہاں__چاند ستارے جاتے___!!
تجھ سےمنسُوب ہوئے، تو یہ حسرت ہی رہی
ہم کبھی_______اپنے حوالے سے پکارے جاتے___!!
#قومی_زبان
*محبت کا دعویدار تو ہر کوئی بنتا ہے
لیکن جو آپ کی عزت کرے ،
پرواہ کرے ، آپ کا خیال رکھے ،
کم از کم آپ کے آنسوؤں کی وجہ نہ بنے وہی شخص محبت کا اصل اور حقیقی دعویدار ہے
#قومى_زبان
پختونخوا 19ویں صدی سے بڑی طاقتوں کی جنگوں کا شکار رہی ہے۔ یہ جنگیں شروع سے ہی ڈالر ی اور مصنوعی تھیں، جن کا فائدہ صرف جرنیلوں کو ہوا اور نقصان صرف پختون عوام کو پہنچا۔ بدقسمتی سے، پختونخوا دوبارہ عالمی دہشت گردی کا مرکز بنتی جا رہی ہے، جس کے خلاف پی ٹی ایم مزاحمت کر رہی ہے۔
#StopPersecutingPashtuns #StateTerrorismContinues #ReleasePTMActivists #StopPersecutingPTMActivists #StateDeniesPashtunsJustice #WeStandWith11OctJirga
گلہ من وزیر نے پشتون قومی تحریک اور پشتو مزاحمتی شاعری کو ایک تاریخی موڑ تک پہنچایا۔ انہوں نے اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے پشتون قوم کے حقوق، آزادی اور خودمختاری کے لیے نہ صرف آواز بلند کی بلکہ نوجوان نسل کو شعور دیا کہ آزادی صرف ایک نعمت نہیں بلکہ قربانی اور جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔ ان کا کلام پشتون قوم کے دکھ، درد اور امیدوں کا عکاس ہے، اور انہوں نے اپنی مزاحمتی شاعری کے ذریعے ظلم اور جبر کے خلاف مزاحمت کو ایک نئی روح بخشی۔ ان کی یاد اور خدمات ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گی۔
#StopPersecutingPashtuns #StateTerrorismContinues #ReleasePTMActivists #StopPersecutingPTMActivists #StateDeniesPashtunsJustice #westandwith11octjirga
ہم بے غیرت لوگ نہیں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ صرف نعروں سے وطن آزاد نہیں ہوتا۔ ہم نعروں سے اپنے لوگوں کو بیدار اور منظم کرتے ہیں، اور جب لوگ ایک ہو جائیں اور اپنی راہ خود اختیار کریں، تو پھر نہ صرف پاکستان کی فوج بلکہ دنیا کی کوئی طاقت ہماری زمین کی طرف ٹیڑھی نظر سے نہیں دیکھ سکتی: مشر منظور پښتین
#StopPersecutingPashtuns #StateTerrorismContinues #ReleasePTMActivists #StopPersecutingPTMActivists #StateDeniesPashtunsJustice #WeStandWith11OctJirga