اگر یہ یہاں، کیمروں کے بالکل سامنے فائرنگ کر رہے ہیں... تو پھر دور دراز علاقوں میں یہ کیا کر رہے ہوں گے؟ سرل المیڈا
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan@cyalm
فوج میں کرنل کی بیوی کا رولا: کاکروچ کنٹرول کے لئے اب بیانیہ بنایا جارہا ہے۔۔۔ آپ بتائیں کہ اس کرنل کی بیوی کے ساتھ کوئی بھلا کیسے ہراسمنٹ کرسکتا ہے؟ کہانی کا دوسرا رخ بھی سن اور دیکھ لیں۔
لنک:
https://t.co/9Htlj3RuRD
جب آرمی کے ایک کرنل کا اتنا دماغ خراب ہے، تو سوچیں جرنیلوں کا کیا حال ہوگا؟ امتیاز چانڈیو
#pakistan@imtiazchandyo
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
کرنل کی بیوی کے بارے میں معلومات جو فوجی حلقوں سے مل رہی ہیں سرحد یونیورسٹی کے ڈاکٹر جدون ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹس افئیر کے انچارج ہیں وہ سٹوڈنٹس کو فیس میں انسٹالمنٹ کی سہولت اور انٹرنشپ کے لئے ہسپتال جانے والے سٹوڈنٹس کو فری ٹرانسپورٹ سروس دیتے ہیں
کرنل کی بیوی ڈاکٹر اعینہ نے آتے ہی فیس انسٹالمنٹ اور ہسپتال کے لئے فری ٹرانسپورٹ سروس کی سہولت ختم کردی اس پر ڈاکٹر جدون نے اعتراض کیا کروڑوں روپے کمانے والے ادارے کو ساڑھے سات لاکھ روپے سے خسارہ نہیں ہوگا لیکن سٹوڈنٹس کو بہت ریلیف ملے گا اس پر خاتون غصہ ہوئی یہ خیراتی ادارہ نہیں ہے نہ آپ کے باپ کا ہے جو اپنی مرضی سے چلاؤ ڈاکٹر جدون نے کہا تمھارے باپ کا بھی نہیں ہے اس پر خاتون نے مزید برا بھلا کہا ڈاکٹر جدون خاموش رہا پہلے اپنے بھائی کو فون کیا پھر پولیس کو فون کیا پولیس نے دونوں کو تھانے بلایا خاتون نے ہراسگی کا الزام لگایا دوستوں نے ڈاکٹر جدون کو سمجھایا کے شکایت کنندہ کی زیادہ سنی جاتی ہے تو ڈاکٹر جدون نے معافی مانگ لی اگلے دن ڈاکٹر اعینہ نے یونیورسٹی انتظامیہ پر پریشر ڈالا اس ڈاکٹر کو نوکری سے نکالو اگلے دن خبر پھیل گئی ڈاکٹر جدون کو طلبہ سے بھلائی کرنے پر استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا ہے سٹوڈنٹس نے کیمپس کا گیٹ اندر سے بند کردیا اور ڈاکٹر صاحب کی بحالی کا مطالبہ کرنے لگے اس دوران محترمہ تشریف لائیں اور غصہ کرنے لگی لیکن طلبہ نہ مانے پھر خاتون نے کرنل صاحب کو بلایا اور یہ واقعہ رونما ہوا
عادل راجہ
آن ڈیوٹی ایک آرمی آفیسر آیا اور اس نے ہمیں حراساں کیا اور گولیاں چلائیں ہمیں انصاف چاہیے
مجھے امید ہے کہ ان طلباء اور ان کی فیملیز کو ظلم کا نشانہ بنانے کی بجائے اصل مجرم کو سزا دی جائے گی
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
The sister of Pakistan’s former prime minister Imran Khan says he told her he was being tortured in jail.
Dr Uzma Khan met her brother after he was taken to hospital for a checkup under a court order, before being quickly returned to prison.
ان چہروں کو یاد رکھیں۔
یہ صرف اُن لوگوں کا ایک چھوٹا سا نمائندہ گروہ ہے جنہوں نے پاکستانی ریاست کی جبر و قہر کی طاقت کو @ImranKhanPTI کے خلاف، پاکستانی عوام کے خلاف، اور بالآخر خود پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔
بندوقیں ا��ر گولیاں۔ تشدد اور مارپیٹ۔ اغوا۔ غیر قانونی قید۔ اذیت و تشدد۔ قتل۔ قتلِ عام۔ سیاسی انتقام اور ظلم و ستم۔
جج اس تصویر میں شامل نہیں۔ اور نہ ہی وہ بہت سے دوسرے لوگ جو اس پورے نظام کا حصہ رہے ہیں۔
لیکن ہر غیر قانونی حکم، ریاستی جبر کے ہر اقدام، ہر سیاسی قیدی، اور @ImranKhanPTI کو توڑنے کی ہر کوشش کے پیچھے حکم، شراکتِ جرم اور ذمہ داری کی ایک پوری زنجیر موجود ہے۔
اور اس پورے نظامِ جبر کے سب سے اوپر عاصم منیر کھڑا ہے۔
عہدے بدل جاتے ہیں۔ حکومتیں گر جاتی ہیں۔ کمان ختم ہو جاتی ہے۔ حالات بدل جاتے ہیں۔
لیکن ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔
ان کے عہدے ختم ہو جائیں گے۔ ان کا اختیار چھن جائے گا۔ لیکن ریاستی طاقت اپنے ہاتھوں میں ہوتے ہوئے انہوں نے جو کچھ کیا، اس کا ریکارڈ باقی رہے گا۔
ایک دن پاکستان اِن سب سے، اور ان جیسے بہت سے دوسروں سے، ایک سادہ سوال ضرور پوچھے گا:
جب ریاست کی طاقت تمہارے ہاتھوں میں تھی، تم نے اُس طاقت کے ساتھ کیا کیا؟
اور پھر، عہدہ کوئی بھی ہو، رتبہ کوئی بھی ہو، وردی کوئی بھی ہو یا سیاسی حیثیت کچھ بھی ہو، ہم انہیں قانون کے مطابق، منصفانہ، شفاف طریقے سے، اور قانون جس قدر سخت سزا کی اجازت دیتا ہے، اُس حد تک سزا دلوائیں گے۔
کیونکہ ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال کا احتساب کیے بغیر پاکستان صرف اسی ظلم اور جبر کو نئے ناموں، نئے چہروں اور نئی وردیوں کے ساتھ دوبارہ پیدا کرتا رہے گا۔
ان چہروں کو یاد رکھیں۔
ان عہدوں کو یاد رکھیں۔
ان احکامات کو یاد رکھیں۔